جو شخص اس جلدی والی (دنیا) کا ارادہ رکھتا ہو ہم اس کو اس میں جلدی دے دیں گے جو چاہیں گے، جس کے لیے چاہیں گے، پھر ہم نے اس کے لیے جہنم بنا رکھی ہے، اس میں داخل ہوگا، مذمت کیا ہوا، دھتکارا ہوا۔
En
جو شخص دنیا (کی آسودگی) کا خواہشمند ہو تو ہم اس میں سے جسے چاہتے ہیں اور جتنا چاہتے ہیں جلد دے دیتے ہیں۔ پھر اس کے لئے جہنم کو (ٹھکانا) مقرر کر رکھا ہے۔ جس میں وہ نفرین سن کر اور (درگاہ خدا سے) راندہ ہو کر داخل ہوگا
جس کا اراده صرف اس جلدی والی دنیا (فوری فائده) کا ہی ہو اسے ہم یہاں جس قدر جس کے لئے چاہیں سردست دیتے ہیں بالﺂخر اس کے لئے ہم جہنم مقرر کردیتے ہیں جہاں وه برے حالوں دھتکارا ہوا داخل ہوگا
En
(آیت 18) ➊ { مَنْكَانَيُرِيْدُالْعَاجِلَةَ …:} صاحب کشاف نے فرمایا، وہ شخص جس کا مقصود جلدی حاصل ہونے والی (یعنی دنیا) ہو اور اس کے سوا اس کا کچھ مقصد نہ ہو، جیسا کہ کفار اور اکثر فاسقوں کا حال ہے تو ہم دنیا کے فوائد میں سے جس قدر چاہتے ہیں اور جسے چاہتے ہیں عطا فرما دیتے ہیں۔ تو اللہ تعالیٰ نے اس معاملے میں دو قیدیں لگا دیں، ایک یہ کہ ہم دنیا کی وہ چیز اتنی دیتے ہیں جتنی ہم چاہتے ہیں، دوسری قید یہ کہ صرف اسے دیتے ہیں جس کا ہم ارادہ کرتے ہیں۔ اور واقعی ایسا ہی ہے، آپ ان میں سے بہت سے لوگوں کو دیکھیں گے کہ وہ جتنی بھی تمنا رکھیں انھیں اس کا کچھ حصہ ہی ملتا ہے اور بعض اوقات کچھ بھی نہیں ملتا، سو ان کے لیے دنیا کا فقر اور آخرت کا فقر دونوں جمع ہو گئے۔ رہا متقی مومن تو اس کا مقصود صرف آخرت ہوتا ہے، چنانچہ آخرت میں اس کا غنی ہونا یقینی ہے، اسے پروا نہیں ہوتی کہ دنیا کی آسائش اسے ملتی ہے یا نہیں، اگر اسے دنیا میں بھی مل جائے تو وہ شکر کرتا ہے، اگر نہ ملے تو صبر کرتا ہے، پھر کئی دفعہ فقر اس کے لیے بہتر اور اس کی مراد کے حصول میں زیادہ مددگار ہوتا ہے۔ مزید دیکھیے سورۂ ہود (۱۵، ۱۶) اور سورۂ شوریٰ (۲۰)۔ ➋ {”مَذْمُوْمًا“”ذَمٌّ“} سے اسم مفعول ہے جو مدح کی ضد ہے۔ {”مَدْحُوْرًا“”دُحُوْرٌ“} سے اسم مفعول ہے، جس کا معنی دور کرنا، دفع کرنا ہے، یعنی آخرت میں اس کے عمل کسی طرح بھی قبول نہیں کیے جائیں گے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
18۔ 1 یعنی دنیا کے ہر طالب کو دنیا نہیں ملتی، صرف اسی کو ملتی ہے جس کو ہم چاہیں، پھر اس کو بھی اتنی دنیا نہیں جتنی وہ چاہتا ہے بلکہ اتنی ہی ملتی ہے جتنی ہم اس کے لئے فیصلہ کریں۔ لیکن اس دنیا طلبی کا نتیجہ جہنم کا دائمی عذاب اور اس کی رسوائی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
18۔ جو شخص دنیا چاہتا ہے تو ہم جس شخص کو اور جتنا چاہیں [18]، دنیا میں ہی دے دیتے ہیں پھر ہم نے جہنم اس کے مقدر کر دی ہے جس میں وہ بد حال اور دھتکارا ہوا بن کر داخل ہو گا۔
[18] یعنی جو شخص دنیا ہی کا ہو رہے اور جو کام کرے صرف دنیا کا مال و دولت کمانے یا دوسرے مفادات کے لیے کرے تو ایسے شخص کو بھی دنیا اتنی ہی ملتی ہے جتنی اللہ کو منظور ہو۔ اس سے بڑھ کر نہیں۔ اور چونکہ ایسا شخص آخرت پر یقین ہی نہیں رکھتا لہٰذا وہ یقیناً دنیا کمانے میں جائز اور ناجائز طریقوں میں کوئی امتیاز روا نہ رکھے گا لہٰذا آخرت میں اسے دوزخ کی سزا بھگتنا ہو گی۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
طالب دنیا کی چاہت ٭٭
کچھ ضروری نہیں کہ طالب دنیا کی ہر ایک چاہت پوری ہو، جس کا جو ارادہ اللہ پورا کرنا چاہے کر دے لیکن ہاں ایسے لوگ آخرت میں خالی ہاتھ رہ جائیں گے۔ یہ تو وہاں جہنم کے گڑھے میں گھرے ہوئے ہوں گے نہایت برے حال میں ذلت و خواری میں ہوں گے۔ کیونکہ یہاں انہوں نے یہی کیا تھا، فانی کو باقی پر دنیا کو آخرت پر ترجیح دی تھی اس لیے وہاں رحمت الٰہی سے دور ہیں۔ مسند احمد میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں دنیا اس کا گھر ہے جس کا آخرت میں گھر نہ ہو، یہ اس کا مال ہے جس کا آخرت میں مال نہ ہو، اسے وہی جمع کرتا رہتا ہے جس کے پاس اپنی گرہ کی عقل بالکل نہ ہو۔ } ۱؎[مسند احمد:71/6:قال الشيخ الألباني:ضعیف] ہاں جو صحیح طریقے سے طالب دار آخرت ہو جائے اور آخرت میں کام آنے والی نیکیاں سنت کے مطابق کرتا رہے اور اس کے دل میں بھی ایمان تصدیق اور یقین ہو عذاب و ثواب کے وعدے صحیح جانتا ہو، اللہ و رسول کو مانتا ہو، ان کی کوشش قدر دانی سے دیکھی جائے گی نیک بدلہ ملے گا۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔