ترجمہ و تفسیر — سورۃ الإسراء/بني اسرائيل (17) — آیت 111

وَ قُلِ الۡحَمۡدُ لِلّٰہِ الَّذِیۡ لَمۡ یَتَّخِذۡ وَلَدًا وَّ لَمۡ یَکُنۡ لَّہٗ شَرِیۡکٌ فِی الۡمُلۡکِ وَ لَمۡ یَکُنۡ لَّہٗ وَلِیٌّ مِّنَ الذُّلِّ وَ کَبِّرۡہُ تَکۡبِیۡرًا ﴿۱۱۱﴾٪
اور کہہ دے سب تعریف اللہ کے لیے ہے جس نے نہ کوئی اولاد بنائی ہے اور نہ بادشاہی میں اس کاکوئی شریک ہے اور نہ عاجز ہوجانے کی وجہ سے کوئی اس کا مدد گار ہے اور اس کی بڑائی بیان کر، خوب بڑائی بیان کرنا۔ En
اور کہو کہ سب تعریف خدا ہی کو ہے جس نے نہ تو کسی کو بیٹا بنایا ہے اور نہ اس کی بادشاہی میں کوئی شریک ہے اور نہ اس وجہ سے کہ وہ عاجز وناتواں ہے کوئی اس کا مددگار ہے اور اس کو بڑا جان کر اس کی بڑائی کرتے رہو
En
اور یہ کہہ دیجیئے کہ تمام تعریفیں اللہ ہی کے لئے ہیں جو نہ اوﻻد رکھتا ہے نہ اپنی بادشاہت میں کسی کو شریک وساجھی رکھتا ہے اور نہ وه کمزور ہے کہ اسے کسی حمایتی کی ضرورت ہو اور تو اس کی پوری پوری بڑائی بیان کرتا ره En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 111){ وَ قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ لَمْ يَتَّخِذْ وَلَدًا …:} یعنی ہر خوبی جس کی تعریف ہو سکتی ہے، خواہ وہ صفت جمال ہو یا جلال یا کمال، صرف اللہ کے لیے ہے۔ اس کے سوا کسی اور میں کوئی خوبی ہے تو اسی کی عطا کر دہ ہے، اس لیے وہ بھی اسی کی خوبی ہے۔ سب اس کے محتاج ہیں، وہ کسی کا محتاج نہیں۔ اس کے سوا کوئی خواہ کتنا ہی بڑا ہے یا تو اولاد کا محتاج ہے، کیونکہ اسے بوڑھا ہونا اور فوت ہونا ہے، اس لیے زندگی میں اسے مدد کے لیے اور مرنے کے بعد وارث کے طور پر اولاد کی ضرورت ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ سے ہے، ہمیشہ رہے گا، وہی سب کا وارث ہے، وہ اولاد کی محتاجی سے پاک ہے۔ پھر والد اور اولاد ایک جنس سے ہوتے ہیں، اگر اس کی اولاد ہو تو اس کا { وَحْدَهُ لَا شَرِيْكَ لَهُ} ہونا باقی نہیں رہتا۔ پھر ایک جیسے دو یا کئی الٰہ ماننا پڑیں گے، جس کا نتیجہ سورۂ انبیاء (۲۲) میں مذکور ہے۔ { لَمْ يَتَّخِذْ وَلَدًا } میں یہود و نصاریٰ کا رد ہو گیا جو عزیر یا مسیح علیھما السلام کو اللہ کا بیٹا مانتے تھے اور مشرکین عرب کا بھی جو فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں قرار دیتے تھے اور اسلام کے پردے میں چھپے ہوئے ان لوگوں کا بھی جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یا علی، فاطمہ اور حسن و حسین رضی اللہ عنھم کو اللہ کے ذاتی نور کا ٹکڑا سمجھتے ہیں اور کہتے ہیں:
خدا کے نور سے پیدا ہوئے پانچوں تن
محمد است و علی، فاطمہ، حسن و حسین
یا پھر اللہ کے سوا جو بھی ہے وہ اکیلا ہر کام سرانجام نہیں دے سکتا، اس لیے بڑے سے بڑے بادشاہ کو بھی اپنے ولی عہد یا وزیر و مشیر کو حکومت میں شریک کرنا پڑتا ہے، مگر اللہ تعالیٰ اکیلا ہی پوری کائنات کا ایسا بادشاہ ہے جسے کسی شریک کی ضرورت نہیں۔ اسی طرح اس کے سوا ہر ایک کی زندگی میں ایسا مرحلہ آتا ہے جب اسے اپنی کمزوری یا عاجزی کی وجہ سے کسی مددگار اور حمایتی کی ضرورت ہوتی ہے، اللہ تعالیٰ عزیز ہے، سب پر غالب ہے، نہ اسے کوئی کمزوری یا بے بسی لاحق ہوتی ہے، نہ کوئی ایسا ہے جو اس کی بے بسی اور عاجزی میں اس کا پشت پناہ بنے۔ اللہ نے فرمایا کہ اے نبی! اور اے ہر مخاطب! تو اللہ تعالیٰ کے ہر خوبی اور ہر تعریف کے مالک ہونے کا اعلان کر دے، کیونکہ اس میں یہ تینوں کمزوریاں نہیں ہیں اور اس کی بڑائی جتنی ہو سکتی ہے زیادہ سے زیادہ بیان کر۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ نہایت جامع آیت ہے، جس میں اللہ کی حمد، تسبیح، تہلیل اور تکبیر تمام چیزیں دلیل کے ساتھ ذکر ہوئی ہیں۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

111۔ اور کہہ دیجئے کہ ہر طرح کی تعریف اس اللہ کو سزاوار ہے جس نے نہ کسی کو بیٹا بنایا، نہ بادشاہی میں اس کا کوئی شریک ہے اور نہ ہی ناتوانی کی وجہ [130] سے اس کا کوئی مددگار ہے۔ اور اسی کی خوب خوب بڑائی بیان کیجئے۔
[130] کیا اللہ کو کسی اور مددگار کی ضرورت ہے؟
اس آیت میں مشرکین کے اس بنیادی عقیدے کی تردید کی گئی ہے جس کی بنا پر کئی قسم کا شرک رائج ہو گیا ہے۔ اور پھر عقیدہ یہ ہے کہ جس طرح ایک بادشاہ کو اپنا انتظام سلطنت چلانے کے لئے امیروں وزیروں اور کئی طرح کے مددگاران کی احتیاج ہوتی ہے۔ بالکل اسی طرح اللہ کو اتنی بڑی سلطنت کا کاروبار چلانے کے لئے کارکنوں کی ضرورت پیش آتی ہے۔ اور ہماری یہ دیویاں اور دیوتا، غوث، قطب، ابدال وغیرہ سب اس انتظام کے مختلف شعبے سنبھالے ہوئے ہیں۔ یہ ہے وہ بنیادی گمراہی جس نے بیشمار قسموں کے شرک کو جنم دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس بے ہودہ عقیدہ کا رد کرتے ہوئے فرمایا کہ نہ اسے اس وقت کسی شریک کی احتیاج ہے اور نہ آئندہ ہو گی کہ وہ کسی کو بیٹا بنا لے جو ناتوانی میں اس کا معاون ثابت ہو۔ اسے تخلیق کائنات کے وقت بھی کسی کو مددگار بنانے کی ضرورت پیش نہیں آئی نہ ہی اس کائنات کا انتظام چلانے کے لئے ضرورت ہے اور نہ ہی ایسی ضرورت آئندہ کبھی پیش آسکتی ہے۔ وہ ہر ایک کی فریاد پکار براہ راست سنتا ہے، ان کا جواب دیتا اور شرف قبولیت بخشتا ہے۔ اسے درمیانی واسطوں کی قطعاً ضرورت نہیں ہے۔ اس کے پاس ہر چیز کے لاتعداد اور غیر محدود خزانے ہیں۔ جن سے وہ ہر وقت اپنی مخلوق کو نوازتا ہے اور جو کچھ بھی اس سے مانگا جائے وہ عطا کرتا ہے۔ بشرطیکہ دعا کے آداب کو ملحوظ رکھا جائے۔ گویا اس آیت میں اہل کتاب، مشرکین مکہ موجودہ دور کے مشرکوں سب کا رد موجود ہے اور جس معبود میں مندرجہ بالا صفات پائی جائیں وہ معبود حقیقی ہو سکتا ہے لہٰذا ہر طرح کی تعریف اسی ذات کو لائق ہے۔ آپ اس کی تعریف کیا کیجئے اور اسی کی بڑائی بیان کیا کیجئے۔ اس سورۃ بنی اسرائیل کی ابتدا سبحان الذی سے ہوئی اور تسبیح سے مراد اللہ کی تمام عیوب اور نقائص یعنی صفات سلبیہ سے تنزیہہ بیان کرنا ہے۔ پھر اس سورۃ کا خاتمہ بھی اس بیان پر ہوا کہ اللہ تعالیٰ اولاد، شرکاء اور حمایتیوں کی کسی طرح کی بھی مدد کا محتاج نہیں۔ اور یہ فصاحت و بلاغت کے انتہائی کمال کی دلیل ہوتی ہے کہ مضمون کو جس عنوان سے شروع کیا جائے۔ درمیان میں اس کی جملہ تفصیلات بیان کرنے کے بعد اس کا خاتمہ بھی اسی بیان پر کیا جائے جس سے اس کی ابتدا کی گئی تھی۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

رحمن یا رحیم ؟ ٭٭
کفار اللہ کی رحمت کی صفت کے منکر تھے، اس کا نام رحمن نہیں سمجھتے تھے تو جناب باری تعالیٰ اپنے نفس کے لیے اس نام کو ثابت کرتا ہے اور فرماتا ہے کہ یہی نہیں کہ اللہ کا نام اللہ ہو رحمن ہو یا رحیم اور بس، ان کے سوا بھی بہت سے بہترین اور احسن نام اس کے ہیں۔ جس پاک نام سے چاہو اس سے دعائیں کرو۔
سورۃ الحشر کے آخر میں بھی اپنے بہت سے نام اس نے بیان فرمائے ہیں۔ «هُوَ اللَّـهُ الَّذِي لَا إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ ۖ عَالِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ ۖ هُوَ الرَّحْمَـٰنُ الرَّحِيمُ * هُوَ اللَّـهُ الَّذِي لَا إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ الْمَلِكُ الْقُدُّوسُ السَّلَامُ الْمُؤْمِنُ الْمُهَيْمِنُ الْعَزِيزُ الْجَبَّارُ الْمُتَكَبِّرُ ۚ سُبْحَانَ اللَّـهِ عَمَّا يُشْرِكُونَ * هُوَ اللَّـهُ الْخَالِقُ الْبَارِئُ الْمُصَوِّرُ ۖ لَهُ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَىٰ ۚ يُسَبِّحُ لَهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۖ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ» ‏‏‏‏ ۱؎ [59-الحشر:22-24]‏‏‏‏
{ ایک مشرک نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سجدے کی حالت میں «یا رحمن یا رحیم» سن کر کہا کہ لیجئے یہ موحد ہیں، دو معبودوں کو پکارتے ہیں، اس پر یہ آیت اتری۔ } ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:22802:مرسل]‏‏‏‏
پھر فرماتا ہے اپنی نماز کو بہت اونچی آواز سے نہ پڑھو۔ اس آیت کے نزول کے وقت { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مکے میں پوشیدہ تھے، جب صحابہ کو نماز پڑھاتے اور بلند آواز سے اس میں قرأت پڑھتے تو مشرکین قرآن کو، اللہ کو، رسول کو گالیاں دیتے۔ اس لیے حکم ہوا کہ اس قدر بلند آواز سے پڑھنے کی ضرورت نہیں کہ مشرکین سنیں اور گالیاں بکیں۔ ہاں ایسا آہستہ بھی نہ پڑھنا کہ آپ کے ساتھی بھی نہ سن سکیں بلکہ درمیانی آواز سے قرأت کیا کرو۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:4722]‏‏‏‏
پھر جب آپ ہجرت کر کے مدینے پہنچے تو یہ تکلیف جاتی رہی، اب جس طرح چاہیں پڑھیں۔ { مشرکین جہاں قرآن کی تلاوت شروع ہوتی تو بھاگ کھڑے ہوتے۔ اگر کوئی سننا چاہتا تو ان کے خوف کے مارے چھپ چھپ کر بچ بچا کر کچھ سن لیتا۔ لیکن جہاں مشرکوں کو معلوم ہوا تو انہوں نے انہیں سخت ایذاء دہی شروع کی۔ اب اگر بہت بلند آواز کریں تو ان کی چڑ اور ان کی گالیوں کا خیال اور اگر بہت پست کر لیں تو وہ جو چھپے کے کان لگائے بیٹھے ہیں وہ محروم، اس لیے درمیانہ آواز سے قرآت کرنے کا حکم ہوا۔ } ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:22830]‏‏‏‏
الغرض نماز کی قرأت کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی ہے۔ مروی ہے کہ { سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اپنی نماز میں پست آواز سے قرأت پڑھتے تھے اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ باآواز بلند قرأت پڑھا کرتے تھے۔ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ آپ آہستہ کیوں پڑھتے ہیں؟ آپ نے جواب دیا کہ اپنے رب سے سرگوشی ہے وہ میری حاجات کا علم رکھتا ہے تو فرمایا کہ یہ بہت اچھا ہے۔
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ آپ بلند آواز سے کیوں پڑھتے ہیں؟ آپ نے فرمایا شیطان کو بھگاتا ہوں اور سوتوں کو جگاتا ہوں تو آپ سے بھی فرمایا گیا، بہت اچھا ہے لیکن جب یہ آیت اتری تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے قدرے بلند آواز کرنے کو اور سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے قدرے پست آواز کرنے کو فرمایا گیا۔ } ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:22835:مرسل]‏‏‏‏
{ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں یہ آیت دعا کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ اسی طرح ثوری اور مالک ہشام بن عروہ سے وہ اپنے باپ سے وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں، آپ فرماتی ہیں کہ یہ آیت دعا کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:4323]‏‏‏‏
یہی قول مجاہد، سعید بن جبیر، ابو عیاض، مکحول، عروہ بن زبیر رحمہ اللہ علیہم کا بھی ہے۔ مروی ہے کہ بنو تمیم قبیلے کا ایک اعرابی جب بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے سلام پھیرتے یہ دعا کرتا کہ اے اللہ مجھے اونٹ عطا فرما مجھے اولاد دے پس یہ آیت اتری۔
ایک دوسرا قول یہ بھی ہے کہ یہ آیت تشہد کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ مراد اس سے یہ ہے کہ نہ تو ریا کاری کرو نہ عمل چھوڑو۔ یہ بھی نہ کرو کہ علانیہ تو عمدہ کرکے پڑھو اور خفیہ برا کرکے پڑھو۔ اہل کتاب پوشیدہ پڑھتے اور اسی درمیان کوئی فقرہ بہت بلند آواز سے چیخ کر زبان سے نکالتے اس پر سب ساتھ مل کر شور مچا دیتے تو ان کی موافقت سے ممانعت ہوئی اور جس طرح اور لوگ چھپاتے تھے اس سے بھی روکا گیا، پھر اس کے درمیان کا راستہ جبرائیل علیہ السلام نے بتلایا جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسنون فرمایا ہے۔
اللہ کی حمد کرو جس میں تمام تر کمالات اور پاکیزگی کی صفتیں ہیں۔ جس کے تمام تر بہترین نام ہیں جو تمام تر نقصانات سے پاک ہے۔ اس کی اولاد نہیں، اس کا شریک نہیں، وہ واحد ہے، احد ہے، صمد ہے، نہ اس کے ماں باپ، نہ اولاد، نہ اس کی جنس کا کوئی اور، نہ وہ ایسا حقیر کہ کسی کی حمایت کا محتاج ہو یا وزیر و مشیر کی اسے حاجت ہو۔
بلکہ تمام چیزوں کا خالق مالک صرف وہی ہے، سب کا مدبر مقدر وہی ہے، اسی کی مشیت تمام مخلوق میں چلتی ہے، وہ وحدہ لا شریک لہ ہے، نہ اس کی کسی سے بھائی بندی ہے نہ وہ کسی کی مدد کا طالب ہے۔ تو ہر وقت اس کی عظمت، جلالت، کبریائی، بڑائی اور بزرگی بیان کرتا رہ اور مشرکین جو تہمتیں اس پر باندھتے ہیں، تو ان سے اس کی ذات کی بزرگی بڑائی اور پاکیزگی بیان کرتا رہ۔
یہود و نصاریٰ تو کہتے تھے کہ اللہ کی اولاد ہے۔ مشرکین کہتے تھے «لَبَّيْكَ لَا شَرِيك لَك إِلَّا شَرِيكًا هُوَ لَك تَمْلِكهُ وَمَا مَلَكَ» یعنی ہم حاضر باش غلام ہیں، اے اللہ تیرا کوئی شریک نہیں لیکن جو خود تیری ملکیت میں ہیں، تو ہی ان کا اور ان کی ملکیت کا مالک ہے۔ صابی اور مجوسی کہتے ہیں کہ اگر اولیاء اللہ نہ ہوں تو اللہ سارے انتظام آپ نہیں کر سکتا۔
اس پر یہ آیت «وَقُلِ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي لَمْ يَتَّخِذْ وَلَدًا وَلَمْ يَكُن لَّهُ شَرِيكٌ فِي الْمُلْكِ وَلَمْ يَكُن لَّهُ وَلِيٌّ مِّنَ الذُّلِّ ۖ وَكَبِّرْهُ تَكْبِيرًا» ۱؎ [17-الإسراء:111]‏‏‏‏ اتری اور ان سب باطل پرستوں کی تردید کر دی گئی۔
{ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر کے تمام چھوٹے بڑے لوگوں کو یہ آیت سکھایا کرتے تھے۔ } ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:22852:مرسل و ضعیف]‏‏‏‏
{ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کا نام آیت «العز» یعنی عزت والی آیت رکھا ہے۔ } ۱؎ [مسند احمد439/3-440:ضعیف]‏‏‏‏
بعض آثار میں ہے کہ جس گھر میں رات کو یہ آیت پڑھی جائے، اس گھر میں کوئی آفت یا چوری نہیں ہو سکتی «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ { میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلا میرا ہاتھ آپ کے ہاتھ میں تھا یا آپ کا ہاتھ میرے ہاتھ میں تھا۔ راہ چلتے ایک شخص کو آپ نے دیکھا نہایت ردی حالت میں ہے، اس سے پوچھا کہ کیا بات ہے؟ اس نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیماریوں اور نقصانات نے میری یہ درگت کر رکھی ہے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا میں تمہیں کچھ وظیفہ بتا دوں کہ یہ دکھ بیماری سب کچھ جاتی رہے؟ اس نے کہا ہاں ہاں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ضرور بتلائیے احد اور بدر میں آپ کے ساتھ نہ ہونے کا افسوس میرا جاتا رہے گا۔ اس پر آپ ہنس پڑے اور فرمایا تو بدری اور احدی صحابہ کے مرتبے کو کہاں سے پا سکتا ہے تو ان کے مقابلے میں محض خالی ہاتھ اور بےسرمایہ ہے۔
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں جانے دیجئیے آپ مجھے بتلا دیئجے۔ آپ نے فرمایا، (‏‏‏‏سیدنا) ابوہریرہ (‏‏‏‏رضی اللہ عنہا) یوں کہو «تَوَكَّلْت عَلَى الْحَيّ الَّذِي لَا يَمُوت الْحَمْد لِلَّهِ الَّذِي لَمْ يَتَّخِذ وَلَدًا وَلَمْ يَكُنْ لَهُ شَرِيك فِي الْمُلْك وَلَمْ يَكُنْ لَهُ وَلِيّ مِنْ الذُّلّ وَكَبِّرْهُ تَكْبِيرًا» میں نے یہ وظیفہ پڑھنا شروع کر دیا، چند دن گزرے تھے کہ میری حالت بہت ہی سنور گئی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیکھا اور پوچھا (‏‏‏‏سیدنا) ابوہریرہ (‏‏‏‏رضی اللہ عنہا) یہ کیا ہے؟ میں نے کہا ان کلمات کی وجہ سے اللہ کی طرف سے برکت ہے جو آپ نے مجھے سکھائے تھے۔ } ۱؎ [مسند ابویعلیٰ:6671:ضعیف]‏‏‏‏
اس کی سند ضعیف ہے اور اس کے متن میں بھی نکارت ہے۔ اسے حافظ ابو یعلیٰ اپنی کتاب میں لائے ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔