ترجمہ و تفسیر — سورۃ الكهف (18) — آیت 36

وَّ مَاۤ اَظُنُّ السَّاعَۃَ قَآئِمَۃً ۙ وَّ لَئِنۡ رُّدِدۡتُّ اِلٰی رَبِّیۡ لَاَجِدَنَّ خَیۡرًا مِّنۡہَا مُنۡقَلَبًا ﴿۳۶﴾
اور نہ میں قیامت کو گمان کرتا ہوں کہ قائم ہونے والی ہے اور واقعی اگر مجھے میرے رب کی طرف لوٹایا گیا تو یقینا میں ضرور اس سے بہتر لوٹنے کی جگہ پاؤں گا۔ En
اور نہ خیال کرتا ہوں کہ قیامت برپا ہو۔ اور اگر میں اپنے پروردگار کی طرف لوٹایا بھی جاؤں تو (وہاں) ضرور اس سے اچھی جگہ پاؤں گا
En
اور نہ میں قیامت کو قائم ہونے والی خیال کرتا ہوں اور اگر (بالفرض) میں اپنے رب کی طرف لوٹایا بھی گیا تو یقیناً میں (اس لوٹنے کی جگہ) اس سے بھی زیاده بہتر پاؤں گا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

اس آیت کی تفسیر آیت 35 میں تا آیت 37 میں گزر چکی ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

36۔ 1 یعنی وہ کافر عجب اور غرور میں ہی مبتلا نہیں ہوا بلکہ اس کی مد ہوشی اور مستقبل کی حسین اور لمبی امیدوں نے اسے اللہ کی گرفت اور سزا کے عمل سے بالکل غافل کردیا۔ علاوہ ازیں اس نے قیامت کا ہی انکار کردیا، پھر مذاق کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر قیامت برپا ہوئی بھی تو وہاں بھی حسن انجام میرا مقدر ہوگا۔ جن کا کفر طغیان حد سے تجاوز کرجاتا ہے، وہ مست مئے پندار ہو کر ایسے ہی متکبرانہ دعوے کرتے ہیں۔ جیسے دوسرے مقام پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا ولئن رجعت الی ربی ان لی عندہ للحسنی۔ حم السجدہ۔ اگر مجھے رب کی طرف لوٹایا گیا تو وہاں بھی میرے لیے اچھائیاں ہی ہیں۔ افرءیت الذی کفر بایتنا وقال لاوتین مالا وولدا۔ مریم۔ کیا آپ نے اس شخص کو دیکھا جس نے ہماری آیتوں کے ساتھ کفر کیا اور دعوی کیا کہ آخرت میں بھی مجھے مال و اولاد سے نوازا جائے گا۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

36۔ اور نہ ہی میں یہ گمان کرتا ہوں کہ قیامت قائم ہو گی اور اگر مجھے اپنے رب کے ہاں پلٹا کر لے جایا بھی گیا تو میں یقیناً اس سے بہتر جگہ پاؤں گا“

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔