یَوۡمَ نَدۡعُوۡا کُلَّ اُنَاسٍۭ بِاِمَامِہِمۡ ۚ فَمَنۡ اُوۡتِیَ کِتٰبَہٗ بِیَمِیۡنِہٖ فَاُولٰٓئِکَ یَقۡرَءُوۡنَ کِتٰبَہُمۡ وَ لَا یُظۡلَمُوۡنَ فَتِیۡلًا ﴿۷۱﴾
جس دن ہم سب لوگوں کو ان کے امام کے ساتھ بلائیں گے، پھر جسے اس کی کتاب اس کے دائیں ہاتھ میں دی گئی تو یہ لوگ اپنی کتاب پڑھیں گے اور ان پر کھجور کی گٹھلی کے دھاگے برابر (بھی) ظلم نہ ہو گا۔
En
جس دن ہم سب لوگوں کو ان کے پیشواؤں کے ساتھ بلائیں گے۔ تو جن (کے اعمال) کی کتاب ان کے داہنے ہاتھ میں دی جائے گی وہ اپنی کتاب کو (خوش ہو ہو کر) پڑھیں گے اور ان پر دھاگے برابر بھی ظلم نہ ہوگا
En
جس دن ہم ہر جماعت کو اس کے پیشوا سمیت بلائیں گے۔ پھر جن کا بھی اعمال نامہ دائیں ہاتھ میں دے دیا گیا وه تو شوق سے اپنا نامہٴ اعمال پڑھنے لگیں گے اور دھاگے کے برابر (ذره برابر) بھی ﻇلم نہ کئے جائیں گے
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 71) ➊ {يَوْمَ نَدْعُوْا كُلَّ اُنَاسٍۭ بِاِمَامِهِمْ:} امام کا معنی پیشوا بھی ہے، جیسا کہ فرمایا: «وَ اجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِيْنَ اِمَامًا» [الفرقان: ۷۴] ”اور ہمیں متقی لوگوں کا پیشوا بنا۔“ دوسرا معنی کتاب ہے، فرمایا: «وَ كُلَّ شَيْءٍ اَحْصَيْنٰهُ فِيْۤ اِمَامٍ مُّبِيْنٍ» [یٰسٓ: ۱۲] ”اور ہم نے ہر چیز کو ایک واضح کتاب میں محفوظ کر رکھا ہے۔“ پہلا معنی مراد ہو تو اہل ایمان کے امام انبیاء علیہم السلام ہوں گے اور کفار و مشرکین کے امام ان کے باطل سردار ہوں گے، جیسا کہ فرمایا: «وَ جَعَلْنٰهُمْ اَىِٕمَّةً يَّدْعُوْنَ اِلَى النَّارِ» [القصص: ۴۱] ”اور ہم نے انھیں ایسے سردار بنایا جو آگ کی طرف دعوت دیتے تھے۔“ وہ لوگ جنھوں نے کتاب و سنت کے سوا کسی کی پیروی نہیں کی وہ اپنے امام محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بلائے جائیں گے اور ان سے بڑھ کر کون خوش نصیب ہو سکتا ہے جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھی ہوں اور جنھوں نے کتاب و سنت کو چھوڑ کر کسی اور کی پیروی کی ہوگی، نیک ہو یا بد، وہ ان کے ساتھ بلائے جائیں گے، مگر وہ سب اپنے پیروکاروں سے صاف بری ہو جائیں گے، حتیٰ کہ شیطان بھی اپنے پیروکاروں سے بری ہونے کا اعلان کر دے گا۔ (دیکھیے ابراہیم: ۲۲) وہ نیک ائمہ اور بزرگ جو زندگی میں اپنی تقلید سے منع کرتے رہے اور کتاب و سنت کی پیروی کی تاکید کرتے رہے، وہ بھی اپنے ان جھوٹے پیروکاروں سے بالکل بری ہو جائیں گے، جنھوں نے اپنے اماموں کی بات مانی نہ کتاب و سنت پر عمل کیا۔ دیکھیے سورۂ بقرہ (۱۶۵ تا ۱۶۷) اور احقاف (۶) اور اگر دوسرا معنی مراد لیا جائے تو مطلب یہ ہو گا کہ اس دن ہر شخص کو اس کی کتابِ اعمال کے ساتھ بلایا جائے گا۔ یہاں یہ معنی زیادہ مناسب ہے، کیونکہ آگے کتاب کو دائیں یا بائیں ہاتھ میں دیے جانے کی بات کی گئی ہے۔
➋ { فَاُولٰٓىِٕكَ يَقْرَءُوْنَ كِتٰبَهُمْ:} دائیں ہاتھ میں اعمال نامہ ملنے ہی سے انھیں آنے والی خیر و سعادت کا پتا چل جائے گا، چنانچہ وہ خوشی خوشی اسے پڑھیں گے اور دوسروں کو بھی دکھائیں گے۔ دیکھیے سورۂ حاقہ (۱۹)۔
➌ { وَ لَا يُظْلَمُوْنَ فَتِيْلًا:} کھجور کی گٹھلی کے شگاف میں باریک دھاگے کو{” فَتِيْلًا “} کہتے ہیں، یعنی تھوڑا سا ظلم بھی نہیں ہو گا۔
➋ { فَاُولٰٓىِٕكَ يَقْرَءُوْنَ كِتٰبَهُمْ:} دائیں ہاتھ میں اعمال نامہ ملنے ہی سے انھیں آنے والی خیر و سعادت کا پتا چل جائے گا، چنانچہ وہ خوشی خوشی اسے پڑھیں گے اور دوسروں کو بھی دکھائیں گے۔ دیکھیے سورۂ حاقہ (۱۹)۔
➌ { وَ لَا يُظْلَمُوْنَ فَتِيْلًا:} کھجور کی گٹھلی کے شگاف میں باریک دھاگے کو{” فَتِيْلًا “} کہتے ہیں، یعنی تھوڑا سا ظلم بھی نہیں ہو گا۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
71۔ 1 اِ مَام کے معنی پیشوا، لیڈر اور قائد کے ہیں، یہاں اس سے کیا مراد ہے؟ اس میں اختلاف ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ اس سے مراد پیغمبر ہے یعنی ہر امت کو اس کے پیغمبر کے حوالے سے پکارا جائے گا، بعض کہتے ہیں، اس سے آسمانی کتاب مراد ہے جو انبیاء کے ساتھ نازل ہوتی رہیں۔ یعنی اے اہل تورات! اے اہل انجیل! اور اے اہل قرآن! وغیرہ کہہ کر پکارا جائے گا بعض کہتے ہیں یہاں ' امام سے مراد نامہ اعمال ہے یعنی ہر شخص کو جب بلایا جائے گا تو اس کا نامہ اعمال اس کے ساتھ ہوگا اور اس کے مطابق اس کا فیصلہ کیا جائے گا۔ اسی رائے کو امام ابن کثیر اور امام شوکانی نے ترجیح دی ہے۔ 71۔ 2 فَتِیل اس جھلی یا تاگے کو کہتے ہیں جو کھجور کی گٹھلی میں ہوتا ہے یعنی ذرہ برابر ظلم نہیں ہوگا۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
71۔ جس دن ہم ہر گروہ کو اس کے پیشوا [89] کے ساتھ بلائیں گے، پھر جس کو اس کا اعمال نامہ دائیں ہاتھ میں دیا گیا [90] تو ایسے لوگ اپنا اعمال نامہ پڑھیں گے اور ان پر ذرہ بھر [91] ظلم نہ کیا جائے گا۔
[89] امام سے مراد کسی امت کا نبی بھی ہو سکتا ہے اور وہ شخص بھی جسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے بعد پیشوا سمجھا گیا ہو۔ اور یہ بلانا اس طرح ہو گا: اے موسیٰ کی امت، اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امت، اے عیسیٰؑ کی امت یا اے قرآن والو! اے انجیل والو، اے تورات والو، اسی طرح ہر گروہ والوں کو اس گروہ کے بانی کے نام سے پکارا جائے گا۔ [90] اللہ کے فرمانبرداروں کو ان کا اعمال نامہ سامنے سے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا اور یہ ایک حسی مشاہدہ ہو گا جسے دیکھ کر ہر شخص اس کے جنتی ہونے کا اندازہ لگا سکے گا۔ ایسے شخص بہت خوش و خرم ہوں گے اور خوشی سے اپنا اعمال نامہ دوسروں کو بھی پڑھنے کو کہیں گے اور انھیں ان کے اعمال کا پورا پورا اجر مل جائے گا لیکن جس شخص کو اس کا اعمال نامہ پیچھے کی طرف سے دائیں ہاتھ میں تھما یا گیا اسے بھی فوراً اپنا انجام معلوم ہو جائے گا وہ اپنا اعمال نامہ چھپانا چاہے گا اور کہے گا کاش! مجھے یہ دیا ہی نہ جاتا۔
[91] فتیلا اس باریک سے دھاگے کو بھی کہتے ہیں جو کھجور کی گٹھلی کے شگاف میں ہوتا ہے اور اس لفظ سے بہت تھوڑی مقدار مراد لی جاتی ہے یعنی ہر ایک کو قیامت کے دن اس کی محنت کا پورا صلہ بلکہ اس سے زیادہ بھی ملے گا۔ لیکن مجرموں کو ان کے گناہوں سے ذرہ بھر بھی زیادہ سزا نہ دی جائے گی۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
الکتاب ہی ہدایت و امام ہے ٭٭
امام سے مراد یہاں نبی علیہم السلام ہیں ہر امت قیامت کے دن اپنے نبی علیہ السلام کے ساتھ بلائی جائے گی جیسے اس آیت میں ہے «وَلِكُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلٌ ۚ فَاِذَا جَاۗءَ رَسُوْلُھُمْ قُضِيَ بَيْنَھُمْ بالْقِسْطِ وَھُمْ لَا يُظْلَمُوْنَ» [10-يونس:47] ’ ہر امت کا رسول ہے، پھر جب ان کے رسول آئیں گے تو ان کے درمیان عدل کے ساتھ حساب کیا جائے گا۔ ‘
بعض سلف کا قول ہے کہ اس میں اہل حدیث کی بہت بڑی بزرگی ہے، اس لیے کہ ان کے امام نبی کریم محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ ابن زید رحمہ اللہ کہتے ہیں مراد یہاں امام سے کتاب اللہ ہے جو ان کی شریعت کے بارے میں اتری تھی۔ ابن جریر رحمہ اللہ اس تفسیر کو بہت پسند فرماتے ہیں اور اسی کو مختار کہتے ہیں۔
مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں مراد اس سے ان کی کتابیں ہیں۔ ممکن ہے کتاب سے مراد یا تو احکام کی کتاب اللہ ہو یا نامہ اعمال۔ چنانچہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اس سے مراد اعمال نامہ لیتے ہیں۔ ابوالعالیہ، حسن، ضحاک رحمہ اللہ علیہم بھی یہی کہتے ہیں اور یہی زیادہ ترجیح والا قول ہے جیسے فرمان الٰہی ہے «وَكُلَّ شَيْءٍ اَحْصَيْنٰهُ فِيْٓ اِمَامٍ مُّبِيْنٍ» ۱؎ [36-يس:12] ’ ہر چیز کا ہم نے ظاہر کتاب میں احاطہٰ کر لیا ہے۔ ‘
اور آیت میں ہے «وَوُضِعَ الْكِتَابُ فَتَرَى الْمُجْرِمِينَ مُشْفِقِينَ مِمَّا فِيهِ وَيَقُولُونَ يَا وَيْلَتَنَا مَالِ * هَـٰذَا الْكِتَابِ لَا يُغَادِرُ صَغِيرَةً وَلَا كَبِيرَةً إِلَّا أَحْصَاهَا ۚ وَوَجَدُوا مَا عَمِلُوا حَاضِرًا ۗ وَلَا يَظْلِمُ رَبُّكَ أَحَدًا» ۱؎ [18-الكهف:49] ’ کتاب یعنی نامہ اعمال درمیان میں رکھ دیا جائے گا، اس وقت تو دیکھے گا کہ گنہگار لوگ اس کی تحریر سے خوفزدہ ہو رہے ہوں گے۔ ‘ الخ
اور آیت میں ہے «وَتَرَىٰ كُلَّ أُمَّةٍ جَاثِيَةً ۚ كُلُّ أُمَّةٍ تُدْعَىٰ إِلَىٰ كِتَابِهَا الْيَوْمَ تُجْزَوْنَ مَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ * هَـٰذَا كِتَابُنَا يَنطِقُ عَلَيْكُم بِالْحَقِّ ۚ إِنَّا كُنَّا نَسْتَنسِخُ مَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ» [45-الجاثية:28-29] ’ ہر امت کو تو گھٹنوں کے بل گری ہوئی دیکھے گا۔ ہر امت اپنے نامہ اعمال کی جانب بلائی جا رہی ہو گی، آج تمہیں تمہارے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا۔ یہ ہے ہماری کتاب جو تم پر حق و انصاف کے ساتھ فیصلہ کرے گی جو کچھ تم کرتے رہے ہم برابر لکھتے رہتے تھے۔ ‘
بعض سلف کا قول ہے کہ اس میں اہل حدیث کی بہت بڑی بزرگی ہے، اس لیے کہ ان کے امام نبی کریم محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ ابن زید رحمہ اللہ کہتے ہیں مراد یہاں امام سے کتاب اللہ ہے جو ان کی شریعت کے بارے میں اتری تھی۔ ابن جریر رحمہ اللہ اس تفسیر کو بہت پسند فرماتے ہیں اور اسی کو مختار کہتے ہیں۔
مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں مراد اس سے ان کی کتابیں ہیں۔ ممکن ہے کتاب سے مراد یا تو احکام کی کتاب اللہ ہو یا نامہ اعمال۔ چنانچہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اس سے مراد اعمال نامہ لیتے ہیں۔ ابوالعالیہ، حسن، ضحاک رحمہ اللہ علیہم بھی یہی کہتے ہیں اور یہی زیادہ ترجیح والا قول ہے جیسے فرمان الٰہی ہے «وَكُلَّ شَيْءٍ اَحْصَيْنٰهُ فِيْٓ اِمَامٍ مُّبِيْنٍ» ۱؎ [36-يس:12] ’ ہر چیز کا ہم نے ظاہر کتاب میں احاطہٰ کر لیا ہے۔ ‘
اور آیت میں ہے «وَوُضِعَ الْكِتَابُ فَتَرَى الْمُجْرِمِينَ مُشْفِقِينَ مِمَّا فِيهِ وَيَقُولُونَ يَا وَيْلَتَنَا مَالِ * هَـٰذَا الْكِتَابِ لَا يُغَادِرُ صَغِيرَةً وَلَا كَبِيرَةً إِلَّا أَحْصَاهَا ۚ وَوَجَدُوا مَا عَمِلُوا حَاضِرًا ۗ وَلَا يَظْلِمُ رَبُّكَ أَحَدًا» ۱؎ [18-الكهف:49] ’ کتاب یعنی نامہ اعمال درمیان میں رکھ دیا جائے گا، اس وقت تو دیکھے گا کہ گنہگار لوگ اس کی تحریر سے خوفزدہ ہو رہے ہوں گے۔ ‘ الخ
اور آیت میں ہے «وَتَرَىٰ كُلَّ أُمَّةٍ جَاثِيَةً ۚ كُلُّ أُمَّةٍ تُدْعَىٰ إِلَىٰ كِتَابِهَا الْيَوْمَ تُجْزَوْنَ مَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ * هَـٰذَا كِتَابُنَا يَنطِقُ عَلَيْكُم بِالْحَقِّ ۚ إِنَّا كُنَّا نَسْتَنسِخُ مَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ» [45-الجاثية:28-29] ’ ہر امت کو تو گھٹنوں کے بل گری ہوئی دیکھے گا۔ ہر امت اپنے نامہ اعمال کی جانب بلائی جا رہی ہو گی، آج تمہیں تمہارے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا۔ یہ ہے ہماری کتاب جو تم پر حق و انصاف کے ساتھ فیصلہ کرے گی جو کچھ تم کرتے رہے ہم برابر لکھتے رہتے تھے۔ ‘
یہ یاد رہے کہ یہ تفسیر پہلی تفسیر کے خلاف نہیں ایک طرف نامہ اعمال ہاتھ میں ہوگا دوسری جانب خود نبی علیہ السلام سامنے موجود ہوگا۔ جیسے فرمان ہے «وَاَشْرَقَتِ الْاَرْضُ بِنُوْرِ رَبِّهَا وَوُضِعَ الْكِتٰبُ وَجِايْۗءَ بالنَّـبِيّٖنَ وَالشُّهَدَاۗءِ وَقُضِيَ بَيْنَهُمْ بالْحَــقِّ وَهُمْ لَا يُظْلَمُوْنَ» [39-الزمر:69] ’ زمین اپنے رب کے نور سے چمکنے لگے گی نامہ اعمال رکھ دیا جائے گا اور نبیوں اور گواہوں کو موجود کر دیا جائے گا ‘
اور آیت میں ہے «فَكَيْفَ اِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ اُمَّةٍۢ بِشَهِيْدٍ وَّجِئْنَا بِكَ عَلٰي هٰٓؤُلَاۗءِ شَهِيْدًا» [4-النساء:41] ’ یعنی کیا کیفیت ہو گی اس وقت جب کہ ہر امت کا ہم گواہ لائیں گے اور تجھے ان تمام پر گواہ کر کے لائیں گے۔ ‘
لیکن مراد یہاں امام سے نامہ اعمال ہے اسی لیے اس کے بعد ہی فرمایا کہ جن کے دائیں ہاتھ میں دے دیا گیا وہ تو اپنی نیکیاں فرحت و سرور، خوشی اور راحت سے پڑھنے لگیں گے بلکہ دوسروں کو دکھاتے اور پڑھواتے پھریں گے۔ اسی کا مزید بیان سورۃ الحاقہ میں ہے «فَأَمَّا مَنْ أُوتِيَ كِتَابَهُ بِيَمِينِهِ فَيَقُولُ هَاؤُمُ اقْرَءُوا كِتَابِيَهْ * إِنِّي ظَنَنتُ أَنِّي مُلَاقٍ حِسَابِيَهْ * فَهُوَ فِي عِيشَةٍ رَّاضِيَةٍ * فِي جَنَّةٍ عَالِيَةٍ * قُطُوفُهَا دَانِيَةٌ * كُلُوا وَاشْرَبُوا هَنِيئًا بِمَا أَسْلَفْتُمْ فِي الْأَيَّامِ الْخَالِيَةِ * وَأَمَّا مَنْ أُوتِيَ كِتَابَهُ * بِشِمَالِهِ فَيَقُولُ يَا لَيْتَنِي لَمْ أُوتَ كِتَابِيَهْ * وَلَمْ أَدْرِ مَا حِسَابِيَهْ» ۱؎ [69-الحاقة:19-26]۔ «فَتِيلً» سے مراد لمبا دھاگہ ہے جو کھجور کی گٹھلی کے بیچ میں ہوتا ہے۔
بزار میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ ایک شخص کو بلوا کر اس کا اعمال نامہ اس کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا۔ اس کا جسم بڑھ جائے گا، چہرہ چمکنے لگے گا، سر پر چمکتے ہوئے ہیروں کا تاج رکھ دیا جائے گا، یہ اپنے گروہ کی طرف بڑھے گا، اسے اس حال میں آتا دیکھ کر وہ سب آرزو کرنے لگیں گے کہ اے اللہ ہمیں بھی یہ عطا فرما اور ہمیں اس میں برکت دے۔ وہ آتے ہی کہے گا کہ خوش ہو جاؤ تم میں سے ہر ایک کو یہی ملنا ہے۔
لیکن کافر کا چہرہ سیاہ ہو جائے گا، اس کا جسم بڑھ جائے گا، اسے دیکھ کر اس کے ساتھی کہنے لگیں گے اللہ اسے رسوا کر، یہ جواب دے گا، اللہ تمہیں غارت کرے، تم میں سے ہر شخص کے لیے یہی اللہ کی مار ہے۔ } ۱؎ [سنن ترمذي:3136،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
اس دنیا میں جس نے اللہ کی آیتوں سے اس کی کتاب سے اس کی راہ ہدایت سے چشم پوشی کی، وہ آخرت میں سچ مچ رسوا ہو گا اور دنیا سے بھی زیادہ راہ بھولا ہوا ہو گا۔
اور آیت میں ہے «فَكَيْفَ اِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ اُمَّةٍۢ بِشَهِيْدٍ وَّجِئْنَا بِكَ عَلٰي هٰٓؤُلَاۗءِ شَهِيْدًا» [4-النساء:41] ’ یعنی کیا کیفیت ہو گی اس وقت جب کہ ہر امت کا ہم گواہ لائیں گے اور تجھے ان تمام پر گواہ کر کے لائیں گے۔ ‘
لیکن مراد یہاں امام سے نامہ اعمال ہے اسی لیے اس کے بعد ہی فرمایا کہ جن کے دائیں ہاتھ میں دے دیا گیا وہ تو اپنی نیکیاں فرحت و سرور، خوشی اور راحت سے پڑھنے لگیں گے بلکہ دوسروں کو دکھاتے اور پڑھواتے پھریں گے۔ اسی کا مزید بیان سورۃ الحاقہ میں ہے «فَأَمَّا مَنْ أُوتِيَ كِتَابَهُ بِيَمِينِهِ فَيَقُولُ هَاؤُمُ اقْرَءُوا كِتَابِيَهْ * إِنِّي ظَنَنتُ أَنِّي مُلَاقٍ حِسَابِيَهْ * فَهُوَ فِي عِيشَةٍ رَّاضِيَةٍ * فِي جَنَّةٍ عَالِيَةٍ * قُطُوفُهَا دَانِيَةٌ * كُلُوا وَاشْرَبُوا هَنِيئًا بِمَا أَسْلَفْتُمْ فِي الْأَيَّامِ الْخَالِيَةِ * وَأَمَّا مَنْ أُوتِيَ كِتَابَهُ * بِشِمَالِهِ فَيَقُولُ يَا لَيْتَنِي لَمْ أُوتَ كِتَابِيَهْ * وَلَمْ أَدْرِ مَا حِسَابِيَهْ» ۱؎ [69-الحاقة:19-26]۔ «فَتِيلً» سے مراد لمبا دھاگہ ہے جو کھجور کی گٹھلی کے بیچ میں ہوتا ہے۔
بزار میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ ایک شخص کو بلوا کر اس کا اعمال نامہ اس کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا۔ اس کا جسم بڑھ جائے گا، چہرہ چمکنے لگے گا، سر پر چمکتے ہوئے ہیروں کا تاج رکھ دیا جائے گا، یہ اپنے گروہ کی طرف بڑھے گا، اسے اس حال میں آتا دیکھ کر وہ سب آرزو کرنے لگیں گے کہ اے اللہ ہمیں بھی یہ عطا فرما اور ہمیں اس میں برکت دے۔ وہ آتے ہی کہے گا کہ خوش ہو جاؤ تم میں سے ہر ایک کو یہی ملنا ہے۔
لیکن کافر کا چہرہ سیاہ ہو جائے گا، اس کا جسم بڑھ جائے گا، اسے دیکھ کر اس کے ساتھی کہنے لگیں گے اللہ اسے رسوا کر، یہ جواب دے گا، اللہ تمہیں غارت کرے، تم میں سے ہر شخص کے لیے یہی اللہ کی مار ہے۔ } ۱؎ [سنن ترمذي:3136،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
اس دنیا میں جس نے اللہ کی آیتوں سے اس کی کتاب سے اس کی راہ ہدایت سے چشم پوشی کی، وہ آخرت میں سچ مچ رسوا ہو گا اور دنیا سے بھی زیادہ راہ بھولا ہوا ہو گا۔