ترجمہ و تفسیر — سورۃ الإسراء/بني اسرائيل (17) — آیت 69

اَمۡ اَمِنۡتُمۡ اَنۡ یُّعِیۡدَکُمۡ فِیۡہِ تَارَۃً اُخۡرٰی فَیُرۡسِلَ عَلَیۡکُمۡ قَاصِفًا مِّنَ الرِّیۡحِ فَیُغۡرِقَکُمۡ بِمَا کَفَرۡتُمۡ ۙ ثُمَّ لَا تَجِدُوۡا لَکُمۡ عَلَیۡنَا بِہٖ تَبِیۡعًا ﴿۶۹﴾
یا تم بے خوف ہوگئے کہ وہ تمھیں دوسری بار اس میں پھر لے جائے، پھر تم پر توڑ دینے والی آندھی بھیج دے، پس تمھیں غرق کردے، اس کی وجہ سے جو تم نے کفر کیا، پھر تم اپنے لیے ہمارے خلاف اس کے بارے میں کوئی پیچھا کرنے والا نہ پاؤ۔ En
یا (اس سے) بےخوف ہو کر تم دوسری دفعہ دریا میں لے جائے پھر تم پر تیز ہوا چلائے اور تمہارے کفر کے سبب تمہیں ڈبو دے۔ پھر تم اس غرق کے سبب اپنے لئے کوئی ہمارا پیچھا کرنے والا نہ پاؤ
En
کیا تم اس بات سے بےخوف ہوگئے ہو کہ اللہ تعالیٰ پھر تمہیں دوباره دریا کے سفر میں لے آئے اور تم پر تیز وتند ہواؤں کے جھونکے بھیج دے اور تمہارے کفر کے باعﺚ تمہیں ڈبو دے۔ پھر تم اپنے لئے ہم پر اس کا دعویٰ (پیچھا) کرنے واﻻ کسی کو نہ پاؤ گے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

اس آیت کی تفسیر آیت 68 میں تا آیت 70 میں گزر چکی ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

69۔ 1 قَاصِف ایسی تند تیز سمندری ہوا جو کشتیوں کو توڑ دے اور انھیں ڈوب دے تَبِیْعًا انتقام لینے والا، پیچھا کرنے والا، یعنی تمہارے ڈوب جانے کے بعد ہم سے پوچھے کہ تو نے ہمارے بندوں کو کیوں ڈبویا؟ مطلب یہ ہے کہ ایک مرتبہ سمندر سے بخریت نکلنے کے بعد، کیا تمہیں دوبارہ سمندر میں جانے کی ضرورت پیش نہیں آئے گی؟ اور وہاں وہ تمہیں بھنور میں نہیں پھنسا سکتا؟۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

69۔ یا اس بات سے بے خوف ہو کہ دوبارہ تمہیں سمندر میں لوٹا دے پھر تم پر سخت آندھی بھیج دے جو تمہارے کفر کی پاداش میں تمہیں غرق کر دے۔ پھر تمہیں ہمارے خلاف کوئی پیچھا کرنے والا [87] بھی نہ ملے۔
[87] اللہ کی گرفت کی صورتیں:۔
پھر اللہ کی گرفت کا معاملہ سمندر سے ہی متعلق نہیں وہ سمندر سے باہر خشکی پر بھی تم پر عذاب نازل کر سکتا ہے وہ یہ بھی کر سکتا ہے کہ زمین شق ہو جائے اور وہ تمہیں اس میں ایسے غرق کر دے کہ کسی کو پتہ تک نہ چل سکے اور یہ بھی کر سکتا ہے کہ تم پر کنکروں اور سنگریزوں والی تند و تیز آندھی کا طوفان بھیج کر تمہیں ہلاک کر دے اور اس سے بچنے کے لیے تمہیں کوئی پناہ گاہ نہ مل سکے اور یہ بھی کر سکتا ہے کہ سمندری سفر کے لیے دوبارہ کوئی صورت پیدا کر دے اور تمہارے کفر و شرک کی پاداش میں تمہیں طوفانی تھپیڑوں کے حوالے کر کے تمہیں کشتی سمیت غرق کر دے تو ایسی صورت میں تمہارا کوئی معبود تمہارا ایسا حمایتی ہے جو تمہاری طرف سے ہو کر ہم سے باز پرس کر سکے؟

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

سمندر ہو یا صحرا ہر جگہ اسی کا اقتدار ہے ٭٭
ارشاد ہو رہا ہے کہ اے منکرو! سمندر میں تم میری توحید کے قائل ہوئے باہر آکر پھر انکار کر گئے، تو کیا یہ نہیں ہو سکتا کہ پھر تم دوبارہ دریائی سفر کرو اور باد تند کے تھپیڑے تمہاری کشتی کو ڈگمگا دیں اور آخر ڈبو دیں اور تمہیں تمہارے کفر کا مزہ آ جائے، پھر تو کوئی مددگار کھڑا نہ ہو، نہ کوئی ایسا مل سکے کہ ہم سے تمہارا بدلہ لے۔ ہمارا پیچھا کوئی نہیں کر سکتا، کس کی مجال کہ ہمارے فعل پر انگلی اٹھائے۔