ترجمہ و تفسیر — سورۃ الإسراء/بني اسرائيل (17) — آیت 30

اِنَّ رَبَّکَ یَبۡسُطُ الرِّزۡقَ لِمَنۡ یَّشَآءُ وَ یَقۡدِرُ ؕ اِنَّہٗ کَانَ بِعِبَادِہٖ خَبِیۡرًۢا بَصِیۡرًا ﴿٪۳۰﴾
بے شک تیرا رب رزق فراخ کرتا ہے جس کے لیے چاہتا ہے اور تنگ کرتا ہے، بے شک وہ ہمیشہ سے اپنے بندوں کی پوری خبر رکھنے والا، خوب دیکھنے والا ہے۔ En
بےشک تمہارا پروردگار جس کی روزی چاہتا ہے فراخ کردیتا ہے اور (جس کی روزی چاہتا ہے) تنگ کردیتا ہے وہ اپنے بندوں سے خبردار ہے اور (ان کو) دیکھ رہا ہے
En
یقیناً تیرا رب جس کے لئے چاہے روزی کشاده کردیتا ہے اور جس کے لئے چاہے تنگ۔ یقیناً وه اپنے بندوں سے باخبر اور خوب دیکھنے واﻻ ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 30) ➊ { اِنَّ رَبَّكَ يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ يَّشَآءُ وَ يَقْدِرُ:} یعنی اگر حد سے زیادہ خرچ کرنے کی وجہ یہ ہے کہ آپ کسی کا فقر دور کرنا چاہتے ہیں تو یہ آپ کے اختیار میں نہیں، آپ جتنا بھی دے لیں اگر رب تعالیٰ اس کے رزق کا دروازہ کشادہ نہ کرے تو کوئی اسے نہیں کھول سکتا، آپ اللہ کے حکم کے مطابق اعتدال سے خرچ کریں، اس کے فقر و غنا کی فکر آپ کا کام نہیں اور نہ یہ آپ کے بس کی بات ہے۔
➋ { اِنَّهٗ كَانَ بِعِبَادِهٖ خَبِيْرًۢا بَصِيْرًا:} یعنی وہ خوب جانتا ہے کہ کسے کتنا رزق دینا ہے۔ کسی کو زیادہ اور کسی کو کم رزق دینا اس کی حکمت ہے۔ (دیکھیے شوریٰ: ۲۷) اگر سب لوگ برابر ہوتے تو دنیا کے کام چل ہی نہ سکتے۔ (دیکھیے زخرف: ۲۲) دولت مند ہونا یا فقیر ہونا نیکی یا بدی پر منحصر نہیں، بلکہ محض اللہ تعالیٰ کی مرضی پر موقوف ہے۔ (دیکھیے زخرف: ۳۳ تا ۳۵) زبردستی اس فرق کو مٹایا نہیں جا سکتا، جیسا کہ کمیونسٹوں اور سوشلسٹوں کی خواہش اور کوشش تھی، جس کے لیے انھوں نے لاکھوں لوگ تہ تیغ کیے مگر منہ کی کھائی۔ کیونکہ یہ فطرت سے جنگ ہے جو کبھی کامیابی سے ہمکنار نہیں ہو سکتی۔ رہی سرمایہ داری کہ سود اور دوسرے ناجائز طریقوں سے تمام اموال کے مالک صرف چند لوگ بن بیٹھیں اور باقی سب ان کے محتاج ہوں، یہ بھی اللہ تعالیٰ کو منظور نہیں اور جہاں یہ نظام ہو گا وہ معاشرہ بھی لامحدود ظلم و ستم اور حرص و ہوس کا شکار ہو جائے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ امیر و فقیر کے اس فرق کو ختم کرنا نہیں بلکہ اعتدال پر رکھنا ضروری ہے، اس کے لیے اللہ تعالیٰ نے ایک طرف ناجائز طریقے سے دولت حاصل کرنے کو حرام قرار دیا، چوری ڈاکے، غصب، دھوکے اور سود کی تمام صورتیں حرام قرار دیں، تو دوسری طرف جائز طریقوں سے کمائی ہوئی دولت کو زکوٰۃ، صدقات، میراث اور دوسرے احکام کے ذریعے سے معاشرے میں پھیلا دینے کا حکم دیا۔ ان احکام پر عمل کرنے کی صورت میں معاشرے میں امیری و غریبی میں اعتدال قائم رہے گا، پھر نہ سرمایہ دارانہ طریقے کی وجہ سے امریکہ اور یورپی ممالک کی طرح دولت چند آدمیوں کی مٹھی میں جمع ہونے سے پیدا ہونے والے مظالم ہوں گے اور نہ اس فطری فرق کو زبردستی اور مصنوعی طریقوں سے ختم کرنے کی کوشش سے وہ خرابیاں پیدا ہوں گی جو روس، چین اور دوسرے کمیونسٹ ممالک میں پیدا ہوئیں کہ انسان انسانیت کے مرتبے سے گر کر محض ایک حیوان بن گیا، لوگوں کو ان کی فطری آزادی سے محروم کر دیا گیا، حتیٰ کہ اس نظام پر مبنی تمام ممالک آخر کار ناکام ہونے کی وجہ سے اسے چھوڑنے پر مجبور ہو گئے اور وہاں کے رہنے والے مظلوم مسلم اور غیر مسلم سب لوگوں کو مسلمانوں کے جہاد کی برکت سے اس نظام سے نجات اور آزادی کی زندگی نصیب ہوئی۔ (فالحمد للہ) اب بھی اگرچہ وہاں اس کی باقیات موجود ہیں، جن کی وجہ سے ظلم و ستم کا مکمل خاتمہ نہیں ہوا، اس لیے مسلمانوں کا فرض ہے کہ تمام دنیا کو سرمایہ داری، کمیونزم اور دوسرے تمام ظالمانہ نظاموں سے نجات دلا کر اسلام کا نظام عدل نافذ کریں۔ یہ کام اللہ کے فضل سے شروع ہو چکا ہے اور جہاد اسلامی کی برکت سے تمام دنیا پر اللہ کا دین غالب ہو کر رہے گا۔ (ان شاء اللہ) جیسا کہ فرمایا: «هُوَ الَّذِيْۤ اَرْسَلَ رَسُوْلَهٗ بِالْهُدٰى وَ دِيْنِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهٗ عَلَى الدِّيْنِ كُلِّهٖ وَ لَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُوْنَ» ‏‏‏‏ [التوبۃ: ۳۳] وہی ہے جس نے اپنا رسول ہدایت اور دین حق دے کر بھیجا، تاکہ اسے ہر دین پر غالب کر دے، خواہ مشرک لوگ برا جانیں۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

30۔ 1 اس میں اہل ایمان کے لئے تسلی ہے کہ ان کے پاس وسائل رزق کی فروانی نہیں ہے، تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے اللہ کے ہاں ان کا مقام نہیں ہے بلکہ یہ رزق کی وسعت یا کمی، اس کا تعلق اللہ کی حکمت و مصلحت سے ہے جسے صرف وہی جانتا ہے۔ وہ اپنے دشمنوں کو قارون بنا دے اور اپنوں کو اتنا ہی دے کہ جس سے یہ مشکل وہ اپنا گذارہ کرسکیں۔ یہ اس کی مشیت ہے۔ جس کو وہ زیادہ دے، وہ اس کا محبوب نہیں، اور وہ قوت لا یموت کا مالک اس کا مبغوض نہیں۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

30۔ بلا شبہ آپ کا پروردگار جس کے لئے وہ چاہتا ہے رزق کشادہ [35] کر دیتا ہے اور جس کے لئے چاہتا ہے تنگ کر دیتا ہے۔ وہ اپنے بندے سے خبردار ہے اور انھیں دیکھ رہا ہے۔
[35] دولت مندوں کے مال میں دوسروں کا حصہ:۔
تمہارے ہاتھ روکنے سے نہ تو تم غنی رہ سکتے ہو اور نہ ہی دینے سے فقیر ہو جاؤ گے اسی طرح جس سائل کو تم نے جواب دیا ہے اللہ اس کی ضرورت کسی اور جگہ سے پوری کر سکتا ہے اور اسے غنی بھی بنا سکتا ہے۔ رزق کی کمی بیشی سب اللہ کے ہاتھ میں ہے اس لیے خرچ کرنے میں تنگدل نہ ہونا چاہیے۔ اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ یہ رزق کس محتاج کی دعاؤں سے تمہیں مل رہا ہے یا کس کس کا رزق تمہاری طرف منتقل ہو رہا ہے۔ لہٰذا تمہیں چاہیے کہ اپنے مال و دولت میں سے ضرورت مندوں پر خرچ کرتے اور ان کا حصہ انھیں ادا کرتے رہو۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

میانہ روی کی تعلیم ٭٭
حکم ہو رہا ہے کہ اپنی زندگی میں میانہ روش رکھو نہ بخیل بنو نہ مسرف۔ ہاتھ گردن سے نہ باندھ لو یعنی بخیل نہ بنو کہ کسی کو نہ دو۔ یہودیوں نے بھی اسی محاورے کو استعمال کیا ہے اور کہا ہے کہ «وَقَالَتِ الْيَهُودُ يَدُ اللَّـهِ مَغْلُولَةٌ» ’ اللہ کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں۔ ‘ ۱؎ [5-المائدة:64]‏‏‏‏
ان پر اللہ کی لعنتیں نازل ہوں کہ یہ اللہ کو بخیلی کی طرف منسوب کرتے تھے۔ جس سے اللہ تعالیٰ کریم و وہاب پاک اور بہت دور ہے۔ پس بخل سے منع کر کے پھر اسراف سے روکتا ہے کہ اتنا کھل نہ کھولو کہ اپنی طاقت سے زیادہ دے ڈالو۔ پھر ان دونوں حکموں کا سبب بیان فرماتا ہے کہ بخیلی سے تو ملامتی بن جاؤ گے ہر ایک کی انگلی اٹھے گی کہ یہ بڑا بخیل ہے ہر ایک دور ہو جائے گا کہ یہ محض بے فیض آدمی ہے۔ جیسے زہیر نے اپنے معلقہ میں کہا ہے «‏‏‏‏وَمَنْ کَانَ ذَا مَالِ وَّیـَبْخَلُ بِمَالِہِ * عَلٰی قُومِہِ یُسَتغَن عَنْہُمْ وَ یُذَمَمَّ» ‏‏‏‏ یعنی جو مالدار ہو کر بخیلی کرے لوگ اس سے بے نیاز ہو کر اس کی برائی کرتے ہیں۔
پس بخیلی کی وجہ سے انسان برابن جاتا ہے اور لوگوں کی نظروں سے گر جاتا ہے ہر ایک اسے ملامت کرنے لگتا ہے اور جو حد سے زیادہ خرچ کر گزرتا ہے وہ تھک کر بیٹھ جاتا ہے اس کے ہاتھ میں کچھ نہیں رہتا۔ ضعیف اور عاجز ہو جاتا ہے جیسے کوئی جانور جو چلتے چلتے تھک جائے اور راستے میں اڑ جائے۔ لفظ «حسیر» سورۃ تبارک میں بھی آیا ہے۔ ۱؎ [67-الملك:4]‏‏‏‏ پس یہ بطور لف و نشر کے ہے۔
بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے { بخیل اور سخی کی مثال ان دو شخصوں جیسی ہے جن پر دو لوہے کے جبے ہوں، سینے سے گلے تک، سخی تو جوں جوں خرچ کرتا ہے اس کی کڑیاں ڈھیلی ہوتی جاتی ہیں اور اس کے ہاتھ کھلتے جاتے ہیں اور وہ جبہ بڑھ جاتا ہے یہاں تک کہ اس کی پوریوں تک پہنچ جاتا ہے اور اس کے اثر کو مٹاتا ہے اور بخیل جب کبھی خرچ کا ارادہ کرتا ہے تو اس کے جبے کی کڑیاں اور سمٹ جاتی ہیں وہ ہر چند اسے وسیع کرنا چاہتا ہے لیکن اس میں گنجائش نہیں نکلتی۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:1443]‏‏‏‏
بخاری و مسلم میں ہے کہ { آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ اسما بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا سے فرمایا اللہ کی راہ میں خرچ کرتی رہ جمع نہ رکھا کر، ورنہ اللہ بھی روک لے گا، بند باندھ کر روک نہ لیا کر ورنہ پھر اللہ بھی رزق کا منہ بند کر لے گا۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:1433]‏‏‏‏
ایک اور روایت میں ہے { شمار کر کے نہ رکھا کر ورنہ اللہ تعالیٰ بھی گنتی کر کے روک لے گا۔} ۱؎ [صحیح بخاری:2591]‏‏‏‏
صحیح مسلم شریف میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ تو اللہ کی راہ میں خرچ کیا کر، اللہ تعالیٰ تجھے دیتا رہے گا۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:993]‏‏‏‏
بخاری و مسلم میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ہر صبح دو فرشتے آسمان سے اترتے ہیں ایک دعا کرتا ہے کہ اے اللہ سخی کو بدلہ دے اور دوسرا دعا کرتا ہے کہ بخیل کا مال تلف کر۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:1442]‏‏‏‏
مسلم شریف میں ہے { صدقے خیرات سے کسی کا مال نہیں گھٹتا اور ہر سخاوت کرنے والے کو اللہ ذی عزت کر دیتا ہے اور جو شخص اللہ کے حکم کی وجہ سے دوسروں سے عاجزانہ برتاؤ کرے اللہ اسے بلند درجے کا کر دیتا ہے۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:2588]‏‏‏‏
ایک اور حدیث میں ہے { طمع سے بچو اسی نے تم سے اگلے لوگوں کو ہلاک کیا ہے۔ طمع کا پہلا حکم یہ ہوتا ہے کہ بخیلی کرو انہوں نے بخیلی کی پھر اس نے انہیں صلہ رحمی توڑنے کو کہا انہوں نے یہ بھی کیا پھر فسق و فجور کا حکم دیا یہ اس پر بھی کار بند ہوئے۔ } ۱؎ [سنن ابوداود:1698،قال الشيخ الألباني:صحیح]‏‏‏‏
بیہقی میں ہے { جب انسان خیرات کرتا ہے ستر شیطانوں کے جبڑے ٹوٹ جاتے ہیں۔ } ۱؎ [مسند احمد:350/5:صحیح]‏‏‏‏
مسند کی حدیث میں ہے { درمیانہ خرچ رکھنے والا کبھی فقیر نہیں ہوتا۔ } [مسند احمد:447/1:ضعیف]‏‏‏‏
پھر فرماتا ہے کہ رزق دینے والا، کشادگی کرنے والا، تنگی میں ڈالنے والا، اپنی مخلوق میں اپنی حسب منشا ہیر پھیر کرنے والا، جسے چاہے غنی اور جسے چاہے فقیر کرنے والا اللہ ہی ہے۔ ہر بات میں اس کی حکمت ہے، وہی اپنی حکمتوں کا علیم ہے، وہ خوب جانتا ہے اور دیکھتا ہے کہ مستحق امارت کون ہے اور مستحق فقیری کون ہے؟
حدیث قدسی میں ہے { میرے بعض بندے وہ ہیں کہ فقیری ہی کے قابل ہیں اگر میں انہیں امیر بنا دوں تو ان کا دین تباہ ہو جائے اور میرے بعض بندے ایسے بھی ہیں جو امیری کے لائق ہیں اگر میں انہیں فقیر بنا دوں تو ان کا دین بگڑ جائے۔ } ۱؎ [تفسیر بغوی:1877:ضعیف]‏‏‏‏
ہاں یہ یاد رہے کہ بعض لوگوں کے حق میں امیری اللہ کی طرف سے ڈھیل کے طور پر ہوتی ہے اور بعض کے لیے فقیری بطور عذاب ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ان دونوں سے بچائے۔ (‏‏‏‏آمین)‏‏‏‏‏‏‏‏