وَ لَا تَقۡرَبُوا الزِّنٰۤی اِنَّہٗ کَانَ فَاحِشَۃً ؕ وَ سَآءَ سَبِیۡلًا ﴿۳۲﴾
اور زنا کے قریب نہ جائو، بے شک وہ ہمیشہ سے بڑی بے حیائی ہے اور برا راستہ ہے۔
En
اور زنا کے بھی پاس نہ جانا کہ وہ بےحیائی اور بری راہ ہے
En
خبردار زنا کے قریب بھی نہ پھٹکنا کیوں کہ وه بڑی بےحیائی ہے اور بہت ہی بری راه ہے
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 32) ➊ { وَ لَا تَقْرَبُوا الزِّنٰۤى …:”فَاحِشَةً “} ایسا قول و فعل جو نہایت قبیح ہو۔ پچھلی آیت میں قتلِ اولاد سے منع فرمایا، جو نسلِ انسانی فنا کرنے کا باعث ہے اور اس آیت میں زنا کے قریب جانے سے منع فرمایا، کیونکہ یہ حد سے بڑھی ہوئی برائی کے ساتھ نسب کا نظام خراب کرنے کا باعث ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ خاوند کو نہ بیوی پر اعتماد رہے گا اور نہ اسے اولاد کے اپنا ہونے کا یقین ہو گا، وہ غیرت کی وجہ سے بیوی بچوں کو قتل بھی کر سکتا ہے، جیسا کہ اکثر خبریں آتی رہتی ہیں۔ اگر یہ رسمِ بد عام ہوجائے تو رشتہ داری کا سارا نظام، جو اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے، ختم ہو جائے گا، نہ باپ کا پتا، نہ کوئی چچا نہ دادا، نہ ان کی اولاد کا علم، نہ ان سے کوئی تعلق نہ رشتہ داری، بلکہ انسان اور حیوان کا فرق ہی ختم ہو جائے گا۔ اس خبیث فعل کی سزا اس وقت مغربی اقوام بھگت رہی ہیں اور انھیں مسلمانوں کے نظام نسب پر شدید حسد ہے، جس کی وجہ سے وہ ان میں بھی بے حیائی اور زنا پھیلانے کا ہر حربہ استعمال کر رہے ہیں۔
➋ اللہ تعالیٰ نے زنا اور بعض دوسرے کاموں کے قریب جانے سے بھی منع فرمایا ہے اور بعض کاموں کا ارتکاب کرنے سے منع کیا ہے۔ آیات پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ جس کام کی رغبت طبعی طور پر آدمی کے دل میں ہو اس کے قریب جانے سے بھی منع فرمایا، جیسے زنا کہ جنسی جذبہ آدمی کا سب سے غالب جذبہ ہے، چنانچہ فرمایا: «وَ لَا تَقْرَبُوا الزِّنٰۤى» [بنی إسرائیل: ۳۲] اور فرمایا: «وَ لَا تَقْرَبُوْهُنَّ حَتّٰى يَطْهُرْنَ» [البقرۃ: ۲۲۲] ”اور ان کے قریب نہ جاؤ، یہاں تک کہ وہ پاک ہو جائیں۔“ اسی طرح یتیم کے مال کے قریب احسن طریقے سے جانے کے سوا منع فرما دیا، کیونکہ مال کی حرص طبعی جذبہ ہے، چنانچہ فرمایا: «وَ لَا تَقْرَبُوْا مَالَ الْيَتِيْمِ اِلَّا بِالَّتِيْ هِيَ اَحْسَنُ» [بنی إسرائیل: ۳۴] البتہ قتل کے ارتکاب سے منع کیا، فرمایا: «وَ لَا تَقْتُلُوْۤا اَوْلَادَكُمْ خَشْيَةَ اِمْلَاقٍ» [بنی إسرائیل: ۳۱] اور فرمایا: «وَ لَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِيْ حَرَّمَ اللّٰهُ اِلَّا بِالْحَقِّ» [بنی إسرائیل: ۳۳] کیونکہ کسی کو قتل کرنا انسان کا طبعی تقاضا نہیں ہے۔
➌ اللہ تعالیٰ نے زنا کے تمام راستے بھی بند فرما دیے جن میں سے چند کا ذکر کیا جاتا ہے: (1) اجنبی عورت کے ساتھ خلوت حرام فرما دی، اسی طرح مردوں کو عورتوں سے عام میل جول سے بھی منع فرما دیا۔ چنانچہ عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما راوی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [لاَ تُسَافِرِ الْمَرْأَةُ إِلاَّ مَعَ ذِيْ مَحْرَمٍ وَلاَ يَدْخُلُ عَلَيْهَا رَجُلٌ إِلاَّ وَ مَعَهَا مَحْرَمٌ] [بخاری، جزاء الصید، باب حج النساء: ۱۸۶۲] ”کوئی عورت سفر نہ کرے مگر کسی محرم کے ساتھ اور اس کے پاس کوئی مرد نہ جائے مگر اس صورت میں کہ اس عورت کے پاس کوئی محرم موجود ہو۔“ مسلم کی اسی روایت میں ہے: [لاَ يَخْلُوَنَّ رَجُلٌ بِامْرَأَةٍ] [مسلم، الحج، باب سفر المرأۃ مع محرم إلی حج وغیرہ: ۱۳۴۱]”کوئی آدمی کسی عورت کے ساتھ اکیلا نہ ہو۔“ اسی طرح عقبہ بن عامر سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [إِيَّاكُمْ وَالدُّخُوْلَ عَلَی النِّسَاءِ، فقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! أَفَرَأَيْتَ الْحَمْوَ؟ قَالَ اَلْحَمْوُ الْمَوْتُ] [بخاری، النکاح، باب لا یخلون رجل بامرأۃ…: ۵۲۳۲۔ مسلم: ۲۱۷۲] ”عورتوں کے پاس جانے سے بچو۔“ ایک انصاری آدمی نے پوچھا: ”آپ {”حَمْوٌ“} (خاوند کے قریبی مثلاً اس کے بھائی یا چچا زاد یعنی کزن وغیرہ) کے متعلق کیا فرماتے ہیں؟“ فرمایا: ”حمو“ تو موت ہے۔“ (2) مردوں اور عورتوں دونوں کو نگاہ نیچی رکھنے اور اپنی شرم گاہ کی حفاظت کا حکم دیا۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ نور (۳۰، ۳۱) کیونکہ آنکھیں اور کان دل کا دروازہ ہیں۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما راوی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [إِنَّ اللّٰهَ كَتَبَ عَلَي ابْنِ آدَمَ حَظَّهُ مِنَ الزِّنَا، أَدْرَكَ ذٰلِكَ لاَ مَحَالَةَ، فَزِنَا الْعَيْنِ النَّظَرُ، وَ زِنَا اللِّسَانِ المَنْطِقُ، وَالنَّفْسُ تَتَمَنَّي وَتَشْتَهِيْ، وَالْفَرْجُ يُصَدِّقُ ذِٰلكَ كُلَّهُ وَ يُكَذِّبُهُ] [بخاری، الاستئذان، باب زنا الجوارح دون الفرج: ۶۲۴۳۔ مسلم: ۲۶۵۷] ”اللہ نے ابن آدم پر زنا میں سے اس کا حصہ لکھ دیا ہے، جسے وہ لامحالہ پانے والا ہے، پس آنکھوں کا زنا ان کا دیکھنا ہے، کانوں کا زنا ان کا سننا ہے، زبان کا زنا بولنا ہے اور نفس تمنا اور خواہش کرتا ہے اور شرم گاہ اس کی تصدیق کرتی ہے یا تکذیب۔“ (3) عورتوں کو پردے کا حکم دیا اور زینت کے اظہار سے سخت منع فرمایا۔ دیکھیے سورۂ نور (۳۱) اور سورۂ احزاب (۳۳) اس کے ساتھ ہی مردوں اور عورتوں کے نکاح کی تاکید فرمائی اور نکاح کو نہایت آسان بنا دیا، اگر وسائل مہیا نہ ہوں تو پاک دامن رہنے کی انتہائی کوشش کا حکم دیا۔ دیکھیے سورۂ نور (۳۲، ۳۳) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [مَنِ اسْتَطَاعَ الْبَاءَةَ فَلْيَتَزَوَّجْ فَإِنَّهُ أَغَضُّ لِلْبَصَرِ، وَ أَحْصَنُ لِلْفَرْجِ، وَ مَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَعَلَيْهِ بِالصَّوْمِ، فَإِنَّهُ لَهُ وِجَاءٌ] [بخاری، الصوم، باب الصوم لمن خاف علی نفسہ العزبۃ: ۱۹۰۵۔ مسلم: ۱۴۰۰] ”تم میں سے جو شخص ضروریات نکاح رکھتا ہو وہ نکاح کرے، کیونکہ یہ نظر کو زیادہ نیچا رکھنے اور شرم گاہ کو (زنا سے) زیادہ محفوظ رکھنے کا والا ہے اور جو طاقت نہ رکھے وہ روزے کو لازم پکڑے، کیونکہ وہ اس کے لیے (شہوت کو) کچلنے کا باعث ہے۔“ (4) زنا کرنے والوں پر، مرد ہوں یا عورت، انتہائی احتیاط کے ساتھ ثبوت قائم کرنے اور پوری شدت کے ساتھ حد نافذ کرنے کا حکم دیا۔ کنواری اور کنوارے کے لیے سو کوڑے اور ایک سال جلاوطنی کی حد مقرر فرمائی، جو رجم سے بہت کم ہے اور غیر کنوارے مرد اور عورت کے لیے سو کوڑے اور رجم کی سزا مقرر فرمائی جو انتہائی سخت سزا ہے۔ اس کی واضح احادیث صحیحین وغیرہ میں معروف ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اگر اللہ کی حد نافذ ہو تو معاشرہ اس گندگی سے بالکل پاک ہو جائے۔
➍ { اِنَّهٗ كَانَ فَاحِشَةً:” كَانَ “} دوام کے معنی کے لیے ہے۔ طنطاوی رحمہ اللہ نے اس جگہ {” كَانَ “} کو{ ”مَا زَالَ“} (ہمیشہ سے) کے معنی میں لیا ہے اور {” فَاحِشَةً “} میں تنوین تعظیم کے لیے ہے، اس لیے ترجمہ کیا گیا ہے ”بے شک وہ ہمیشہ سے بڑی بے حیائی ہے اور برا راستہ ہے۔“ ظاہر ہے کہ زنا بے حیائی میں حد سے بڑھا ہوا کام ہے جو خاندانوں، نسلوں اور معاشروں کو برباد کر دیتا ہے اور خوف ناک جسمانی اور روحانی بیماریوں کا باعث بنتا ہے۔
➎ { وَ سَآءَ سَبِيْلًا:} برا راستہ اس لیے ہے کہ اگر یہ کھل جائے تو اس پر چل کر لوگ آپ کے گھربھی آ پہنچیں گے، پھر کسی کی ماں، بیٹی، بیوی یا بہن کی عزت محفوظ نہیں رہے گی۔ یہی بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس نوجوان کو سمجھائی تھی جس نے آپ سے زنا کی اجازت مانگی تھی۔ سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ”ایک نوجوان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے زنا کی اجازت چاہی۔ لوگ اس کی طرف متوجہ ہوئے، اسے ڈانٹا اور کہا کہ خاموش ہو جا، تاہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [اُدْنُهْ] (میرے) قریب آ۔“ وہ قریب آیا اور جب بیٹھ گیا تو آپ نے فرمایا: [أَتُحِبُّهُ لِأُمِّكَ؟] ”کیا تو اس کام کو اپنی ماں کے لیے پسند کرتا ہے؟“ اس نے کہا:” نہیں، اللہ کی قسم! اے اللہ کے رسول! اللہ مجھے آپ پر فدا کرے (ہر گز نہیں)۔“ آپ نے فرمایا: [وَلَا النَّاسُ يُحِبُّوْنَهُ لِأُمَّهَاتِهِمْ] ”تو لوگ بھی اس کام کو اپنی ماں کے لیے پسند نہیں کرتے۔“ پھر آپ نے فرمایا: [أَفَتُحِبُّهُ لِابْنَتِكَ؟] ”اچھا تو اسے اپنی بیٹی کے لیے پسند کرتا ہے؟“ اس نے کہا: ”نہیں، اللہ کی قسم! اے اللہ کے رسول! اللہ مجھے آپ پر فدا کرے (ہر گز نہیں)۔“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [وَلَا النَّاسُ يُحِبُّوْنَهُ لِبَنَاتِهِمْ] ”لوگ بھی اس کام کو اپنی بیٹیوں کے لیے پسند نہیں کرتے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [أَ فَتُحِبُّهُ لِأُخْتِكَ؟] ” کیا تو اس کام کو اپنی بہن کے لیے پسند کرتا ہے؟“ اس نے کہا: ”نہیں، اللہ کی قسم! اللہ مجھے آپ پر فدا کرے۔“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [وَلَا النَّاسُ يُحِبُّوْنَهُ لِأَخَوَاتِهِمْ] ” لوگ بھی اس کام کو اپنی بہنوں کے لیے پسند نہیں کرتے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: [أَ فَتُحِبُّهُ لِعَمَّتِكَ] ”کیا تو اس کام کو اپنی پھوپھی کے لیے پسند کرتا ہے؟“ اس نے کہا: ”نہیں، اللہ کی قسم! اللہ مجھے آپ پر فدا کرے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [وَلَا النَّاسُ يُحِبُّوْنَهُ لِعَمَّاتِهِمْ] ” لوگ بھی اس کام کو اپنی پھوپھیوں کے لیے پسند نہیں کرتے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: [أَ فَتُحِبُّهُ لِخَالَتِكَ؟] ”کیا تو اس کام کو اپنی خالہ کے لیے پسند کرتا ہے؟“ اس نے کہا: ”نہیں، اللہ کی قسم! اللہ مجھے آپ پر فدا کرے(ہرگز نہیں)۔“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [وَلَا النَّاسُ يُحِبُّوْنَهُ لِخَالَاتِهِمْ] ”لوگ بھی اس کام کو اپنی خالاؤں کے لیے پسند نہیں کرتے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ اس پر رکھا اور یہ دعا کی: [اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ ذَنْبَهُ، وَ طَهِّرْ قَلْبَهُ وَ حَصِّنْ فَرْجَهُ] ”الٰہی! اس کے گناہ بخش، اس کے دل کو پاک کر اور اسے عصمت والا بنا۔“ پھر تو یہ حالت تھی کہ یہ نوجوان ایسے کسی کام کی طرف نہیں جھانکتا تھا۔“ [مسند أحمد: 256/5، ۲۵۷، ح: ۲۲۲۷۴]
➋ اللہ تعالیٰ نے زنا اور بعض دوسرے کاموں کے قریب جانے سے بھی منع فرمایا ہے اور بعض کاموں کا ارتکاب کرنے سے منع کیا ہے۔ آیات پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ جس کام کی رغبت طبعی طور پر آدمی کے دل میں ہو اس کے قریب جانے سے بھی منع فرمایا، جیسے زنا کہ جنسی جذبہ آدمی کا سب سے غالب جذبہ ہے، چنانچہ فرمایا: «وَ لَا تَقْرَبُوا الزِّنٰۤى» [بنی إسرائیل: ۳۲] اور فرمایا: «وَ لَا تَقْرَبُوْهُنَّ حَتّٰى يَطْهُرْنَ» [البقرۃ: ۲۲۲] ”اور ان کے قریب نہ جاؤ، یہاں تک کہ وہ پاک ہو جائیں۔“ اسی طرح یتیم کے مال کے قریب احسن طریقے سے جانے کے سوا منع فرما دیا، کیونکہ مال کی حرص طبعی جذبہ ہے، چنانچہ فرمایا: «وَ لَا تَقْرَبُوْا مَالَ الْيَتِيْمِ اِلَّا بِالَّتِيْ هِيَ اَحْسَنُ» [بنی إسرائیل: ۳۴] البتہ قتل کے ارتکاب سے منع کیا، فرمایا: «وَ لَا تَقْتُلُوْۤا اَوْلَادَكُمْ خَشْيَةَ اِمْلَاقٍ» [بنی إسرائیل: ۳۱] اور فرمایا: «وَ لَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِيْ حَرَّمَ اللّٰهُ اِلَّا بِالْحَقِّ» [بنی إسرائیل: ۳۳] کیونکہ کسی کو قتل کرنا انسان کا طبعی تقاضا نہیں ہے۔
➌ اللہ تعالیٰ نے زنا کے تمام راستے بھی بند فرما دیے جن میں سے چند کا ذکر کیا جاتا ہے: (1) اجنبی عورت کے ساتھ خلوت حرام فرما دی، اسی طرح مردوں کو عورتوں سے عام میل جول سے بھی منع فرما دیا۔ چنانچہ عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما راوی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [لاَ تُسَافِرِ الْمَرْأَةُ إِلاَّ مَعَ ذِيْ مَحْرَمٍ وَلاَ يَدْخُلُ عَلَيْهَا رَجُلٌ إِلاَّ وَ مَعَهَا مَحْرَمٌ] [بخاری، جزاء الصید، باب حج النساء: ۱۸۶۲] ”کوئی عورت سفر نہ کرے مگر کسی محرم کے ساتھ اور اس کے پاس کوئی مرد نہ جائے مگر اس صورت میں کہ اس عورت کے پاس کوئی محرم موجود ہو۔“ مسلم کی اسی روایت میں ہے: [لاَ يَخْلُوَنَّ رَجُلٌ بِامْرَأَةٍ] [مسلم، الحج، باب سفر المرأۃ مع محرم إلی حج وغیرہ: ۱۳۴۱]”کوئی آدمی کسی عورت کے ساتھ اکیلا نہ ہو۔“ اسی طرح عقبہ بن عامر سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [إِيَّاكُمْ وَالدُّخُوْلَ عَلَی النِّسَاءِ، فقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! أَفَرَأَيْتَ الْحَمْوَ؟ قَالَ اَلْحَمْوُ الْمَوْتُ] [بخاری، النکاح، باب لا یخلون رجل بامرأۃ…: ۵۲۳۲۔ مسلم: ۲۱۷۲] ”عورتوں کے پاس جانے سے بچو۔“ ایک انصاری آدمی نے پوچھا: ”آپ {”حَمْوٌ“} (خاوند کے قریبی مثلاً اس کے بھائی یا چچا زاد یعنی کزن وغیرہ) کے متعلق کیا فرماتے ہیں؟“ فرمایا: ”حمو“ تو موت ہے۔“ (2) مردوں اور عورتوں دونوں کو نگاہ نیچی رکھنے اور اپنی شرم گاہ کی حفاظت کا حکم دیا۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ نور (۳۰، ۳۱) کیونکہ آنکھیں اور کان دل کا دروازہ ہیں۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما راوی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [إِنَّ اللّٰهَ كَتَبَ عَلَي ابْنِ آدَمَ حَظَّهُ مِنَ الزِّنَا، أَدْرَكَ ذٰلِكَ لاَ مَحَالَةَ، فَزِنَا الْعَيْنِ النَّظَرُ، وَ زِنَا اللِّسَانِ المَنْطِقُ، وَالنَّفْسُ تَتَمَنَّي وَتَشْتَهِيْ، وَالْفَرْجُ يُصَدِّقُ ذِٰلكَ كُلَّهُ وَ يُكَذِّبُهُ] [بخاری، الاستئذان، باب زنا الجوارح دون الفرج: ۶۲۴۳۔ مسلم: ۲۶۵۷] ”اللہ نے ابن آدم پر زنا میں سے اس کا حصہ لکھ دیا ہے، جسے وہ لامحالہ پانے والا ہے، پس آنکھوں کا زنا ان کا دیکھنا ہے، کانوں کا زنا ان کا سننا ہے، زبان کا زنا بولنا ہے اور نفس تمنا اور خواہش کرتا ہے اور شرم گاہ اس کی تصدیق کرتی ہے یا تکذیب۔“ (3) عورتوں کو پردے کا حکم دیا اور زینت کے اظہار سے سخت منع فرمایا۔ دیکھیے سورۂ نور (۳۱) اور سورۂ احزاب (۳۳) اس کے ساتھ ہی مردوں اور عورتوں کے نکاح کی تاکید فرمائی اور نکاح کو نہایت آسان بنا دیا، اگر وسائل مہیا نہ ہوں تو پاک دامن رہنے کی انتہائی کوشش کا حکم دیا۔ دیکھیے سورۂ نور (۳۲، ۳۳) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [مَنِ اسْتَطَاعَ الْبَاءَةَ فَلْيَتَزَوَّجْ فَإِنَّهُ أَغَضُّ لِلْبَصَرِ، وَ أَحْصَنُ لِلْفَرْجِ، وَ مَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَعَلَيْهِ بِالصَّوْمِ، فَإِنَّهُ لَهُ وِجَاءٌ] [بخاری، الصوم، باب الصوم لمن خاف علی نفسہ العزبۃ: ۱۹۰۵۔ مسلم: ۱۴۰۰] ”تم میں سے جو شخص ضروریات نکاح رکھتا ہو وہ نکاح کرے، کیونکہ یہ نظر کو زیادہ نیچا رکھنے اور شرم گاہ کو (زنا سے) زیادہ محفوظ رکھنے کا والا ہے اور جو طاقت نہ رکھے وہ روزے کو لازم پکڑے، کیونکہ وہ اس کے لیے (شہوت کو) کچلنے کا باعث ہے۔“ (4) زنا کرنے والوں پر، مرد ہوں یا عورت، انتہائی احتیاط کے ساتھ ثبوت قائم کرنے اور پوری شدت کے ساتھ حد نافذ کرنے کا حکم دیا۔ کنواری اور کنوارے کے لیے سو کوڑے اور ایک سال جلاوطنی کی حد مقرر فرمائی، جو رجم سے بہت کم ہے اور غیر کنوارے مرد اور عورت کے لیے سو کوڑے اور رجم کی سزا مقرر فرمائی جو انتہائی سخت سزا ہے۔ اس کی واضح احادیث صحیحین وغیرہ میں معروف ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اگر اللہ کی حد نافذ ہو تو معاشرہ اس گندگی سے بالکل پاک ہو جائے۔
➍ { اِنَّهٗ كَانَ فَاحِشَةً:” كَانَ “} دوام کے معنی کے لیے ہے۔ طنطاوی رحمہ اللہ نے اس جگہ {” كَانَ “} کو{ ”مَا زَالَ“} (ہمیشہ سے) کے معنی میں لیا ہے اور {” فَاحِشَةً “} میں تنوین تعظیم کے لیے ہے، اس لیے ترجمہ کیا گیا ہے ”بے شک وہ ہمیشہ سے بڑی بے حیائی ہے اور برا راستہ ہے۔“ ظاہر ہے کہ زنا بے حیائی میں حد سے بڑھا ہوا کام ہے جو خاندانوں، نسلوں اور معاشروں کو برباد کر دیتا ہے اور خوف ناک جسمانی اور روحانی بیماریوں کا باعث بنتا ہے۔
➎ { وَ سَآءَ سَبِيْلًا:} برا راستہ اس لیے ہے کہ اگر یہ کھل جائے تو اس پر چل کر لوگ آپ کے گھربھی آ پہنچیں گے، پھر کسی کی ماں، بیٹی، بیوی یا بہن کی عزت محفوظ نہیں رہے گی۔ یہی بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس نوجوان کو سمجھائی تھی جس نے آپ سے زنا کی اجازت مانگی تھی۔ سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ”ایک نوجوان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے زنا کی اجازت چاہی۔ لوگ اس کی طرف متوجہ ہوئے، اسے ڈانٹا اور کہا کہ خاموش ہو جا، تاہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [اُدْنُهْ] (میرے) قریب آ۔“ وہ قریب آیا اور جب بیٹھ گیا تو آپ نے فرمایا: [أَتُحِبُّهُ لِأُمِّكَ؟] ”کیا تو اس کام کو اپنی ماں کے لیے پسند کرتا ہے؟“ اس نے کہا:” نہیں، اللہ کی قسم! اے اللہ کے رسول! اللہ مجھے آپ پر فدا کرے (ہر گز نہیں)۔“ آپ نے فرمایا: [وَلَا النَّاسُ يُحِبُّوْنَهُ لِأُمَّهَاتِهِمْ] ”تو لوگ بھی اس کام کو اپنی ماں کے لیے پسند نہیں کرتے۔“ پھر آپ نے فرمایا: [أَفَتُحِبُّهُ لِابْنَتِكَ؟] ”اچھا تو اسے اپنی بیٹی کے لیے پسند کرتا ہے؟“ اس نے کہا: ”نہیں، اللہ کی قسم! اے اللہ کے رسول! اللہ مجھے آپ پر فدا کرے (ہر گز نہیں)۔“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [وَلَا النَّاسُ يُحِبُّوْنَهُ لِبَنَاتِهِمْ] ”لوگ بھی اس کام کو اپنی بیٹیوں کے لیے پسند نہیں کرتے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [أَ فَتُحِبُّهُ لِأُخْتِكَ؟] ” کیا تو اس کام کو اپنی بہن کے لیے پسند کرتا ہے؟“ اس نے کہا: ”نہیں، اللہ کی قسم! اللہ مجھے آپ پر فدا کرے۔“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [وَلَا النَّاسُ يُحِبُّوْنَهُ لِأَخَوَاتِهِمْ] ” لوگ بھی اس کام کو اپنی بہنوں کے لیے پسند نہیں کرتے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: [أَ فَتُحِبُّهُ لِعَمَّتِكَ] ”کیا تو اس کام کو اپنی پھوپھی کے لیے پسند کرتا ہے؟“ اس نے کہا: ”نہیں، اللہ کی قسم! اللہ مجھے آپ پر فدا کرے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [وَلَا النَّاسُ يُحِبُّوْنَهُ لِعَمَّاتِهِمْ] ” لوگ بھی اس کام کو اپنی پھوپھیوں کے لیے پسند نہیں کرتے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: [أَ فَتُحِبُّهُ لِخَالَتِكَ؟] ”کیا تو اس کام کو اپنی خالہ کے لیے پسند کرتا ہے؟“ اس نے کہا: ”نہیں، اللہ کی قسم! اللہ مجھے آپ پر فدا کرے(ہرگز نہیں)۔“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [وَلَا النَّاسُ يُحِبُّوْنَهُ لِخَالَاتِهِمْ] ”لوگ بھی اس کام کو اپنی خالاؤں کے لیے پسند نہیں کرتے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ اس پر رکھا اور یہ دعا کی: [اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ ذَنْبَهُ، وَ طَهِّرْ قَلْبَهُ وَ حَصِّنْ فَرْجَهُ] ”الٰہی! اس کے گناہ بخش، اس کے دل کو پاک کر اور اسے عصمت والا بنا۔“ پھر تو یہ حالت تھی کہ یہ نوجوان ایسے کسی کام کی طرف نہیں جھانکتا تھا۔“ [مسند أحمد: 256/5، ۲۵۷، ح: ۲۲۲۷۴]
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
32۔ 1 اسلام میں زنا چونکہ بہت بڑا جرم ہے، اتنا بڑا کہ کوئی شادی شدہ مرد یا عورت اس کا ارتکاب کرلے تو اسے اسلامی معاشرے میں زندہ رہنے کا ہی حق نہیں ہے۔ پھر اسے تلوار کے ایک وار سے مار دینا ہی کافی نہیں ہے بلکہ حکم ہے کہ پتھر مار مار کر اس کی زندگی کا خاتمہ کیا جائے تاکہ معاشرے میں نشان عبرت بن جائے۔ اس لئے یہاں فرمایا کہ زنا کے قریب مت جاؤ، یعنی اس کے دواعی و اسباب سے بھی بچ کر رہو، مثلًا غیر محرم عورت کو دیکھنا، ان سے اختلاط، کلام کی راہیں پیدا کرنا، اسی طرح عورتوں کا بےپردہ اور بن سنور کر گھروں سے باہر نکلنا، وغیرہ ان تمام امور سے پرہیز ضروری ہے تاکہ اس بےحیائی سے بچا جاسکے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
32۔ اور زنا کے قریب [37] بھی نہ جاؤ۔ کیونکہ وہ بے حیائی اور برا راستہ ہے۔
[37] زنا کے راستے اور ان کے قریب جانے سے ممانعت:۔
اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ زنا نہ کرو بلکہ یوں فرمایا کہ زنا کے قریب بھی نہ جاؤ یعنی وہ تمام راستے اور طور طریقے جو زنا کا سبب بن سکتے ہیں۔ ان سب سے اجتناب کرو۔ ایسے راستوں کا مفصل بیان تو سورۃ نور اور سورۃ احزاب میں آئے گا۔ مختصراً یہ کہ ہر وہ چیز جو انسان کی شہوت کی انگیخت کا سبب بن سکتی ہے۔ وہ زنا کا راستہ ہے مثلاً عورتوں سے آزادانہ اختلاط، عورتوں کا بے پردہ ہو کر بازاروں میں نکلنا، اجنبی مرد و عورت کی گفتگو بالخصوص اس صورت میں کہ وہ اکیلے ہوں۔ نظر بازی، عریاں تصویر، فلمیں، فحش لٹریچر، گندی گالیاں، ٹی وی اور ریڈیو پر فحش افسانے اور ڈرامے اور مردوں اور عورتوں کی بے حجابانہ گفتگو وغیرہ سب شہوت کو ابھارنے والی باتیں ہیں اور یہی زنا کے راستے ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ نے زنا کو جو ’برا راستہ‘ فرمایا تو اس کی قباحتیں درج ذیل ہیں:
1۔ زنا کی صورت میں پیدا ہونے والے بچے کا نسب مشکوک رہتا ہے۔
2۔ ایسے ولد الزنا بچے کے لیے میراث کے جھگڑے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔
3۔ زانیہ عورت اگر منکوحہ ہے تو بچے کے اخراجات بلا وجہ اس کے خاوند کے ذمہ پڑ جاتے ہیں اسی طرح وہ میراث میں بھی بلا وجہ حصہ دار قرار پاتا ہے۔
4۔ غیر منکوحہ عورت جس کے پاس کئی مرد آتے ہوں ان مردوں میں باہمی رقابت اور دشمنی پیدا ہو جاتی ہے۔ حتیٰ کہ بسا اوقات نوبت قتل تک پہنچ جاتی ہے۔
5۔ نکاح کی صورت میں میاں بیوی دونوں ایک دوسرے کے ہمدرد اور غمگسار ہوتے ہیں۔ پھر ان کی یہی باہمی محبت بچوں کی تربیت میں ممد و معاون ثابت ہوتی ہے جس سے خاندانی نظام تشکیل پاتا ہے اور یہی نظام کسی معاشرہ کی سب سے ابتدائی اور اہم اکائی ہے۔ زنا کی صورت میں یہ نظام برقرار رہنا تو درکنار اس کے انجر پنجر ہل جاتے ہیں جیسا کہ آج کل یورپین ممالک میں صورت حال پیدا ہو چکی ہے۔ انھیں چند در چند خرابیوں کی بنا پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ زنا کے قریب بھی نہ پھٹکو۔ اور زنا کی طرف لے جانے والے تمام راستوں پر پابندیاں لگا دیں۔
1۔ زنا کی صورت میں پیدا ہونے والے بچے کا نسب مشکوک رہتا ہے۔
2۔ ایسے ولد الزنا بچے کے لیے میراث کے جھگڑے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔
3۔ زانیہ عورت اگر منکوحہ ہے تو بچے کے اخراجات بلا وجہ اس کے خاوند کے ذمہ پڑ جاتے ہیں اسی طرح وہ میراث میں بھی بلا وجہ حصہ دار قرار پاتا ہے۔
4۔ غیر منکوحہ عورت جس کے پاس کئی مرد آتے ہوں ان مردوں میں باہمی رقابت اور دشمنی پیدا ہو جاتی ہے۔ حتیٰ کہ بسا اوقات نوبت قتل تک پہنچ جاتی ہے۔
5۔ نکاح کی صورت میں میاں بیوی دونوں ایک دوسرے کے ہمدرد اور غمگسار ہوتے ہیں۔ پھر ان کی یہی باہمی محبت بچوں کی تربیت میں ممد و معاون ثابت ہوتی ہے جس سے خاندانی نظام تشکیل پاتا ہے اور یہی نظام کسی معاشرہ کی سب سے ابتدائی اور اہم اکائی ہے۔ زنا کی صورت میں یہ نظام برقرار رہنا تو درکنار اس کے انجر پنجر ہل جاتے ہیں جیسا کہ آج کل یورپین ممالک میں صورت حال پیدا ہو چکی ہے۔ انھیں چند در چند خرابیوں کی بنا پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ زنا کے قریب بھی نہ پھٹکو۔ اور زنا کی طرف لے جانے والے تمام راستوں پر پابندیاں لگا دیں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
کبیرہ گناہوں سے ممانعت ٭٭
زناکاری اور اس کے اردگرد کی تمام سیاہ کاریوں سے قرآن روک رہا ہے۔ زنا کو شریعت نے کبیرہ اور بہت سخت گناہ بتایا ہے وہ بدترین طریقہ اور نہایت بری راہ ہے۔
مسند احمد میں ہے کہ { ایک نوجوان نے زناکاری کی اجازت آپ سے چاہی لوگ اس پر جھک پڑے کہ چپ رہ کیا کر رہا ہے، کیا کہہ رہا ہے۔ آپ نے اسے اپنے قریب بلا کر فرمایا بیٹھ جا جب وہ بیٹھ گیا تو آپ نے فرمایا کیا تو اس کام کو اپنی ماں کے لیے پسند کرتا ہے؟ اس نے کہا نہیں اللہ کی قسم نہیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے آپ پر اللہ فدا کرے ہرگز نہیں۔ آپ نے فرمایا پھر سوچ لے کہ کوئی اور کیسے پسند کرے گا؟
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اچھا تو اسے اپنی بیٹی کے لیے پسند کرتا ہے؟ اس نے اسی طرح تاکید سے انکار کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ٹھیک اسی طرح کوئی بھی اسے اپنی بیٹیوں کے لیے پسند نہیں کرتا اچھا اپنی بہن کے لیے اسے تو پسند کرے گا؟ اس نے اسی طرح سے انکار کیا آپ نے فرمایا اسی طرح دوسرے بھی اپنی بہنوں کے لیے اسے مکروہ سمجھتے ہیں۔
بتا کیا تو چاہے گا کہ کوئی تیری پھوپھی سے ایسا کرے؟ اس نے اسی سختی سے انکار کیا۔ آپ نے فرمایا اسی طرح اور سب لوگ بھی۔ پھر آپ نے اپنا ہاتھ اس کے سر پر رکھ کر دعا کی کہ الٰہی اس کے گناہ بخش، اس کے دل کو پاک کر، اسے عصمت والا بنا۔ پھر تو یہ حالت تھی کہ یہ نوجوان کسی کی طرف نظر بھی نہ اٹھاتا۔ } ۱؎ [مسند احمد:257/5:صحیح]
ابن ابی الدنیا میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے شرک کے بعد کوئی گناہ زناکاری سے بڑھ کر نہیں کہ آدمی اپنا نطفہ کسی ایسے رحم میں ڈالے جو اس کے لیے حلال نہیں۔ } ۱؎ [الدر المنشور للسیوطی:325/4:اسنادہ مرسل ضعیف]
مسند احمد میں ہے کہ { ایک نوجوان نے زناکاری کی اجازت آپ سے چاہی لوگ اس پر جھک پڑے کہ چپ رہ کیا کر رہا ہے، کیا کہہ رہا ہے۔ آپ نے اسے اپنے قریب بلا کر فرمایا بیٹھ جا جب وہ بیٹھ گیا تو آپ نے فرمایا کیا تو اس کام کو اپنی ماں کے لیے پسند کرتا ہے؟ اس نے کہا نہیں اللہ کی قسم نہیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے آپ پر اللہ فدا کرے ہرگز نہیں۔ آپ نے فرمایا پھر سوچ لے کہ کوئی اور کیسے پسند کرے گا؟
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اچھا تو اسے اپنی بیٹی کے لیے پسند کرتا ہے؟ اس نے اسی طرح تاکید سے انکار کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ٹھیک اسی طرح کوئی بھی اسے اپنی بیٹیوں کے لیے پسند نہیں کرتا اچھا اپنی بہن کے لیے اسے تو پسند کرے گا؟ اس نے اسی طرح سے انکار کیا آپ نے فرمایا اسی طرح دوسرے بھی اپنی بہنوں کے لیے اسے مکروہ سمجھتے ہیں۔
بتا کیا تو چاہے گا کہ کوئی تیری پھوپھی سے ایسا کرے؟ اس نے اسی سختی سے انکار کیا۔ آپ نے فرمایا اسی طرح اور سب لوگ بھی۔ پھر آپ نے اپنا ہاتھ اس کے سر پر رکھ کر دعا کی کہ الٰہی اس کے گناہ بخش، اس کے دل کو پاک کر، اسے عصمت والا بنا۔ پھر تو یہ حالت تھی کہ یہ نوجوان کسی کی طرف نظر بھی نہ اٹھاتا۔ } ۱؎ [مسند احمد:257/5:صحیح]
ابن ابی الدنیا میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے شرک کے بعد کوئی گناہ زناکاری سے بڑھ کر نہیں کہ آدمی اپنا نطفہ کسی ایسے رحم میں ڈالے جو اس کے لیے حلال نہیں۔ } ۱؎ [الدر المنشور للسیوطی:325/4:اسنادہ مرسل ضعیف]