ترجمہ و تفسیر — سورۃ الكهف (18) — آیت 32

وَ اضۡرِبۡ لَہُمۡ مَّثَلًا رَّجُلَیۡنِ جَعَلۡنَا لِاَحَدِہِمَا جَنَّتَیۡنِ مِنۡ اَعۡنَابٍ وَّ حَفَفۡنٰہُمَا بِنَخۡلٍ وَّ جَعَلۡنَا بَیۡنَہُمَا زَرۡعًا ﴿ؕ۳۲﴾
اور ان کے لیے ایک مثال بیان کر، دو آدمی ہیں، جن میں سے ایک کے لیے ہم نے انگوروں کے دو باغ بنائے اور ہم نے ان دونوں کو کھجور کے درختوں سے گھیر دیا اور دونوں کے درمیان کچھ کھیتی رکھی۔ En
اور ان سے دو شخصوں کا حال بیان کرو جن میں سے ایک ہم نے انگور کے دو باغ (عنایت) کئے تھے اور ان کے گردا گرد کھجوروں کے درخت لگا دیئے تھے اور ان کے درمیان کھیتی پیدا کردی تھی
En
اور انہیں ان دو شخصوں کی مثال بھی سنا دے جن میں سے ایک کو ہم نے دو باغ انگوروں کے دے رکھے تھے اور جنہیں کھجوروں کے درختوں سے ہم نے گھیر رکھا تھا اور دونوں کے درمیان کھیتی لگا رکھی تھی En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 33،32){ وَ اضْرِبْ لَهُمْ مَّثَلًا رَّجُلَيْنِ …:} کفار کو مسلمان فقراء کے مقابلے میں اپنے اموال و انصار پر فخر تھا، اس بنا پر وہ مسلمانوں کو حقیر سمجھتے اور مجلس میں ان کے ساتھ بیٹھنا پسند نہ کرتے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ قصہ بیان فرما کر سمجھایا کہ یہ چیزیں فخر کے لائق نہیں ہیں، کیونکہ ایک لمحہ میں فقیر غنی ہو سکتا ہے اور غنی فقیر۔ دنیا میں اگر فخر کی کوئی چیز ہے تو وہ ہے اللہ کی اطاعت اور اس کی عبادت اور یہ ان فقراء کو حاصل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے کافر و مومن کی ایک مثال بیان فرمائی کہ دو آدمی تھے (ان کے نام یا زمانہ معلوم نہیں، نہ ہی اس میں کوئی فائدہ ہے) ان میں سے ایک کو، جو کافر تھا، اللہ تعالیٰ نے انگوروں کے دو باغ عطا فرمائے تھے، جو بہت ہی خوب صورت اور نفع آور تھے۔ انگوروں کے باغوں کو کھجوروں نے گھیر رکھا تھا، دونوں باغوں کے درمیان کھیتی تھی اور دونوں باغوں کے درمیان اللہ کے حکم سے نہر چل رہی تھی۔ باغوں اور کھیتوں کو پانی کی کوئی کمی نہ تھی، چنانچہ دونوں باغوں نے پوری پیدا وار دی اور کسی قسم کی کمی نہیں کی۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

32۔ 1 مفسرین کا اس میں اختلاف ہے کہ یہ دو شخص کون تھے؟ اللہ تعالیٰ نے تفہیم کے لئے بطور مثال ان کا تذکرہ کیا ہے یا واقعی دو شخص ایسے تھے؟ اگر تھے تو یہ بنی اسرائیل میں گزرے ہیں یا اہل مکہ میں تھے، ان میں ایک مومن اور دوسرا کافر تھا۔ 33۔ 2 جس طرح چار دیواری کے ذریعے سے حفاظت کی جاتی ہے، اس طرح ان باغوں کے چاروں طرف کھجوروں کے درخت تھے، جو باڑ اور چار دیواری کا کام دیتے تھے۔ 32۔ 3 یعنی دونوں باغوں کے درمیان کھیتی تھی جن سے غلہ جات کی فصلیں حاصل کی جاتی تھیں۔ یوں دونوں باغ غلے اور میووں کے جامع تھے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

32۔ آپ ان سے ان دو آدمیوں [34] کی مثال بیان کیجئے۔ جن میں سے ایک کو ہم نے انگور کے دو باغ عطا کئے تھے اور ان کے گرد کھجور کے درختوں کی باڑھ لگائی تھی اور ان دونوں کے درمیان قابل کاشت [35] زمین بنائی تھی۔
[34] ایک مال دار کافر اور غریب مومن کے طرز عمل کا موازنہ:۔
یہ مثال در اصل ان قریشی سرداروں پر منطبق ہوتی ہے جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مطالبہ کیا تھا کہ اگر آپ کسی وقت ان مسکینوں کو اپنی مجالس سے اٹھا دیں تو ہم اطمینان سے آپ کی باتیں سنیں۔ اس مثال میں جن دو آدمیوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ ان میں سے ایک کافر و مشرک تھا۔ آخرت پر ایمان نہیں رکھتا تھا اور مالدار اور صاحب جائداد تھا جیسا کہ قریشی سردار تھے، دوسرا توحید پرست تھا، مومن تھا اللہ پر بھروسہ رکھنے والا تھا لیکن غریب اور مفلس تھا جیسا کہ صحابہ کرامؓ تھے جن کے متعلق قریشی سرداروں نے آپ سے یہ مطالبہ کیا تھا کہ آپ انھیں اپنی مجلس سے ہٹا دیں۔ رہی یہ بات کہ اس مثال میں جو دو کردار بیان کیے گئے ہیں یہ محض سمجھانے کے لیے بطور تمثیل بیان کیے گئے ہیں یا فی الواقع ایسے شخص اس دنیا میں کسی وقت موجود تھے؟ اور یہ واقعہ اس دنیا میں پیش آیا تھا؟ اس بات پر مفسرین کا اختلاف ہے اور جن لوگوں نے انھیں واقعہ تسلیم کیا ہے انہوں نے تو ان کے نام بھی لکھ دیئے ہیں کہ وہ دو حقیقی بھائی تھے۔ باپ کی طرف سے ورثہ ملا تھا۔ ایک جو دنیا دار تھا اس نے اس ورثہ سے جائداد خریدی پھر خوب محنت کی تو دو باغوں کا مالک بن گیا۔ دوسرا درویش منش انسان تھا اور اسے مال و دولت سے کچھ دلچسپی نہ تھی اسے جو ورثہ ملا وہ بھی اس نے اللہ کے راستہ میں خرچ کر دیا تھا اور بعض کے نزدیک یہ دو آدمی ہمسائے تھے جن کی پوری طرز زندگی ایک دوسرے سے یکسر مختلف تھی۔ جو بھی صورت ہو اس تمثیل سے جو اصل فائدہ مقصود ہے وہ حاصل ہو ہی جاتا ہے۔
[35] جو شخص کافر و مشرک اور دو باغوں کا مالک تھا اس آیت میں اس کے باغوں کی بہار کا منظر پیش کیا گیا ہے یعنی ان دونوں کے درمیانی حصہ میں کھیتی باڑی ہوتی تھی اور غلہ اگتا تھا۔ ارد گرد پھل دار درخت تھے پھر ان باغوں کی چار دیواری کھجوروں کے درختوں کی تھی جن پر انگور کی بیلیں چڑھائی گئی تھیں۔ ان دونوں باغوں کے درمیان ایک نہر جاری تھی جو انھیں سیراب کرتی اور آپس میں ملاتی تھی۔ زمین زرخیز و شاداب تھی لہٰذا پھل دار درخت بھی بھرپور پھل لاتے اور غلہ بھی وافر مقدار میں پیدا ہوتا تھا۔ گویا اس شخص کو بیٹھنے کے لیے ٹھنڈی چھاؤں، پینے کے لیے ٹھنڈا پانی، کھانے کو با افراط غلہ ' پھل اور دیکھنے کو خوش نما منظر سب کچھ موجود تھا جس پر وہ پھولا نہ سماتا تھا۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

فخر و غرور ٭٭
[41-فصلت:50]‏‏‏‏چونکہ اوپر مسکین مسلمانوں اور مالدار کافروں کا ذکر ہوا تھا، یہاں ان کی ایک مثال بیان کی جاتی ہے کہ دو شخص تھے جن میں سے ایک مالدار تھا، انگوروں کے باغ، اردگرد کھجوروں کے درخت، درمیان میں کھیتی، درخت پھلدار، بیلیں ہری، کھیتی سرسبز، پھل پھول بھرپور، کسی قسم کا نقصان نہیں، ادھر ادھر نہریں جاری تھیں۔ اس کے پاس ہر وقت طرح طرح کی پیداوار موجود، مالدار شخص۔ اس کی دوسری قرأت «ثُمْر» بھی ہے یہ جمع ہے «ثَمْرَۃ» کی جیسے «خَشْبَة» کی جمع «خُشْبٌ» ۔
الغرض اس نے ایک دن اپنے ایک دوست سے فخر و غرور کرتے ہوئے کہ میں مال میں، عزت و اولاد میں، جاہ و حشم میں، نوکر چاکر میں تجھ سے زیادہ حیثیت والا ہوں۔ ایک فاجر شخص کی تمنا یہی ہوتی ہے کہ دنیا کی یہ چیزیں اس کے پاس بکثرت ہوں۔ یہ اپنے باغ میں گیا اپنی جان پر ظلم کرتا ہوا یعنی تکبر، اکڑ، انکار قیامت اور کفر کرتا ہوا۔ اس قدر مست تھا کہ اس کی زبان سے نکلا کہ ناممکن ہے میری یہ لہلہاتی کھیتیاں، یہ پھلدار درخت، یہ جاری نہریں، یہ سرسبز بیلیں کبھی فنا ہو جائیں۔ حقیقت میں یہ اس کی کم عقلی، بےایمانی اور دنیا کی خر مستی اور اللہ کے ساتھ کفر کی وجہ تھی۔ اسی لیے کہہ رہا ہے کہ میرے خیال سے تو قیامت آنے والی نہیں۔ اور اگر بالفرض آئی بھی تو ظاہر ہے کہ اللہ کا میں پیارا ہوں ورنہ وہ مجھے اس قدر مال و متاع کیسے دے دیتا؟ تو وہاں بھی وہ مجھے اس سے بھی بہتر عطا فرمائے گا۔ جیسے اور آیت میں ہے «وَلَئِن رُّجِعْتُ إِلَىٰ رَبِّي إِنَّ لِي عِندَهُ لَلْحُسْنَىٰ» [41- فصلت: 50]‏‏‏‏ اگر میں لوٹایا گیا تو وہاں میرے لیے اور اچھائی ہو گئی۔ اور آیت میں ارشاد ہے «اَفَرَءَيْتَ الَّذِيْ كَفَرَ بِاٰيٰتِنَا وَقَالَ لَاُوْتَيَنَّ مَالًا وَّوَلَدًا» [19- مريم: 77]‏‏‏‏ یعنی تو نے اسے بھی دیکھا جو ہماری آیتوں سے کفر کر رہا ہے، اور باوجود اس کے اس کی تمنا یہ ہے کہ مجھے قیامت کے دن بھی بکثرت مال و اولاد ملے گی، یہ اللہ کے سامنے دلیری کرتا ہے اور اللہ پر باتیں بناتا ہے۔ اس آیت کا شان نزول عاص بن وائل ہے جیسے کہ اپنے موقعہ پر آئے گا ان شاءاللہ۔