ترجمہ و تفسیر — سورۃ الإسراء/بني اسرائيل (17) — آیت 36

وَ لَا تَقۡفُ مَا لَیۡسَ لَکَ بِہٖ عِلۡمٌ ؕ اِنَّ السَّمۡعَ وَ الۡبَصَرَ وَ الۡفُؤَادَ کُلُّ اُولٰٓئِکَ کَانَ عَنۡہُ مَسۡـُٔوۡلًا ﴿۳۶﴾
اور اس چیز کا پیچھا نہ کر جس کا تجھے کوئی علم نہیں۔ بے شک کان اور آنکھ اور دل، ان میں سے ہر ایک، اس کے متعلق سوال ہوگا۔ En
اور (اے بندے) جس چیز کا تجھے علم نہیں اس کے پیچھے نہ پڑ۔ کہ کان اور آنکھ اور دل ان سب (جوارح) سے ضرور باز پرس ہوگی
En
جس بات کی تجھے خبر ہی نہ ہو اس کے پیچھے مت پڑ۔ کیونکہ کان اور آنکھ اور دل ان میں سے ہر ایک سے پوچھ گچھ کی جانے والی ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 36) ➊ {وَ لَا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ: لَا تَقْفُ قَفَا يَقْفُوْ} (ن) سے نہی کا صیغہ ہے، جس کا معنی پیچھے چلنا ہے۔ { قَفَوْتُ أَثَرَ فُلاَنٍ} میں فلاں کے نقش قدم پر چلا۔ {قَفَا} گردن کے پچھلے حصے (گدی) کو کہتے ہیں، قافیہ ہر شعر کے آخر میں آنے والا لفظ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک مبارک نام {اَلْمُقَفِّيْ} بھی ہے، یعنی سب سے پیچھے آنے والا۔(مستدرک حاکم: ۴۱۸۵) یعنی جس قول یا فعل کے درست ہونے کا علم یعنی یقین نہ ہو اس کا پیچھا مت کرو، مطلب یہ کہ نہ خود اس پر عمل کرو نہ آگے کسی کو بتاؤ۔ علم وہ ہے جس کا یقین ہو، صرف گمان کے پیچھے چلنا منع ہے، کیونکہ گمان علم نہیں ہوتا، فرمایا: «وَ مَا لَهُمْ بِهٖ مِنْ عِلْمٍ اِنْ يَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ» ‏‏‏‏ [النجم: ۲۸] حالانکہ انھیں اس کے متعلق کوئی علم نہیں، وہ صرف گمان کے پیچھے چل رہے ہیں۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ راوی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [إِيَّاكُمْ وَالظَّنَّ فَإِنَّ الظَّنَّ أَكْذَبُ الْحَدِيْثِ] [بخاری، الأدب، باب: «یأیھا الذین اٰمنوا اجتنبوا کثیرا من الظن…» : ۶۰۶۶] گمان سے بچو، یقینا گمان سب سے جھوٹی بات ہے۔ اسی طرح سنی سنائی بات بلا تحقیق بیان کرنا بھی منع ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [كَفَی بِالْمَرْءِ كَذِبًا أَنْ يُّحَدِّثَ بِكُلِّ مَا سَمِعَ] [مسلم، المقدمۃ، باب النھی عن الحدیث بکل ما سمع: ۵، عن أبي ھریرۃ رضی اللہ عنہ] آدمی کو جھوٹا ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ ہر وہ بات آگے بیان کر دے جو اس نے سنی ہو۔ علاوہ ازیں جھوٹی گواہی، کوئی بھی تہمت، جھوٹا خواب بیان کرنا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث اس کے صحیح ہونے کا علم ہونے کے بغیر بیان کرنا، قرآن و حدیث کی موجودگی میں کسی کی شخصی رائے یا قیاس پر عمل کرنا (تقلید کرنا) یہ سب چیزیں اس میں شامل ہیں، اللہ تعالیٰ نے ان سب سے منع فرمایا ہے۔
➋ {اِنَّ السَّمْعَ وَ الْبَصَرَ …: } یہاں { كُلُّ اُولٰٓىِٕكَ كَانَ عَنْهُ مَسْـُٔوْلًا } سے مراد وہ شخص بھی ہو سکتا ہے جس کے کان، آنکھیں اور دل ہیں، یعنی آدمی سے ان تینوں چیزوں میں سے ہر ایک کے بارے میں سوال کیا جانے والا ہے کہ تونے ان اعضا کو کہاں استعمال کیا ہے؟ جس چیز کا علم نہیں تھا اس کا پیچھا کرنے میں اللہ کے عطا کردہ اعضا کیوں استعمال کیے؟ (دیکھیے حجر: ۹۲، ۹۳) اور { كُلُّ اُولٰٓىِٕكَ كَانَ عَنْهُ مَسْـُٔوْلًا } کا معنی یہ بھی ہو سکتا ہے کہ کان، آنکھیں اور دل میں سے ہر ایک سے خود اس کے متعلق سوال ہونے والا ہے کہ بتاؤ تمھیں اس شخص نے کہاں اور کیسے استعمال کیا۔ دیکھیے سورۂ یس (۶۵) اور حم السجدہ (۱۹ تا ۲۳) بہرحال قرآن کی آیات میں یہ دونوں مفہوم موجود ہیں، دونوں صورتوں میں قیامت کے دن کی اس ہولناک پیشی سے ڈرایا گیا ہے۔ اس آیت کی ہم معنی یہ آیات بھی ملاحظہ فرمائیں سورۂ اعراف (۳۳) اور سورۂ بقرہ (۱۶۸، ۱۶۹)۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ چند الفاظ اسلام کے مکمل منہج کی ترجمانی کرتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ انسان پر لازم ہے کہ اس بات کی اپنی حد تک پوری تحقیق کر لے کہ میری زبان جو بات کہہ رہی ہے، یا واقعہ بیان کر رہی ہے، یا روایت نقل کر رہی ہے، یا میری عقل جو فیصلہ کر رہی ہے، یا جو کچھ میں نے قطعی طے کیا، یا جو کام میں کرنے جا رہا ہوں اس کا مجھے پورا علم ہے اور میں اس کے نتائج کو پوری طرح جانتا ہوں۔ اس کے ساتھ ہی قرآن نے بات کا رخ تکبر سے ممانعت کی طرف موڑ دیا، کیونکہ یہ انسان کے اپنی حقیقت سے حد سے زیادہ لا علم ہونے کی دلیل ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

36۔ 1 فَفَا یَقْفُوْ کے معنی ہیں پیچھے لگنا، یعنی جس چیز کا علم نہیں، اس کے پیچھے مت لگو، یعنی بدگمانی مت کرو، کسی کی ٹوہ میں مت رہو، اسی طرح جس چیز کا علم نہیں، اس پر عمل مت کرو۔ 36۔ 2 یعنی جس چیز کے پیچھے تم پڑو گے اس کے متعلق کان سے سوال ہوگا کہ کیا اس نے سنا تھا، آنکھ سے سوال ہوگا کیا اس نے دیکھا تھا اور دل سے سوال ہوگا کیا اس نے جانا تھا؟ کیونکہ یہی تینوں علم کا ذریعہ ہیں۔ یعنی ان اعضا کو اللہ تعالیٰ قیامت والے دن قوت گویائی عطا فرمائے گا اور ان سے پوچھا جائیگا۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

36۔ اور ایسی بات کے پیچھے نہ پڑو جس کا تجھے علم نہیں کیونکہ اس بات کے متعلق کان، آنکھ اور دل [46] سب کی باز پرس ہو گی
[46] ہر قول اور فعل کی تحقیق ضروری ہے بد ظنی سے پرہیز:۔
شریعت کی ایک بہت بڑی اصل یہ ہے کہ ہر شخص سے حسن ظن رکھنا چاہیے تا آنکہ اس کی کوئی بد دیانتی یا غلط حرکت کھل کر سامنے نہ آجائے۔ اسی مضمون کو ایک دوسرے مقام پر فرمایا: ﴿اِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ اِثْمٌ [12: 49] (یعنی بسا اوقات محض گمان سے بات کہہ دینا گناہ ہوتا ہے) اور صحیح حدیث میں ہے کہ: «كفي بالمرء كذبا ان يحدث بماسمع» (یعنی کسی شخص کے جھوٹا ہونے کے لیے اتنی ہی بات کافی ہے کہ جو کچھ سنے اسے تحقیق کیے بغیر آگے بیان کر دے) [مسلم]
لہٰذا ہر شخص کو چاہیے کہ بلا تحقیق کوئی بات نہ کرے۔ نہ ہی بلا وجہ کسی سے بد ظنی رکھے جب تک پوری تحقیق نہ کر لے۔ بلا سوچے سمجھے کسی پر نہ الزام لگائے اور نہ تہمت تراشی کرے۔ نہ کوئی افواہ پھیلائے نہ کسی سے بغض و عداوت رکھے۔ اسی طرح عدالت کے لیے بھی ضروری ہے کہ جب تک مجرم کا جرم ثابت نہ ہو اسے کسی قسم کی کوئی سزا نہ دی جائے۔ پھر یہ تحقیق کا سلسلہ انھیں باتوں میں منحصر نہیں بلکہ وہ رسم و رواج بھی اسی ذیل میں آتی ہیں جو آباء و اجداد سے چلی آرہی ہیں ان کے متعلق یہ تحقیق کرنا ضروری ہے کہ ان کی اصل شریعت میں موجود بھی ہے یا نہیں۔ آنکھ اور کان کا ذکر اس لئے کیا گیا کہ ہمیں بیشتر معلومات انھیں ذرائع سے حاصل ہوتی ہیں اور دل کا کام ان میں غور و فکر کر کے کسی صحیح نتیجہ پر پہنچنا ہے۔ گویا ایسے بد ظنی رکھنے والوں، بے بنیاد افواہیں پھیلانے والوں اور تحقیق کیے بغیر ہی کسی بات کو قبول کر لینے والوں کے اعضاء سے بھی باز پرس ہو گی۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

بلا تحقیق فیصلہ نہ کرو ٭٭
یعنی جس بات کا علم نہ ہو اس میں زبان نہ ہلاؤ۔ بغیر علم کے کسی کی عیب جوئی اور بہتان بازی نہ کرو۔ جھوٹی شہادتیں نہ دیتے پھرو۔ بن دیکھے نہ کہہ دیا کرو کہ میں نے دیکھا، نہ بےسنے سننا بیان کرو، نہ بےعلمی پر اپنا جاننا بیان کرو۔ کیونکہ ان تمام باتوں کی جواب دہی اللہ کے ہاں ہو گی۔ غرض وہم خیال اور گمان کے طور پر کچھ کہنا منع ہو رہا ہے۔
جیسے فرمان قرآن ہے آیت «يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اجْتَنِبُوْا كَثِيْرًا مِّنَ الظَّنِّ» ۱؎ [49-الحجرات:12]‏‏‏‏ ’ زیادہ گمان سے بچو، بعض گمان گناہ ہیں۔ ‘
حدیث میں ہے { گمان سے بچو، گمان بدترین جھوٹی بات ہے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:6066]‏‏‏‏
ابوداؤد کی حدیث میں ہے { انسان کا یہ تکیہ کلام بہت ہی برا ہے کہ لوگ خیال کرتے ہیں۔ } ۱؎ [سنن ابوداود:4972،قال الشيخ الألباني:صحیح]‏‏‏‏
اور حدیث میں ہے { بدترین بہتان یہ ہے کہ انسان جھوٹ موٹ کوئی خواب گھڑلے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:7043]‏‏‏‏
اور صحیح حدیث میں ہے { جو شخص ایسا خواب از خود گھڑلے قیامت کے دن اسے یہ تکلیف دی جائے گی کہ وہ دو جو کے درمیان گرہ لگائے اور یہ اس سے ہرگز نہیں ہونا۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:7042]‏‏‏‏
قیامت کے دن آنکھ کان دل سب سے بازپرس ہو گی سب کو جواب دہی کرنی ہو گی۔ یہاں «تِلْکَ» کی جگہ «أُولَٰئِكَ» کا استعمال ہے، عرب میں یہ استعمال برابر جاری ہے یہاں تک کہ شاعروں کے شعروں میں بھی۔ مثلاً «ذم المنازل بعد منزلة اللوى والعيش بعد أولئك الأيام» ۔