ترجمہ و تفسیر — سورۃ الإسراء/بني اسرائيل (17) — آیت 94

وَ مَا مَنَعَ النَّاسَ اَنۡ یُّؤۡمِنُوۡۤا اِذۡ جَآءَہُمُ الۡہُدٰۤی اِلَّاۤ اَنۡ قَالُوۡۤا اَبَعَثَ اللّٰہُ بَشَرًا رَّسُوۡلًا ﴿۹۴﴾
اور لوگوں کو کسی چیز نے نہیں روکا کہ وہ ایمان لائیں، جب ان کے پاس ہدایت آئی مگر اس بات نے کہ انھوں نے کہا کیا اللہ نے ایک بشر کو پیغام پہنچانے والا بنا کر بھیجا ہے؟ En
اور جب لوگوں کے پاس ہدایت آگئی تو ان کو ایمان لانے سے اس کے سوا کوئی چیز مانع نہ ہوئی کہ کہنے لگے کہ کیا خدا نے آدمی کو پیغمبر کرکے بھیجا ہے
En
لوگوں کے پاس ہدایت پہنچ چکنے کے بعد ایمان سے روکنے والی صرف یہی چیز رہی کہ انہوں نے کہا کیا اللہ نے ایک انسان کو ہی رسول بنا کر بھیجا؟ En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 94) {وَ مَا مَنَعَ النَّاسَ اَنْ يُّؤْمِنُوْۤا …:} یعنی یہ بات ان کی سمجھ میں نہ آئی کہ ایک شخص بشر ہوتے ہوئے اللہ کا رسول کیسے ہو سکتا ہے، اگر اللہ کو کوئی رسول بھیجنا ہوتا تو کسی فرشتے کو بھیج دیتا۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بشر ہونے کو جانتے تھے، آپ کے آبا و اجداد اور ازواج و اولاد، کھانے پینے، چلنے پھرنے اور دوسری تمام انسانی ضروریات کو دیکھتے تھے، اس لیے آپ کو رسول ماننے کے لیے تیار نہ تھے۔ اب بہت سے مسلمان کہلانے والے جو باپ دادا سے مسلمان چلے آ رہے ہیں، محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو رسول مانتے ہیں، مگر آپ کو بشر ماننے کے لیے ہرگز تیار نہیں، کیونکہ مشرکین عرب اور ان لوگوں کا ذہن ایک ہے۔ انھوں نے کہا، بشر رسول نہیں ہو سکتا اور انھوں نے کہا، رسول بشر نہیں ہو سکتا۔ { فَمَا أَشْبَهَ اللَّيْلَةَ بِالْبَارِحَةِ } (سو آج کی رات کل رات سے کس قدر ملتی جلتی ہے) اللہ تعالیٰ نے کفار کا یہ شبہ کئی آیات میں بیان فرمایا ہے، دیکھیے سورۂ یونس (۲)، تغابن (۶)، سورۂ ق (۱، ۲) اور انعام (۸، ۹) حقیقت یہ ہے کہ ان سب لوگوں نے اپنی بے بصیرتی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے ہاں بشر کے مقام اور عزت و کرامت کو پہچانا ہی نہیں۔ دیکھیے سورۂ بنی اسرائیل (۷۰)۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

94۔ 1 یعنی کسی انسان کا رسول ہونا، کفار و مشرکین کے لئے سخت تعجب کی بات تھی، وہ یہ بات مانتے ہی نہ تھے کہ ہمارے جیسا انسان، جو ہماری طرح چلتا پھرتا ہے، ہماری طرح کھاتا پیتا ہے، ہماری طرح انسانی رشتوں میں منسلک ہے، وہ رسول بن جائے۔ یہی تعجب ان کے ایمان میں مانع رہا۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

94۔ لوگوں کے پاس ہدایت آجانے کے بعد انھیں ایمان لانے سے صرف یہ بات روکتی ہے جو وہ کہتے ہیں کہ: ”کیا اللہ نے انسان کو رسول [112] بنا کر بھیجا ہے؟“
[112] بشریت کی وجہ سے رسالت اور رسالت کی وجہ سے بشریت کا انکار:۔
انبیاء و رسل کے مخالفین کا ہمیشہ یہ اعتراض رہا ہے کہ چونکہ یہ رسول ہماری طرح کا ہی انسان ہے، ہماری طرح ہی کھاتا پیتا، چلتا پھرتا، شادی کرتا اور صاحب اولاد ہے جو احتیاجات ہمیں لاحق ہیں وہ اسے بھی لاحق ہیں۔ پھر یہ نبی کیسے ہو سکتا ہے؟ گویا کافر اس وجہ سے انبیاء کی نبوت کا انکار کرتے تھے کہ وہ بشر ہیں۔ پھر بعد میں انہی نبیوں کی امت میں سے ایسے لوگ پیدا ہوئے جنہوں نے فرط عقیدت سے ان کی نبوت و رسالت کو تو ان کی حد سے متجاوز تسلیم کیا مگر ان کی بشریت سے انکار کر دیا۔ پھر کسی نے اپنے نبی کو خدا کا درجہ دے دیا۔ کسی نے خدا کے بیٹے کا اور کسی نے یوں کہا کہ خدا اس میں حلول کر گیا ہے گویا ان دونوں انتہا پسندوں کی نظر میں بشریت اور رسالت کا ایک ذات میں جمع ہونا نا ممکن ہی بنا رہا۔ کافروں نے بشریت کی وجہ سے رسالت کا انکار کیا اور فرط عقیدت رکھنے والوں نے رسالت کی وجہ سے بشریت کا انکار کر دیا۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

فکری مغالطے اور کفار ٭٭
اکثر لوگ ایمان سے اور رسولوں کی تابعداری سے اسی بنا پر رک گئے کہ انہیں یہ سمجھ نہ آیا کہ کوئی انسان بھی رسول بن سکتا ہے۔ «أَكَانَ لِلنَّاسِ عَجَبًا أَنْ أَوْحَيْنَا إِلَىٰ رَجُلٍ مِّنْهُمْ أَنْ أَنذِرِ النَّاسَ وَبَشِّرِ الَّذِينَ آمَنُوا» ‏‏‏‏ ۱؎ [10-يونس:2]‏‏‏‏
’ یعنی وہ اس پر سخت تر متعجب ہوئے اور آخر انکار کر بیٹھے اور صاف کہہ گئے کہ کیا ایک انسان ہماری رہبری کرے گا؟ ‘
فرعون اور اس کی قوم نے بھی یہی کہا تھا کہ «فَقَالُوا أَنُؤْمِنُ لِبَشَرَيْنِ مِثْلِنَا وَقَوْمُهُمَا لَنَا عَابِدُونَ» ۱؎ [23-المؤمنون:47]‏‏‏‏
’ یعنی ہم اپنے جیسے دو انسانوں پر ایمان کیسے لائیں خصوصا اس صورت میں کہ ان کی ساری قوم ہماری ماتحتی میں ہے۔ ‘
یہی اور امتوں نے اپنے زمانے کے نبیوں سے کہا تھا کہ «إِنْ أَنتُمْ إِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُنَا تُرِيدُونَ أَن تَصُدُّونَا عَمَّا كَانَ يَعْبُدُ آبَاؤُنَا فَأْتُونَا بِسُلْطَانٍ مُّبِينٍ» [14-إبراهيم:10]‏‏‏‏
’ یعنی تم تو ہم جیسے ہی انسان ہو، سوا اس کے کچھ نہیں کہ تم ہمیں اپنے بڑوں کے معبودوں سے بہکا رہے ہو، اچھا لاؤ کوئی زبردست ثبوت پیش کرو۔ ‘ اور بھی اس مضمون کی بہت سی آیتیں ہیں۔
اس کے بعد اللہ سبحانہ و تعالیٰ اپنے لطف و کرم اور انسانوں میں سے رسولوں کے بھیجنے کی وجہ کو بیان فرماتا ہے اور اس حکمت کو ظاہر فرماتا ہے کہ اگر فرشتے رسالت کا کام انجام دیتے تو نہ ان کے پاس تم بیٹھ اٹھ سکتے نہ ان کی باتیں پوری طرح سے سمجھ سکتے۔ انسانی رسول چونکہ تمہارے ہی ہم جنس ہوتے ہیں تم ان سے خلا ملا رکھ سکتے ہو، ان کی عادات و اطوار دیکھ سکتے ہو اور مل جل کر ان سے اپنی زبان میں تعلیم حاصل کر سکتے ہو، ان کا عمل دیکھ کر خود سیکھ سکتے ہو۔
جیسے فرمان ہے آیت «‏‏‏‏لَقَدْ مَنَّ اللَّـهُ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ إِذْ بَعَثَ فِيهِمْ رَسُولًا مِّنْ أَنفُسِهِمْ» ‏‏‏‏ ۱؎ [3-آل عمران:164]‏‏‏‏ الخ۔
اور آیت میں ہے «لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِّنْ أَنفُسِكُمْ» ‏‏‏‏ ۱؎ [9-التوبة:128]‏‏‏‏ الخ۔
اور آیت میں ہے «‏‏‏‏كَمَا أَرْسَلْنَا فِيكُمْ رَسُولًا مِّنكُمْ يَتْلُو عَلَيْكُمْ آيَاتِنَا وَيُزَكِّيكُمْ وَيُعَلِّمُكُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَيُعَلِّمُكُم مَّا لَمْ تَكُونُوا تَعْلَمُونَ فَاذْكُرُونِي أَذْكُرْكُمْ وَاشْكُرُوا لِي وَلَا تَكْفُرُونِ» ‏‏‏‏ ۱؎ [2-البقرة:151-152]‏‏‏‏۔
مطلب سب کا یہی ہے کہ یہ تو اللہ کا زبردست احسان ہے کہ اس نے تم میں سے ہی اپنے رسول بھیجے کہ وہ آیات الٰہی تمہیں پڑھ کر سنائیں، تمہارے اخلاق پاکیزہ کریں اور تمہیں کتاب و حکمت سکھائیں اور جن چیزوں سے تم بےعلم تھے وہ تمہیں عالم بنا دیں۔
پس تمہیں میری یاد کی کثرت کرنی چاہیئے تاکہ میں بھی تمہیں یاد کروں۔ تمہیں میری شکر گزاری کرنی چاہیئے اور ناشکری سے بچنا چاہیئے۔ یہاں فرماتا ہے کہ اگر زمین کی آبادی فرشتوں کی ہوتی تو بیشک ہم کسی آسمانی فرشتے کو ان میں رسول بنا کر بھیجتے چونکہ تم خود انسان ہو ہم نے اسی مصلحت سے انسانوں میں سے ہی اپنے رسول بنا کر تم میں بھیجے۔