ترجمہ و تفسیر — سورۃ الإسراء/بني اسرائيل (17) — آیت 80

وَ قُلۡ رَّبِّ اَدۡخِلۡنِیۡ مُدۡخَلَ صِدۡقٍ وَّ اَخۡرِجۡنِیۡ مُخۡرَجَ صِدۡقٍ وَّ اجۡعَلۡ لِّیۡ مِنۡ لَّدُنۡکَ سُلۡطٰنًا نَّصِیۡرًا ﴿۸۰﴾
اور کہہ اے میرے رب! داخل کر مجھے سچا داخل کرنا اور نکال مجھے سچا نکالنا اور میرے لیے اپنی طرف سے ایسا غلبہ بنا جو مددگار ہو۔ En
اور کہو کہ اے پروردگار مجھے (مدینے میں) اچھی طرح داخل کیجیو اور (مکے سے) اچھی طرح نکالیو۔ اور اپنے ہاں سے زور وقوت کو میرا مددگار بنائیو
En
اور دعا کیا کریں کہ اے میرے پروردگار مجھے جہاں لے جا اچھی طرح لے جا اور جہاں سے نکال اچھی طرح نکال اور میرے لئے اپنے پاس سے غلبہ اور امداد مقرر فرما دے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 80) ➊ { وَ قُلْ رَّبِّ اَدْخِلْنِيْ مُدْخَلَ صِدْقٍ …:} اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ہر امتی کو یہ دعا سکھائی کہ اے میرے رب! تو مجھے دنیا و آخرت میں جس جگہ بھی داخل کرے باعزت اور آبرو مندانہ طریقے سے داخل کر اور جس جگہ سے بھی نکالے باعزت طریقے سے نکال اور میرے لیے دلیل و برہان کے ساتھ قوت و سلطنت کا ایسا غلبہ عطا فرما جو میرا مددگار ہو۔ دلیل کے غلبے کے لیے دعوت اور سلطنت کے غلبے کے لیے جہاد ضروری ہے، جس کا پہلا قدم دار الکفر سے ہجرت ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ یہ آیت اس وقت اتری جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہجرت کا حکم دیا گیا، چنانچہ یہ دعا قبول ہوئی اور آپ آبرو مندانہ طور پر مدینہ وارد ہوئے، انصار سے اور مہاجرین سے دین کی مدد بھی ہوئی۔
➋ { سُلْطٰنًا نَّصِيْرًا } سے اس آیت میں مراد قوت و سلطنت کا غلبہ ہے، کیونکہ دلیل و برہان میں تو آپ مکہ میں بھی ہر وقت غالب تھے۔ کوئی شخص سورۂ کوثر جیسی ایک سورت بھی نہ بنا سکا تھا، اب عناد اور ضد سے اکڑی ہوئی گردنوں کے لیے جہاد کی ضرورت تھی، جس کے لیے اللہ تعالیٰ نے رسولوں کے ساتھ ساتھ لوہا بھی نازل فرمایا۔ دیکھیے سورۂ حدید (۲۵) کی تفسیر۔ اہل حق کے لیے حق سے دشمنی رکھنے والوں پر غلبہ حاصل کرنا فرض ہے، تب ہی وہ اسلام کو تمام ادیان پر غالب کر سکتے ہیں اور اپنی سلطنت ہی میں وہ پورے اسلام پر عمل کر سکتے ہیں جو اب صرف مسجد، نکاح اور جنازے وغیرہ تک رہ گیا ہے۔ بعض اہل علم نے فرمایا: { إِنَّ اللّٰهَ لَيَزَعُ بِالسُّلْطَانِ مَا لَا يَزَعُ بِالْقُرْآنِ } اللہ تعالیٰ سلطان کے ذریعے سے ان فواحش اور گناہوں سے روک دیتا ہے جن کے ارتکاب سے بہت سے لوگ قرآن سننے کے باوجود باز نہیں آتے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

80۔ 1 بعض کہتے ہیں کہ یہ ہجرت کے موقع پر نازل ہوئی جب آپ کو مدینے میں داخل ہونے اور مکہ سے نکلنے کا مسئلہ درپیش تھا، بعض کہتے ہیں اس کے معنی ہیں مجھے سچائی کے ساتھ موت دینا اور سچائی کے ساتھ قیامت والے دن اٹھانا۔ بعض کہتے ہیں کہ مجھے قبر میں سچا داخل کرنا اور قیامت کے دن جب قبر سے اٹھائے تو سچائی کے ساتھ قبر سے نکالنا وغیرہ۔ امام شوکانی فرماتے ہیں کہ چونکہ یہ دعا ہے اس لئے اس کے عموم میں سب باتیں آجاتی ہیں۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

80۔ اور دعا کیجئے: اے میرے پروردگار! جہاں بھی تو مجھے لے جائے سچائی کے ساتھ [101] لے جا، اور جہاں سے نکالے تو سچائی کے ساتھ نکال اور اپنے ہاں سے ایک اقتدار کو میرا مددگار [102] بنا دے۔
[101] اس آیت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت کی طرف واضح اشارہ ہے جو اس آیت کے نزول کے تقریباً ایک سال بعد واقع ہونے والی تھی اور جو دعا آپ کو سکھائی گئی وہ یہ تھی کہ یا اللہ ایسی صورت پیدا فرما کہ میں جہاں بھی جاؤں حق و صداقت کی خاطر جاؤں اور جہاں سے نکلوں (مثلاً مکہ سے) تو حق و صداقت ہی کی خاطر نکلوں یا یہ مطلب ہے کہ جہاں مجھے پہچانا ہے نہایت آبرو اور خوش اسلوبی کے ساتھ مجھے وہاں لے جا کہ حق و صداقت کا بول بالا رہے اور جہاں سے مجھے نکالنا ہے تو اس وقت بھی آبرو اور خوش اسلوبی سے نکال کہ دشمن ذلیل و خوار اور دوست شاداں و فرحاں ہوں، سچائی کی فتح ہو اور باطل سرنگوں ہو۔
[102] دین کے نفاذ کے لئے اقتدار کی ضرورت:۔
اس جملہ کے دو مطلب ہو سکتے ہیں ایک یہ کہ مجھے خود ایسا اقتدار اور حکومت عطا فرما جس میں تیری مدد اور نصرت شامل حال ہو۔ دوسرا یہ کہ کسی اقتدار یا حکومت کے دل میں یہ بات ڈال دے کہ وہ میرے اس کام یعنی دین حق کی سربلندی کے لیے میرا مددگار ثابت ہو۔ اس آیت سے دو باتیں ضمناً معلوم ہوئیں۔ ایک یہ کہ دین حق کے نفاذ کے لیے اقتدار اور غلبہ ضروری ہے محض پند و نصائح سے لاتوں کے بھوت کبھی نہ راہ راست پر آسکتے ہیں اور نہ اپنی معاندانہ سرگرمیاں چھوڑنے پر تیار ہوتے ہیں۔ اور ایک مقام ایسا بھی آتا ہے کہ سمجھانے کے بعد ڈنڈے کی بھی ضرورت پیش آ جاتی ہے۔ لہٰذا اقامت دین کے لیے دعوت دین کے علاوہ غلبہ و اقتدار کے لیے کوشش کرنا بھی ویسا ہی ضروری ہے۔ طلب امارت کن صورتوں میں ناجائز ہے؟ اور دوسری یہ کہ طلب امارت جسے شریعت نے مذموم قرار دیا ہے صرف اس صورت میں مذموم ہے جبکہ اس سے مقصود محض حصول مال و جاہ ہو۔ اور اگر اس سے مقصود اقامت دین ہو تو ایسے اقتدار کے حصول کی کوشش مذموم تو درکنار، فرض کفایہ ہے اور ہر مسلمان کا فرض ہے کہ کسی موزوں تر آدمی کو برسر اقتدار لانے کی کوشش کرے اور اگر وہ خود ہی موزوں تر ہو اور کوئی دوسرا آدمی اس غرض کے لیے مل نہ رہا ہو تو خود اپنے لیے بھی حصول اقتدار کی کوشش ضروری ہوتی ہے۔ [نيز ديكهئے سورة يوسف آيت نمبر 55 كا حاشيه]

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

حکم ہجرت ٭٭
مسند احمد میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ شریف میں تھے پھر آپ کو ہجرت کا حکم ہوا اور یہ آیت اتری۔ } ۱؎ [مسند احمد:223/1]‏‏‏‏ امام ترمذی رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3139،قال الشيخ الألباني:ضعیف]‏‏‏‏
حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ کفار مکہ نے مشورہ کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کر دیں یا نکال دیں یا قید کر لیں پس اللہ کا یہی ارادہ ہوا کہ اہل مکہ کو ان کی بداعمالیوں کا مزہ چکھا دے۔ اس نے اپنے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو مدینے جانے کا حکم فرمایا۔ یہی اس آیت میں بیان ہو رہا ہے۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں مدینہ میں داخل ہونا اور مکہ سے نکلنا یہی قول سب سے زیادہ مشہور ہے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ سچائی کے داخلے سے مراد موت ہے اور سچائی سے نکلنے سے مراد موت کے بعد کی زندگی ہے اور اقوال بھی ہیں لیکن زیادہ صحیح پہلا قول ہی ہے۔ امام ابن جریر بھی اسی کو اختیار کرتے ہیں۔
پھر حکم ہوا کہ غلبے اور مدد کی دعا ہم سے کرو۔ اس دعا پر اللہ تعالیٰ نے فارس اور روم کا ملک اور عزت دینے کا وعدہ فرما لیا۔ اتنا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم معلوم کر چکے تھے کہ بغیر غلبے کے دین کی اشاعت اور زور ناممکن ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ سے مدد و غلبہ طلب کیا تاکہ کتاب اللہ اور حدود اللہ، فرائض شرع اور قیام دین آپ کر سکیں۔
یہ غلبہ بھی اللہ کی ایک زبردست رحمت ہے۔ اگر یہ نہ ہوتا تو ایک دوسرے کو کھا جاتا۔ ہر زور آور کمزور کا شکار کر لیتا۔ «سُلْطَانًا نَّصِيرًا» سے مراد کھلی دلیل بھی ہے لیکن پہلا قول پہلا ہی ہے اس لیے کہ حق کے ساتھ غلبہ اور طاقت بھی ضروری چیز ہے تاکہ مخالفین حق دبے رہیں۔
اسی لیے اللہ تعالیٰ نے لوہے کے اتارنے کے احسان کو قرآن میں خاص طور پر ذکر کیا ہے «لَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَيِّنَاتِ وَأَنزَلْنَا مَعَهُمُ الْكِتَابَ وَالْمِيزَانَ لِيَقُومَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ ۖ وَأَنزَلْنَا الْحَدِيدَ فِيهِ بَأْسٌ شَدِيدٌ وَمَنَافِعُ لِلنَّاسِ وَلِيَعْلَمَ اللَّـهُ مَن يَنصُرُهُ وَرُسُلَهُ بِالْغَيْبِ» ۱؎ [57-الحديد:25]‏‏‏‏
یقیناً ہم نے اپنے پیغمبروں کو کھلی دلیلیں دے کر بھیجا اور ان کے ساتھ کتاب اور میزان (‏‏‏‏ترازو) نازل فرمایا تاکہ لوگ عدل پر قائم رہیں۔ اور ہم نے لوہے کو اتارا جس میں سخت ہیبت وقوت ہے اور لوگوں کے لیے اور بھی (‏‏‏‏بہت سے) فائدے ہیں اور اس لیے بھی کہ اللہ جان لے کہ اس کی اور اس کے رسولوں کی مدد بے دیکھے کون کرتا ہے۔ ‘
ایک حدیث میں ہے کہ سلطنت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ بہت سی برائیوں کو روک دیتا ہے جو صرف قرآن سے نہیں رک سکتی تھیں۔ یہ بالکل واقعہ ہے بہت سے لوگ ہیں کہ قرآن کی نصیحتیں اس کے وعدے وعید ان کو بدکاریوں سے نہیں ہٹا سکتے۔ لیکن اسلامی طاقت سے مرعوب ہو کر وہ برائیوں سے رک جاتے ہیں۔
پھر کافروں کی گوشمالی کی جاتی ہے کہ اللہ کی جانب سے حق آچکا۔ سچائی اتر آئی، جس میں کوئی شک شبہ نہیں، قرآن ایمان نفع دینے والا سچا علم منجانب اللہ آگیا، کفر برباد و غارت اور بے نام و نشان ہو گیا، وہ حق کے مقابلہ میں بے دست و پا ثابت ہوا، حق نے باطل کا دماغ پاش پاش کر دیا اور وہ نابود اور بے وجود ہوگیا۔
صحیح بخاری شریف میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکے میں آئے بیت اللہ کے آس پاس تین سو ساٹھ بت تھے، آپ اپنے ہاتھ کی لکڑی سے انہیں کچوکے دے رہے تھے اور یہی آیت «وَقُلْ جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ ۚ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا» [17-الإسراء:81]‏‏‏‏ پڑھتے تھے اور فرماتے جاتے تھے حق آ چکا باطل نہ دوبارہ آ سکتا ہے نہ لوٹ سکتا ہے۔ } [صحیح بخاری:2478]‏‏‏‏
ابو یعلیٰ میں ہے کہ { ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مکے میں آئے، بیت اللہ کے اردگرد تین سو ساٹھ بت تھے، جن کی پوجا پاٹ کی جاتی تھی، آپ نے فوراً حکم دیا کہ ان سب کو اوندھے منہ گرا دو پھر آپ نے یہی آیت تلاوت فرمائی۔ } ۱؎ [ابن ابی شیبة فی المصنف:534/8:حسن]‏‏‏‏