ترجمہ و تفسیر — سورۃ الإسراء/بني اسرائيل (17) — آیت 45

وَ اِذَا قَرَاۡتَ الۡقُرۡاٰنَ جَعَلۡنَا بَیۡنَکَ وَ بَیۡنَ الَّذِیۡنَ لَا یُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡاٰخِرَۃِ حِجَابًا مَّسۡتُوۡرًا ﴿ۙ۴۵﴾
اور جب تو قرآن پڑھتا ہے ہم تیرے درمیان اور ان لوگوں کے درمیان جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے، ایک پوشیدہ پردہ بنا دیتے ہیں۔ En
اور جب قرآن پڑھا کرتے ہو تو ہم تم میں اور ان لوگوں میں جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے حجاب پر حجاب کر دیتے ہیں
En
تو جب قرآن پڑھتا ہے ہم تیرے اور ان لوگوں کے درمیان جو آخرت پر یقین نہیں رکھتے ایک پوشیده حجاب ڈال دیتے ہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 46،45) ➊ {وَ اِذَا قَرَاْتَ الْقُرْاٰنَ جَعَلْنَا …: اَكِنَّةً كِنَانٌ } کی جمع ہے، چھپانے والی چیز، پردہ۔{ وَقْرًا } بوجھ، مراد بہرا پن ہے۔ { نُفُوْرًا نَافِرٌ} کی جمع ہے، بدکتے ہوئے۔ مصدر بھی ہو سکتا ہے، نفرت کی وجہ سے، یعنی جب انھوں نے آخرت سے انکار کیا اور پھر ضد اور ہٹ دھرمی میں اس قدر بڑھ گئے کہ ہزار سمجھانے کے باوجود انکار کرتے ہی چلے گئے تو اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان کے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان ایک گہرا پردہ حائل ہو گیا، ان کے دلوں پر غلاف چڑھ گئے، مگر ایسے جو کسی کو نظر نہیں آتے، نگاہوں سے پوشیدہ ہیں اور ان کے کان ہر نصیحت کرنے والے کی بات سننے سے بہرے ہو گئے، مگر وہ بدبخت ان پردوں کے حائل ہونے اور قرآن کی تاثیر سے محروم ہونے پر فکر کے بجائے فخر ہی کرتے رہے اور مذاق اڑاتے رہے۔ یہود کا بھی یہی حال تھا۔ دیکھیے سورۂ بقرہ (۸۸) مشرکین کا حال اللہ تعالیٰ نے سورۂ حم السجدہ (۵) میں بیان فرمایا ہے۔ اگرچہ اس پردے کا باعث ان کی اپنی ضد اور ہٹ دھرمی تھی مگر چونکہ ہر چیز کا خالق اللہ تعالیٰ ہے، اس لیے فرمایا کہ آپ کے قرآن پڑھتے وقت ہم یہ پردہ بنا دیتے ہیں۔
ایک معنی اس آیت کا یہ بھی ہے کہ آپ جب قرآن پڑھتے ہیں اور بعض کفار آپ کو نقصان پہنچانے کے لیے آتے ہیں تو ہم آپ کے اور ان کے درمیان ایک ایسا پردہ حائل کر دیتے ہیں جو نظر نہیں آتا، اس پردے کی وجہ سے وہ آپ کو دیکھ نہیں سکتے اور نہ آپ کو کوئی نقصان یا تکلیف ہی پہنچا سکتے ہیں۔ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما بیان کرتی ہیں کہ جب سورۂ لہب اتری تو عوراء ام جمیل (ابولہب کی بیوی) بڑے جوش سے ہاتھ میں پتھر پکڑے ہوئے آئی اور وہ یہ کہہ رہی تھی: {مُذَمَّمًا أَبَيْنَا، وَأَمْرَهُ عَصَيْنَا وَ دِيْنَهُ قَلَيْنَا } (ہم مذمم کو نہیں مانتے اور اس کے حکم کی اطاعت نہیں کرتے اور اس کے دین سے دشمنی رکھتے ہیں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خانہ کعبہ میں بیٹھے ہوئے تھے، ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی آپ کے ساتھ تھے، ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ عورت آ رہی ہے، مجھے خوف ہے کہ یہ آپ کو دیکھ لے گی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ مجھے ہرگز نہیں دیکھے گی اور آپ نے اس سے بچنے کے لیے قرآن کی چند آیات پڑھیں، ان میں سے ایک آیت یہ بھی تھی: «وَ اِذَا قَرَاْتَ الْقُرْاٰنَ جَعَلْنَا بَيْنَكَ وَ بَيْنَ الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ حِجَابًا مَّسْتُوْرًا» ‏‏‏‏غرض وہ آئی اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس کھڑی ہو گئی، مگر اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں دیکھا۔ مختصر یہ کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ سے چند باتوں کے بعد وہ چلی گئی۔ [مسند أبی یعلٰی: ۲۵۔ مستدرک حاکم: 361/2، ح: ۳۳۷۶] حاکم نے اسے صحیح کہا اور ذہبی نے ان کی موافقت فرمائی، اس کے کئی شواہد ہیں، ارنؤوط کی ابن حبان (۶۵۱) پر تعلیق ملاحظہ فرمائیں۔ بہرحال پہلا معنی اور دوسرا دونوں درست ہیں کہ آپ کے قرآن پڑھتے وقت اگر وہ پاس ہوتے ہیں تو قرآن سننے کے باوجود اس پردے کی وجہ سے جس طرح قرآن سننے کا حق ہے نہ اسے سن سکتے ہیں، نہ سمجھتے ہیں اور نہ اثر قبول کرتے ہیں اور اگر وہ ایذا رسانی کی نیت سے آتے ہیں تو اللہ تعالیٰ آپ کو اس پردے کے ذریعے سے ان کی نگاہوں سے محفوظ رکھتا ہے۔
➋ { وَ اِذَا ذَكَرْتَ …:} اس آیت کی بہترین تفسیر سورۂ زمر کی آیت (۴۵) ہے، اس کی تفسیر ملاحظہ فرمائیں۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

45۔ 1 مَسْتُور بمعنی ساترٍ (مانع اور حائل) ہے مستور عن الابصار (آنکھوں سے اوجھل) پس وہ اسے دیکھتے ہیں۔ اس کے باوجود، ان کے اور ہدایت کے درمیان حجاب ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

45۔ اور جب آپ قرآن پڑھتے ہیں تو ہم آپ کے اور ان لوگوں کے درمیان ایک مخفی پردہ حائل کر دیتے ہیں جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

کفار کا ایک نفسیاتی تجزیہ ٭٭
فرماتا ہے کہ قرآن کی تلاوت کے وقت ان کے دلوں پر پردے پڑجاتے ہیں، کوئی اثر ان کے دلوں تک نہیں پہنچتا۔ وہ حجاب انہیں چھپا لیتا ہے۔ یہاں «مَّسْتُورً» ، «ساتِر» کے معنی میں ہے جیسے «میمون» اور «مشئوم» معنی میں یا «من» اور «شائم» کے ہیں۔ وہ پردے گو بظاہر نظر نہ آئیں لیکن ہدایت میں اور ان میں وہ حد فاصل ہو جاتے ہیں۔
مسند ابو یعلیٰ موصلی میں ہے کہ { سورۃ «تَبَّتْ يَدَا» کے اترنے پر عورت ام جمیل شور مچاتی دھاری دار پتھر ہاتھ میں لیے یہ کہتی ہوئی آئی کہ اس مذموم کو ہم ماننے والے نہیں ہمیں اس کا دین ناپسند ہے، ہم اس کے فرمان کے مخالف ہیں۔ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے ہوئے تھے، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ کے پاس تھے، کہنے لگے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ آ رہی ہے اور آپ کو دیکھ لے گی۔
آپ نے فرمایا بیفکر رہو یہ مجھے نہیں دیکھ سکتی اور آپ نے اس سے بچنے کے لیے تلاوت قرآن شروع کر دی۔ یہی آیت تلاوت فرمائی وہ آئی اور صدیق اکبر رضی اللہ عنہا سے پوچھنے لگی کہ میں نے سنا ہے۔ تمہارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میری ہجو کی ہے، آپ نے فرمایا، نہیں، رب کعبہ کی قسم تیری ہجو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں کی، وہ یہ کہتی ہوئی لوٹی کہ تمام قریش جانتے ہیں کہ میں ان کے سردار کی لڑکی ہوں۔ } ۱؎ [مسند ابویعلیٰ:25:حسن]‏‏‏‏
«أَكِنَّةً» ، «کنان» کی جمع ہے اس پردے نے ان کے دلوں کو ڈھک رکھا ہے جس سے یہ قرآن سمجھ نہیں سکتے ان کے کانوں میں بوجھ ہے، جس سے وہ قرآن اس طرح سن نہیں سکتے کہ انہیں فائدہ پہنچے اور جب تو قرآن میں اللہ کی وحدانیت کا ذکر پڑھتا ہے تو یہ بے طرح بھاگ کھڑے ہوتے ہیں۔ «نُفُورً» جمع ہے نافر کی جیسے قاعد کی جمع عقود آتی ہے اور ہو سکتا ہے کہ یہ مصدر بغیر فعل ہو «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
جیسے اور آیت میں ہے کہ «وَإِذَا ذُكِرَ اللَّـهُ وَحْدَهُ اشْمَأَزَّتْ قُلُوبُ الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِالْآخِرَةِ ۖ وَإِذَا ذُكِرَ الَّذِينَ مِن دُونِهِ إِذَا هُمْ يَسْتَبْشِرُونَ» ‏‏‏‏ ۱؎ [39-الزمر:45]‏‏‏‏ ’ اللہ واحد کے ذکر سے بے ایمانوں کے دل اچاٹ ہو جاتے ہیں۔ ‘
مسلمانوں کا «‏‏‏‏لا الہ الا اللہ» کہنا مشرکوں پر بہت گراں گزرتا تھا ابلیس اور اس کا لشکر اس سے بہت چڑتا تھا۔ اس کے دبانے کی پوری کوشش کرتا تھا لیکن اللہ کا ارادہ ان کے برخلاف اسے بلند کرنے اور عزت دینے اور پھیلانے کا تھا۔ یہی وہ کلمہ ہے کہ اس کا قائل فلاح پاتا ہے اس کا عامل مدد دیا جاتا ہے۔
دیکھ لو اس جزیرے کے حالات تمہارے سامنے ہیں کہ یہاں سے وہاں تک یہ پاک کلمہ پھیل گیا۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد شیطانوں کا بھاگنا ہے گو بات یہ ٹھیک ہے۔ اللہ کے ذکر سے، اذان سے، تلاوت قرآن سے، شیطان بھاگتا ہے لیکن اس آیت کی یہ تفسیر کرنا غرابت سے خالی نہیں۔