اِلَّاۤ اَنۡ یَّشَآءَ اللّٰہُ ۫ وَ اذۡکُرۡ رَّبَّکَ اِذَا نَسِیۡتَ وَ قُلۡ عَسٰۤی اَنۡ یَّہۡدِیَنِ رَبِّیۡ لِاَقۡرَبَ مِنۡ ہٰذَا رَشَدًا ﴿۲۴﴾
مگر یہ کہ اللہ چاہے اور اپنے رب کو یاد کر جب تو بھول جائے اور کہہ امید ہے کہ میرا رب مجھے اس سے قریب تر بھلائی کی ہدایت دے گا۔
En
مگر (انشاء الله کہہ کر یعنی اگر) خدا چاہے تو (کردوں گا) اور جب خدا کا نام لینا بھول جاؤ تو یاد آنے پر لے لو۔ اور کہہ دو کہ امید ہے کہ میرا پروردگار مجھے اس سے بھی زیادہ ہدایت کی باتیں بتائے
En
مگر ساتھ ہی انشاءاللہ کہہ لینا۔ اور جب بھی بھولے، اپنے پروردگار کی یاد کر لیا کرنا اور کہتے رہنا کہ مجھے پوری امید ہے کہ میرا رب مجھے اس سے بھی زیاده ہدایت کے قریب کی بات کی رہبری کرے
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
اس آیت کی تفسیر آیت 23 میں تا آیت 25 میں گزر چکی ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
24۔ 1 مفسرین کہتے ہیں کہ یہودیوں نے نبی سے تین باتیں پوچھی تھیں، روح کی حقیقت کیا ہے اور اصحاب کہف اور ذوالقرنین کون تھے؟ کہتے ہیں کہ یہی سوال اس سورت کے نزول کا سبب بنا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں تمہیں کل جواب دونگا، لیکن اس کے بعد 15 دن تک جبرائیل وحی لے کر نہیں آئے۔ پھر جب آئے تو اللہ تعالیٰ نے انشاء اللہ کہنے کا یہ حکم دیا۔ آیت میں (غد) سے مراد مستقبل ہے یعنی جب بھی مستقبل قریب یا بعید میں کوئی کام کرنے کا عزم کرو تو انشاء اللہ ضرور کہا کرو۔ کیونکہ انسان کو تو پتہ نہیں کہ جس بات کا عزم کر رہا ہے، اس کی توفیق بھی اسے اللہ کی مشیت سے ملتی ہے یا نہیں۔ 24۔ 2 یعنی اگر کلام یا وعدہ کرتے وقت انشاء اللہ کہنا بھول جاؤ، تو جس وقت یاد آجائے انشاء اللہ کہہ لیا کرو، یا پھر رب کو یاد کرنے کا مطلب، اس کی تسبیح وتحمید اور اس سے استفغار ہے۔ 24۔ 3 یعنی میں جس کا عزم ظاہر کر رہا ہوں، ممکن ہے اللہ تعالیٰ اس سے زیادہ بہتر اور مفید کام کی طرف میری رہنمائی فرما دے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
24۔ اِلا یہ کہ اللہ چاہے [23]۔ اور اگر آپ بھول کر ایسی بات کہہ دیں تو فوراً اپنے پروردگار کو یاد کیجئے اور کہئے کہ: امید ہے کہ میرا پروردگار اس معاملہ میں صحیح طرز عمل کی طرف میری رہنمائی [24] فرما دے گا۔
[23] وعدہ کے وقت انشاء اللہ کہنے کی ہدایت:۔
ہوا یہ تھا کہ جب کفار مکہ نے آپ سے اصحاب کہف وغیرہ کے متعلق سوال کیا تو آپ نے انھیں جواب دیا کہ میں کل ان کا جواب دوں گا۔ آپ کا خیال یہ تھا کہ دریں اثناء شاید جبرئیل آئے تو ان سے پوچھ کر بتا دوں گا یا اللہ تعالیٰ از خود کل تک بذریعہ وحی مطلع کر دے مگر کل تک ان دونوں میں کوئی بات بھی نہ ہوئی پھر چند دن بعد جبرئیل وحی لے کر اس سورۃ کی آیات لے کر آئے اور ساتھ ہی آپ کے لیے یہ ہدایت بھی نازل ہوئی کہ کسی سے ایسا حتمی وعدہ نہ کیا کریں کہ میں کل تک یہ کام کر دوں گا اور اگر وعدہ کرنا ہی ہو تو ساتھ الا ماشاء اللہ ضرور کہا کریں (یعنی اگر اللہ کو منظور ہوا تو فلاں وقت تک فلاں کام کروں گا) اور اگر کبھی آپ یہ بات کہنا بھول جائیں تو جس وقت یاد آئے اسی وقت کہہ لیا کریں۔ مطلب یہ ہے کہ ہر کام اللہ کی مشیئت کے تحت ہی ہوتا ہے لہٰذا اس بات کو ہر وقت ملحوظ خاطر رکھنا چاہیے۔ یہ ہدایت اس لیے دی گئی تھی کہ کسی کو یہ معلوم نہیں ہو سکتا کہ وہ کل تک یا فلاں وقت تک فلاں کام کر سکے گا یا نہیں یا کسی کو غیب کا علم حاصل ہے اور نہ کوئی اپنے افعال میں خود مختار ہے کہ جو چاہے کر سکے لہٰذا کوئی شخص خواہ پورے صدق دل اور سچی نیت سے بھی کوئی وعدہ یا مستقبل کے متعلق بات کرے تو اسے انشاء اللہ ضرور کہہ لینا چاہیئے۔
ان شاء اللہ کو بطور ڈھال استعمال کرنا:۔
مگر افسوس ہے کہ بعض بدنیت قسم کے لوگوں نے اس کلمہ استثناء کو اپنی بدنیتی پر پردہ ڈالنے کے لیے ڈھال بنا رکھا ہے مثلاً ایک شخص اپنے سابقہ قرضہ کی ادائیگی یا نئے قرض کے لیے قرض خواہ سے ایک ماہ کا وعدہ کرتا ہے اور ساتھ ان شاء اللہ بھی کہہ دیتا ہے مگر اس کے دل میں یہ بات ہوتی ہے کہ اپنا کام تو چلائیں پھر جو ہو گا دیکھا جائے گا اور جب مدت مقررہ کے بعد قرض خواہ اپنے قرض کا مطالبہ کرتا ہے تو کہہ دیتا کہ اللہ کو منظور ہی نہ ہوا کہ میرے پاس اتنی رقم آئے کہ میں آپ کو ادا کر سکوں وغیرہ وغیرہ عذر پیش کر دیتا ہے اور بد نیت لوگوں نے اس کلمہ استثناء کو اس قدر بدنام کر دیا ہے کہ جب کوئی اپنے وعدہ کے ساتھ انشاء اللہ کہتا ہے تو سننے والا فوراً سمجھ جاتا ہے کہ اس کی نیت بخیر نہیں ہے یہ اللہ کی آیات سے بد ترین قسم کا مذاق ہے جس کا ایک ایمان دار آدمی تصور بھی نہیں کر سکتا۔
[24] اس جملہ کے کئی مطلب ہو سکتے ہیں مثلاً ایک یہ کہ آئندہ کوئی موقع ہی ایسا نہ آئے کہ میں ان شاء اللہ یا ماشاء اللہ کہنا بھول جاؤں دوسرا یہ کہ اللہ تعالیٰ اصحاب کہف سے بھی زیادہ حیران کن طریقہ سے میری مدد فرمائے جیسا کہ غار ثور کے قصہ میں ہوا۔ تیسرا یہ کہ جس کام کے کرنے کو آپ کہہ رہے ہیں آپ کو یہ علم نہیں کہ یہی کام بہتر ہے یا کوئی دوسرا کام اس سے بہتر ہے لہٰذا اللہ پر توکل کرتے ہوئے یوں کہا کرو کہ میرا رب اس معاملہ میں صحیح بات یا صحیح طرز عمل کی طرف میری رہنمائی فرما دے گا۔
[24] اس جملہ کے کئی مطلب ہو سکتے ہیں مثلاً ایک یہ کہ آئندہ کوئی موقع ہی ایسا نہ آئے کہ میں ان شاء اللہ یا ماشاء اللہ کہنا بھول جاؤں دوسرا یہ کہ اللہ تعالیٰ اصحاب کہف سے بھی زیادہ حیران کن طریقہ سے میری مدد فرمائے جیسا کہ غار ثور کے قصہ میں ہوا۔ تیسرا یہ کہ جس کام کے کرنے کو آپ کہہ رہے ہیں آپ کو یہ علم نہیں کہ یہی کام بہتر ہے یا کوئی دوسرا کام اس سے بہتر ہے لہٰذا اللہ پر توکل کرتے ہوئے یوں کہا کرو کہ میرا رب اس معاملہ میں صحیح بات یا صحیح طرز عمل کی طرف میری رہنمائی فرما دے گا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
ان شاء اللہ کہنے کا حکم ٭٭
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے ختم المرسلین نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ارشاد فرماتا ہے کہ جس کام کو کل کرنا چاہو تو یوں نہ کہہ دیا کرو کہ کل کروں گا بلکہ اس کے ساتھ ہی ان شاءاللہ کہہ لیا کرو کیونکہ کل کیا ہو گا؟ اس کا علم صرف اللہ ہی کو ہے۔ علام الغیوب اور تمام چیزوں پر قادر صرف وہی ہے۔ اس کی مدد طلب کر لیا کرو۔ بخاری و مسلم میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں سلیمان بن داؤد علیہ السلام کی نوے بیویاں تھیں۔ ایک روایت میں ہے سو تھیں۔ ایک میں ہے بہتر [٧٢] تھیں۔ تو آپ علیہ السلام نے ایک بار کہا کہ آج رات میں ان سب کے پاس جاؤں گا ہر عورت کو بچہ ہو گا تو سب اللہ کی راہ میں جہاد کریں گے۔ اس وقت فرشتے نے کہا ان شاءاللہ کہہ مگر سلیمان علیہ السلام نے نہ کہا۔ اپنے ارادے کے مطابق وہ سب بیویوں کے پاس گئے، مگر سوائے ایک بیوی کے کسی کے ہاں بچہ نہ ہوا اور جس ایک کے ہاں ہوا بھی، وہ بھی آدھے جسم کا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں، اس اللہ کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اگر وہ ان شاءاللہ کہہ لیتے تو یہ ارادہ ان کا پورا ہوتا اور ان کی حاجت روائی ہو جاتی۔ اور یہ سب بچے جوان ہو کر راہ حق کے مجاہد بنتے۔[صحیح بخاری:5242]
اسی سورت کی تفسیر کے شروع میں اس آیت کا شان نزول بیان ہو چکا ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اصحاب کہف کا قصہ دریافت کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں کل تمہیں جواب دوں گا۔ ان شاءاللہ نہ کہا اس بنا پر پندرہ دن تک وحی نازل نہ ہوئی۔ اس حدیث کو پوری طرح ہم نے اس سورت کی تفسیر کے شروع میں بیان کر دیا ہے یہاں دوبارہ بیان کرنے کی حاجت نہیں۔ پھر بیان فرماتا ہے کہ جب بھول جائے تب اپنے رب کو یاد کر، یعنی ان شاءاللہ کہنا اگر موقعہ پر یاد نہ آیا تو جب یاد آئے کہہ لیا کر۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اس شخص کے بارے میں فرماتے ہیں جو حلف کھائے کہ اسے پھر بھی ان شاءاللہ کہنے کا حق ہے گو سال بھر گزر چکا ہو۔ مطلب یہ ہے کہ اپنے کلام میں یا قسم میں ان شاءاللہ کہنا بھول گیا تو جب بھی یاد آئے کہہ لے، گو کتنی مدت گزر چکی ہو اور گو اس کا خلاف بھی ہو چکا ہو۔ اس سے یہ مطلب نہیں کہ اب اس پر قسم کا کفارہ نہیں رہے گا اور اسے قسم توڑنے کا اختیار ہے۔ یہی مطلب اس قول کا امام ابن جریر رحمہ اللہ نے بیان فرمایا ہے اور یہی بالکل ٹھیک ہے۔ اسی پر سیدنا عباس رضی اللہ عنہما کا کلام محمول کیا جا سکتا ہے، ان سے اور حضرت مجاہد رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ مراد ان شاءاللہ کہنا بھول جانا ہے۔ اور روایت میں اس کے بعد یہ بھی ہے کہ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مخصوص ہے،
دوسرا کوئی تو اپنی قسم کے ساتھ ہی متصل طور پر ان شاءاللہ کہے تو معتبر ہے۔ یہ بھی ایک مطلب ہے کہ جب کوئی بات بھول جاؤ تو اللہ کا ذکر کرو کیونکہ بھول شیطانی حرکت ہے اور ذکر الٰہی یاد کا ذریعہ ہے۔ پھر فرمایا کہ تجھ سے کسی ایسی بات کا سوال کیا جائے کہ تجھے اس کا علم نہ ہو تو تو اللہ تعالیٰ سے دریافت کر لیا کر اور اس کی طرف توجہ کر تاکہ وہ تجھے ٹھیک بات اور ہدایت والی راہ بتا اور دکھا دے۔ اور بھی اقوال اس بارے میں مروی ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
دوسرا کوئی تو اپنی قسم کے ساتھ ہی متصل طور پر ان شاءاللہ کہے تو معتبر ہے۔ یہ بھی ایک مطلب ہے کہ جب کوئی بات بھول جاؤ تو اللہ کا ذکر کرو کیونکہ بھول شیطانی حرکت ہے اور ذکر الٰہی یاد کا ذریعہ ہے۔ پھر فرمایا کہ تجھ سے کسی ایسی بات کا سوال کیا جائے کہ تجھے اس کا علم نہ ہو تو تو اللہ تعالیٰ سے دریافت کر لیا کر اور اس کی طرف توجہ کر تاکہ وہ تجھے ٹھیک بات اور ہدایت والی راہ بتا اور دکھا دے۔ اور بھی اقوال اس بارے میں مروی ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔