مَنِ اہۡتَدٰی فَاِنَّمَا یَہۡتَدِیۡ لِنَفۡسِہٖ ۚ وَ مَنۡ ضَلَّ فَاِنَّمَا یَضِلُّ عَلَیۡہَا ؕ وَ لَا تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِّزۡرَ اُخۡرٰی ؕ وَ مَا کُنَّا مُعَذِّبِیۡنَ حَتّٰی نَبۡعَثَ رَسُوۡلًا ﴿۱۵﴾
جس نے ہدایت پائی تو وہ اپنی ہی جان کے لیے ہدایت پاتا ہے اور جو گمراہ ہوا تو اسی پر گمراہ ہوتا ہے اور کوئی بوجھ اٹھانے والی (جان) کسی دوسری (جان) کا بوجھ نہیں اٹھاتی اور ہم کبھی عذاب دینے والے نہیں، یہاں تک کہ کوئی پیغام پہنچانے والا بھیجیں۔
En
جو شخص ہدایت اختیار کرتا ہے تو اپنے لئے اختیار کرتا ہے۔ اور جو گمراہ ہوتا ہے گمراہی کا ضرر بھی اسی کو ہوگا۔ اور کوئی شخص کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ اور جب تک ہم پیغمبر نہ بھیج لیں عذاب نہیں دیا کرتے
En
جو راه راست حاصل کرلے وه خود اپنے ہی بھلے کے لئے راه یافتہ ہوتا ہے اور جو بھٹک جائے اس کا بوجھ اسی کے اوپر ہے، کوئی بوجھ واﻻ کسی اور کا بوجھ اپنے اوپر نہ ﻻدے گا اور ہماری سنت نہیں کہ رسول بھیجنے سے پہلے ہی عذاب کرنے لگیں
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 15) ➊ { مَنِ اهْتَدٰى فَاِنَّمَا يَهْتَدِيْ لِنَفْسِهٖ …:} مطلب یہ ہے کہ جو شخص سیدھے راستے پر چلتا ہے وہ کسی پر احسان نہیں کرتا، بلکہ اس کا فائدہ اسی کو پہنچتا ہے اور جو اس سے ہٹ کر غلط راستے پر چلتا ہے تو اس کا وبال بھی اسی پرہو گا۔
➋ {وَ لَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰى…:” تَزِرُ “ ”وَزَرَ يَزِرُ وِزْرًا“} (ض) بوجھ اٹھانا۔ {” وَازِرَةٌ “ } اسم فاعل ہے اور {”نَفْسٌ“} کی صفت ہے جو یہاں پوشیدہ ہے، یعنی کوئی جان کسی دوسری جان کا بوجھ نہیں اٹھائے گی، بلکہ ہر ایک کو اپنا بوجھ خود اٹھانا پڑے گا۔ اس مفہوم کی کئی آیات ہیں، دیکھیے سورۂ انعام (۱۶۴) اور سورۂ فاطر (۱۸) وغیرہ۔
➌ بعض آیات میں کچھ لوگوں کے اپنے گناہوں کے ساتھ دوسروں کے گناہ بھی اٹھانے کا ذکر ہے، جیسا کہ سورۂ نحل (۲۵) اور عنکبوت(۱۳) میں ہے:”وہ اپنے بوجھ بھی اٹھائیں گے اور ان کے بھی جن کو وہ بغیر علم کے گمراہ کرتے رہے۔“ تو یہ دراصل دوسروں کا بوجھ نہیں بلکہ دوسروں کو گمراہ کرنے کی وجہ سے خود ان کا اپنا بوجھ ہے، گناہ کرنے والے اپنا بوجھ خود اٹھائیں گے۔ سورۂ مائدہ (۳۲) میں آدم علیہ السلام کے قاتل بیٹے پر ہر قتل کے گناہ کا ایک حصہ ڈالے جانے کا مطلب بھی یہی ہے۔ اسی طرح ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی حدیث کہ ”میت کو اس کے گھر والوں کے اس پر رونے سے عذاب ہوتا ہے“ کا مطلب بھی اہل علم نے یہ بیان فرمایا کہ جب مرنے والا اس کی وصیت کر گیا ہو، یا اسے معلوم ہو کہ گھر والے ایسا کریں گے، مگر اس نے انھیں منع نہ کیا ہو، کیونکہ اس پر لازم تھا کہ گھر والوں کو بھی اللہ کی نافرمانی سے بچاتا۔ (دیکھیے تحریم: ۶) اگر اس کے منع کرنے کے باوجود کوئی شخص بین کرتا ہے، یا گریبان چاک کرتا ہے تو وہ اس سے بری ہے۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے {”كِتَابُ الْجَنَائِزِ“} میں باب باندھا ہے: {” بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّي اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَذَّبُ الْمَيِّتُ بِبَعْضِ بُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ “} یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان کہ میت کو اس کے گھر والوں کے بعض قسم کے رونے سے عذاب ہوتا ہے۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے فرمایا ہے: {” إِذَا كَانَ النَّوْحُ مِنْ سُنَّتِهٖ“} یعنی یہ اس وقت ہے جب بین کرنا اور سننا میت کا طریقہ اور معمول ہو، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «قُوْۤا اَنْفُسَكُمْ وَ اَهْلِيْكُمْ نَارًا» [التحریم: ۶] ”اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو آگ سے بچاؤ۔“ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [كُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْؤلٍ عَنْ رَّعِيَّتِهِ] [بخاري، النکاح، باب المرأۃ راعیۃ…: ۵۲۰۰] ”تم میں سے ہر ایک حکمران ہے اور اس سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال ہونے والا ہے۔“ تو جب یہ میت کا معمول اور طریقہ نہ ہو تو وہ ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے فرمانے کے مطابق «وَ لَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰى» [الأنعام: ۱۶۴] (اور کوئی بوجھ اٹھانے والی کسی دوسری کا بوجھ نہیں اٹھائے گی) کا مصداق ہو گا، یعنی اسے عذاب نہیں ہو گا اور وہ اس فرمانِ الٰہی کی طرح ہو گا: «وَ اِنْ تَدْعُ مُثْقَلَةٌ اِلٰى حِمْلِهَا لَا يُحْمَلْ مِنْهُ شَيْءٌ» [فاطر: ۱۸] ”اور اگر کوئی بوجھ سے لدی ہوئی (جان) اپنے بوجھ کی طرف بلائے گی تو اس میں سے کچھ بھی نہ اٹھایا جائے گا۔“ [بخاری، الجنائز، باب قول النبي صلی اللہ علیہ وسلم : یعذب المیت ببعض بکاء أھلہ علیہ…، قبل ح: ۱۲۸۴]
➍ {وَ مَا كُنَّا مُعَذِّبِيْنَ حَتّٰى نَبْعَثَ رَسُوْلًا:} یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کے عدل کا بیان ہے، فرمایا کہ جب تک ہم کوئی پیغام پہنچانے والا نہ بھیجیں جو ان تک اللہ کے احکام پہنچا دے اور حجت پوری ہو جائے ہم کبھی عذاب دینے والے نہیں۔ یہاں بعض مفسرین نے بچپن یا زمانۂ جاہلیت میں فوت ہونے والوں کے متعلق مختلف اقوال اور ان کے دلائل کے ساتھ لمبی بحث کی ہے، مگر ایسی کہ آدمی کسی نتیجے پر نہیں پہنچتا، اس لیے میں اس بحث کو واضح طریقے سے تحریر کرتا ہوں۔
اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ بچپن میں فوت ہو جانے والے بچے، خواہ مسلمانوں کے ہوں یا مشرکین کے، ان کو عذاب نہیں ہو گا۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے {”بَابُ مَا قِيْلَ فِيْ أَوْلَادِ الْمُشْرِكِيْنَ “} میں اس کے متعلق پہلے ابن عباس اور ابوہریرہ رضی اللہ عنھم کی روایات ذکر کی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرکین کے بچوں کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [اَللّٰهُ أَعْلَمُ بِمَا كَانُوْا عَامِلِيْنَ] [بخاری، الجنائز: ۱۳۸۳، ۱۳۸۴] ”اللہ تعالیٰ زیادہ جانتا ہے جو وہ عمل کرنے والے تھے۔“ اس کے بعد ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث بیان کی کہ ہم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [كُلُّ مَوْلُوْدٍ يُوْلَدُ عَلَی الْفِطْرَةِ فَأَبْوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ أَوْ يُنَصِّرَانِهِ أَوْ يُمَجِّسَانِهِ، كَمَثَلِ الْبَهِيْمَةِ تُنْتَجُ الْبَهِيْمَةَ، هَلْ تَرَی فِيْهَا جَدْعَاءَ؟] [بخاری: ۱۳۸۵] ”ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے، پھر اس کے ماں باپ اسے یہودی بنا دیتے ہیں یا اسے نصرانی بنا دیتے ہیں، یا اسے مجوسی بنا دیتے ہیں، جیسے چوپایہ چوپائے کو جنم دیتا ہے (تو مکمل اعضا والا ہوتا ہے) کیا تم ان میں کوئی کان کٹا دیکھتے ہو۔“ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ہر بچہ مسلمان پیدا ہوتا ہے۔ اس کے بعد سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کی طویل حدیث بیان فرمائی ہے، جس میں ہے کہ جبریل اور میکائیل علیھما السلام نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک رات اپنے ساتھ لے جا کر بہت سی چیزوں کا مشاہدہ کروایا، اس حدیث میں ہے کہ ہم ایک سرسبز باغ میں پہنچے جس میں ایک بہت بڑا درخت تھا، اس کی جڑ کے پاس ایک بزرگ اور بہت سے بچے تھے۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان مشاہدات کی حقیقت پوچھی تو فرشتوں نے تمام مشاہدات کے آخر میں سب کی حقیقت بیان کی اور اس مشاہدے کے متعلق بتایا کہ یہ بزرگ ابراہیم علیہ السلام تھے اور وہ بچے لوگوں کے بچے تھے۔ [بخاری: ۱۳۸۶] امام بخاری رحمہ اللہ نے {”كِتَابُ التَّعْبِيْرِ، بَابُ تَعْبِيْرِ الرُّؤْيَا بَعْدَ صَلَاةِ الصُّبْحِ [۷۰۴۷]“} میں یہی حدیث زیادہ تفصیل سے بیان فرمائی ہے۔ اس میں ہے کہ فرشتوں نے بتایا کہ باغ میں جو لمبے قد کے بزرگ تھے وہ ابراہیم علیہ السلام تھے اور وہ بچے جو ان کے اردگرد تھے وہ ایسے بچے تھے جو فطرت پر فوت ہوئے۔ سمرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ کچھ مسلمانوں نے پوچھا: [يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! وَ أَوْلاَدُ الْمُشْرِكِيْنَ؟ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَ أَوْلَادُ الْمُشْرِكِيْنَ] ”یا رسول اللہ! اور مشرکوں کے بچے بھی؟“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اور مشرکوں کے بچے بھی۔“ امام بخاری رحمہ اللہ کی اس ترتیب سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ جب تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے مشرکوں کے بچوں کے متعلق کوئی بات نہیں بتائی گئی، آپ نے یہ بات اللہ کے علم کے سپرد فرمائی، مگر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آگاہ کر دیا گیا تو آپ نے مسلم و مشرک تمام لوگوں کے بچوں کے جنتی ہونے کی صراحت فرما دی۔ البتہ دنیوی احکام میں مشرکوں کے بچوں کا حکم ان کے باپوں والا ہی ہو گا۔ اس لیے جہاد کے دوران حملے میں یا لونڈی و غلام بناتے وقت ان کا حکم مشرکین ہی کا ہو گا۔ ہاں، وہ کلمہ پڑھ لیں تو انھیں مسلمان سمجھا جائے گا۔
رہ گئے اہل فترت و جاہلیت، یعنی عرب کے وہ لوگ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے پہلے فوت ہو گئے تو ان تمام کے متعلق یہ نہیں کہا جا سکتا کہ انھیں اللہ کی طرف سے توحید کا پیغام نہیں پہنچا، بلکہ وہ اپنے آپ کو ملت ابراہیم پر قرار دیتے تھے اور وہ اسماعیل علیہ السلام کی اولاد اور امت تھے۔ ایک لمبی مدت گزرنے کی وجہ سے ممکن ہے دین کے تفصیلی احکام ان کو معلوم نہ رہے ہوں، تاہم اکثریت بلکہ تمام لوگوں کے بت پرستی میں مبتلا ہونے کے باوجود توحید اور دین ابراہیم کا پیغام پہنچانے والے کچھ لوگ ان میں ضرور موجود رہے ہیں، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نبوت ملنے سے پہلے بھی کچھ لوگ بتوں کی پرستش نہیں کرتے تھے، یہ لوگ ”حنفاء“ کہلاتے تھے، ان میں زید بن عمرو بن نفیل اور ورقہ بن نوفل بھی شامل ہیں۔ چنانچہ صحیح بخاری میں عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے: [أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقِيَ زَيْدَ بْنَ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ بِأَسْفَلِ بَلْدَحٍ قَبْلَ أَنْ يَّنْزِلَ عَلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْوَحْيُ، فَقُدِّمَتْ إِلَي النَّبِيِّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُفْرَةٌ فَأَبٰی أَنْ يَّأَكُلَ مِنْهَا، ثُمَّ قَالَ زَيْدٌ إِنِّيْ لَسْتُ آكُلُ مِمَّا تَذْبَحُوْنَ عَلٰی أَنْصَابِكُمْ، وَلاَ آكُلُ إِلَّا مَا ذُكِرَ اسْمُ اللّٰهِ عَلَيْهِ، فَإِنَّ زَيْدَ بْنَ عَمْرٍو كَانَ يَعِيْبُ عَلٰی قُرَيْشٍ ذَبَائِحَهُمْ وَ يَقُوْلُ الشَّاةُ خَلَقَهَا اللّٰهُ وَأَنْزَلَ لَهَا مِنَ السَّمَاءِ الْمَاءِ، وَأَنْبَتَ لَهَا مِنَ الْأَرْضِ، ثُمَّ تَذْبَحُوْنَهَا عَلٰی غَيْرِ اسْمِ اللّٰهِ؟ إِنْكَارًا لِذٰلِكَ وَ إِعْظَامًا لَّهُ] [بخاری، مناقب الأنصار، باب حدیث زید بن عمرو بن نفیل: ۳۸۲۶] ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم نبوت ملنے سے پہلے زید بن عمرو بن نفیل کو مقام بلدح کے نچلے حصے میں ملے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک دستر خوان پیش کیا گیا تو اس نے اس سے کھانے سے انکار کر دیا، زید نے کہا: ”میں اس میں سے نہیں کھاتا جو تم اپنے نصب کر دہ بتوں وغیرہ پر ذبح کرتے ہو اور میں اس کے سوا نہیں کھاتا جس پر اللہ کا نام لیا گیا ہو۔“ زید بن عمرو قریش پر ان کے ذبیحوں پر عیب لگاتے تھے اور کہتے تھے: ”بھیڑ بکری جو ہے اسے اللہ نے پیدا فرمایا اور اسی نے اس کے لیے آسمان سے پانی اتارا اور زمین سے اس کے لیے پودے اگائے، پھر تم اسے اللہ کے غیر کے نام پر ذبح کرتے ہو۔“ ان کے اس فعل کا انکار کرتے ہوئے اور اسے بہت بڑا گناہ قرار دیتے ہوئے یہ بات کہتے تھے۔“ ورقہ بن نوفل بت پرستی سے بے زار ہو کر نصرانی ہو گئے تھے۔“ [بخاری، بدء الوحی، باب کیف کان بدء الوحی إلٰی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم : ۲] اور ظاہر ہے کہ وہ موحد نصرانی بنے ہوں گے، تثلیث والے مشرک نہیں، کیونکہ پھر انھیں بت پرستی چھوڑ کر نصرانی بننے کی ضرورت نہ تھی اور اسی توحید کی وجہ سے انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت تسلیم کی۔ صحیح بخاری میں ہے کہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما فرماتی ہیں: [رَأَيْتُ زَيْدَ بْنَ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ قَائِمًا مُسْنِدًا ظَهْرَهُ إِلَی الْكَعْبَةِ يَقُوْلُ يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ! وَاللّٰهِ! مَا مِنْكُمْ عَلٰی دِيْنِ إِبْرَاهِيْمَ غَيْرِيْ] [بخاری، مناقب الأنصار، باب حدیث زید بن عمرو بن نفیل: ۳۸۲۸] میں نے زید بن عمرو بن نفیل کو دیکھا وہ کعبے کے ساتھ پیٹھ کا سہارا لے کر کھڑے کہہ رہے تھے: ”اے قریش کی جماعت! اللہ کی قسم! تم میں سے کوئی شخص میرے سوا دین ابراہیم پر نہیں ہے۔“
الغرض جب ابراہیم اور اسماعیل علیھما السلام سے سیکڑوں سال بعد بھی توحید پر قائم اور اس کا پیغام کھلم کھلا کعبہ میں کھڑے ہو کر دینے والے موجود تھے تو ان سے پہلے ابراہیم و اسماعیل علیھما السلام کے زمانے کے جس قدر قریب جائیں توحید والے اور اپنے آپ کو دین ابراہیم پر قائم کہنے والے یقینا موجود رہے ہیں۔ یہ تو یمن سے آنے والے عمرو بن لحی خزاعی کا بیڑا غرق ہوا کہ اس نے کعبہ میں بت لاکر رکھ دیے، جس کے بعد قریش بھی بت پرستی میں مبتلا ہو گئے۔ اللہ تعالیٰ نے بھی فرمایا: «وَ اِنْ مِّنْ اُمَّةٍ اِلَّا خَلَا فِيْهَا نَذِيْرٌ» [فاطر: ۲۴] ”اور کوئی امت نہیں مگر اس میں کوئی نہ کوئی ڈرانے والا گزرا ہے۔“ یہ ڈرانے والا کوئی امتی بھی ہو سکتا ہے، جیسا کہ آج رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کو تقریباً ۱۴۲۱ برس گزر چکے مگر آپ کی دعوت مسلسل دنیا کے ہر خطے میں جاری ہے اور داعیان اسلام بشارت و نذارت کا فریضہ سرانجام دے رہے ہیں۔ ساری بحث کا خلاصہ یہ ہے کہ زمانۂ فترت میں دو قسم کے لوگ ہو سکتے ہیں، بلکہ آج بھی یہ دونوں قسمیں موجود ہیں، ایک وہ جنھیں کسی ذریعے سے توحید کی دعوت پہنچ گئی، خواہ وہ کسی توحید پر قائم شخص کے ذریعے سے پہنچی ہو یا اس کے مخالف کے ذریعے سے، جیسا کہ ابوسفیان نے اپنے زمانۂ کفر میں ہرقل کے سامنے دین اسلام کا بہترین خلاصہ پیش کیا تھا، پھر انھوں نے نہ توجہ سے سنا، نہ سوچنے کی زحمت کی، نہ اسے تسلیم کیا تو ان کے جہنمی ہونے میں کوئی شک نہیں۔ انھیں صرف اہل فترت ہونے کی وجہ سے جنتی نہیں کہا جا سکتا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «كُلَّمَاۤ اُلْقِيَ فِيْهَا فَوْجٌ سَاَلَهُمْ خَزَنَتُهَاۤ اَلَمْ يَاْتِكُمْ نَذِيْرٌ (8) قَالُوْا بَلٰى قَدْ جَآءَنَا نَذِيْرٌ فَكَذَّبْنَا وَ قُلْنَا مَا نَزَّلَ اللّٰهُ مِنْ شَيْءٍ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا فِيْ ضَلٰلٍ كَبِيْرٍ (9) وَ قَالُوْا لَوْ كُنَّا نَسْمَعُ اَوْ نَعْقِلُ مَا كُنَّا فِيْۤ اَصْحٰبِ السَّعِيْرِ (10) فَاعْتَرَفُوْا بِذَنْۢبِهِمْ فَسُحْقًا لِّاَصْحٰبِ السَّعِيْرِ» [الملک: ۸ تا ۱۱] ”جب بھی اس (جہنم) میں کوئی گروہ ڈالا جائے گا تو اس کے نگران ان سے پو چھیں گے کیا تمھارے پاس کوئی ڈرانے والا نہیں۔ آیا؟ وہ کہیں گے کیوں نہیں؟ یقینا ہمارے پاس ڈرانے والا آیا تو ہم نے جھٹلا دیا اور ہم نے کہا اللہ نے کوئی چیز نہیں اتاری، تم تو ایک بڑی گمراہی میں ہی پڑے ہوئے ہو۔ اور وہ کہیں گے اگر ہم سنتے ہوتے یا سمجھتے ہوتے تو بھڑکتی ہوئی آگ والوںمیں سے نہ ہوتے۔ پس وہ اپنے گناہ کا اقرار کریں گے، سو دوری ہے بھڑکتی ہوئی آگ والوں کے لیے۔“
یہی وہ لوگ ہیں جن کے متعلق ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [لَيَنْتَهِيَنَّ أَقْوَامٌ يَفْتَخِرُوْنَ بِآبَائِهِمُ الَّذِيْنَ مَاتُوْا، إِنَّمَا هُمْ فَحْمُ جَهَنَّمَ، أَوْ لَيَكُوْنُنَّ أَهْوَنَ عَلَی اللّٰهِ مِنَ الْجُعَلِ الَّذِيْ يُدَهْدِهُ الْخِرَاءَ بِأَنْفِهِ] [ترمذي، المناقب، باب في فضل الشام والیمن: ۳۹۵۵، حسنہ الألباني] ”کچھ لوگ جو اپنے ان آباء پر فخر کرتے ہیں جو فوت ہو چکے، جو محض جہنم کے کوئلے ہیں، ان پر فخر کرنے سے باز آ جائیں گے ورنہ وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں پاخانے کے اس کیڑے سے بھی ذلیل ہوں گے جو اپنی ناک کے ساتھ پاخانے کو دھکیلتا جاتا ہے۔“ اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمانۂ جاہلیت میں فوت ہونے والوں کو جہنم کے کوئلے قرار دیا۔ مزید تفصیل سورۂ توبہ کی آیت (۱۱۳) کی تشریح میں تفسیر کی کسی بھی کتاب سے دیکھ لیں۔
اب اہل فترت کے صرف وہ لوگ رہ گئے جنھیں واقعی دعوت نہیں پہنچی تو یہ صرف اہل فترت ہی کے ساتھ خاص نہیں، اب بھی اگر دنیا کے کسی خطے میں واقعی کوئی ایسا شخص موجود ہے جسے بالکل دعوت نہیں پہنچی تو اس آیت {” وَ مَا كُنَّا مُعَذِّبِيْنَ حَتّٰى نَبْعَثَ رَسُوْلًا “} کے تحت حجت پوری کیے بغیر اسے عذاب نہیں ہو گا، خواہ وہ حجت قیامت کے دن پوری کی جائے۔ جہاں تک میں نے مطالعہ کیا ہے ان لوگوں کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آنے والی احادیث میں سے سب سے صحیح حدیث وہ ہے جو اسود بن سریع اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چار آدمی قیامت کے دن اپنی حجت (دلیل) پیش کریں گے، ایک بہرا آدمی جو کچھ نہیں سنتا، ایک احمق آدمی، ایک حد سے بوڑھا اور ایک وہ آدمی جو فترت میں فوت ہوا۔ جو بہرا ہے وہ کہے گا، اے میرے رب! اسلام آیا تو مجھے کچھ سنائی نہ دیتا تھا، احمق کہے گا، اے میرے رب! اسلام آیا اور میں کچھ عقل نہ رکھتا تھا اور بچے مجھے مینگنیاں مارتے تھے، حد سے بوڑھا کہے گا، اے میرے رب! اسلام آیا اور میں کچھ سمجھتا نہ تھا اور جو فترت میں فوت ہوا وہ کہے گا، اے میرے رب! میرے پاس تیرا کوئی پیغام لانے والا نہیں آیا۔ تو اللہ تعالیٰ ان سے ان کے پختہ عہد لے گا کہ وہ جو کہے گا اس کی اطاعت کریں گے؟ تو ان کی طرف پیغام بھیجا جائے گا کہ آگ میں داخل ہو جاؤ، تو جو داخل ہو جائے گا وہ اس پر ٹھنڈک اور سلامتی بن جائے گی اور جو داخل نہیں ہو گا اسے گھسیٹ کر اس میں ڈال دیا جائے گا۔“ [مسند أحمد: 24/4، ح: ۱۶۳۰۷۔ ابن حبان: ۷۳۵۷] صحیح الجامع (۸۸۱) میں شیخ البانی رحمہ اللہ نے اسے صحیح فرمایا ہے، ابن کثیر نے فرمایا کہ اسے اسحاق بن راہویہ نے معاویہ بن ہشام سے ایسے ہی روایت کیا اور بیہقی نے اسے کتاب الاعتقاد میں ”حنبل عن علی بن عبد اللہ“ کی سند سے روایت کیا اور فرمایا یہ اسناد صحیح ہے۔ محترم زبیر علی زئی صاحب نے اردو تفسیر ابن کثیر کی تخریج میں اس کی ایک ہم معنی حدیث کو جو اہل جاہلیت کے متعلق ہے، حاکم (۴؍۴۴۹، ۴۵۰) کے حوالے سے حسن لکھا ہے۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اگرچہ اللہ تعالیٰ کو معلوم ہے کہ اگر پیغام پہنچ جاتا تو کوئی شخص کیا کرتا، مگر ان چاروں کا عذر بھی باقی نہیں رہنے دیا جائے گا، بلکہ قیامت کے دن ان کے امتحان کے بعد اس کے نتیجے کے مطابق ان سے سلوک ہو گا، البتہ بچوں کے امتحان کی کوئی روایت صحیح نہیں۔ [وَاللّٰہُ أَعْلَمُ وَعِلْمُہُ أَتَمُّ]
➋ {وَ لَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰى…:” تَزِرُ “ ”وَزَرَ يَزِرُ وِزْرًا“} (ض) بوجھ اٹھانا۔ {” وَازِرَةٌ “ } اسم فاعل ہے اور {”نَفْسٌ“} کی صفت ہے جو یہاں پوشیدہ ہے، یعنی کوئی جان کسی دوسری جان کا بوجھ نہیں اٹھائے گی، بلکہ ہر ایک کو اپنا بوجھ خود اٹھانا پڑے گا۔ اس مفہوم کی کئی آیات ہیں، دیکھیے سورۂ انعام (۱۶۴) اور سورۂ فاطر (۱۸) وغیرہ۔
➌ بعض آیات میں کچھ لوگوں کے اپنے گناہوں کے ساتھ دوسروں کے گناہ بھی اٹھانے کا ذکر ہے، جیسا کہ سورۂ نحل (۲۵) اور عنکبوت(۱۳) میں ہے:”وہ اپنے بوجھ بھی اٹھائیں گے اور ان کے بھی جن کو وہ بغیر علم کے گمراہ کرتے رہے۔“ تو یہ دراصل دوسروں کا بوجھ نہیں بلکہ دوسروں کو گمراہ کرنے کی وجہ سے خود ان کا اپنا بوجھ ہے، گناہ کرنے والے اپنا بوجھ خود اٹھائیں گے۔ سورۂ مائدہ (۳۲) میں آدم علیہ السلام کے قاتل بیٹے پر ہر قتل کے گناہ کا ایک حصہ ڈالے جانے کا مطلب بھی یہی ہے۔ اسی طرح ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی حدیث کہ ”میت کو اس کے گھر والوں کے اس پر رونے سے عذاب ہوتا ہے“ کا مطلب بھی اہل علم نے یہ بیان فرمایا کہ جب مرنے والا اس کی وصیت کر گیا ہو، یا اسے معلوم ہو کہ گھر والے ایسا کریں گے، مگر اس نے انھیں منع نہ کیا ہو، کیونکہ اس پر لازم تھا کہ گھر والوں کو بھی اللہ کی نافرمانی سے بچاتا۔ (دیکھیے تحریم: ۶) اگر اس کے منع کرنے کے باوجود کوئی شخص بین کرتا ہے، یا گریبان چاک کرتا ہے تو وہ اس سے بری ہے۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے {”كِتَابُ الْجَنَائِزِ“} میں باب باندھا ہے: {” بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّي اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَذَّبُ الْمَيِّتُ بِبَعْضِ بُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ “} یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان کہ میت کو اس کے گھر والوں کے بعض قسم کے رونے سے عذاب ہوتا ہے۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے فرمایا ہے: {” إِذَا كَانَ النَّوْحُ مِنْ سُنَّتِهٖ“} یعنی یہ اس وقت ہے جب بین کرنا اور سننا میت کا طریقہ اور معمول ہو، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «قُوْۤا اَنْفُسَكُمْ وَ اَهْلِيْكُمْ نَارًا» [التحریم: ۶] ”اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو آگ سے بچاؤ۔“ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [كُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْؤلٍ عَنْ رَّعِيَّتِهِ] [بخاري، النکاح، باب المرأۃ راعیۃ…: ۵۲۰۰] ”تم میں سے ہر ایک حکمران ہے اور اس سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال ہونے والا ہے۔“ تو جب یہ میت کا معمول اور طریقہ نہ ہو تو وہ ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے فرمانے کے مطابق «وَ لَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰى» [الأنعام: ۱۶۴] (اور کوئی بوجھ اٹھانے والی کسی دوسری کا بوجھ نہیں اٹھائے گی) کا مصداق ہو گا، یعنی اسے عذاب نہیں ہو گا اور وہ اس فرمانِ الٰہی کی طرح ہو گا: «وَ اِنْ تَدْعُ مُثْقَلَةٌ اِلٰى حِمْلِهَا لَا يُحْمَلْ مِنْهُ شَيْءٌ» [فاطر: ۱۸] ”اور اگر کوئی بوجھ سے لدی ہوئی (جان) اپنے بوجھ کی طرف بلائے گی تو اس میں سے کچھ بھی نہ اٹھایا جائے گا۔“ [بخاری، الجنائز، باب قول النبي صلی اللہ علیہ وسلم : یعذب المیت ببعض بکاء أھلہ علیہ…، قبل ح: ۱۲۸۴]
➍ {وَ مَا كُنَّا مُعَذِّبِيْنَ حَتّٰى نَبْعَثَ رَسُوْلًا:} یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کے عدل کا بیان ہے، فرمایا کہ جب تک ہم کوئی پیغام پہنچانے والا نہ بھیجیں جو ان تک اللہ کے احکام پہنچا دے اور حجت پوری ہو جائے ہم کبھی عذاب دینے والے نہیں۔ یہاں بعض مفسرین نے بچپن یا زمانۂ جاہلیت میں فوت ہونے والوں کے متعلق مختلف اقوال اور ان کے دلائل کے ساتھ لمبی بحث کی ہے، مگر ایسی کہ آدمی کسی نتیجے پر نہیں پہنچتا، اس لیے میں اس بحث کو واضح طریقے سے تحریر کرتا ہوں۔
اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ بچپن میں فوت ہو جانے والے بچے، خواہ مسلمانوں کے ہوں یا مشرکین کے، ان کو عذاب نہیں ہو گا۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے {”بَابُ مَا قِيْلَ فِيْ أَوْلَادِ الْمُشْرِكِيْنَ “} میں اس کے متعلق پہلے ابن عباس اور ابوہریرہ رضی اللہ عنھم کی روایات ذکر کی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرکین کے بچوں کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [اَللّٰهُ أَعْلَمُ بِمَا كَانُوْا عَامِلِيْنَ] [بخاری، الجنائز: ۱۳۸۳، ۱۳۸۴] ”اللہ تعالیٰ زیادہ جانتا ہے جو وہ عمل کرنے والے تھے۔“ اس کے بعد ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث بیان کی کہ ہم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [كُلُّ مَوْلُوْدٍ يُوْلَدُ عَلَی الْفِطْرَةِ فَأَبْوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ أَوْ يُنَصِّرَانِهِ أَوْ يُمَجِّسَانِهِ، كَمَثَلِ الْبَهِيْمَةِ تُنْتَجُ الْبَهِيْمَةَ، هَلْ تَرَی فِيْهَا جَدْعَاءَ؟] [بخاری: ۱۳۸۵] ”ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے، پھر اس کے ماں باپ اسے یہودی بنا دیتے ہیں یا اسے نصرانی بنا دیتے ہیں، یا اسے مجوسی بنا دیتے ہیں، جیسے چوپایہ چوپائے کو جنم دیتا ہے (تو مکمل اعضا والا ہوتا ہے) کیا تم ان میں کوئی کان کٹا دیکھتے ہو۔“ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ہر بچہ مسلمان پیدا ہوتا ہے۔ اس کے بعد سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کی طویل حدیث بیان فرمائی ہے، جس میں ہے کہ جبریل اور میکائیل علیھما السلام نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک رات اپنے ساتھ لے جا کر بہت سی چیزوں کا مشاہدہ کروایا، اس حدیث میں ہے کہ ہم ایک سرسبز باغ میں پہنچے جس میں ایک بہت بڑا درخت تھا، اس کی جڑ کے پاس ایک بزرگ اور بہت سے بچے تھے۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان مشاہدات کی حقیقت پوچھی تو فرشتوں نے تمام مشاہدات کے آخر میں سب کی حقیقت بیان کی اور اس مشاہدے کے متعلق بتایا کہ یہ بزرگ ابراہیم علیہ السلام تھے اور وہ بچے لوگوں کے بچے تھے۔ [بخاری: ۱۳۸۶] امام بخاری رحمہ اللہ نے {”كِتَابُ التَّعْبِيْرِ، بَابُ تَعْبِيْرِ الرُّؤْيَا بَعْدَ صَلَاةِ الصُّبْحِ [۷۰۴۷]“} میں یہی حدیث زیادہ تفصیل سے بیان فرمائی ہے۔ اس میں ہے کہ فرشتوں نے بتایا کہ باغ میں جو لمبے قد کے بزرگ تھے وہ ابراہیم علیہ السلام تھے اور وہ بچے جو ان کے اردگرد تھے وہ ایسے بچے تھے جو فطرت پر فوت ہوئے۔ سمرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ کچھ مسلمانوں نے پوچھا: [يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! وَ أَوْلاَدُ الْمُشْرِكِيْنَ؟ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَ أَوْلَادُ الْمُشْرِكِيْنَ] ”یا رسول اللہ! اور مشرکوں کے بچے بھی؟“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اور مشرکوں کے بچے بھی۔“ امام بخاری رحمہ اللہ کی اس ترتیب سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ جب تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے مشرکوں کے بچوں کے متعلق کوئی بات نہیں بتائی گئی، آپ نے یہ بات اللہ کے علم کے سپرد فرمائی، مگر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آگاہ کر دیا گیا تو آپ نے مسلم و مشرک تمام لوگوں کے بچوں کے جنتی ہونے کی صراحت فرما دی۔ البتہ دنیوی احکام میں مشرکوں کے بچوں کا حکم ان کے باپوں والا ہی ہو گا۔ اس لیے جہاد کے دوران حملے میں یا لونڈی و غلام بناتے وقت ان کا حکم مشرکین ہی کا ہو گا۔ ہاں، وہ کلمہ پڑھ لیں تو انھیں مسلمان سمجھا جائے گا۔
رہ گئے اہل فترت و جاہلیت، یعنی عرب کے وہ لوگ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے پہلے فوت ہو گئے تو ان تمام کے متعلق یہ نہیں کہا جا سکتا کہ انھیں اللہ کی طرف سے توحید کا پیغام نہیں پہنچا، بلکہ وہ اپنے آپ کو ملت ابراہیم پر قرار دیتے تھے اور وہ اسماعیل علیہ السلام کی اولاد اور امت تھے۔ ایک لمبی مدت گزرنے کی وجہ سے ممکن ہے دین کے تفصیلی احکام ان کو معلوم نہ رہے ہوں، تاہم اکثریت بلکہ تمام لوگوں کے بت پرستی میں مبتلا ہونے کے باوجود توحید اور دین ابراہیم کا پیغام پہنچانے والے کچھ لوگ ان میں ضرور موجود رہے ہیں، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نبوت ملنے سے پہلے بھی کچھ لوگ بتوں کی پرستش نہیں کرتے تھے، یہ لوگ ”حنفاء“ کہلاتے تھے، ان میں زید بن عمرو بن نفیل اور ورقہ بن نوفل بھی شامل ہیں۔ چنانچہ صحیح بخاری میں عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے: [أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقِيَ زَيْدَ بْنَ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ بِأَسْفَلِ بَلْدَحٍ قَبْلَ أَنْ يَّنْزِلَ عَلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْوَحْيُ، فَقُدِّمَتْ إِلَي النَّبِيِّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُفْرَةٌ فَأَبٰی أَنْ يَّأَكُلَ مِنْهَا، ثُمَّ قَالَ زَيْدٌ إِنِّيْ لَسْتُ آكُلُ مِمَّا تَذْبَحُوْنَ عَلٰی أَنْصَابِكُمْ، وَلاَ آكُلُ إِلَّا مَا ذُكِرَ اسْمُ اللّٰهِ عَلَيْهِ، فَإِنَّ زَيْدَ بْنَ عَمْرٍو كَانَ يَعِيْبُ عَلٰی قُرَيْشٍ ذَبَائِحَهُمْ وَ يَقُوْلُ الشَّاةُ خَلَقَهَا اللّٰهُ وَأَنْزَلَ لَهَا مِنَ السَّمَاءِ الْمَاءِ، وَأَنْبَتَ لَهَا مِنَ الْأَرْضِ، ثُمَّ تَذْبَحُوْنَهَا عَلٰی غَيْرِ اسْمِ اللّٰهِ؟ إِنْكَارًا لِذٰلِكَ وَ إِعْظَامًا لَّهُ] [بخاری، مناقب الأنصار، باب حدیث زید بن عمرو بن نفیل: ۳۸۲۶] ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم نبوت ملنے سے پہلے زید بن عمرو بن نفیل کو مقام بلدح کے نچلے حصے میں ملے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک دستر خوان پیش کیا گیا تو اس نے اس سے کھانے سے انکار کر دیا، زید نے کہا: ”میں اس میں سے نہیں کھاتا جو تم اپنے نصب کر دہ بتوں وغیرہ پر ذبح کرتے ہو اور میں اس کے سوا نہیں کھاتا جس پر اللہ کا نام لیا گیا ہو۔“ زید بن عمرو قریش پر ان کے ذبیحوں پر عیب لگاتے تھے اور کہتے تھے: ”بھیڑ بکری جو ہے اسے اللہ نے پیدا فرمایا اور اسی نے اس کے لیے آسمان سے پانی اتارا اور زمین سے اس کے لیے پودے اگائے، پھر تم اسے اللہ کے غیر کے نام پر ذبح کرتے ہو۔“ ان کے اس فعل کا انکار کرتے ہوئے اور اسے بہت بڑا گناہ قرار دیتے ہوئے یہ بات کہتے تھے۔“ ورقہ بن نوفل بت پرستی سے بے زار ہو کر نصرانی ہو گئے تھے۔“ [بخاری، بدء الوحی، باب کیف کان بدء الوحی إلٰی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم : ۲] اور ظاہر ہے کہ وہ موحد نصرانی بنے ہوں گے، تثلیث والے مشرک نہیں، کیونکہ پھر انھیں بت پرستی چھوڑ کر نصرانی بننے کی ضرورت نہ تھی اور اسی توحید کی وجہ سے انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت تسلیم کی۔ صحیح بخاری میں ہے کہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما فرماتی ہیں: [رَأَيْتُ زَيْدَ بْنَ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ قَائِمًا مُسْنِدًا ظَهْرَهُ إِلَی الْكَعْبَةِ يَقُوْلُ يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ! وَاللّٰهِ! مَا مِنْكُمْ عَلٰی دِيْنِ إِبْرَاهِيْمَ غَيْرِيْ] [بخاری، مناقب الأنصار، باب حدیث زید بن عمرو بن نفیل: ۳۸۲۸] میں نے زید بن عمرو بن نفیل کو دیکھا وہ کعبے کے ساتھ پیٹھ کا سہارا لے کر کھڑے کہہ رہے تھے: ”اے قریش کی جماعت! اللہ کی قسم! تم میں سے کوئی شخص میرے سوا دین ابراہیم پر نہیں ہے۔“
الغرض جب ابراہیم اور اسماعیل علیھما السلام سے سیکڑوں سال بعد بھی توحید پر قائم اور اس کا پیغام کھلم کھلا کعبہ میں کھڑے ہو کر دینے والے موجود تھے تو ان سے پہلے ابراہیم و اسماعیل علیھما السلام کے زمانے کے جس قدر قریب جائیں توحید والے اور اپنے آپ کو دین ابراہیم پر قائم کہنے والے یقینا موجود رہے ہیں۔ یہ تو یمن سے آنے والے عمرو بن لحی خزاعی کا بیڑا غرق ہوا کہ اس نے کعبہ میں بت لاکر رکھ دیے، جس کے بعد قریش بھی بت پرستی میں مبتلا ہو گئے۔ اللہ تعالیٰ نے بھی فرمایا: «وَ اِنْ مِّنْ اُمَّةٍ اِلَّا خَلَا فِيْهَا نَذِيْرٌ» [فاطر: ۲۴] ”اور کوئی امت نہیں مگر اس میں کوئی نہ کوئی ڈرانے والا گزرا ہے۔“ یہ ڈرانے والا کوئی امتی بھی ہو سکتا ہے، جیسا کہ آج رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کو تقریباً ۱۴۲۱ برس گزر چکے مگر آپ کی دعوت مسلسل دنیا کے ہر خطے میں جاری ہے اور داعیان اسلام بشارت و نذارت کا فریضہ سرانجام دے رہے ہیں۔ ساری بحث کا خلاصہ یہ ہے کہ زمانۂ فترت میں دو قسم کے لوگ ہو سکتے ہیں، بلکہ آج بھی یہ دونوں قسمیں موجود ہیں، ایک وہ جنھیں کسی ذریعے سے توحید کی دعوت پہنچ گئی، خواہ وہ کسی توحید پر قائم شخص کے ذریعے سے پہنچی ہو یا اس کے مخالف کے ذریعے سے، جیسا کہ ابوسفیان نے اپنے زمانۂ کفر میں ہرقل کے سامنے دین اسلام کا بہترین خلاصہ پیش کیا تھا، پھر انھوں نے نہ توجہ سے سنا، نہ سوچنے کی زحمت کی، نہ اسے تسلیم کیا تو ان کے جہنمی ہونے میں کوئی شک نہیں۔ انھیں صرف اہل فترت ہونے کی وجہ سے جنتی نہیں کہا جا سکتا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «كُلَّمَاۤ اُلْقِيَ فِيْهَا فَوْجٌ سَاَلَهُمْ خَزَنَتُهَاۤ اَلَمْ يَاْتِكُمْ نَذِيْرٌ (8) قَالُوْا بَلٰى قَدْ جَآءَنَا نَذِيْرٌ فَكَذَّبْنَا وَ قُلْنَا مَا نَزَّلَ اللّٰهُ مِنْ شَيْءٍ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا فِيْ ضَلٰلٍ كَبِيْرٍ (9) وَ قَالُوْا لَوْ كُنَّا نَسْمَعُ اَوْ نَعْقِلُ مَا كُنَّا فِيْۤ اَصْحٰبِ السَّعِيْرِ (10) فَاعْتَرَفُوْا بِذَنْۢبِهِمْ فَسُحْقًا لِّاَصْحٰبِ السَّعِيْرِ» [الملک: ۸ تا ۱۱] ”جب بھی اس (جہنم) میں کوئی گروہ ڈالا جائے گا تو اس کے نگران ان سے پو چھیں گے کیا تمھارے پاس کوئی ڈرانے والا نہیں۔ آیا؟ وہ کہیں گے کیوں نہیں؟ یقینا ہمارے پاس ڈرانے والا آیا تو ہم نے جھٹلا دیا اور ہم نے کہا اللہ نے کوئی چیز نہیں اتاری، تم تو ایک بڑی گمراہی میں ہی پڑے ہوئے ہو۔ اور وہ کہیں گے اگر ہم سنتے ہوتے یا سمجھتے ہوتے تو بھڑکتی ہوئی آگ والوںمیں سے نہ ہوتے۔ پس وہ اپنے گناہ کا اقرار کریں گے، سو دوری ہے بھڑکتی ہوئی آگ والوں کے لیے۔“
یہی وہ لوگ ہیں جن کے متعلق ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [لَيَنْتَهِيَنَّ أَقْوَامٌ يَفْتَخِرُوْنَ بِآبَائِهِمُ الَّذِيْنَ مَاتُوْا، إِنَّمَا هُمْ فَحْمُ جَهَنَّمَ، أَوْ لَيَكُوْنُنَّ أَهْوَنَ عَلَی اللّٰهِ مِنَ الْجُعَلِ الَّذِيْ يُدَهْدِهُ الْخِرَاءَ بِأَنْفِهِ] [ترمذي، المناقب، باب في فضل الشام والیمن: ۳۹۵۵، حسنہ الألباني] ”کچھ لوگ جو اپنے ان آباء پر فخر کرتے ہیں جو فوت ہو چکے، جو محض جہنم کے کوئلے ہیں، ان پر فخر کرنے سے باز آ جائیں گے ورنہ وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں پاخانے کے اس کیڑے سے بھی ذلیل ہوں گے جو اپنی ناک کے ساتھ پاخانے کو دھکیلتا جاتا ہے۔“ اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمانۂ جاہلیت میں فوت ہونے والوں کو جہنم کے کوئلے قرار دیا۔ مزید تفصیل سورۂ توبہ کی آیت (۱۱۳) کی تشریح میں تفسیر کی کسی بھی کتاب سے دیکھ لیں۔
اب اہل فترت کے صرف وہ لوگ رہ گئے جنھیں واقعی دعوت نہیں پہنچی تو یہ صرف اہل فترت ہی کے ساتھ خاص نہیں، اب بھی اگر دنیا کے کسی خطے میں واقعی کوئی ایسا شخص موجود ہے جسے بالکل دعوت نہیں پہنچی تو اس آیت {” وَ مَا كُنَّا مُعَذِّبِيْنَ حَتّٰى نَبْعَثَ رَسُوْلًا “} کے تحت حجت پوری کیے بغیر اسے عذاب نہیں ہو گا، خواہ وہ حجت قیامت کے دن پوری کی جائے۔ جہاں تک میں نے مطالعہ کیا ہے ان لوگوں کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آنے والی احادیث میں سے سب سے صحیح حدیث وہ ہے جو اسود بن سریع اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چار آدمی قیامت کے دن اپنی حجت (دلیل) پیش کریں گے، ایک بہرا آدمی جو کچھ نہیں سنتا، ایک احمق آدمی، ایک حد سے بوڑھا اور ایک وہ آدمی جو فترت میں فوت ہوا۔ جو بہرا ہے وہ کہے گا، اے میرے رب! اسلام آیا تو مجھے کچھ سنائی نہ دیتا تھا، احمق کہے گا، اے میرے رب! اسلام آیا اور میں کچھ عقل نہ رکھتا تھا اور بچے مجھے مینگنیاں مارتے تھے، حد سے بوڑھا کہے گا، اے میرے رب! اسلام آیا اور میں کچھ سمجھتا نہ تھا اور جو فترت میں فوت ہوا وہ کہے گا، اے میرے رب! میرے پاس تیرا کوئی پیغام لانے والا نہیں آیا۔ تو اللہ تعالیٰ ان سے ان کے پختہ عہد لے گا کہ وہ جو کہے گا اس کی اطاعت کریں گے؟ تو ان کی طرف پیغام بھیجا جائے گا کہ آگ میں داخل ہو جاؤ، تو جو داخل ہو جائے گا وہ اس پر ٹھنڈک اور سلامتی بن جائے گی اور جو داخل نہیں ہو گا اسے گھسیٹ کر اس میں ڈال دیا جائے گا۔“ [مسند أحمد: 24/4، ح: ۱۶۳۰۷۔ ابن حبان: ۷۳۵۷] صحیح الجامع (۸۸۱) میں شیخ البانی رحمہ اللہ نے اسے صحیح فرمایا ہے، ابن کثیر نے فرمایا کہ اسے اسحاق بن راہویہ نے معاویہ بن ہشام سے ایسے ہی روایت کیا اور بیہقی نے اسے کتاب الاعتقاد میں ”حنبل عن علی بن عبد اللہ“ کی سند سے روایت کیا اور فرمایا یہ اسناد صحیح ہے۔ محترم زبیر علی زئی صاحب نے اردو تفسیر ابن کثیر کی تخریج میں اس کی ایک ہم معنی حدیث کو جو اہل جاہلیت کے متعلق ہے، حاکم (۴؍۴۴۹، ۴۵۰) کے حوالے سے حسن لکھا ہے۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اگرچہ اللہ تعالیٰ کو معلوم ہے کہ اگر پیغام پہنچ جاتا تو کوئی شخص کیا کرتا، مگر ان چاروں کا عذر بھی باقی نہیں رہنے دیا جائے گا، بلکہ قیامت کے دن ان کے امتحان کے بعد اس کے نتیجے کے مطابق ان سے سلوک ہو گا، البتہ بچوں کے امتحان کی کوئی روایت صحیح نہیں۔ [وَاللّٰہُ أَعْلَمُ وَعِلْمُہُ أَتَمُّ]
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
15۔ 1 البتہ جو مضل (گمراہ کرنے والے) بھی ہوں گے، انھیں اپنی گمراہی کے بوجھ کے ساتھ، ان کے گناہوں کا بار بھی (بغیر ان کے گناہوں میں کمی کیے) اٹھانا پڑے گا جو ان کی کوششوں سے گمراہ ہوئے ہوں گے، جیسا کہ قرآن کے دوسرے مقامات اور احادیث میں واضح ہے۔ یہ دراصل ان کے اپنے ہی گناہوں کا بھار ہوگا جو دوسروں کو گمراہ کر کے انہوں نے کمایا ہوگا۔ 15۔ 2 بعض مفسرین نے اس سے صرف دنیاوی عذاب مراد لیا ہے۔ یعنی آخرت کے عذاب سے مستثنٰی نہیں ہوں گے، لیکن قرآن کریم کے دوسرے مقامات سے واضح ہے کہ اللہ تعالیٰ لوگوں سے پوچھے گا کہ تمہارے پاس میرے رسول نہیں آئے تھے؟ جس پر اثبات میں جواب دیں گے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ارسال رسل اور انزال کتب کے بغیر وہ کسی کو عذاب نہیں دے گا۔ تاہم اس کا فیصلہ کہ کس قوم یا فرد تک اس کا پیغام نہیں پہنچا، قیامت والے دن وہ خود ہی فرمائے گا، وہاں یقینا کسی کے ساتھ ظلم نہیں ہوگا۔ اسی طرح بہرا پاگل فاترالعقل اور زمانہ فترت یعنی دو نبیوں کے درمیانی زمانے میں فوت ہونے والے لوگوں کا مسئلہ ہے ان کی بابت بعض روایات میں آتا ہے کہ قیامت والے دن اللہ تعالیٰ ان کی طرف فرشتے بھیجے گا اور وہ انھیں کہیں گے کہ جہنم میں داخل ہوجاؤ اگر وہ اللہ کے اس حکم کو مان کر جہنم میں داخل ہوجائیں گے تو جہنم ان کے لیے گل و گلزار بن جائے گی بصورت دیگر انھیں گھسیٹ کر جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔ مسند احمد۔ علامہ البانی نے صحیح الجامع الصغیر میں اسے ذکر کیا ہے چھوٹے بچوں کی بابت اختلاف ہے مسلمانوں کے بچے تو جنت میں ہی جائیں گے البتہ کفار و مشرکین کے بچوں میں اختلاف ہے کوئی توقف کا کوئی جنت میں جانے کا اور کوئی جہنم میں جانے کا قائل ہے امام ابن کثیر نے کہا ہے کہ میدان محشر میں ان کا امتحان لیا جائے گا جو اللہ کے حکم کی اطاعت اختیار کرے گا وہ جنت میں اور جو نافرمانی کرے گا جہنم میں جائے گا امام ابن کثیر نے اسی قول کو ترجیح دی ہے اور کہا ہے کہ اس سے متضاد روایات میں تطبیق بھی ہوجاتی ہے۔ تفصیل کے لیے تفسیر ابن کثیر ملاحظہ کیجئے۔ مگر صحیح بخاری کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ مشرکین کے بچے بھی جنت میں جائیں گے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
15۔ جس شخص نے ہدایت قبول کی تو اس کا فائدہ اسی کو ہے اور جو گمراہ ہوا تو اس کا بار بھی اسی پر ہے اور کوئی گناہ کا بوجھ اٹھانے والا [14] دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ اور ہم اس وقت تک عذاب نہیں دیا کرتے جب تک اپنا رسول [15] نہ بھیج لیں۔
[14] باز پرس فرداً فرداً ہو گی اجتماعی برائیوں میں ہر فرد کو اس کا حصہ ملے گا:۔
یہ قانون جزاء و سزا کا ایک نہایت اہم جزو ہے یعنی ”جو کرے گا وہی بھرے گا“ ایک کے گناہ کا بار دوسرے کی طرف منتقل نہیں ہو سکتا۔ اور جتنا کسی کا گناہ ہو گا اتنی اسے سزا ضرور ملے گی اور اتنی ہی ملے گی نہ کم نہ زیادہ۔ اس آیت سے جو اہم بات معلوم ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ ہر ایک سے فرداً فرداً باز پرس ہو گی۔ کوئی شخص اپنے گناہ کا بار معاشرہ پر ڈال کر خود بری الذمہ نہ ہو سکے گا بلکہ یہ دیکھا جائے گا کہ اس اجتماعی جرم میں اس خاص فرد کا کتنا حصہ ہے۔ اسی کے مطابق اسے سزا ملے گی۔ لہٰذا ہر شخص کو اپنے کردار پر نظر رکھنا چاہیے۔ اسے یہ نہ دیکھنا چاہیئے کہ دوسرے کیا کر رہے ہیں اور نہ ہی ایسا سہارا لینا چاہیئے۔ ایسا سہارا کسی کام نہ آ سکے گا بلکہ اپنے اعمال و افعال پر نظر رکھنا چاہیے۔
[15] سزا سے پہلے اتمام حجت:۔
قانون جزاء و سزا کا دوسرا اہم جزو ہے جو یہ ہے کہ مجرم کو سزا دینے سے پیشتر اس پر اتمام حجت ضروری ہے دنیوی عذاب کے لیے یہ شرط بھی ضروری ہے اور اخروی عذاب کے لیے بھی اتمام حجت کی ایک صورت عہد الست یا فطری داعیہ ہے اور پیغمبروں اور کتابوں کا بھیجنا اسی داعیہ فطرت کو اجاگر کرنے والی چیزیں ہیں جو اسے اسی عہد کی یاددہانی کراتی ہیں۔ اور وہ عہد یہ ہے کہ ساری کائنات کا پروردگار صرف اللہ تعالیٰ اکیلا ہے جس کا کوئی شریک نہیں لہٰذا اسی کی عبادت کی جائے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اچھے یا برے اعمال انسان کے اپنے لئے ہیں ٭٭
جس نے راہ راست اختیار کی، حق کی اتباع کی، نبوت کی مانی اس کے اپنے حق میں اچھائی ہے اور جو حق سے ہٹا صحیح راہ سے پھرا اس کا وبال اسی پر ہے کوئی کسی کے گناہ میں پکڑا نہ جائے گا ہر ایک کا عمل اسی کے ساتھ ہے۔ «وَإِن تَدْعُ مُثْقَلَةٌ إِلَىٰ حِمْلِهَا لَا يُحْمَلْ مِنْهُ شَيْءٌ» [35-فاطر:18] ’ کوئی نہ ہو گا جو دوسرے کا بوجھ بٹائے ‘
اور جگہ قرآن میں ہے آیت «وَلَيَحْمِلُنَّ اَثْــقَالَهُمْ وَاَثْــقَالًا مَّعَ اَثْقَالِهِمْ» ۱؎ [29-العنكبوت:13] ’ البتہ یہ اپنے بوجھ ڈھولیں گے اور اپنے بوجھوں کے ساتھ ہی اور بوجھ بھی۔ ‘
اور آیت میں ہے «وَمِنْ اَوْزَارِ الَّذِيْنَ يُضِلُّوْنَهُمْ بِغَيْرِ عِلْمٍ» ۱؎ [16-النحل:25] ’ ان کے بوجھ کے بھی حصے دار ہوں گے جنہیں بے علمی سے گمراه کرتے رہے۔ ‘
یعنی اپنے بوجھ کے ساتھ یہ ان کے بوجھ بھی اٹھائیں گے جنہیں انہوں نے بہکا رکھا تھا۔ لہٰذا ان دونوں مضمونوں میں کوئی نفی کا پہلو نہ سمجھا جائے اس لیے کہ گمراہ کرنے والوں پر ان کے گمراہ کرنے کا بوجھ ہے نہ کہ ان کے بوجھ ہلکے کئے جائیں گے اور ان پر لادے جائیں گے ہمارا عادل اللہ ایسا نہیں کرتا۔
پھر اپنی ایک اور رحمت بیان فرماتا ہے کہ وہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پہنچنے سے پہلے کسی امت کو عذاب نہیں کرتا۔ چنانچہ سورۃ تبارک میں ہے کہ «تَكَادُ تَمَيَّزُ مِنَ الْغَيْظِ ۖ كُلَّمَا أُلْقِيَ فِيهَا فَوْجٌ سَأَلَهُمْ خَزَنَتُهَا أَلَمْ يَأْتِكُمْ نَذِيرٌ * قَالُوا بَلَىٰ قَدْ جَاءَنَا نَذِيرٌ فَكَذَّبْنَا وَقُلْنَا مَا نَزَّلَ اللَّـهُ مِن شَيْءٍ إِنْ أَنتُمْ إِلَّا فِي ضَلَالٍ كَبِيرٍ» ۱؎ [67-الملك:8-9]
’ دوزخیوں سے داروغے پوچھیں گے کہ کیا تمہارے پاس ڈرانے والے نہیں آئے تھے؟ وہ جواب دیں گے بیشک آئے تھے لیکن ہم نے انہیں سچا نہ جانا انہیں جھٹلا دیا اور صاف کہہ دیا کہ تم تو یونہی بہک رہے ہو، سرے سے یہ بات ہی ان ہونی ہے کہ اللہ کسی پر کچھ اتارے۔ ‘
«وَسِيقَ الَّذِينَ كَفَرُوا إِلَىٰ جَهَنَّمَ زُمَرًا ۖ حَتَّىٰ إِذَا جَاءُوهَا فُتِحَتْ أَبْوَابُهَا وَقَالَ لَهُمْ خَزَنَتُهَا أَلَمْ يَأْتِكُمْ رُسُلٌ مِّنكُمْ يَتْلُونَ عَلَيْكُمْ آيَاتِ رَبِّكُمْ وَيُنذِرُونَكُمْ لِقَاءَ يَوْمِكُمْ هَـٰذَا ۚ قَالُوا بَلَىٰ وَلَـٰكِنْ حَقَّتْ كَلِمَةُ الْعَذَابِ عَلَى الْكَافِرِينَ» ۱؎ [39-الزمر:71]
’ اسی طرح جب یہ لوگ جہنم کی طرف کشاں کشاں پہنچائے جا رہے ہوں گے، اس وقت بھی داروغے ان سے پوچھیں گے کہ کیا تم میں سے ہی رسول نہیں آئے تھے؟ جو تمہارے رب کی آیتیں تمہارے سامنے پڑھتے ہوں اور تمہیں اس دن کی ملاقات سے ڈراتے ہوں؟ یہ جواب دیں گے کہ ہاں یقیناً آئے لیکن کلمہ عذاب کافروں پر ٹھیک اترا۔ ‘
اور آیت میں ہے کہ «وَهُمْ يَصْطَرِخُونَ فِيهَا رَبَّنَا أَخْرِجْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا غَيْرَ الَّذِي كُنَّا نَعْمَلُ ۚ أَوَلَمْ نُعَمِّرْكُم مَّا يَتَذَكَّرُ فِيهِ مَن تَذَكَّرَ وَجَاءَكُمُ النَّذِيرُ ۖ فَذُوقُوا فَمَا لِلظَّالِمِينَ مِن نَّصِيرٍ» ۱؎ [35-فاطر:37]
’ کفار جہنم میں پڑے چیخ رہے ہوں گے کہ اے اللہ ہمیں اس سے نکال تو ہم اپنے قدیم کرتوت چھوڑ کر اب نیک اعمال کریں گے تو ان سے کہا جائے گا کہ کیا میں نے تمہیں اتنی لمبی عمر نہیں دی تھی تم اگر نصیحت حاصل کرنا چاہتے تو کر سکتے تھے اور میں نے تم میں اپنے رسول بھی بھیجے تھے جنہوں نے خوب اگاہ کر دیا تھا اب تو عذاب برداشت کرو ظالموں کا کوئی مددگار نہیں۔ ‘
الغرض اور بھی بہت سی آیتوں سے ثابت ہے کہ اللہ تعالیٰ بغیر رسول بھیجے کسی کو جہنم میں نہیں بھیجتا۔
اور جگہ قرآن میں ہے آیت «وَلَيَحْمِلُنَّ اَثْــقَالَهُمْ وَاَثْــقَالًا مَّعَ اَثْقَالِهِمْ» ۱؎ [29-العنكبوت:13] ’ البتہ یہ اپنے بوجھ ڈھولیں گے اور اپنے بوجھوں کے ساتھ ہی اور بوجھ بھی۔ ‘
اور آیت میں ہے «وَمِنْ اَوْزَارِ الَّذِيْنَ يُضِلُّوْنَهُمْ بِغَيْرِ عِلْمٍ» ۱؎ [16-النحل:25] ’ ان کے بوجھ کے بھی حصے دار ہوں گے جنہیں بے علمی سے گمراه کرتے رہے۔ ‘
یعنی اپنے بوجھ کے ساتھ یہ ان کے بوجھ بھی اٹھائیں گے جنہیں انہوں نے بہکا رکھا تھا۔ لہٰذا ان دونوں مضمونوں میں کوئی نفی کا پہلو نہ سمجھا جائے اس لیے کہ گمراہ کرنے والوں پر ان کے گمراہ کرنے کا بوجھ ہے نہ کہ ان کے بوجھ ہلکے کئے جائیں گے اور ان پر لادے جائیں گے ہمارا عادل اللہ ایسا نہیں کرتا۔
پھر اپنی ایک اور رحمت بیان فرماتا ہے کہ وہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پہنچنے سے پہلے کسی امت کو عذاب نہیں کرتا۔ چنانچہ سورۃ تبارک میں ہے کہ «تَكَادُ تَمَيَّزُ مِنَ الْغَيْظِ ۖ كُلَّمَا أُلْقِيَ فِيهَا فَوْجٌ سَأَلَهُمْ خَزَنَتُهَا أَلَمْ يَأْتِكُمْ نَذِيرٌ * قَالُوا بَلَىٰ قَدْ جَاءَنَا نَذِيرٌ فَكَذَّبْنَا وَقُلْنَا مَا نَزَّلَ اللَّـهُ مِن شَيْءٍ إِنْ أَنتُمْ إِلَّا فِي ضَلَالٍ كَبِيرٍ» ۱؎ [67-الملك:8-9]
’ دوزخیوں سے داروغے پوچھیں گے کہ کیا تمہارے پاس ڈرانے والے نہیں آئے تھے؟ وہ جواب دیں گے بیشک آئے تھے لیکن ہم نے انہیں سچا نہ جانا انہیں جھٹلا دیا اور صاف کہہ دیا کہ تم تو یونہی بہک رہے ہو، سرے سے یہ بات ہی ان ہونی ہے کہ اللہ کسی پر کچھ اتارے۔ ‘
«وَسِيقَ الَّذِينَ كَفَرُوا إِلَىٰ جَهَنَّمَ زُمَرًا ۖ حَتَّىٰ إِذَا جَاءُوهَا فُتِحَتْ أَبْوَابُهَا وَقَالَ لَهُمْ خَزَنَتُهَا أَلَمْ يَأْتِكُمْ رُسُلٌ مِّنكُمْ يَتْلُونَ عَلَيْكُمْ آيَاتِ رَبِّكُمْ وَيُنذِرُونَكُمْ لِقَاءَ يَوْمِكُمْ هَـٰذَا ۚ قَالُوا بَلَىٰ وَلَـٰكِنْ حَقَّتْ كَلِمَةُ الْعَذَابِ عَلَى الْكَافِرِينَ» ۱؎ [39-الزمر:71]
’ اسی طرح جب یہ لوگ جہنم کی طرف کشاں کشاں پہنچائے جا رہے ہوں گے، اس وقت بھی داروغے ان سے پوچھیں گے کہ کیا تم میں سے ہی رسول نہیں آئے تھے؟ جو تمہارے رب کی آیتیں تمہارے سامنے پڑھتے ہوں اور تمہیں اس دن کی ملاقات سے ڈراتے ہوں؟ یہ جواب دیں گے کہ ہاں یقیناً آئے لیکن کلمہ عذاب کافروں پر ٹھیک اترا۔ ‘
اور آیت میں ہے کہ «وَهُمْ يَصْطَرِخُونَ فِيهَا رَبَّنَا أَخْرِجْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا غَيْرَ الَّذِي كُنَّا نَعْمَلُ ۚ أَوَلَمْ نُعَمِّرْكُم مَّا يَتَذَكَّرُ فِيهِ مَن تَذَكَّرَ وَجَاءَكُمُ النَّذِيرُ ۖ فَذُوقُوا فَمَا لِلظَّالِمِينَ مِن نَّصِيرٍ» ۱؎ [35-فاطر:37]
’ کفار جہنم میں پڑے چیخ رہے ہوں گے کہ اے اللہ ہمیں اس سے نکال تو ہم اپنے قدیم کرتوت چھوڑ کر اب نیک اعمال کریں گے تو ان سے کہا جائے گا کہ کیا میں نے تمہیں اتنی لمبی عمر نہیں دی تھی تم اگر نصیحت حاصل کرنا چاہتے تو کر سکتے تھے اور میں نے تم میں اپنے رسول بھی بھیجے تھے جنہوں نے خوب اگاہ کر دیا تھا اب تو عذاب برداشت کرو ظالموں کا کوئی مددگار نہیں۔ ‘
الغرض اور بھی بہت سی آیتوں سے ثابت ہے کہ اللہ تعالیٰ بغیر رسول بھیجے کسی کو جہنم میں نہیں بھیجتا۔
صحیح بخاری میں آیت «إِنَّ رَحْمَتَ اللَّـهِ قَرِيبٌ مِّنَ الْمُحْسِنِينَ» ۱؎ [7-الأعراف:56] ’ بے شک اللہ تعالیٰ کی رحمت نیک کام کرنے والوں کے نزدیک ہے۔ ‘ کی تفسیر میں ایک لمبی حدیث مروی ہے جس میں جنت دوزخ کا کلام ہے۔
پھر ہے کہ { جنت کے بارے میں اللہ اپنی مخلوق میں سے کسی پر ظلم نہ کرے گا اور وہ جہنم کے لیے ایک نئی مخلوق پیدا کرے گا جو اس میں ڈال دی جائے گی جہنم کہتی رہے گی کہ کیا ابھی اور زیادہ ہے؟ } ۱؎ [صحیح بخاری:7449]
اس کے بابت علما کی ایک جماعت نے بہت کچھ کلام کیا ہے دراصل یہ جنت کے بارے میں ہے اس لیے کہ وہ دار فضل ہے اور جہنم دار عدل ہے اس میں بغیر عذر توڑے بغیر حجت ظاہر کئے کوئی داخل نہ کیا جائے گا۔ اس لیے حفاظ حدیث کی ایک جماعت کا خیال ہے کہ راوی کو اس میں الٹا یاد رہ گیا اور اس کی دلیل بخاری مسلم کی وہ روایت ہے جس میں اسی حدیث کے آخر میں ہے کہ { دوزخ پرُ نہ ہو گی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس میں اپنا قدم رکھ دے گا اس وقت وہ کہے گی بس بس اور اس وقت بھر جائے گی اور چاورں طرف سے سمٹ جائے گی۔ } اللہ تعالیٰ کسی پر ظلم نہ کرے گا۔ ہاں جنت کے لیے ایک نئی مخلوق پیدا کرے گا۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4850]
پھر ہے کہ { جنت کے بارے میں اللہ اپنی مخلوق میں سے کسی پر ظلم نہ کرے گا اور وہ جہنم کے لیے ایک نئی مخلوق پیدا کرے گا جو اس میں ڈال دی جائے گی جہنم کہتی رہے گی کہ کیا ابھی اور زیادہ ہے؟ } ۱؎ [صحیح بخاری:7449]
اس کے بابت علما کی ایک جماعت نے بہت کچھ کلام کیا ہے دراصل یہ جنت کے بارے میں ہے اس لیے کہ وہ دار فضل ہے اور جہنم دار عدل ہے اس میں بغیر عذر توڑے بغیر حجت ظاہر کئے کوئی داخل نہ کیا جائے گا۔ اس لیے حفاظ حدیث کی ایک جماعت کا خیال ہے کہ راوی کو اس میں الٹا یاد رہ گیا اور اس کی دلیل بخاری مسلم کی وہ روایت ہے جس میں اسی حدیث کے آخر میں ہے کہ { دوزخ پرُ نہ ہو گی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس میں اپنا قدم رکھ دے گا اس وقت وہ کہے گی بس بس اور اس وقت بھر جائے گی اور چاورں طرف سے سمٹ جائے گی۔ } اللہ تعالیٰ کسی پر ظلم نہ کرے گا۔ ہاں جنت کے لیے ایک نئی مخلوق پیدا کرے گا۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4850]
باقی رہا یہ مسئلہ کہ کافروں کے جو نابالغ چھوٹے بچے بچپن میں مر جاتے ہیں اور جو دیوانے لوگ ہیں اور نیم بہرے اور جو ایسے زمانے میں گزرے ہیں جس وقت زمین پر کوئی رسول یا دین کی صحیح تعلیم نہیں ہوتی اور انہیں دعوت اسلام نہیں پہنچتی اور جو بالکل بڈھے حواس باختہ ہوں ان کے لیے کیا حکم ہے؟ اس بارے میں شروع سے اختلاف چلا آ رہا ہے۔ ان کے بارے میں جو حدیثیں ہیں وہ میں آپ کے سامنے بیان کرتا ہوں پھر ائمہ کا کلام بھی مختصرا ذکر کروں گا، اللہ تعالیٰ مدد کرے۔
پہلی حدیث مسند احمد میں ہے { چار قسم کے لوگ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ سے گفتگو کریں گے ایک تو بالکل بہرا آدمی جو کچھ بھی نہیں سنتا اور دوسرا بالکل احمق پاگل آدمی جو کچھ بھی نہیں جانتا، تیسرا بالکل بڈھا پھوس آدمی جس کے حواس درست نہیں، چوتھے وہ لوگ جو ایسے زمانوں میں گزرے ہیں جن میں کوئی پیغمبر یا اس کی تعلیم موجود نہ تھی۔ بہرا تو کہے گا اسلام آیا لیکن میرے کان میں کوئی آواز نہیں پہنچی، دیوانہ کہے گا کہ اسلام آیا لیکن میری حالت تو یہ تھی کہ بچے مجھ پر مینگنیاں پھینک رہے تھے اور بالکل بڈھے بے حواس آدمی کہیں گے کہ اسلام آیا لیکن میرے ہوش حواس ہی درست نہ تھے جو میں سمجھ کر سکتا رسولوں کے زمانوں کا اور ان کی تعلیم کو موجود نہ پانے والوں کا قول ہو گا کہ نہ رسول آئے نہ میں نے حق پایا پھر میں کیسے عمل کرتا؟ اللہ تعالیٰ ان کی طرف پیغام بھیجے گا کہ اچھا جاؤ جہنم میں کود جاؤ اللہ کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اگر وہ فرماں برداری کر لیں اور جہنم میں کود پڑیں تو جہنم کی آگ ان پر ٹھنڈک اور سلامتی ہو جائے گی۔ } ۱؎ [مسند احمد:24/4،قال الشيخ الألباني:حسن]
اور روایت میں ہے کہ { جو کود پڑیں گے ان پر تو سلامتی اور ٹھنڈک ہو جائے گی اور جو رکیں گے انہیں حکم عدولی کے باعث گھسیٹ کی جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ } ۱؎ [طبرانی کبیر:841،قال الشيخ الألباني:صحیح]
ابن جریر میں اس حدیث کے بیان کے بعد ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا یہ فرمان بھی ہے کہ اگر تم چاہو تو اس کی تصدیق میں کلام اللہ کی آیت «وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِيْنَ حَتّٰى نَبْعَثَ رَسُوْلًا» [17-الإسراء:15] الخ پڑھ لو۔
اور روایت میں ہے کہ { جو کود پڑیں گے ان پر تو سلامتی اور ٹھنڈک ہو جائے گی اور جو رکیں گے انہیں حکم عدولی کے باعث گھسیٹ کی جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ } ۱؎ [طبرانی کبیر:841،قال الشيخ الألباني:صحیح]
ابن جریر میں اس حدیث کے بیان کے بعد ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا یہ فرمان بھی ہے کہ اگر تم چاہو تو اس کی تصدیق میں کلام اللہ کی آیت «وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِيْنَ حَتّٰى نَبْعَثَ رَسُوْلًا» [17-الإسراء:15] الخ پڑھ لو۔
دوسری حدیث ابوداؤد طیالسی میں ہے کہ ہم نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ ابو حمزہ مشرکوں کے بچوں کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں؟ آپ نے فرمایا { میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ وہ گنہگار نہیں جو دوزخ میں عذاب کئے جائیں اور نیکوکار بھی نہیں جو جنت میں بدلہ دئے جائیں۔ } ۱؎ [مسند ابویعلیٰ:4090]
تیسری حدیث ابو یعلیٰ میں ہے کہ { ان چاورں کے عذر سن کر جناب باری فرمائے گا کہ اوروں کے پاس تو میں اپنے رسول بھیجتا تھا لیکن تم سے میں آپ کہتا ہوں کہ جاؤ اس جہنم میں چلے جاؤ جہنم میں سے بھی فرمان باری سے ایک گردن اونچی ہو گی اس فرمان کو سنتے ہی وہ لوگ جو نیک طبع ہیں فوراً دوڑ کر اس میں کود پڑیں گے اور جو بد باطن ہیں وہ کہیں گے اللہ پاک ہم اسی سے بچنے کے لیے تو یہ عذر معذرت کر رہے تھے اللہ فرمائے گا جب تم خود میری نہیں مانتے تو میرے رسولوں کی کیا مانتے اب تمہارے لیے فیصلہ یہی ہے کہ تم جہنمی ہو اور ان فرمانبرداروں سے کہا جائے گا کہ تم بیشک جنتی ہو تم نے اطاعت کر لی۔ ۱؎ [مسند ابویعلیٰ:4224:ضعیف]
چوتھی حدیث مسند حافظ ابو یعلیٰ موصلی میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مسلمانوں کی اولاد کے بارے میں سوال ہوا تو آپ نے فرمایا وہ اپنے باپوں کے ساتھ ہے۔ پھر مشرکین کی اولاد کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا وہ اپنے باپوں کے ساتھ، تو کہا گیا یا رسول اللہ انہوں نے کوئی عمل تو نہیں کیا آپ نے فرمایا ہاں لیکن اللہ انہیں بخوبی جانتا ہے۔ ۱؎ [مسند ابویعلیٰ:10290:ضعیف]
پانچویں حدیث۔ حافظ ابوبکر احمد بن عمر بن عبدالخالق بزار رحمہ اللہ اپنی مسند میں روایت کرتے ہیں کہ { قیامت کے دن اہل جاہلیت اپنے بوجھ اپنی کمروں پر لادے ہوئے آئیں گے اور اللہ کے سامنے عذر کریں گے کہ نہ ہمارے پاس تیرے رسول پہنچے نہ ہمیں تیرا کوئی حکم پہنچا اگر ایسا ہوتا تو ہم جی کھول کر مان لیتے اللہ تعالیٰ فرمائے گا اچھا اب اگر حکم کروں تو مان لو گے؟ وہ کہیں گے ہاں ہاں بیشک بلا چون و چرا۔
اللہ تبارک و تعالیٰ فرمائے گا اچھا جاؤ جہنم کے پاس جا کر اس میں داخل ہو جاؤ یہ چلیں گے یہاں تک کہ اس کے پاس پہنچ جائیں گے اب جو اس کا جوش اور اس کی آواز اور اس کے عذاب دیکھیں گے تو واپس آ جائیں گے اور کہیں گے اے اللہ ہمیں اس سے تو بچا لے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا دیکھو تم اقرار کر چکے ہو کہ میری فرمانبرداری کرو گے پھر یہ نافرمانی کیوں؟ وہ کہیں گے اچھا اب اسے مان لیں گے اور کر گزریں گے۔
چنانچہ ان سے مضبوط عہد و پیمان لیے جائیں گے، پھر یہی حکم ہو گا یہ جائیں گے اور پھر خوفزدہ ہو کر واپس لوٹیں گے اور کہیں گے اے اللہ ہم تو ڈر گئے ہم سے تو اس فرمان پر کار بند نہیں ہوا جاتا۔ اب جناب باری فرمائے گا تم نافرمانی کر چکے اب جاؤ ذلت کے ساتھ جہنمی بن جاؤ۔ آپ فرماتے ہیں کہ اگر پہلی مرتبہ ہی یہ بحکم الٰہی اس میں کود جاتے تو آتش دوزخ ان پر سرد پڑ جاتی اور ان کا ایک رواں بھی نہ جلاتی۔ } ۱؎ [مسند بزار:3433:ضعیف]
امام بزار رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس حدیث کا متن معروف نہیں ایوب سے صرف عباد ہی روایت کرتے ہیں اور عباد سے صرف ریحان بن سعید روایت کرتے ہیں۔ میں کہتا ہوں اسے ابن حبان رحمہ اللہ نے ثقہ بتلایا ہے۔ یحییٰ بن معین اور نسائی رحمہ اللہ علیہم کہتے ہیں ان میں کوئی ڈر خوف کی بات نہیں۔ ابوداؤد رحمہ اللہ نے ان سے روایت نہیں کی۔ ابوحاتم رحمہ اللہ کہتے ہیں یہ شیخ ہیں ان میں کوئی حرج نہیں۔ ان کی حدیثیں لکھائی جاتی ہیں اور ان سے دلیل نہیں لی جاتی۔
اللہ تبارک و تعالیٰ فرمائے گا اچھا جاؤ جہنم کے پاس جا کر اس میں داخل ہو جاؤ یہ چلیں گے یہاں تک کہ اس کے پاس پہنچ جائیں گے اب جو اس کا جوش اور اس کی آواز اور اس کے عذاب دیکھیں گے تو واپس آ جائیں گے اور کہیں گے اے اللہ ہمیں اس سے تو بچا لے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا دیکھو تم اقرار کر چکے ہو کہ میری فرمانبرداری کرو گے پھر یہ نافرمانی کیوں؟ وہ کہیں گے اچھا اب اسے مان لیں گے اور کر گزریں گے۔
چنانچہ ان سے مضبوط عہد و پیمان لیے جائیں گے، پھر یہی حکم ہو گا یہ جائیں گے اور پھر خوفزدہ ہو کر واپس لوٹیں گے اور کہیں گے اے اللہ ہم تو ڈر گئے ہم سے تو اس فرمان پر کار بند نہیں ہوا جاتا۔ اب جناب باری فرمائے گا تم نافرمانی کر چکے اب جاؤ ذلت کے ساتھ جہنمی بن جاؤ۔ آپ فرماتے ہیں کہ اگر پہلی مرتبہ ہی یہ بحکم الٰہی اس میں کود جاتے تو آتش دوزخ ان پر سرد پڑ جاتی اور ان کا ایک رواں بھی نہ جلاتی۔ } ۱؎ [مسند بزار:3433:ضعیف]
امام بزار رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس حدیث کا متن معروف نہیں ایوب سے صرف عباد ہی روایت کرتے ہیں اور عباد سے صرف ریحان بن سعید روایت کرتے ہیں۔ میں کہتا ہوں اسے ابن حبان رحمہ اللہ نے ثقہ بتلایا ہے۔ یحییٰ بن معین اور نسائی رحمہ اللہ علیہم کہتے ہیں ان میں کوئی ڈر خوف کی بات نہیں۔ ابوداؤد رحمہ اللہ نے ان سے روایت نہیں کی۔ ابوحاتم رحمہ اللہ کہتے ہیں یہ شیخ ہیں ان میں کوئی حرج نہیں۔ ان کی حدیثیں لکھائی جاتی ہیں اور ان سے دلیل نہیں لی جاتی۔
چھٹی حدیث۔ امام محمد بن یحییٰ ذہلی رحمہ اللہ روایت لائے ہیں کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے خالی زمانے والے اور مجنون اور بچے اللہ کے سامنے آئیں گے ایک کہے گا میرے پاس تیری کتاب پہنچی ہی نہیں، مجنوں کہے گا میں بھلائی برائی کی تمیز ہی نہیں رکھتا۔ بچہ کہے گا میں نے سمجھ بوجھ کا بلوغت کا زمانہ پایا ہی نہیں۔ اسی وقت ان کے سامنے آگ شعلے مارنے لگے گی۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا اسے ہٹا دو تو جو لوگ آئندہ نیکی کرنے والے تھے وہ تو اطاعت گزار ہو جائیں گے اور جو اس عذر کے ہٹ جانے کے بعد بھی نافرمانی کرنے والے تھے وہ رک جائیں گے تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا جب تم میری ہی براہ راست نہیں مانتے تو میرے پیغمبروں کی کیا مانتے؟ ۱؎ [مسند بزار:2176:ضعیف]
ساتویں حدیث۔ انہی تین شخصوں کے بارے میں اوپر والی احادیث کی طرح ہے۔ { اس میں یہ بھی ہے کہ جب یہ جہنم کے پاس پہنچیں گے تو اس میں سے ایسے شعلے بلند ہوں گے کہ یہ سمجھ لیں گے کہ یہ تو ساری دنیا کو جلا کر بھسم کر دیں گے دوڑتے ہوئے واپس لوٹ آئیں گے پھر دوبارہ یہی ہو گا اللہ عز و جل فرمائے گا۔ تمہاری پیدائش سے پہلے ہی تمہارے اعمال کی خبر تھی میں نے علم ہوتے ہوئے تمہیں پیدا کیا تھا اسی علم کے مطابق تم ہو۔ اے جہنم انہیں دبوچ لے چنانچہ اسی وقت آگ انہیں لقمہ بنا لے گی۔ ۱؎ [طبرانی کبیر:83/20:ضعیف جداً]
آٹھویں حدیث ابوہریرہ رضی اللہ عنہا کی روایت ان کے اپنے قول سمیت پہلے بیان ہو چکی ہے۔ بخاری و مسلم میں آپ ہی سے مروی ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ہر بچہ دین اسلام پر پیدا ہوتا ہے۔ پھر اس کے ماں باپ اسے یہودی، نصرانی یا مجوسی بنا لیتے ہیں۔“ جیسے کہ بکری کے صحیح سالم بچے کے کان کاٹ دیا کرتے ہیں۔ لوگوں نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اگر وہ بچپن میں ہی مر جائے تو؟ آپ نے فرمایا اللہ کو ان کے اعمال کی صحیح اور پوری خبر تھی۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:6599]
مسند کی حدیث میں ہے کہ { مسلمان بچوں کی کفالت جنت میں ابراہیم علیہ السلام کے سپرد ہے۔ } ۱؎ [مسند احمد:326/2:قال الشيخ الألباني:حسن]
صحیح مسلم میں حدیث قدسی ہے کہ { میں نے اپنے بندوں کو موحد یکسو مخلص بنایا ہے۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:2865] ایک روایت میں اس کے ساتھ ہی مسلمان کا لفظ بھی ہے۔
مسند کی حدیث میں ہے کہ { مسلمان بچوں کی کفالت جنت میں ابراہیم علیہ السلام کے سپرد ہے۔ } ۱؎ [مسند احمد:326/2:قال الشيخ الألباني:حسن]
صحیح مسلم میں حدیث قدسی ہے کہ { میں نے اپنے بندوں کو موحد یکسو مخلص بنایا ہے۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:2865] ایک روایت میں اس کے ساتھ ہی مسلمان کا لفظ بھی ہے۔
نویں حدیث حافظ ابوبکر برقانی اپنی کتاب المستخرج علی البخاری میں روایت لائے ہیں کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر بچہ فطرت پر پیدا کیا جاتا ہے لوگوں نے باآواز بلند دریافت کیا کہ مشرکوں کے بچے بھی؟ آپ نے فرمایا ہاں مشرکوں کے بچے بھی۔ طبرانی کی حدیث میں ہے کہ مشرکوں کے بچے اہل جنت کے خادم بنائے جائیں گے۔ } ۱؎ [مسند بزار:2172:ضعیف]
دسویں حدیث مسند احمد میں ہے کہ { ایک صحابی نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جنت میں کون کون جائیں گے۔ آپ نے فرمایا نبی اور شہید بچے اور زندہ درگور کئے ہوئے بچے۔ } ۱؎ [مسند احمد:409/5:صحیح]
علماء میں سے بعض کا مسلک تو یہ ہے کہ ان کے بارے میں ہم توقف کرتے ہیں، خاموش ہیں ان کی بھی گزر چکی۔ بعض کہتے ہیں یہ جنتی ہیں ان کی دلیل معراج والی وہ حدیث ہے جو صحیح بخاری شریف میں سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ نے اپنے اس خواب میں ایک شیخ کو ایک جنتی درخت تلے دیکھا، جن کے پاس بہت سے بچے تھے۔
سوال پر جبرائیل علیہ السلام نے بتایا کہ یہ ابراہیم علیہ السلام ہیں اور ان کے پاس یہ بچے مسلمانوں کی اور مشرکوں کی اولاد ہیں، لوگوں نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مشرکین کی اولاد بھی؟ آپ نے فرمایا ہاں مشرکین کی اولاد بھی۔
بعض علماء فرماتے ہیں یہ دوزخی ہیں کیونکہ ایک حدیث میں ہے کہ وہ اپنے باپوں کے ساتھ ہیں۔ بعض علماء کہتے ہیں ان کا امتحان قیامت کے میدانوں میں ہو جائے گا۔ اطاعت گزار جنت میں جائیں گے،
اللہ اپنے سابق علم کا اظہار کر کے پھر انہیں جنت میں پہنچائے گا اور بعض بوجہ اپنی نافرمانی کے جو اس امتحان کے وقت ان سے سرزد ہو گی اور اللہ تعالیٰ اپنا پہلا علم آشکارا کر دے گا۔ اس وقت انہیں جہنم کا حکم ہو گا۔ اس مذہب سے تمام حدیثیں اور مختلف دلیلیں جمع ہو جاتی ہیں اور پہلے کی حدیثیں جو ایک دوسری کو تقویت پہنچاتی ہیں اس معنی کی کئی ایک ہیں۔
علماء میں سے بعض کا مسلک تو یہ ہے کہ ان کے بارے میں ہم توقف کرتے ہیں، خاموش ہیں ان کی بھی گزر چکی۔ بعض کہتے ہیں یہ جنتی ہیں ان کی دلیل معراج والی وہ حدیث ہے جو صحیح بخاری شریف میں سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ نے اپنے اس خواب میں ایک شیخ کو ایک جنتی درخت تلے دیکھا، جن کے پاس بہت سے بچے تھے۔
سوال پر جبرائیل علیہ السلام نے بتایا کہ یہ ابراہیم علیہ السلام ہیں اور ان کے پاس یہ بچے مسلمانوں کی اور مشرکوں کی اولاد ہیں، لوگوں نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مشرکین کی اولاد بھی؟ آپ نے فرمایا ہاں مشرکین کی اولاد بھی۔
بعض علماء فرماتے ہیں یہ دوزخی ہیں کیونکہ ایک حدیث میں ہے کہ وہ اپنے باپوں کے ساتھ ہیں۔ بعض علماء کہتے ہیں ان کا امتحان قیامت کے میدانوں میں ہو جائے گا۔ اطاعت گزار جنت میں جائیں گے،
اللہ اپنے سابق علم کا اظہار کر کے پھر انہیں جنت میں پہنچائے گا اور بعض بوجہ اپنی نافرمانی کے جو اس امتحان کے وقت ان سے سرزد ہو گی اور اللہ تعالیٰ اپنا پہلا علم آشکارا کر دے گا۔ اس وقت انہیں جہنم کا حکم ہو گا۔ اس مذہب سے تمام حدیثیں اور مختلف دلیلیں جمع ہو جاتی ہیں اور پہلے کی حدیثیں جو ایک دوسری کو تقویت پہنچاتی ہیں اس معنی کی کئی ایک ہیں۔
شیخ ابوالحسن علی بن اسماعیل اشعری رحمہ اللہ نے یہی مذہب اہل سنت و الجماعت کا نقل فرمایا ہے۔ اور اسی کی تائید امام بہیقی رحمہ اللہ نے کتاب الاعتقاد میں کی ہے۔ اور بھی بہت سے محققین علماء اور پرکھ والے حافظوں نے یہی فرمایا ہے۔ شیخ ابو عمر بن عبد البر رحمہ اللہ عزی نے امتحان کی بعض روایتیں بیان کر کے لکھا ہے اس بارے کی حدیثیں قوی نہیں ہیں اور ان سے جحت ثابت نہیں ہوتی اور اہل علم ان کا انکار کرتے ہیں اس لیے کہ آخرت دار جزا ہے، دار عمل نہیں ہے اور نہ دار امتحان ہے۔ اور جہنم میں جانے کا حکم بھی تو انسانی طاقت سے باہر کا حکم ہے اور اللہ کی یہ عادت نہیں۔
امام صاحب رحمہ اللہ کے اس قول کا جواب بھی سن لیجئے، اس بارے جو حدیثیں ہیں، ان میں سے بعض تو بالکل صحیح ہیں۔ جیسے کہ ائمہ علماء نے تصریح کی ہے۔ بعض حسن ہیں اور بعض ضعیف بھی ہیں لیکن وہ بوجہ صحیح اور حسن احادیث کے قوی ہو جاتی ہیں۔ اور جب یہ ہے تو ظاہر ہے کہ یہ حدیثیں حجت و دلیل کے قابل ہو گئیں۔ اب رہا امام صاحب کا یہ فرمان کہ آخرت دار عمل اور دار امتحان نہیں وہ دار جزا ہے۔ یہ بیشک صحیح ہے لیکن اس سے اس کی نفی کیسے ہو گئی کہ قیامت کے مختلف میدانوں کی پیشیوں میں جنت دوزخ میں داخلے سے پہلے کوئی حکم احکام نہ دئے جائیں گے۔
شیخ ابوالحسن اشعری رحمہ اللہ نے تو مذہب اہلسنت والجماعت کے عقائد میں بچوں کے امتحان کو داخل کیا ہے۔ مزید براں آیت قرآن آیت «يَوْمَ يُكْشَفُ عَنْ سَاقٍ وَّيُدْعَوْنَ اِلَى السُّجُوْدِ» ۱؎ [68-القلم:42]
اس کی کھلی دلیل ہے کہ منافق و مومن کی تمیز کے لیے پنڈلی کھول دی جائے گی اور سجدے کا حکم ہو گا۔ صحاح کی احادیث میں ہے کہ { مومن تو سجدہ کر لیں گے اور منافق الٹے منہ پیٹھ کے بل گر پڑیں گے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:4919]
بخاری و مسلم میں اس شخص کا قصہ بھی ہے { جو سب سے آخر میں جہنم سے نکلے گا کہ وہ اللہ سے وعدے وعید کرے گا سوا اس سوال کے اور کوئی سوال نہ کرے گا اس کے پورا ہونے کے بعد وہ اپنے قول قرار سے پھر جائے گا اور ایک اور سوال کر بیٹھے گا وغیرہ۔ آخر میں اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ ابن آدم تو بڑا ہی عہد شکن ہے اچھا جا، جنت میں چلا جا۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:806]
امام صاحب رحمہ اللہ کے اس قول کا جواب بھی سن لیجئے، اس بارے جو حدیثیں ہیں، ان میں سے بعض تو بالکل صحیح ہیں۔ جیسے کہ ائمہ علماء نے تصریح کی ہے۔ بعض حسن ہیں اور بعض ضعیف بھی ہیں لیکن وہ بوجہ صحیح اور حسن احادیث کے قوی ہو جاتی ہیں۔ اور جب یہ ہے تو ظاہر ہے کہ یہ حدیثیں حجت و دلیل کے قابل ہو گئیں۔ اب رہا امام صاحب کا یہ فرمان کہ آخرت دار عمل اور دار امتحان نہیں وہ دار جزا ہے۔ یہ بیشک صحیح ہے لیکن اس سے اس کی نفی کیسے ہو گئی کہ قیامت کے مختلف میدانوں کی پیشیوں میں جنت دوزخ میں داخلے سے پہلے کوئی حکم احکام نہ دئے جائیں گے۔
شیخ ابوالحسن اشعری رحمہ اللہ نے تو مذہب اہلسنت والجماعت کے عقائد میں بچوں کے امتحان کو داخل کیا ہے۔ مزید براں آیت قرآن آیت «يَوْمَ يُكْشَفُ عَنْ سَاقٍ وَّيُدْعَوْنَ اِلَى السُّجُوْدِ» ۱؎ [68-القلم:42]
اس کی کھلی دلیل ہے کہ منافق و مومن کی تمیز کے لیے پنڈلی کھول دی جائے گی اور سجدے کا حکم ہو گا۔ صحاح کی احادیث میں ہے کہ { مومن تو سجدہ کر لیں گے اور منافق الٹے منہ پیٹھ کے بل گر پڑیں گے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:4919]
بخاری و مسلم میں اس شخص کا قصہ بھی ہے { جو سب سے آخر میں جہنم سے نکلے گا کہ وہ اللہ سے وعدے وعید کرے گا سوا اس سوال کے اور کوئی سوال نہ کرے گا اس کے پورا ہونے کے بعد وہ اپنے قول قرار سے پھر جائے گا اور ایک اور سوال کر بیٹھے گا وغیرہ۔ آخر میں اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ ابن آدم تو بڑا ہی عہد شکن ہے اچھا جا، جنت میں چلا جا۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:806]
پھر امام صاحب کا یہ فرمانا کہ انہیں ان کی طاقت سے خارج بات کا یعنی جہنم میں کود پڑنے کا حکم کیسے ہو گا؟ اللہ تعالیٰ کسی کو اس کی وسعت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا۔ یہ بھی صحت حدیث میں کوئی روک پیدا نہیں کر سکتا۔ خود امام صاحب اور تمام مسلمان مانتے ہیں کہ پل صراط پر سے گزرنے کا حکم سب کو ہو گا جو جہنم کی پیٹھ پر ہو گا اور تلوار سے زیادہ تیز اور بال سے زیادہ باریک ہو گا۔
مومن اس پر سے اپنی نیکیوں کے اندازے سے گزر جائیں گے۔ بعض مثل بجلی کے، بعض مثل ہوا کے، بعض مثل گھوڑوں کے، بعض مثل اونٹوں کے، بعض مثل بھاگنے والوں کے، بعض مثل پیدل جانے والوں کے، بعض گھٹنوں کے بل سرک سرک کر، بعض کٹ کٹ کر جہنم میں پڑیں گے۔ پس جب یہ چیز وہاں ہے تو انہیں جہنم میں کود پڑنے کا حکم تو اس سے کوئی بڑا نہیں بلکہ یہ اس سے بڑا اور بہت بھاری ہے۔
اور سنئے حدیث میں ہے کہ { دجال کے ساتھ آگ اور باغ ہو گا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مومنوں کو حکم دیا ہے کہ وہ جسے آگ دیکھ رہے ہیں اس میں سے پی لیں وہ ان کے لیے ٹھنڈک اور سلامتی کی چیز ہے۔ } پس یہ اس واقعہ کی صاف نظیر ہے۔ اور لیجئے بنو اسرائیل نے جب گو سالہ پرستی کی اس کی سزا میں اللہ نے حکم دیا کہ وہ آپس میں ایک دوسرے کو قتل کریں ایک ابر نے آکر انہیں ڈھانپ لیا اب جو تلوار چلی تو صبح ہی صبح ابر پھٹنے سے پہلے ان میں سے ستر ہزار آدمی قتل ہو چکے تھے۔ بیٹے نے باپ کو اور باپ نے بیٹے کو قتل کیا، کیا یہ حکم اس حکم سے کم تھا؟ کیا اس کا عمل نفس پر گراں نہیں؟ پھر تو اس کی نسبت بھی کہہ دینا چاہیئے تھے کہ اللہ کسی نفس کو اس کی برداشت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا۔
مومن اس پر سے اپنی نیکیوں کے اندازے سے گزر جائیں گے۔ بعض مثل بجلی کے، بعض مثل ہوا کے، بعض مثل گھوڑوں کے، بعض مثل اونٹوں کے، بعض مثل بھاگنے والوں کے، بعض مثل پیدل جانے والوں کے، بعض گھٹنوں کے بل سرک سرک کر، بعض کٹ کٹ کر جہنم میں پڑیں گے۔ پس جب یہ چیز وہاں ہے تو انہیں جہنم میں کود پڑنے کا حکم تو اس سے کوئی بڑا نہیں بلکہ یہ اس سے بڑا اور بہت بھاری ہے۔
اور سنئے حدیث میں ہے کہ { دجال کے ساتھ آگ اور باغ ہو گا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مومنوں کو حکم دیا ہے کہ وہ جسے آگ دیکھ رہے ہیں اس میں سے پی لیں وہ ان کے لیے ٹھنڈک اور سلامتی کی چیز ہے۔ } پس یہ اس واقعہ کی صاف نظیر ہے۔ اور لیجئے بنو اسرائیل نے جب گو سالہ پرستی کی اس کی سزا میں اللہ نے حکم دیا کہ وہ آپس میں ایک دوسرے کو قتل کریں ایک ابر نے آکر انہیں ڈھانپ لیا اب جو تلوار چلی تو صبح ہی صبح ابر پھٹنے سے پہلے ان میں سے ستر ہزار آدمی قتل ہو چکے تھے۔ بیٹے نے باپ کو اور باپ نے بیٹے کو قتل کیا، کیا یہ حکم اس حکم سے کم تھا؟ کیا اس کا عمل نفس پر گراں نہیں؟ پھر تو اس کی نسبت بھی کہہ دینا چاہیئے تھے کہ اللہ کسی نفس کو اس کی برداشت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا۔
ان تمام بحثوں کے صاف ہونے کے بعد اب سنئے۔ مشرکین کے بچپن میں مرے ہوئے بچوں کی بابت بھی بہت سے اقوال ہیں۔ ایک یہ کہ یہ سب جنتی ہیں، ان کی دلیل وہی معراج میں ابراہیم علیہ السلام کے پاس مشرکوں اور مسلمانوں کے بچوں کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا دیکھنا ہے اور دلیل ان کی مسند کی وہ روایت ہے جو پہلے گزر چکی کہ آپ نے فرمایا بچے جنت میں ہیں۔ ہاں امتحان ہونے کی جو حدیثیں گزریں وہ ان میں سے مخصوص ہیں۔
پس جن کی نسبت رب العالمین کو معلوم ہے کہ وہ مطیع اور فرمانبردار ہیں ان کی روحیں عالم برزخ میں ابراہیم علیہ السلام کے پاس ہیں اور مسلمانوں کے بچوں کی روحیں بھی۔ اور جن کی نسبت اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ وہ قبول کرنے والی نہیں، ان کا امر اللہ کے سپرد ہے، وہ قیامت کے دن جہنمی ہوں گے۔ جیسے کہ احادیث امتحان سے ظاہر ہے۔ امام اشعری رحمہ اللہ نے اسے اہل سنت سے نقل کیا ہے اب کوئی تو کہتا ہے کہ یہ مستقل طور پر جنتی ہیں کوئی کہتا ہے یہ اہل جنت کے خادم ہیں۔ گو ایسی حدیث داؤد طیالسی میں ہے لیکن اس کی سند ضعیف ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
پس جن کی نسبت رب العالمین کو معلوم ہے کہ وہ مطیع اور فرمانبردار ہیں ان کی روحیں عالم برزخ میں ابراہیم علیہ السلام کے پاس ہیں اور مسلمانوں کے بچوں کی روحیں بھی۔ اور جن کی نسبت اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ وہ قبول کرنے والی نہیں، ان کا امر اللہ کے سپرد ہے، وہ قیامت کے دن جہنمی ہوں گے۔ جیسے کہ احادیث امتحان سے ظاہر ہے۔ امام اشعری رحمہ اللہ نے اسے اہل سنت سے نقل کیا ہے اب کوئی تو کہتا ہے کہ یہ مستقل طور پر جنتی ہیں کوئی کہتا ہے یہ اہل جنت کے خادم ہیں۔ گو ایسی حدیث داؤد طیالسی میں ہے لیکن اس کی سند ضعیف ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
دوسرا قول یہ ہے کہ مشرکوں کے بچے بھی اپنے باپ دادوں کے ساتھ جہنم میں جائیں گے جیسے کہ مسند وغیرہ کی حدیث میں ہے کہ { وہ اپنے باپ دادوں کے تابعدار ہیں۔ یہ سن کر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا بھی کہ باوجود بےعمل ہونے کے؟ آپ نے فرمایا وہ کیا عمل کرنے والے تھے، اسے اللہ تعالیٰ بخوبی جانتا ہے۔ } ۱؎ [مسند احمد:84/6:صحیح]
ابوداؤد میں ہے { سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں۔“ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مسلمانوں کی اولاد کی بابت سوال کیا تو آپ نے فرمایا وہ اپنے باپ دادوں کے ساتھ ہیں۔ میں نے کہا مشرکوں کی اولاد؟ آپ نے فرمایا وہ اپنے باپ دادوں کے ساتھ ہیں۔ میں نے کہا بغیر اس کے کہ انہوں نے کوئی عمل کیا ہو؟ آپ نے فرمایا وہ کیا کرتے یہ اللہ کے علم میں ہے۔ } [سنن ابوداود:4712،قال الشيخ الألباني:صحیح]
مسند کی حدیث میں ہے کہ { آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تو چاہے تو میں ان کا رونا پیٹنا اور چیخنا چلانا بھی تجھے سنا دوں۔ } ۱؎ [مسند احمد:208/6:ضعیف]
امام احمد رحمہ اللہ کے صاحبزادے روایت لائے ہیں کہ { سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے ان دو بچوں کی نسبت سوال کیا جو جاہلیت کے زمانے میں فوت ہوئے تھے آپ نے فرمایا وہ دونوں دوزخ میں ہیں جب آپ نے دیکھا کہ بات انہیں بھاری پڑی ہے تو آپ نے فرمایا اگر تم ان کی جگہ دیکھ لیتیں تو تم خود ان سے بیزار ہو جاتیں۔ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا اچھا جو بچہ آپ سے ہوا تھا؟ آپ نے فرمایا سنو مومن اور ان کی اولاد جنتی ہے اور مشرک اور ان کی اولاد جہنمی ہے۔ پھر آپ نے یہ آیت پڑھی «وَالَّذِينَ آمَنُوا وَاتَّبَعَتْهُمْ ذُرِّيَّتُهُم بِإِيمَانٍ أَلْحَقْنَا بِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ» ۱؎ [52-الطور:21]
’ جو لوگ ایمان لائے اور ان کی اولاد نے ان کی اتباع ایمان کے ساتھ کی۔ ہم ان کی اولاد انہی کے ساتھ ملا دیں گے۔ ‘ } ۱؎ [مسند عبد بن حمید:135/1:ضعیف]
یہ حدیث غریب ہے اس کی اسناد میں محمد بن عثمان راوی مجہول الحال ہیں اور ان کے شیخ زاذان نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو نہیں پایا «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
ابوداؤد میں ہے { سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں۔“ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مسلمانوں کی اولاد کی بابت سوال کیا تو آپ نے فرمایا وہ اپنے باپ دادوں کے ساتھ ہیں۔ میں نے کہا مشرکوں کی اولاد؟ آپ نے فرمایا وہ اپنے باپ دادوں کے ساتھ ہیں۔ میں نے کہا بغیر اس کے کہ انہوں نے کوئی عمل کیا ہو؟ آپ نے فرمایا وہ کیا کرتے یہ اللہ کے علم میں ہے۔ } [سنن ابوداود:4712،قال الشيخ الألباني:صحیح]
مسند کی حدیث میں ہے کہ { آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تو چاہے تو میں ان کا رونا پیٹنا اور چیخنا چلانا بھی تجھے سنا دوں۔ } ۱؎ [مسند احمد:208/6:ضعیف]
امام احمد رحمہ اللہ کے صاحبزادے روایت لائے ہیں کہ { سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے ان دو بچوں کی نسبت سوال کیا جو جاہلیت کے زمانے میں فوت ہوئے تھے آپ نے فرمایا وہ دونوں دوزخ میں ہیں جب آپ نے دیکھا کہ بات انہیں بھاری پڑی ہے تو آپ نے فرمایا اگر تم ان کی جگہ دیکھ لیتیں تو تم خود ان سے بیزار ہو جاتیں۔ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا اچھا جو بچہ آپ سے ہوا تھا؟ آپ نے فرمایا سنو مومن اور ان کی اولاد جنتی ہے اور مشرک اور ان کی اولاد جہنمی ہے۔ پھر آپ نے یہ آیت پڑھی «وَالَّذِينَ آمَنُوا وَاتَّبَعَتْهُمْ ذُرِّيَّتُهُم بِإِيمَانٍ أَلْحَقْنَا بِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ» ۱؎ [52-الطور:21]
’ جو لوگ ایمان لائے اور ان کی اولاد نے ان کی اتباع ایمان کے ساتھ کی۔ ہم ان کی اولاد انہی کے ساتھ ملا دیں گے۔ ‘ } ۱؎ [مسند عبد بن حمید:135/1:ضعیف]
یہ حدیث غریب ہے اس کی اسناد میں محمد بن عثمان راوی مجہول الحال ہیں اور ان کے شیخ زاذان نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو نہیں پایا «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
ابو داؤد میں حدیث ہے کہ { زندہ درگور کرنے والی اور زندہ درگور کردہ شدہ دوزخی ہیں۔ } ابوداؤد میں یہ سند حسن مروی ہے { سیدنا سلمہ بن قیس اشجعی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں اپنے بھائی کو لیے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہماری ماں جاہلیت کے زمانے میں مر گئی ہیں، وہ صلہ رحمی کرنے والی اور مہمان نواز تھیں، ہماری ایک نابالغ بہن انہوں نے زندہ دفن کر دی تھی۔ آپ نے فرمایا ایسا کرنے والی اور جس کے ساتھ ایسا کیا گیا ہے دونوں دوزخی ہیں یہ اور بات ہے کہ وہ اسلام کو پالے اور اسے قبول کر لے۔}
تیسرا قول یہ ہے کہ ان کے بارے میں توقف کرنا چاہیئے کوئی فیصلہ کن بات یکطرفہ نہ کہنی چاہیئے۔ ان کا اعتماد آپ کے اس فرمان پر ہے کہ ان کے اعمال کا صحیح اور پورا علم اللہ تعالیٰ کو ہے۔ بخاری میں ہے کہ مشرکوں کی اولاد کے بارے میں جب آپ سے سوال ہوا تو آپ نے انہی لفظوں میں جواب دیا تھا۔ ۱؎ [صحیح بخاری:1383]
بعض بزرگ کہتے ہیں کہ یہ اعراف میں رکھے جائیں گے۔ اس قول کا نتیجہ یہی ہے کہ یہ جنتی ہیں اس لیے کہ اعراف کوئی رہنے سہنے کی جگہ نہیں یہاں والے بالآخر جنت میں ہی جائیں گے۔ جیسے کہ سورۃ الاعراف کی تفسیر میں ہم اس کی تفسیر کر آئے ہیں، «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
یہ تو تھا اختلاف مشرکوں کی اولاد کے بارے میں لیکن مومنوں کی نابالغ اولاد کے بارے میں تو علما کا بلا اختلاف یہی قول ہے کہ وہ جنتی ہیں۔ جیسے کہ امام احمد رحمہ اللہ کا قول ہے اور یہی لوگوں میں مشہور بھی ہے اور انشاءاللہ عز و جل ہمیں بھی یہی امید ہے۔ لیکن بعض علماء سے منقول ہے کہ وہ ان کے بارے میں توقف کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ سب بچے اللہ کی مرضی اور اس کی چاہت کے ماتحت ہیں۔
اہل فقہ اور اہل حدیث کی ایک جماعت اس طرف بھی گئی ہے۔ موطا امام مالک کی ابواب القدر کی احادیث میں بھی کچھ اسی جیسا ہے گو امام مالک رحمہ اللہ کا کوئی فیصلہ اس میں نہیں۔ لیکن بعض متاخرین کا قول ہے کہ مسلمان بچے تو جنتی ہیں اور مشرکوں کے بچے مشیت الٰہی کے ماتحت ہیں۔ ابن عبد البر نے اس بات کو اسی وضاحت سے بیان کیا ہے لیکن یہ قول غریب ہے۔ کتاب التذکرہ میں امام قرطبی رحمہ اللہ نے بھی یہی فرمایا ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
اس بارے میں ان بزرگوں نے ایک حدیث یہ بھی وارد کی ہے کہ { انصاریوں کے ایک بچے کے جنازے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بلایا گیا تو ماں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا اس بچے کو مرحبا ہو یہ تو جنت کی چڑیا ہے نہ برائی کا کوئی کام کیا نہ اس زمانے کو پہنچا تو آپ نے فرمایا اس کے سوا کچھ اور بھی اے عائشہ (رضی اللہ عنہا)؟ سنو اللہ تبارک و تعالیٰ نے جنت والے پیدا کئے ہیں حالانکہ وہ اپنے باپ کی پیٹھ میں تھے۔ اسی طرح اس نے جہنم کو پیدا کیا ہے اور اس میں جلنے والے پیدا کئے ہیں حالانکہ وہ ابھی اپنے باپ کی پیٹھ میں ہیں۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:2662] مسلم اور سنن کی یہ حدیث ہے۔
بعض بزرگ کہتے ہیں کہ یہ اعراف میں رکھے جائیں گے۔ اس قول کا نتیجہ یہی ہے کہ یہ جنتی ہیں اس لیے کہ اعراف کوئی رہنے سہنے کی جگہ نہیں یہاں والے بالآخر جنت میں ہی جائیں گے۔ جیسے کہ سورۃ الاعراف کی تفسیر میں ہم اس کی تفسیر کر آئے ہیں، «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
یہ تو تھا اختلاف مشرکوں کی اولاد کے بارے میں لیکن مومنوں کی نابالغ اولاد کے بارے میں تو علما کا بلا اختلاف یہی قول ہے کہ وہ جنتی ہیں۔ جیسے کہ امام احمد رحمہ اللہ کا قول ہے اور یہی لوگوں میں مشہور بھی ہے اور انشاءاللہ عز و جل ہمیں بھی یہی امید ہے۔ لیکن بعض علماء سے منقول ہے کہ وہ ان کے بارے میں توقف کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ سب بچے اللہ کی مرضی اور اس کی چاہت کے ماتحت ہیں۔
اہل فقہ اور اہل حدیث کی ایک جماعت اس طرف بھی گئی ہے۔ موطا امام مالک کی ابواب القدر کی احادیث میں بھی کچھ اسی جیسا ہے گو امام مالک رحمہ اللہ کا کوئی فیصلہ اس میں نہیں۔ لیکن بعض متاخرین کا قول ہے کہ مسلمان بچے تو جنتی ہیں اور مشرکوں کے بچے مشیت الٰہی کے ماتحت ہیں۔ ابن عبد البر نے اس بات کو اسی وضاحت سے بیان کیا ہے لیکن یہ قول غریب ہے۔ کتاب التذکرہ میں امام قرطبی رحمہ اللہ نے بھی یہی فرمایا ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
اس بارے میں ان بزرگوں نے ایک حدیث یہ بھی وارد کی ہے کہ { انصاریوں کے ایک بچے کے جنازے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بلایا گیا تو ماں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا اس بچے کو مرحبا ہو یہ تو جنت کی چڑیا ہے نہ برائی کا کوئی کام کیا نہ اس زمانے کو پہنچا تو آپ نے فرمایا اس کے سوا کچھ اور بھی اے عائشہ (رضی اللہ عنہا)؟ سنو اللہ تبارک و تعالیٰ نے جنت والے پیدا کئے ہیں حالانکہ وہ اپنے باپ کی پیٹھ میں تھے۔ اسی طرح اس نے جہنم کو پیدا کیا ہے اور اس میں جلنے والے پیدا کئے ہیں حالانکہ وہ ابھی اپنے باپ کی پیٹھ میں ہیں۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:2662] مسلم اور سنن کی یہ حدیث ہے۔
چونکہ یہ مسئلہ صحیح دلیل بغیر ثابت نہیں ہو سکتا اور لوگ اپنی بے علمی کے باعث بغیر ثبوت شارع کے اس میں کلام کرنے لگے ہیں۔ اس لیے علماء کی ایک جماعت نے اس میں کلام کرنا ہی ناپسند رکھا ہے۔ سیدنا ابن عباس، سیدنا قاسم بن محمد بن ابی بکر صدیق اور محمد بن حنفیہ رضی اللہ عنہم وغیرہ کا مذہب یہی ہے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے تو منبر پر خطبے میں فرمایا تھا کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ اس امت کا کام ٹھیک ٹھاک رہے گا جب تک کہ یہ بچوں کے بارے میں اور تقدیر کے بارے میں کچھ کلام نہ کریں گے۔ } ۱؎ [صحیح ابن حبان:6724]
امام ابن حبان کہتے ہیں مراد اس سے مشرکوں کے بچوں کے بارے میں کلام نہ کرنا ہے۔ اور کتابوں میں یہ روایت سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے اپنے قول سے موقوفاً مروی ہے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے تو منبر پر خطبے میں فرمایا تھا کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ اس امت کا کام ٹھیک ٹھاک رہے گا جب تک کہ یہ بچوں کے بارے میں اور تقدیر کے بارے میں کچھ کلام نہ کریں گے۔ } ۱؎ [صحیح ابن حبان:6724]
امام ابن حبان کہتے ہیں مراد اس سے مشرکوں کے بچوں کے بارے میں کلام نہ کرنا ہے۔ اور کتابوں میں یہ روایت سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے اپنے قول سے موقوفاً مروی ہے۔