قُلِ ادۡعُوا اللّٰہَ اَوِ ادۡعُوا الرَّحۡمٰنَ ؕ اَیًّامَّا تَدۡعُوۡا فَلَہُ الۡاَسۡمَآءُ الۡحُسۡنٰی ۚ وَ لَا تَجۡہَرۡ بِصَلَاتِکَ وَ لَا تُخَافِتۡ بِہَا وَ ابۡتَغِ بَیۡنَ ذٰلِکَ سَبِیۡلًا ﴿۱۱۰﴾
کہہ دے اللہ کو پکارو، یا رحمان کو پکارو، تم جس کو بھی پکارو گے سو یہ بہترین نام اسی کے ہیں اور اپنی نماز نہ بلند آواز سے پڑھ اور نہ اسے پست کر اور اس کے درمیان کوئی راستہ اختیار کر۔
En
کہہ دو کہ تم (خدا کو) الله (کے نام سے) پکارو یا رحمٰن (کے نام سے) جس نام سے پکارو اس کے سب اچھے نام ہیں۔ اور نماز نہ بلند آواز سے پڑھو اور نہ آہستہ بلکہ اس کے بیچ کا طریقہ اختیار کرو
En
کہہ دیجئیے کہ اللہ کو اللہ کہہ کر پکارو یا رحمٰن کہہ کر، جس نام سے بھی پکارو تمام اچھے نام اسی کے ہیں۔ نہ تو تو اپنی نماز بہت بلند آواز سے پڑھ اور نہ بالکل پوشیده بلکہ اس کے درمیان کا راستہ تلاش کرلے
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 110) ➊ { قُلِ ادْعُوا اللّٰهَ اَوِ ادْعُوا الرَّحْمٰنَ …:} کفار مکہ ”رحمان“ نام سے نفرت کرتے تھے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اس نام سے ان کی نفرت کا تذکرہ کئی آیات میں کیا ہے، چنانچہ فرمایا: «وَ اِذَا قِيْلَ لَهُمُ اسْجُدُوْا لِلرَّحْمٰنِ قَالُوْا وَ مَا الرَّحْمٰنُ اَنَسْجُدُ لِمَا تَاْمُرُنَا وَ زَادَهُمْ نُفُوْرًا» [الفرقان: ۶۰] ”اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ رحمان کو سجدہ کرو توکہتے ہیں اور رحمان کیا چیز ہے؟ کیا ہم اسے سجدہ کریں جس کے لیے تو ہمیں حکم دیتا ہے اور یہ بات بدکنے میں انھیں اور بڑھا دیتی ہے۔“ ان کی اس نفرت کا ذکر سورۂ انبیاء (۳۶) میں بھی ہے۔ صلح حدیبیہ کا معاہدہ لکھا جانے لگا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کاتب سے فرمایا: ”لکھو {”بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ“} تو (کفار کے نمائندے) سہیل بن عمرو نے کہا: ”رحمان! اللہ کی قسم! میں نہیں جانتا رحمان کیا ہے؟ بلکہ لکھو {”بِاسْمِكَ اللّٰهُمَّ“} جیسا کہ (پہلے) لکھا کرتے تھے۔“ [بخاری، الشروط، باب الشروط فی الجہاد…: ۲۷۳۱، ۲۷۳۲] اللہ تعالیٰ نے فرمایا، اللہ کو پکارو یا رحمان کو، اللہ تعالیٰ کو اس کے جس نام سے بھی پکارا جائے وہ سب ہی بہترین ہیں، جب سب ہی بہترین ہیں تو یہ دونوں کیوں بہترین نہ ہوں گے۔ مزید تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ اعراف (۱۸۰) کی تفسیر۔
➋ { وَ لَا تَجْهَرْ بِصَلَاتِكَ …:” صَلَاةٌ “} سے مراد نماز میں قرآن مجید کی قراء ت ہے، چنانچہ اس آیت کی تفسیر میں ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ یہ آیت اس وقت اتری جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں چھپے ہوئے تھے۔ آپ جب اپنے اصحاب کو نماز پڑھاتے تو قرآن پڑھتے ہوئے اپنی آواز بلند کرتے، جب مشرکین اسے سنتے تو قرآن کو اور اس کے اتارنے والے کو گالی دیتے تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرمایا: [ «وَ لَا تَجْهَرْ بِصَلَاتِكَ» أَيْ بِقِرَاءَتِكَ فَيَسْمَعَ الْمُشْرِكُوْنَ فَيَسُبُّوا الْقُرْآنَ «وَ لَا تُخَافِتْ بِهَا» عَنْ أَصْحَابِكَ فَلَا تُسْمِعُهُمْ «وَ ابْتَغِ بَيْنَ ذٰلِكَ سَبِيْلًا» ] [بخاري، التفسیر، سورۃ بني إسرائیل باب: «ولا تجہر بصلاتک ولا تخافت بھا» : ۴۷۲۲] {” وَ لَا تَجْهَرْ بِصَلَاتِكَ “} کا مطلب یہ ہے کہ اپنی قراء ت کے ساتھ آواز بلند نہ کرو کہ مشرکین اسے سنیں گے تو اسے گالی دیں گے اور نہ اسے اپنے اصحاب سے چھپا کر پڑھو، کیونکہ آپ اسے ان کو سنا نہیں سکیں گے اور اس کے درمیان کا کوئی راستہ تلاش کرو۔“ ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ یہ آیت دعا کے متعلق نازل ہوئی۔ [بخاري، التفسیر، سورۃ بني إسرائیل باب: «ولا تجہر بصلاتک ولا تخافت بھا» : ۴۷۲۳] ابوداؤد میں صحیح حدیث ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قیام اللیل میں ابوبکر رضی اللہ عنہ کو پست آواز اور عمر رضی اللہ عنہ کو بلند آواز سے قراء ت کرتے ہوئے سنا تو ابوبکر رضی اللہ عنہ کو کچھ بلند اور عمر رضی اللہ عنہ کو کچھ آہستہ پڑھنے کے لیے فرمایا۔ [أبوداوٗد، التطوع، باب رفع الصوت بالقراء ۃ فی صلاۃ اللیل: ۱۳۲۹] آیت کے الفاظ قراء ت اور دعا دونوں معنوں کی گنجائش رکھتے ہیں۔
➋ { وَ لَا تَجْهَرْ بِصَلَاتِكَ …:” صَلَاةٌ “} سے مراد نماز میں قرآن مجید کی قراء ت ہے، چنانچہ اس آیت کی تفسیر میں ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ یہ آیت اس وقت اتری جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں چھپے ہوئے تھے۔ آپ جب اپنے اصحاب کو نماز پڑھاتے تو قرآن پڑھتے ہوئے اپنی آواز بلند کرتے، جب مشرکین اسے سنتے تو قرآن کو اور اس کے اتارنے والے کو گالی دیتے تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرمایا: [ «وَ لَا تَجْهَرْ بِصَلَاتِكَ» أَيْ بِقِرَاءَتِكَ فَيَسْمَعَ الْمُشْرِكُوْنَ فَيَسُبُّوا الْقُرْآنَ «وَ لَا تُخَافِتْ بِهَا» عَنْ أَصْحَابِكَ فَلَا تُسْمِعُهُمْ «وَ ابْتَغِ بَيْنَ ذٰلِكَ سَبِيْلًا» ] [بخاري، التفسیر، سورۃ بني إسرائیل باب: «ولا تجہر بصلاتک ولا تخافت بھا» : ۴۷۲۲] {” وَ لَا تَجْهَرْ بِصَلَاتِكَ “} کا مطلب یہ ہے کہ اپنی قراء ت کے ساتھ آواز بلند نہ کرو کہ مشرکین اسے سنیں گے تو اسے گالی دیں گے اور نہ اسے اپنے اصحاب سے چھپا کر پڑھو، کیونکہ آپ اسے ان کو سنا نہیں سکیں گے اور اس کے درمیان کا کوئی راستہ تلاش کرو۔“ ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ یہ آیت دعا کے متعلق نازل ہوئی۔ [بخاري، التفسیر، سورۃ بني إسرائیل باب: «ولا تجہر بصلاتک ولا تخافت بھا» : ۴۷۲۳] ابوداؤد میں صحیح حدیث ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قیام اللیل میں ابوبکر رضی اللہ عنہ کو پست آواز اور عمر رضی اللہ عنہ کو بلند آواز سے قراء ت کرتے ہوئے سنا تو ابوبکر رضی اللہ عنہ کو کچھ بلند اور عمر رضی اللہ عنہ کو کچھ آہستہ پڑھنے کے لیے فرمایا۔ [أبوداوٗد، التطوع، باب رفع الصوت بالقراء ۃ فی صلاۃ اللیل: ۱۳۲۹] آیت کے الفاظ قراء ت اور دعا دونوں معنوں کی گنجائش رکھتے ہیں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
110۔ 1 جس طرح کہ پہلے گزر چکا ہے کہ مشرکین مکہ کے لئے اللہ کا صفتی نام ' رحمٰن ' یا ' رحیم ' نامانوس تھا اور بعض آثار میں آتا ہے کہ بعض مشرکین نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے یا رحمٰن و رحیم کے الفاظ سنے تو کہا کہ ہمیں تو یہ کہتا ہے کہ صرف ایک اللہ کو پکارو اور خود دو معبودوں کو پکار رہا ہے۔ جس پر یہ آیت نازل ہوئی (ابن کثیر) 110۔ 2 اس کی شان نزول میں حضرت ابن عباس بیان فرماتے ہیں کہ مکہ میں رسول اللہ چھپ کر رہتے تھے، جب اپنے ساتھیوں کو نماز پڑھاتے تو آواز قدرے بلند فرما لیتے، مشرکین قرآن سن کر قرآن کو اور اللہ کو گالی گلوچ کرتے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا، اپنی آواز کو اتنا اونچا نہ کرو کہ مشرکین سن کر قرآن کو برا بھلا کہیں اور نہ آواز اتنی پست کرو کہ صحابہ بھی نہ سن سکیں، خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا واقعہ ہے کہ ایک رات نبی کا گزر حضرت ابوبکر صدیق کی طرف سے ہوا تو وہ پست آواز سے نماز پڑھ رہے ہیں، پھر حضرت عمر کو بھی دیکھنے کا اتفاق ہوا تو وہ اونچی آواز سے نماز پڑھ رہے تھے۔ آپ نے دونوں سے پوچھا تو حضرت ابوبکر صدیق نے فرمایا، میں جس سے مصروف مناجات تھا، وہ میری آواز سن رہا تھا، حضرت عمر نے جواب دیا کہ میرا مقصد سوتوں کو جگانا اور شیطان کو بھگانا تھا۔ آپ نے صدیق اکبر سے فرمایا، اپنی آواز قدرے بلند کرو اور حضرت عمر سے کہا، اپنی آواز کچھ پست رکھو۔ حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ یہ آیت دعا کے بارے میں نازل ہوئی ہے (بخاری و مسلم، بحوالہ فتح القدیر)
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
110۔ آپ ان سے کہئے کہ: اللہ (کہہ کر) پکارو یا رحمن [128] (کہہ کر) جو نام بھی تم پکارو گے اس کے سب نام ہی اچھے ہیں۔ اور آپ اپنی نماز نہ زیادہ بلند آواز [129] سے پڑھئے نہ بالکل پست آواز سے بلکہ ان کے درمیان اوسط درجہ کا لہجہ اختیار کیجئے۔
[128] رحمان اللہ کا ذاتی نام ہے قریش کی رحمن سے چڑ، اللہ کے دوسرے صفاتی نام:۔
اللہ کے بعد رحمان بھی اللہ تعالیٰ کا دوسرے نمبر پر ذاتی نام ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کسی مخلوق کا جس طرح اللہ نام یا اس کی صفت نہیں ہو سکتی۔ اسی طرح رحمان بھی کسی مخلوق کا نام یا صفت نہیں ہوتی لیکن اللہ کا یہ نام عرب میں رائج نہ تھا اور اس نام سے انھیں چڑ بھی تھی اور وہ اللہ پر اس نام کا اطلاق کرنے سے بدکتے تھے اور جب آپ کی زبان سے یہ نام سنتے تو کہتے کہ ہمیں تو اللہ کا شریک بنانے سے منع کرتے ہو۔ جبکہ تم نے خود بھی اللہ کے ساتھ رحمان کو بھی الٰہ بنا رکھا ہے۔ ان کے اسی اعتراض کا اس آیت میں جواب دیا گیا ہے کہ اللہ اور رحمن دوالٰہ نہیں بلکہ ایک ہی ذات کے دو نام ہیں۔ تم جونسا چاہو پکار سکتے ہو.۔ بلکہ اللہ کے تو اور بھی بہت سے اچھے صفاتی نام ہیں۔ تم ان سے اللہ کو پکار سکتے ہو اور صحیح احادیث کی رو سے یہ نام ننانوے ہیں۔ اور جو ننانوے نام حدیث میں مذکور ہیں۔ استقصاء سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے علاوہ اور بھی کئی نام ہیں جو کتاب و سنت میں مذکور ہیں۔ [نيز ديكهئے سورة رعد آيت نمبر 30 كا حاشيه]
[129] قرآن کی تلاوت آہستہ جہری آواز سے:۔
اس جملہ کی تفسیر کے لئے درج ذیل حدیث ملاحظہ فرمائیے: سیدنا ابن عباسؓ فرماتے ہیں: یہ آیت اس وقت اتری جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں کافروں سے چھپے رہتے جب آپ صحابہ کو نماز پڑھاتے تو بلند آواز سے قرآن پڑھتے۔ جب مشرک قرآن سنتے تو قرآن، صاحب قرآن اور قرآن لانے والے (جبرئیل) سب کو برا بھلا کہتے۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو حکم دیا کہ نماز میں قرآن بلند آواز سے نہ پڑھئے کہ مشرک قرآن کو برا بھلا کہیں اور نہ اتنی آہستہ پڑھئے کہ آپ کے صحابہ بھی نہ سن سکیں بلکہ درمیانی راہ اختیار کیجئے۔ [بخاري، كتاب التفسير، ترمذي، ابواب التفسير]
اور سیدہ عائشہؓ فرماتی ہیں کہ یہ آیت دعا کے باب میں اتری۔ [حواله ايضاً]
اور سیدہ عائشہؓ فرماتی ہیں کہ یہ آیت دعا کے باب میں اتری۔ [حواله ايضاً]
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
رحمن یا رحیم ؟ ٭٭
کفار اللہ کی رحمت کی صفت کے منکر تھے، اس کا نام رحمن نہیں سمجھتے تھے تو جناب باری تعالیٰ اپنے نفس کے لیے اس نام کو ثابت کرتا ہے اور فرماتا ہے کہ یہی نہیں کہ اللہ کا نام اللہ ہو رحمن ہو یا رحیم اور بس، ان کے سوا بھی بہت سے بہترین اور احسن نام اس کے ہیں۔ جس پاک نام سے چاہو اس سے دعائیں کرو۔
سورۃ الحشر کے آخر میں بھی اپنے بہت سے نام اس نے بیان فرمائے ہیں۔ «هُوَ اللَّـهُ الَّذِي لَا إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ ۖ عَالِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ ۖ هُوَ الرَّحْمَـٰنُ الرَّحِيمُ * هُوَ اللَّـهُ الَّذِي لَا إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ الْمَلِكُ الْقُدُّوسُ السَّلَامُ الْمُؤْمِنُ الْمُهَيْمِنُ الْعَزِيزُ الْجَبَّارُ الْمُتَكَبِّرُ ۚ سُبْحَانَ اللَّـهِ عَمَّا يُشْرِكُونَ * هُوَ اللَّـهُ الْخَالِقُ الْبَارِئُ الْمُصَوِّرُ ۖ لَهُ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَىٰ ۚ يُسَبِّحُ لَهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۖ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ» ۱؎ [59-الحشر:22-24]
{ ایک مشرک نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سجدے کی حالت میں «یا رحمن یا رحیم» سن کر کہا کہ لیجئے یہ موحد ہیں، دو معبودوں کو پکارتے ہیں، اس پر یہ آیت اتری۔ } ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:22802:مرسل]
پھر فرماتا ہے اپنی نماز کو بہت اونچی آواز سے نہ پڑھو۔ اس آیت کے نزول کے وقت { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مکے میں پوشیدہ تھے، جب صحابہ کو نماز پڑھاتے اور بلند آواز سے اس میں قرأت پڑھتے تو مشرکین قرآن کو، اللہ کو، رسول کو گالیاں دیتے۔ اس لیے حکم ہوا کہ اس قدر بلند آواز سے پڑھنے کی ضرورت نہیں کہ مشرکین سنیں اور گالیاں بکیں۔ ہاں ایسا آہستہ بھی نہ پڑھنا کہ آپ کے ساتھی بھی نہ سن سکیں بلکہ درمیانی آواز سے قرأت کیا کرو۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:4722]
پھر جب آپ ہجرت کر کے مدینے پہنچے تو یہ تکلیف جاتی رہی، اب جس طرح چاہیں پڑھیں۔ { مشرکین جہاں قرآن کی تلاوت شروع ہوتی تو بھاگ کھڑے ہوتے۔ اگر کوئی سننا چاہتا تو ان کے خوف کے مارے چھپ چھپ کر بچ بچا کر کچھ سن لیتا۔ لیکن جہاں مشرکوں کو معلوم ہوا تو انہوں نے انہیں سخت ایذاء دہی شروع کی۔ اب اگر بہت بلند آواز کریں تو ان کی چڑ اور ان کی گالیوں کا خیال اور اگر بہت پست کر لیں تو وہ جو چھپے کے کان لگائے بیٹھے ہیں وہ محروم، اس لیے درمیانہ آواز سے قرآت کرنے کا حکم ہوا۔ } ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:22830]
سورۃ الحشر کے آخر میں بھی اپنے بہت سے نام اس نے بیان فرمائے ہیں۔ «هُوَ اللَّـهُ الَّذِي لَا إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ ۖ عَالِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ ۖ هُوَ الرَّحْمَـٰنُ الرَّحِيمُ * هُوَ اللَّـهُ الَّذِي لَا إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ الْمَلِكُ الْقُدُّوسُ السَّلَامُ الْمُؤْمِنُ الْمُهَيْمِنُ الْعَزِيزُ الْجَبَّارُ الْمُتَكَبِّرُ ۚ سُبْحَانَ اللَّـهِ عَمَّا يُشْرِكُونَ * هُوَ اللَّـهُ الْخَالِقُ الْبَارِئُ الْمُصَوِّرُ ۖ لَهُ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَىٰ ۚ يُسَبِّحُ لَهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۖ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ» ۱؎ [59-الحشر:22-24]
{ ایک مشرک نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سجدے کی حالت میں «یا رحمن یا رحیم» سن کر کہا کہ لیجئے یہ موحد ہیں، دو معبودوں کو پکارتے ہیں، اس پر یہ آیت اتری۔ } ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:22802:مرسل]
پھر فرماتا ہے اپنی نماز کو بہت اونچی آواز سے نہ پڑھو۔ اس آیت کے نزول کے وقت { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مکے میں پوشیدہ تھے، جب صحابہ کو نماز پڑھاتے اور بلند آواز سے اس میں قرأت پڑھتے تو مشرکین قرآن کو، اللہ کو، رسول کو گالیاں دیتے۔ اس لیے حکم ہوا کہ اس قدر بلند آواز سے پڑھنے کی ضرورت نہیں کہ مشرکین سنیں اور گالیاں بکیں۔ ہاں ایسا آہستہ بھی نہ پڑھنا کہ آپ کے ساتھی بھی نہ سن سکیں بلکہ درمیانی آواز سے قرأت کیا کرو۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:4722]
پھر جب آپ ہجرت کر کے مدینے پہنچے تو یہ تکلیف جاتی رہی، اب جس طرح چاہیں پڑھیں۔ { مشرکین جہاں قرآن کی تلاوت شروع ہوتی تو بھاگ کھڑے ہوتے۔ اگر کوئی سننا چاہتا تو ان کے خوف کے مارے چھپ چھپ کر بچ بچا کر کچھ سن لیتا۔ لیکن جہاں مشرکوں کو معلوم ہوا تو انہوں نے انہیں سخت ایذاء دہی شروع کی۔ اب اگر بہت بلند آواز کریں تو ان کی چڑ اور ان کی گالیوں کا خیال اور اگر بہت پست کر لیں تو وہ جو چھپے کے کان لگائے بیٹھے ہیں وہ محروم، اس لیے درمیانہ آواز سے قرآت کرنے کا حکم ہوا۔ } ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:22830]
الغرض نماز کی قرأت کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی ہے۔ مروی ہے کہ { سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اپنی نماز میں پست آواز سے قرأت پڑھتے تھے اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ باآواز بلند قرأت پڑھا کرتے تھے۔ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ آپ آہستہ کیوں پڑھتے ہیں؟ آپ نے جواب دیا کہ اپنے رب سے سرگوشی ہے وہ میری حاجات کا علم رکھتا ہے تو فرمایا کہ یہ بہت اچھا ہے۔
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ آپ بلند آواز سے کیوں پڑھتے ہیں؟ آپ نے فرمایا شیطان کو بھگاتا ہوں اور سوتوں کو جگاتا ہوں تو آپ سے بھی فرمایا گیا، بہت اچھا ہے لیکن جب یہ آیت اتری تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے قدرے بلند آواز کرنے کو اور سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے قدرے پست آواز کرنے کو فرمایا گیا۔ } ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:22835:مرسل]
{ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں یہ آیت دعا کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ اسی طرح ثوری اور مالک ہشام بن عروہ سے وہ اپنے باپ سے وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں، آپ فرماتی ہیں کہ یہ آیت دعا کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:4323]
یہی قول مجاہد، سعید بن جبیر، ابو عیاض، مکحول، عروہ بن زبیر رحمہ اللہ علیہم کا بھی ہے۔ مروی ہے کہ بنو تمیم قبیلے کا ایک اعرابی جب بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے سلام پھیرتے یہ دعا کرتا کہ اے اللہ مجھے اونٹ عطا فرما مجھے اولاد دے پس یہ آیت اتری۔
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ آپ بلند آواز سے کیوں پڑھتے ہیں؟ آپ نے فرمایا شیطان کو بھگاتا ہوں اور سوتوں کو جگاتا ہوں تو آپ سے بھی فرمایا گیا، بہت اچھا ہے لیکن جب یہ آیت اتری تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے قدرے بلند آواز کرنے کو اور سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے قدرے پست آواز کرنے کو فرمایا گیا۔ } ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:22835:مرسل]
{ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں یہ آیت دعا کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ اسی طرح ثوری اور مالک ہشام بن عروہ سے وہ اپنے باپ سے وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں، آپ فرماتی ہیں کہ یہ آیت دعا کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:4323]
یہی قول مجاہد، سعید بن جبیر، ابو عیاض، مکحول، عروہ بن زبیر رحمہ اللہ علیہم کا بھی ہے۔ مروی ہے کہ بنو تمیم قبیلے کا ایک اعرابی جب بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے سلام پھیرتے یہ دعا کرتا کہ اے اللہ مجھے اونٹ عطا فرما مجھے اولاد دے پس یہ آیت اتری۔
ایک دوسرا قول یہ بھی ہے کہ یہ آیت تشہد کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ مراد اس سے یہ ہے کہ نہ تو ریا کاری کرو نہ عمل چھوڑو۔ یہ بھی نہ کرو کہ علانیہ تو عمدہ کرکے پڑھو اور خفیہ برا کرکے پڑھو۔ اہل کتاب پوشیدہ پڑھتے اور اسی درمیان کوئی فقرہ بہت بلند آواز سے چیخ کر زبان سے نکالتے اس پر سب ساتھ مل کر شور مچا دیتے تو ان کی موافقت سے ممانعت ہوئی اور جس طرح اور لوگ چھپاتے تھے اس سے بھی روکا گیا، پھر اس کے درمیان کا راستہ جبرائیل علیہ السلام نے بتلایا جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسنون فرمایا ہے۔
اللہ کی حمد کرو جس میں تمام تر کمالات اور پاکیزگی کی صفتیں ہیں۔ جس کے تمام تر بہترین نام ہیں جو تمام تر نقصانات سے پاک ہے۔ اس کی اولاد نہیں، اس کا شریک نہیں، وہ واحد ہے، احد ہے، صمد ہے، نہ اس کے ماں باپ، نہ اولاد، نہ اس کی جنس کا کوئی اور، نہ وہ ایسا حقیر کہ کسی کی حمایت کا محتاج ہو یا وزیر و مشیر کی اسے حاجت ہو۔
بلکہ تمام چیزوں کا خالق مالک صرف وہی ہے، سب کا مدبر مقدر وہی ہے، اسی کی مشیت تمام مخلوق میں چلتی ہے، وہ وحدہ لا شریک لہ ہے، نہ اس کی کسی سے بھائی بندی ہے نہ وہ کسی کی مدد کا طالب ہے۔ تو ہر وقت اس کی عظمت، جلالت، کبریائی، بڑائی اور بزرگی بیان کرتا رہ اور مشرکین جو تہمتیں اس پر باندھتے ہیں، تو ان سے اس کی ذات کی بزرگی بڑائی اور پاکیزگی بیان کرتا رہ۔
یہود و نصاریٰ تو کہتے تھے کہ اللہ کی اولاد ہے۔ مشرکین کہتے تھے «لَبَّيْكَ لَا شَرِيك لَك إِلَّا شَرِيكًا هُوَ لَك تَمْلِكهُ وَمَا مَلَكَ» یعنی ہم حاضر باش غلام ہیں، اے اللہ تیرا کوئی شریک نہیں لیکن جو خود تیری ملکیت میں ہیں، تو ہی ان کا اور ان کی ملکیت کا مالک ہے۔ صابی اور مجوسی کہتے ہیں کہ اگر اولیاء اللہ نہ ہوں تو اللہ سارے انتظام آپ نہیں کر سکتا۔
اس پر یہ آیت «وَقُلِ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي لَمْ يَتَّخِذْ وَلَدًا وَلَمْ يَكُن لَّهُ شَرِيكٌ فِي الْمُلْكِ وَلَمْ يَكُن لَّهُ وَلِيٌّ مِّنَ الذُّلِّ ۖ وَكَبِّرْهُ تَكْبِيرًا» ۱؎ [17-الإسراء:111] اتری اور ان سب باطل پرستوں کی تردید کر دی گئی۔
اللہ کی حمد کرو جس میں تمام تر کمالات اور پاکیزگی کی صفتیں ہیں۔ جس کے تمام تر بہترین نام ہیں جو تمام تر نقصانات سے پاک ہے۔ اس کی اولاد نہیں، اس کا شریک نہیں، وہ واحد ہے، احد ہے، صمد ہے، نہ اس کے ماں باپ، نہ اولاد، نہ اس کی جنس کا کوئی اور، نہ وہ ایسا حقیر کہ کسی کی حمایت کا محتاج ہو یا وزیر و مشیر کی اسے حاجت ہو۔
بلکہ تمام چیزوں کا خالق مالک صرف وہی ہے، سب کا مدبر مقدر وہی ہے، اسی کی مشیت تمام مخلوق میں چلتی ہے، وہ وحدہ لا شریک لہ ہے، نہ اس کی کسی سے بھائی بندی ہے نہ وہ کسی کی مدد کا طالب ہے۔ تو ہر وقت اس کی عظمت، جلالت، کبریائی، بڑائی اور بزرگی بیان کرتا رہ اور مشرکین جو تہمتیں اس پر باندھتے ہیں، تو ان سے اس کی ذات کی بزرگی بڑائی اور پاکیزگی بیان کرتا رہ۔
یہود و نصاریٰ تو کہتے تھے کہ اللہ کی اولاد ہے۔ مشرکین کہتے تھے «لَبَّيْكَ لَا شَرِيك لَك إِلَّا شَرِيكًا هُوَ لَك تَمْلِكهُ وَمَا مَلَكَ» یعنی ہم حاضر باش غلام ہیں، اے اللہ تیرا کوئی شریک نہیں لیکن جو خود تیری ملکیت میں ہیں، تو ہی ان کا اور ان کی ملکیت کا مالک ہے۔ صابی اور مجوسی کہتے ہیں کہ اگر اولیاء اللہ نہ ہوں تو اللہ سارے انتظام آپ نہیں کر سکتا۔
اس پر یہ آیت «وَقُلِ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي لَمْ يَتَّخِذْ وَلَدًا وَلَمْ يَكُن لَّهُ شَرِيكٌ فِي الْمُلْكِ وَلَمْ يَكُن لَّهُ وَلِيٌّ مِّنَ الذُّلِّ ۖ وَكَبِّرْهُ تَكْبِيرًا» ۱؎ [17-الإسراء:111] اتری اور ان سب باطل پرستوں کی تردید کر دی گئی۔
{ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر کے تمام چھوٹے بڑے لوگوں کو یہ آیت سکھایا کرتے تھے۔ } ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:22852:مرسل و ضعیف]
{ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کا نام آیت «العز» یعنی عزت والی آیت رکھا ہے۔ } ۱؎ [مسند احمد439/3-440:ضعیف]
بعض آثار میں ہے کہ جس گھر میں رات کو یہ آیت پڑھی جائے، اس گھر میں کوئی آفت یا چوری نہیں ہو سکتی «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ { میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلا میرا ہاتھ آپ کے ہاتھ میں تھا یا آپ کا ہاتھ میرے ہاتھ میں تھا۔ راہ چلتے ایک شخص کو آپ نے دیکھا نہایت ردی حالت میں ہے، اس سے پوچھا کہ کیا بات ہے؟ اس نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیماریوں اور نقصانات نے میری یہ درگت کر رکھی ہے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا میں تمہیں کچھ وظیفہ بتا دوں کہ یہ دکھ بیماری سب کچھ جاتی رہے؟ اس نے کہا ہاں ہاں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ضرور بتلائیے احد اور بدر میں آپ کے ساتھ نہ ہونے کا افسوس میرا جاتا رہے گا۔ اس پر آپ ہنس پڑے اور فرمایا تو بدری اور احدی صحابہ کے مرتبے کو کہاں سے پا سکتا ہے تو ان کے مقابلے میں محض خالی ہاتھ اور بےسرمایہ ہے۔
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں جانے دیجئیے آپ مجھے بتلا دیئجے۔ آپ نے فرمایا، (سیدنا) ابوہریرہ (رضی اللہ عنہا) یوں کہو «تَوَكَّلْت عَلَى الْحَيّ الَّذِي لَا يَمُوت الْحَمْد لِلَّهِ الَّذِي لَمْ يَتَّخِذ وَلَدًا وَلَمْ يَكُنْ لَهُ شَرِيك فِي الْمُلْك وَلَمْ يَكُنْ لَهُ وَلِيّ مِنْ الذُّلّ وَكَبِّرْهُ تَكْبِيرًا» میں نے یہ وظیفہ پڑھنا شروع کر دیا، چند دن گزرے تھے کہ میری حالت بہت ہی سنور گئی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیکھا اور پوچھا (سیدنا) ابوہریرہ (رضی اللہ عنہا) یہ کیا ہے؟ میں نے کہا ان کلمات کی وجہ سے اللہ کی طرف سے برکت ہے جو آپ نے مجھے سکھائے تھے۔ } ۱؎ [مسند ابویعلیٰ:6671:ضعیف]
اس کی سند ضعیف ہے اور اس کے متن میں بھی نکارت ہے۔ اسے حافظ ابو یعلیٰ اپنی کتاب میں لائے ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
{ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کا نام آیت «العز» یعنی عزت والی آیت رکھا ہے۔ } ۱؎ [مسند احمد439/3-440:ضعیف]
بعض آثار میں ہے کہ جس گھر میں رات کو یہ آیت پڑھی جائے، اس گھر میں کوئی آفت یا چوری نہیں ہو سکتی «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ { میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلا میرا ہاتھ آپ کے ہاتھ میں تھا یا آپ کا ہاتھ میرے ہاتھ میں تھا۔ راہ چلتے ایک شخص کو آپ نے دیکھا نہایت ردی حالت میں ہے، اس سے پوچھا کہ کیا بات ہے؟ اس نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیماریوں اور نقصانات نے میری یہ درگت کر رکھی ہے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا میں تمہیں کچھ وظیفہ بتا دوں کہ یہ دکھ بیماری سب کچھ جاتی رہے؟ اس نے کہا ہاں ہاں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ضرور بتلائیے احد اور بدر میں آپ کے ساتھ نہ ہونے کا افسوس میرا جاتا رہے گا۔ اس پر آپ ہنس پڑے اور فرمایا تو بدری اور احدی صحابہ کے مرتبے کو کہاں سے پا سکتا ہے تو ان کے مقابلے میں محض خالی ہاتھ اور بےسرمایہ ہے۔
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں جانے دیجئیے آپ مجھے بتلا دیئجے۔ آپ نے فرمایا، (سیدنا) ابوہریرہ (رضی اللہ عنہا) یوں کہو «تَوَكَّلْت عَلَى الْحَيّ الَّذِي لَا يَمُوت الْحَمْد لِلَّهِ الَّذِي لَمْ يَتَّخِذ وَلَدًا وَلَمْ يَكُنْ لَهُ شَرِيك فِي الْمُلْك وَلَمْ يَكُنْ لَهُ وَلِيّ مِنْ الذُّلّ وَكَبِّرْهُ تَكْبِيرًا» میں نے یہ وظیفہ پڑھنا شروع کر دیا، چند دن گزرے تھے کہ میری حالت بہت ہی سنور گئی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیکھا اور پوچھا (سیدنا) ابوہریرہ (رضی اللہ عنہا) یہ کیا ہے؟ میں نے کہا ان کلمات کی وجہ سے اللہ کی طرف سے برکت ہے جو آپ نے مجھے سکھائے تھے۔ } ۱؎ [مسند ابویعلیٰ:6671:ضعیف]
اس کی سند ضعیف ہے اور اس کے متن میں بھی نکارت ہے۔ اسے حافظ ابو یعلیٰ اپنی کتاب میں لائے ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔