قُلۡ کُلٌّ یَّعۡمَلُ عَلٰی شَاکِلَتِہٖ ؕ فَرَبُّکُمۡ اَعۡلَمُ بِمَنۡ ہُوَ اَہۡدٰی سَبِیۡلًا ﴿٪۸۴﴾
کہہ دے ہر ایک اپنے طریقے پر عمل کرتا ہے، سو تمھارا رب زیادہ جاننے والا ہے کہ کون زیادہ سیدھی راہ پر ہے۔
En
کہہ دو کہ ہر شخص اپنے طریق کے مطابق عمل کرتا ہے۔ سو تمہارا پروردگار اس شخص سے خوب واقف ہے جو سب سے زیادہ سیدھے رستے پر ہے
En
کہہ دیجئیے! کہ ہر شخص اپنے طریقہ پر عامل ہے جو پوری ہدایت کے راستے پر ہیں انہیں تمہارا رب ہی بخوبی جاننے واﻻ ہے
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 84) ➊ {قُلْ كُلٌّ يَّعْمَلُ عَلٰى شَاكِلَتِهٖ: ” شَاكِلَةٌ “} وہ طریقہ جو کسی کا ہم شکل اور حسبِ حال ہو، یعنی ہر شخص اپنے اس طریقہ پر عمل کرتا ہے جو ہدایت یا گمراہی میں سے اس کے مطابق اور حسب حال ہوتا ہے، کوئی نیک ہے، کوئی بد اور کوئی بین بین، سب ایک طریقے پر نہیں، نہ ایسا کرنا اللہ تعالیٰ کی حکمت کے موافق ہے، کیونکہ پھر امتحان کا مقصد فوت ہو جاتا ہے۔ دیکھیے سورۂ ہود (۱۱۸، ۱۱۹)۔
➋ { فَرَبُّكُمْ اَعْلَمُ بِمَنْ هُوَ اَهْدٰى سَبِيْلًا:} یعنی ہر شخص اسی طریقے پر خوش ہے جس پر چل رہا ہے، جیسا کہ فرمایا: «كُلُّ حِزْبٍۭ بِمَا لَدَيْهِمْ فَرِحُوْنَ» [المؤمنون: ۵۳] ”ہر گروہ کے لوگ اسی پر خوش ہیں جو ان کے پاس ہے۔“ اور ہر شخص اپنے آپ کو سب سے زیادہ صحیح راستے پر سمجھتا ہے، مگر سب سے زیادہ صحیح راستے پر چلنے والوں کا علم صرف تیرے رب کو ہے جو قیامت کے درمیان اپنے بندوں کے تمام اختلافات کا فیصلہ فرمائے گا۔ دیکھیے سورۂ زمر (۴۶)۔
➋ { فَرَبُّكُمْ اَعْلَمُ بِمَنْ هُوَ اَهْدٰى سَبِيْلًا:} یعنی ہر شخص اسی طریقے پر خوش ہے جس پر چل رہا ہے، جیسا کہ فرمایا: «كُلُّ حِزْبٍۭ بِمَا لَدَيْهِمْ فَرِحُوْنَ» [المؤمنون: ۵۳] ”ہر گروہ کے لوگ اسی پر خوش ہیں جو ان کے پاس ہے۔“ اور ہر شخص اپنے آپ کو سب سے زیادہ صحیح راستے پر سمجھتا ہے، مگر سب سے زیادہ صحیح راستے پر چلنے والوں کا علم صرف تیرے رب کو ہے جو قیامت کے درمیان اپنے بندوں کے تمام اختلافات کا فیصلہ فرمائے گا۔ دیکھیے سورۂ زمر (۴۶)۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
84۔ 1 اس میں مشرکین کے لئے تہدید و وعید ہے اور اس کا وہی مفہوم ہے جو سورة ہود کی آیت 121۔ 122 کا ہے۔ وقل للذین لا یومنون اعملوا علی مکانتکم انا عملون۔ شاکلۃ کے معنی نیت دین طریقے اور مزاج و طبیعت کے ہیں۔ بعض کہتے ہیں کہ اس میں کافر کے لیے ذم اور مومن کے لیے مدح کا پہلو ہے کیونکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر انسان ایسا عمل کرتا ہے جو اس کے اخلاق و کردار پر مبنی ہوتا ہے جو اس کی عادت و طبیعت ہوتی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
84۔ آپ ان سے کہئے کہ: ہر کوئی اپنی طبیعت [105] (سوچ) کے مطابق عمل کرتا ہے لہذا تمہارا پروردگار ہی خوب جانتا ہے کہ کون زیادہ سیدھی راہ چل رہا ہے۔
[105] شاکلہ کا مفہوم:۔
شاکلۃ کے معنی طور طریقہ، ڈھب، ڈھنگ، یعنی ہر انسان اپنی افتاد طبع کے مطابق کام کرتا ہے۔ مثلاً ایک شخص صدقہ علانیہ دیتا ہے اور اس سے اس کا مقصود یہ ہے کہ دوسروں کو بھی ترغیب ہو اور دوسرا صدقہ پوشیدہ طور پر دیتا ہے اور اس کا مقصود یہ ہے کہ نمائش نہ ہو۔ اب دیکھئے نیت دونوں کی بخیر ہے لیکن طریقہ اور انداز فکر الگ الگ ہے۔ یا مثلاً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو نکلے اور دیکھا کہ سیدنا ابو بکر صدیقؓ نماز میں آہستہ آواز سے قرآن پڑھ رہے ہیں۔ پوچھا اتنا آہستہ کیوں پڑھتے ہو؟ عرض کیا، اس لیے کہ میرا رب بہرا نہیں ہے کہ چلا کر پڑھوں۔ آگے گئے تو دیکھا کہ سیدنا عمرؓ بلند آواز سے قرآن پڑھ رہے ہیں۔ پوچھا اتنی بلند آواز سے کیوں پڑ رہے ہو؟ عرض کیا ”سونے والوں کو جگاتا ہوں اور شیطان کو بھگاتا ہوں“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں کی تحسین فرمائی۔ اس واقعہ میں عمل ایک ہی ہے نیت بھی دونوں کی بخیر ہے۔ لیکن سوچ کا انداز الگ الگ ہے۔ یہی شاکلۃ کا مفہوم ہے۔ اسی لحاظ سے بعض علماء نے اس لفظ سے مراد ہی ”نیت“ لی ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
انسانی فطرت میں خیر و شر موجود ہے ٭٭
خیر و شر برائی بھلائی جو انسان کی فطرت میں ہیں، قرآن کریم ان کو بیان فرما رہا ہے۔ مال، عافیت، فتح، رزق، نصرت، تائید، کشادگی، آرام پاتے ہی نظریں پھیر لیتا ہے۔ اللہ سے دور ہو جاتا ہے گویا اسے کبھی برائی پہنچنے کی ہی نہیں۔ اللہ سے کروٹ بدل لیتا ہے گویا کبھی کی جان پہچان ہی نہیں اور جہاں مصیبت، تکلیف، دکھ، درد، آفت، حادثہ پہنچا اور یہ ناامید ہوا، سمجھ لیتا ہے کہ اب بھلائی، عافیت، راحت، آرام ملنے ہی کا نہیں۔
قرآن کریم اور جگہ ارشاد فرماتا ہے آیت «وَلَئِنْ أَذَقْنَا الْإِنسَانَ مِنَّا رَحْمَةً ثُمَّ نَزَعْنَاهَا مِنْهُ إِنَّهُ لَيَئُوسٌ كَفُورٌ * وَلَئِنْ أَذَقْنَاهُ نَعْمَاءَ بَعْدَ ضَرَّاءَ مَسَّتْهُ لَيَقُولَنَّ ذَهَبَ السَّيِّئَاتُ عَنِّي ۚ إِنَّهُ لَفَرِحٌ فَخُورٌ * إِلَّا الَّذِينَ صَبَرُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ أُولَـٰئِكَ لَهُم مَّغْفِرَةٌ وَأَجْرٌ كَبِيرٌ» [11-هود:9-11] ’ انسان کو راحتیں دے کر جہاں ہم نے واپس لے لیں کہ یہ محض مایوس اور ناشکرا بن گیا اور جہاں مصیبتوں کے بعد ہم نے عافیتیں دیں یہ پھول گیا، گھمنڈ میں آ گیا اور ہانک لگانے لگا کہ بس اب برائیاں مجھ سے دور ہو گئیں۔‘
فرماتا ہے کہ ہر شخص اپنی اپنی طرز پر، اپنی طبیعت پر، اپنی نیت پر، اپنے دین اور طریقے پر عامل ہے تو لگے رہیں۔ اس کا علم کہ فی الواقع راہ راست پر کون ہے، صرف اللہ ہی کو ہے۔
اس میں مشرکین کو تنبیہ ہے کہ وہ اپنے مسلک پر گو کار بند ہوں اور اچھا سمجھ رہے ہوں لیکن اللہ کے پاس جا کر کھلے گا کہ جس راہ پر وہ تھے وہ کیسی خطرناک تھی۔ جیسے فرمان ہے کہ «وَقُل لِّلَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ اعْمَلُوا عَلَىٰ مَكَانَتِكُمْ إِنَّا عَامِلُونَ * وَانتَظِرُوا إِنَّا مُنتَظِرُونَ» ۱؎ [11-هود:121-122] ’ بے ایمانوں سے کہہ دو کہ اچھا ہے اپنی جگہ اپنے کام کرتے جاؤ ‘ الخ،
بدلے کا وقت یہ نہیں، قیامت کا دن ہے، نیکی بدی کی تمیز اس دن ہو گی، سب کو بدلے ملیں گے، اللہ پر کوئی امر پوشیدہ نہیں۔
فرماتا ہے کہ ہر شخص اپنی اپنی طرز پر، اپنی طبیعت پر، اپنی نیت پر، اپنے دین اور طریقے پر عامل ہے تو لگے رہیں۔ اس کا علم کہ فی الواقع راہ راست پر کون ہے، صرف اللہ ہی کو ہے۔
اس میں مشرکین کو تنبیہ ہے کہ وہ اپنے مسلک پر گو کار بند ہوں اور اچھا سمجھ رہے ہوں لیکن اللہ کے پاس جا کر کھلے گا کہ جس راہ پر وہ تھے وہ کیسی خطرناک تھی۔ جیسے فرمان ہے کہ «وَقُل لِّلَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ اعْمَلُوا عَلَىٰ مَكَانَتِكُمْ إِنَّا عَامِلُونَ * وَانتَظِرُوا إِنَّا مُنتَظِرُونَ» ۱؎ [11-هود:121-122] ’ بے ایمانوں سے کہہ دو کہ اچھا ہے اپنی جگہ اپنے کام کرتے جاؤ ‘ الخ،
بدلے کا وقت یہ نہیں، قیامت کا دن ہے، نیکی بدی کی تمیز اس دن ہو گی، سب کو بدلے ملیں گے، اللہ پر کوئی امر پوشیدہ نہیں۔