وَ اٰتِ ذَاالۡقُرۡبٰی حَقَّہٗ وَ الۡمِسۡکِیۡنَ وَ ابۡنَ السَّبِیۡلِ وَ لَا تُبَذِّرۡ تَبۡذِیۡرًا ﴿۲۶﴾
اور رشتہ دار کو اس کا حق دے اور مسکین اور مسافر کو اور مت بے جا خرچ کر، بے جا خرچ کرنا۔
En
اور رشتہ داروں اور محتاجوں اور مسافروں کو ان کا حق ادا کرو۔ اور فضول خرچی سے مال نہ اُڑاؤ
En
اور رشتے داروں کا اور مسکینوں اور مسافروں کا حق ادا کرتے رہو اور اسراف اور بیجا خرچ سے بچو
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 26) ➊ { وَ اٰتِ ذَا الْقُرْبٰى حَقَّهٗ …:} قرابت والے سے مراد قریبی رشتے دار ہیں، ماں کی طرف سے ہوں یا باپ کی طرف سے، محرم ہوں یا غیر محرم۔ ان کو پہلے اس لیے رکھا کہ ان کو دینے میں دو اجر ہیں، ایک صلہ رحمی کا اور دوسرا صدقے کا۔ ان کا حق یہ ہے کہ ہر صورت ان سے میل جول اور تعلق قائم رکھا جائے، انھیں دین کی دعوت جاری رکھی جائے، ان کی خوشی اور غم میں شرکت کی جائے۔ جب بھی انھیں مدد کی ضرورت ہو مال و جان سے ان کی مدد کی جائے۔ مسکین اور ابن السبیل (مسافر) کی تفسیر سورۂ توبہ (۶۰) میں دیکھیں۔
➋ { وَ لَا تُبَذِّرْ تَبْذِيْرًا: ” تَبْذِيْرًا “ ” بَذْرٌ “ } سے مشتق ہے، جس کا معنی بیج ہے، یعنی بیج کی طرح بکھیرنا۔ اللہ تعالیٰ نے قرابت دار، مسکین اور ابن السبیل کو اس کا حق دینے کے ساتھ ہی بے جا خرچ کرنے سے منع فرمایا۔ واضح رہے کہ اللہ تعالیٰ نے جائز خرچ کرنے میں بھی میانہ روی کی تاکید فرمائی، خواہ گھر میں خرچ کرے یا صدقہ وغیرہ میں دے۔ آگے آیت (۲۹) میں اس کی تفصیل آ رہی ہے۔ بے جا خرچ کرنے سے مراد یہ ہے کہ ناجائز کاموں میں خرچ کیا جائے (چاہے ایک پیسہ ہی ہو)، یا جائز کاموں میں بغیر سوچے سمجھے اتنا خرچ کیا جائے جو حق داروں کے حقوق ضائع کرنے اور حرام کے ارتکاب کا سبب بنے۔
➋ { وَ لَا تُبَذِّرْ تَبْذِيْرًا: ” تَبْذِيْرًا “ ” بَذْرٌ “ } سے مشتق ہے، جس کا معنی بیج ہے، یعنی بیج کی طرح بکھیرنا۔ اللہ تعالیٰ نے قرابت دار، مسکین اور ابن السبیل کو اس کا حق دینے کے ساتھ ہی بے جا خرچ کرنے سے منع فرمایا۔ واضح رہے کہ اللہ تعالیٰ نے جائز خرچ کرنے میں بھی میانہ روی کی تاکید فرمائی، خواہ گھر میں خرچ کرے یا صدقہ وغیرہ میں دے۔ آگے آیت (۲۹) میں اس کی تفصیل آ رہی ہے۔ بے جا خرچ کرنے سے مراد یہ ہے کہ ناجائز کاموں میں خرچ کیا جائے (چاہے ایک پیسہ ہی ہو)، یا جائز کاموں میں بغیر سوچے سمجھے اتنا خرچ کیا جائے جو حق داروں کے حقوق ضائع کرنے اور حرام کے ارتکاب کا سبب بنے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
26۔ 1 قرآن کریم کے ان الفاظ سے معلوم ہوا کہ غریب رشتہ داروں، مساکین اور ضرورت مند مسافروں کی امداد کر کے، ان پر احسان نہیں جتلانا چاہیے کیونکہ یہ ان پر احسان نہیں ہے، بلکہ مال کا وہ حق ہے جو اللہ تبارک و تعالیٰ نے اصحاب مال کے مالوں میں مذکورہ ضرورت مندوں کا رکھا ہے، اگر صاحب مال یہ حق ادا نہیں کرے گا تو عند اللہ مجرم ہوگا۔ گویا یہ حق کی ادائیگی ہے، نہ کہ کسی پر احسان علاوہ ازیں رشتے داروں کے پہلے ذکر سے ان کی اولیت اور اہمیت بھی واضح ہوتی ہے۔ رشتے داروں کے حقوق کی ادائیگی اور ان کے ساتھ حسن سلوک کو، صلہ رحمی کہا جاتا ہے، جس کی اسلام میں بڑی تاکید ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
26۔ اور رشتہ دار کو [29] اس کا حق دو، اور مسکین [30] اور مسافر [31] کو اس کا حق ادا کرو، اور فضول [32] خرچی نہ کرو۔
[29] رشتہ داروں کے حقوق کی تفصیل کے لیے سورۃ نساء کی پہلی آیت کا حاشیہ نمبر 3 ملاحظہ فرمائیے۔ [30] فقراء اور مساکین کا ہر صاحب مال کے مال میں حق ہوتا ہے اور اس کی اہمیت اس بات سے واضح ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جہاں زکوٰۃ کی تقسیم کے لئے آٹھ مدات بیان فرمائیں تو دوسرے نمبر پر فقراء و مساکین کا ذکر فرمایا۔ ہر صاحب مال پر یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے خاندان کے فقراء و مساکین پر زکوٰۃ کے علاوہ بھی خرچ کرے۔
[31] مسافروں کے حقوق کے لیے دیکھئے سورۃ نساء کی آیت نمبر 36 حاشیہ نمبر 67
[32] اسراف اور تبذیر میں فرق:۔
اسراف اور تبذیر میں فرق یہ ہے کہ اسراف ضرورت کے کاموں میں ضرورت سے زیادہ خرچ کرنے کو کہتے ہیں مثلاً اپنے کھانے پینے یا لباس وغیرہ میں زیادہ خرچ کرنا اور تبذیر ایسے کاموں میں خرچ کرنے کو کہتے ہیں جن کا ضرورت زندگی سے کوئی تعلق نہ ہو جیسے فخر، ریا نمود و نمائش اور فسق و فجور کے کاموں میں خرچ کرنا، یہ اسراف سے زیادہ برا کام ہے۔ اسی لیے ایسے لوگوں کو شیطان کے بھائی قرار دیا گیا۔ شیطان نے بھی اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کی تھی۔ ایسے شخص نے بھی اللہ کی ایک بہت بڑی نعمت مال کو غلط راستوں میں خرچ کر کے اللہ کی ناشکری کی۔ ایک دفعہ ایک ہال میں کچھ علماء بیٹھے محو گفتگو تھے۔ ان میں سے ایک شخص نے میر مجلس سے سوال کیا کہ اسراف اور تبذیر میں کیا فرق ہے؟ میر مجلس نے اس سوال کو عام فہم اور حسب حال یوں جواب دیا کہ ”اس وقت ہم جس ہال میں بیٹھے ہیں اس میں چھ پنکھے چل رہے ہیں۔ حالانکہ ہم صرف دو پنکھوں سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ یہ اسراف ہے اور اگر ہم یہ سارے پنکھے چلتے چھوڑ کر باہر نکل جائیں تو یہ تبذیر ہے“ میر مجلس کی اس سادہ اور عام فہم مثال سے اسراف اور تبذیر کا فرق پوری طرح واضح ہو جاتا ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
ماں باپ اور قرابت داروں سے حسن سلوک کی تاکید ٭٭
ماں باپ کے ساتھ سلوک و احسان کا حکم دے کر اب قرابت داروں کے ساتھ صلہ رحمی کا حکم دیتا ہے۔ حدیث میں ہے { اپنی ماں سے سلوک کر اور اپنے باپ سے پھر جو زیادہ قریب ہو اور جو زیادہ قریب ہو۔} ۱؎ [مسند احمد:64/4:صحیح]
اور حدیث میں ہے { جو اپنے رزق کی اور اپنی عمر کی ترقی چاہتا ہو اسے صلہ رحمی کرنی چاہیئے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:5986]
بزار میں ہے { اس آیت کے اترتے ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو بلا کر فدک عطا فرمایا۔ } ۱؎ [مسند ابویعلیٰ:1075:ضعیف]
اس حدیث کی سند صحیح نہیں۔ اور واقعہ بھی کچھ ٹھیک نہیں معلوم ہوتا اس لیے کہ یہ آیت مکیہ ہے اور اس وقت تک باغ فدک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قبضے میں نہ تھا۔ ٧ ھ میں خیبر فتح ہوا تب باغ آپ کے قبضے میں آیا پس یہ قصہ اس پر پورا نہیں اترتا۔ مساکین اور مسافرین کی پوری تفسیر سورۃ برات میں گزر چکی ہے یہاں دہرانے کی چنداں ضرورت نہیں۔
اور حدیث میں ہے { جو اپنے رزق کی اور اپنی عمر کی ترقی چاہتا ہو اسے صلہ رحمی کرنی چاہیئے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:5986]
بزار میں ہے { اس آیت کے اترتے ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو بلا کر فدک عطا فرمایا۔ } ۱؎ [مسند ابویعلیٰ:1075:ضعیف]
اس حدیث کی سند صحیح نہیں۔ اور واقعہ بھی کچھ ٹھیک نہیں معلوم ہوتا اس لیے کہ یہ آیت مکیہ ہے اور اس وقت تک باغ فدک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قبضے میں نہ تھا۔ ٧ ھ میں خیبر فتح ہوا تب باغ آپ کے قبضے میں آیا پس یہ قصہ اس پر پورا نہیں اترتا۔ مساکین اور مسافرین کی پوری تفسیر سورۃ برات میں گزر چکی ہے یہاں دہرانے کی چنداں ضرورت نہیں۔
خرچ کا حکم کر کے پھر اسراف سے منع فرماتا ہے۔ نہ تو انسان کو بخیل ہونا چاہیے نہ مسرف بلکہ درمیانہ درجہ رکھے۔ جیسے اور آیت میں ہے «وَالَّذِينَ إِذَا أَنفَقُوا لَمْ يُسْرِفُوا وَلَمْ يَقْتُرُوا وَكَانَ بَيْنَ ذَٰلِكَ قَوَامًا» ۱؎ [25-الفرقان:67] ’ یعنی ایماندار اپنے خرچ میں نہ تو حد سے گزرتے ہیں نہ بالکل ہاتھ روک لیتے ہیں۔ ‘
پھر اسراف کی برائی بیان فرماتا ہے کہ ایسے لوگ شیطان جیسے ہیں۔ «تبذیر» کہتے ہیں غیر حق میں خرچ کرنے کو۔ اپنا کل مال بھی اگر راہ للہ دیدے تو یہ تبذیر و اسراف نہیں اور غیر حق میں تھوڑا سا بھی دے تو مبذر ہے۔ { بنو تمیم کے ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں مالدار آدمی ہوں اور اہل و عیال کنبے قبیلے والا ہوں تو مجھے بتائیے کہ میں کیا روش اختیار کروں؟ آپ نے فرمایا اپنے مال کی زکوٰۃ الگ کر، اس سے تو پاک صاف ہو جائے گا۔ اپنے رشتے داروں سے سلوک کر سائل کا حق پہنچاتا رہ اور پڑوسی اور مسکین کا بھی۔
اس نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور تھوڑے الفاظ میں پوری بات سمجھا دیجئیے۔ آپ نے فرمایا قرابت داروں مسکینوں اور مسافروں کا حق ادا کر اور بیجا خرچ نہ کر۔ اس نے کہا حسبی اللہ اچھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب میں آپ کے قاصد کو زکوٰۃ ادا کر دوں تو اللہ و رسول کے نزدیک میں بری ہو گیا؟ آپ نے فرمایا ہاں جب تو نے میرے قاصد کو دے دیا تو تو بری ہو گیا اور تیرے لیے اجر ثابت ہو گیا۔ اب جو اسے بدل ڈالے اس کا گناہ اس کے ذمے ہے۔ } ۱؎ [مسند احمد:136/3:صحیح]
پھر اسراف کی برائی بیان فرماتا ہے کہ ایسے لوگ شیطان جیسے ہیں۔ «تبذیر» کہتے ہیں غیر حق میں خرچ کرنے کو۔ اپنا کل مال بھی اگر راہ للہ دیدے تو یہ تبذیر و اسراف نہیں اور غیر حق میں تھوڑا سا بھی دے تو مبذر ہے۔ { بنو تمیم کے ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں مالدار آدمی ہوں اور اہل و عیال کنبے قبیلے والا ہوں تو مجھے بتائیے کہ میں کیا روش اختیار کروں؟ آپ نے فرمایا اپنے مال کی زکوٰۃ الگ کر، اس سے تو پاک صاف ہو جائے گا۔ اپنے رشتے داروں سے سلوک کر سائل کا حق پہنچاتا رہ اور پڑوسی اور مسکین کا بھی۔
اس نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور تھوڑے الفاظ میں پوری بات سمجھا دیجئیے۔ آپ نے فرمایا قرابت داروں مسکینوں اور مسافروں کا حق ادا کر اور بیجا خرچ نہ کر۔ اس نے کہا حسبی اللہ اچھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب میں آپ کے قاصد کو زکوٰۃ ادا کر دوں تو اللہ و رسول کے نزدیک میں بری ہو گیا؟ آپ نے فرمایا ہاں جب تو نے میرے قاصد کو دے دیا تو تو بری ہو گیا اور تیرے لیے اجر ثابت ہو گیا۔ اب جو اسے بدل ڈالے اس کا گناہ اس کے ذمے ہے۔ } ۱؎ [مسند احمد:136/3:صحیح]
یہاں فرمان ہے کہ اسراف اور بیوقوفی اور اللہ کی اطاعت کے ترک اور نافرمانی کے ارتکاب کی وجہ سے مسرف لوگ شیطان کے بھائی بن جاتے ہیں۔ شیطان میں یہی بد خصلت ہے کہ وہ رب کی نعمتوں کا ناشکرا، اس کی اطاعت کا تارک، اس کی نافرمانی اور مخالفت کا عامل ہے۔
پھر فرماتا ہے کہ ان قرابت داروں، مسکینوں، مسافروں میں سے کوئی کبھی تجھ سے کچھ سوال کر بیٹھے اور اس وقت تیرے ہاتھ تلے کچھ نہ ہو اور اس وجہ سے تجھے ان سے منہ پھیر لینا پڑے تو بھی جواب نرم دے کہ بھائی جب اللہ ہمیں دے گا ان شاءاللہ ہم آپ کا حق نہ بھولیں گے وغیرہ۔
پھر فرماتا ہے کہ ان قرابت داروں، مسکینوں، مسافروں میں سے کوئی کبھی تجھ سے کچھ سوال کر بیٹھے اور اس وقت تیرے ہاتھ تلے کچھ نہ ہو اور اس وجہ سے تجھے ان سے منہ پھیر لینا پڑے تو بھی جواب نرم دے کہ بھائی جب اللہ ہمیں دے گا ان شاءاللہ ہم آپ کا حق نہ بھولیں گے وغیرہ۔