ذٰلِکَ جَزَآؤُہُمۡ بِاَنَّہُمۡ کَفَرُوۡا بِاٰیٰتِنَا وَ قَالُوۡۤاءَ اِذَا کُنَّا عِظَامًا وَّ رُفَاتًاءَ اِنَّا لَمَبۡعُوۡثُوۡنَ خَلۡقًا جَدِیۡدًا ﴿۹۸﴾
یہی ان کی جزا ہے، کیونکہ انھوں نے ہماری آیات کا انکار کیا اور کہا کیا جب ہم ہڈیاں اور ریزہ ریزہ ہوگئے تو کیا واقعی ہم ضرور نئے سرے سے پیدا کر کے اٹھائے جانے والے ہیں؟
En
یہ ان کی سزا ہے اس لئے کہ وہ ہماری آیتوں سے کفر کرتے تھے اور کہتے تھے کہ جب ہم (مر کر بوسیدہ) ہڈیاں اور ریزہ ریزہ ہوجائیں گے تو کیا ازسرنو پیدا کئے جائیں گے
En
یہ سب ہماری آیتوں سے کفر کرنے اور اس کہنے کا بدلہ ہے کہ کیا جب ہم ہڈیاں اور ریزے ریزے ہوجائیں گے پھر ہم نئی پیدائش میں اٹھا کھڑے کئے جائیں گے؟
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 98){ ذٰلِكَ جَزَآؤُهُمْ …:} اس آیت میں ان کی سزا کا سبب بیان فرمایا۔ دیکھیے بنی اسرائیل (۴۹)۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
98۔ 1 یعنی جہنم کی یہ سزا ان کو اس لئے دی جائیگی کہ انہوں نے ہماری نازل کردہ آیات کی تصدیق نہیں کی اور کائنات میں پھیلی ہوئی تکوینی آیات پر غور و فکر نہیں کیا، جس کی وجہ سے انہوں نے و قوع قیامت اور بعث بعد الموت کو محال خیال کیا اور کہا کہ ہڈیاں اور ریزہ ریزہ ہوجانے کے بعد ہمیں نئی پیدائش کس طرح مل سکتی ہے؟
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
98۔ یہ ان کا بدلہ ہے کیونکہ انہوں نے ہماری آیات کا انکار کیا اور کہا کہ: ”جب ہم، ہڈیاں اور ریزہ ریزہ ہو جائیں گے تو کیا از سر نو پیدا [116] کر کے اٹھائے جائیں گے؟“
[116] انسان محیر العقول عادی باتوں پر غور نہیں کرتا اور واقع ہو جانے والی باتوں کا انکار کر دیتا ہے:۔
انسان کی عادت ہے کہ کوئی بات خواہ کتنی ہی محیرالعقول ہو جب وہ عادت بن جائے تو اس میں غور کرنا ہی چھوڑ دیتا ہے۔ مثلاً سب سے زیادہ محیر العقول اس کا اپنا جسم ہے جو ہمہ وقت ایک آٹومیٹک مشین کی طرح کام کر رہا ہے جب سے وہ پیدا ہوا اس وقت سے اس کا دل حرکت کر رہا ہے اور مرتے دم تک حرکت کرتا رہے گا۔ اس میں ایک لمحہ وقفہ نہیں ہوتا اور جب وقفہ پڑے گا تو موت واقع ہو جائے گی۔ اسی طرح اس کے پھیپھڑے، معدہ، جگر، گردے سب اپنا اپنا کام اس طرح کر رہے ہیں کہ اسے کسی بات کی خبر نہیں ہوتی کہ اس کے اندر کیا کچھ ہو رہا ہے۔ وہ غذا کھاتا ہے تو از خود اس سے خون بنانے والی مشین اس کے اندر نصب ہے اسے خون میں تبدیل کرنا شروع کر دیتی ہے اور جو فضلہ بچتا ہے تو طبیعت خود اسے مجبور کر دیتی ہے کہ رفع حاجت کرے اور یہی خون اس کی زندگی کا سہارا ہے پھر اسی غذا کے ملغوبہ سے مادہ کے اندر دودھ بھی بنتا ہے پھر انسان کی تربیت اس کے دیکھنے کا نظام، اس کے سننے، اس کی نیند، نیند میں انسان کے گھسے ہوئے ذرات کی جگہ نئے ذرات پیدا ہونے کا نظام اللہ تعالیٰ کے ایسے ہی محیرالعقول کارنامے ہیں۔ لیکن ان میں انسان نے کبھی غور کرنا گوارا نہیں کیا دوسری طرف اس کا یہ حال ہے کہ اگر کوئی محیر العقول بات اسے بتائی جائے کہ وہ مستقبل میں واقع ہو گی تو فوراً اس کا انکار کر دیتا ہے اور ایسی بات کہنے والے کو دیوانہ کہنا شروع کر دیتا ہے مثلاً دور نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں اگر کوئی شخص یہ بات کہہ دیتا کہ ایک وقت آنے والا ہے جب ایک انسان دنیا کے ایک کنارے پر ہو گا اور دوسرا دوسرے کنارے پر اور وہ آپس میں بات چیت کریں گے تو یقیناً ایسے شخص کو دیوانہ کہہ دیا جاتا یا اسی طرح اگر کوئی یہ کہتا کہ ایک سواری پیدا ہو گی جو ہزاروں من بوجھ اٹھائے ہوا میں بڑی تیزی سے اڑا کرے گی تو ایسی بات کا سب لوگ انکار کر دیتے۔ مگر آج جب ٹیلیفون اور ہوائی جہاز پیدا ہو گئے ہیں اور انسان کی عادت میں شامل ہو گئے ہیں تو اب ان کو تو تسلیم کرنے لگا ہے۔ مگر مستقبل کے متعلق اگر اب بھی کوئی محیرالعقول بات کہی جائے تو فوراً انکار کر دے گا۔ بالکل ایسی ہی بات دوبارہ پیدا ہونے کی ہے۔ حالانکہ اگر وہ صرف اپنے جسم کی اندرونی ساخت پر ہی غور کر لیتا بلکہ کسی چھوٹے سے چھوٹے جانور کے جسم کی ساخت پر غور کر لیتا تو اسے معلوم ہو سکتا تھا کہ جو خالق ایسی محیرالعقول مشینری بنانے پر قادر ہے وہ اس کے ذرات کو اکٹھا بھی کر سکتی ہے اور اس میں روح پھونک کر دوبارہ اٹھا کر کھڑا بھی کر سکتی ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
بوسیدہ ہڈیاں پھر توانا ہوں گی ٭٭
فرمان ہے کہ اوپر جن منکروں کو جس سزا کا ذکر ہوا ہے وہ اسی کے قابل تھے، وہ ہماری دلیلوں کو جھوٹ سمجھتے تھے اور قیامت کے قائل ہی نہ تھے اور صاف کہتے تھے کہ بوسیدہ ہڈیاں ہو جانے کے بعد، مٹی کے ریزوں سے مل جانے کے بعد، ہلاک اور برباد ہو چکنے کے بعد کا دوبارہ جی اٹھنا تو عقل کے باہر ہے۔
پس ان کے جواب میں قرآن نے اس کی ایک دلیل پیش کی کہ «لَخَلْقُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ أَكْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ» ۱؎ [40-غافر:57] ’ اس زبردست قدرت کے مالک نے آسمان و زمین کو بغیر کسی چیز کے اول بار بلا نمونہ پیدا کیا، جس کی قدرت ان بلند و بالا، وسیع اور سخت مخلوق کی ابتدائی پیدائش سے عاجز نہیں۔ کیا وہ تمہیں دوبارہ پیدا کرنے سے عاجز ہو جائے گا؟ ‘
«أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّ اللَّـهَ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَلَمْ يَعْيَ بِخَلْقِهِنَّ بِقَادِرٍ عَلَىٰ أَن يُحْيِيَ الْمَوْتَىٰ ۚ بَلَىٰ إِنَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ» ۱؎ [46-الأحقاف:33] ’ آسمان و زمین کی پیدائش تو تمہاری پیدائش سے بہت بڑی ہے، وہ ان کے پیدا کرنے میں نہیں تھکا، کیا وہ مردوں کو زندہ کرنے سے بے اختیار ہو جائے گا؟ ‘
«أَوَلَيْسَ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ بِقَادِرٍ عَلَىٰ أَن يَخْلُقَ مِثْلَهُم ۚ بَلَىٰ وَهُوَ الْخَلَّاقُ الْعَلِيمُ * إِنَّمَا أَمْرُهُ إِذَا أَرَادَ شَيْئًا أَن يَقُولَ لَهُ كُن فَيَكُونُ * فَسُبْحَانَ الَّذِي بِيَدِهِ مَلَكُوتُ كُلِّ شَيْءٍ وَإِلَيْهِ تُرْجَعُونَ» ۱؎ [36-يس:81-83] ’ کیا آسمان و زمین کا خالق انسانوں جیسے اور پیدا نہیں کر سکتا؟ بیشک کر سکتا ہے۔ اس کا حکم ہی چیز کے وجود کیلئے کافی وافی ہے۔ ‘
وہ انہیں قیامت کے دن دوبارہ کی نئی پیدائش میں ضرور اور قطعا پیدا کرے گا۔ اس نے ان کے اعادہ کی، ان کے قبروں سے نکل کھڑے ہونے کی مدت مقرر کر رکھی ہے۔ اس وقت یہ سب کچھ ہو کر رہے گا۔ یہاں کی قدرے تاخیر صرف معینہ وقت کو پورا کرنے کیلئے ہے۔ افسوس کس قدر واضح دلائل کے بعد بھی لوگ کفر و ضلالت کو نہیں چھوڑتے۔
«أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّ اللَّـهَ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَلَمْ يَعْيَ بِخَلْقِهِنَّ بِقَادِرٍ عَلَىٰ أَن يُحْيِيَ الْمَوْتَىٰ ۚ بَلَىٰ إِنَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ» ۱؎ [46-الأحقاف:33] ’ آسمان و زمین کی پیدائش تو تمہاری پیدائش سے بہت بڑی ہے، وہ ان کے پیدا کرنے میں نہیں تھکا، کیا وہ مردوں کو زندہ کرنے سے بے اختیار ہو جائے گا؟ ‘
«أَوَلَيْسَ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ بِقَادِرٍ عَلَىٰ أَن يَخْلُقَ مِثْلَهُم ۚ بَلَىٰ وَهُوَ الْخَلَّاقُ الْعَلِيمُ * إِنَّمَا أَمْرُهُ إِذَا أَرَادَ شَيْئًا أَن يَقُولَ لَهُ كُن فَيَكُونُ * فَسُبْحَانَ الَّذِي بِيَدِهِ مَلَكُوتُ كُلِّ شَيْءٍ وَإِلَيْهِ تُرْجَعُونَ» ۱؎ [36-يس:81-83] ’ کیا آسمان و زمین کا خالق انسانوں جیسے اور پیدا نہیں کر سکتا؟ بیشک کر سکتا ہے۔ اس کا حکم ہی چیز کے وجود کیلئے کافی وافی ہے۔ ‘
وہ انہیں قیامت کے دن دوبارہ کی نئی پیدائش میں ضرور اور قطعا پیدا کرے گا۔ اس نے ان کے اعادہ کی، ان کے قبروں سے نکل کھڑے ہونے کی مدت مقرر کر رکھی ہے۔ اس وقت یہ سب کچھ ہو کر رہے گا۔ یہاں کی قدرے تاخیر صرف معینہ وقت کو پورا کرنے کیلئے ہے۔ افسوس کس قدر واضح دلائل کے بعد بھی لوگ کفر و ضلالت کو نہیں چھوڑتے۔