قُلۡ اٰمِنُوۡا بِہٖۤ اَوۡ لَا تُؤۡمِنُوۡا ؕ اِنَّ الَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الۡعِلۡمَ مِنۡ قَبۡلِہٖۤ اِذَا یُتۡلٰی عَلَیۡہِمۡ یَخِرُّوۡنَ لِلۡاَذۡقَانِ سُجَّدًا ﴿۱۰۷﴾ۙ
کہہ دے تم اس پر ایمان لاؤ، یا ایمان نہ لاؤ، بے شک جن لوگوں کو اس سے پہلے علم دیا گیا، جب ان کے سامنے اسے پڑھا جاتا ہے وہ ٹھوڑیوں کے بل سجدہ کرتے ہوئے گر جاتے ہیں۔
En
کہہ دو کہ تم اس پر ایمان لاؤ یا نہ لاؤ (یہ فی نفسہ حق ہے) جن لوگوں کو اس سے پہلے علم (کتاب) دیا ہے۔ جب وہ ان کو پڑھ کر سنایا جاتا ہے تو وہ تھوڑیوں کے بل سجدے میں گر پڑتے ہیں
En
کہہ دیجئیے! تم اس پر ایمان ﻻؤ یا نہ ﻻؤ جنہیں اس سے پہلے علم دیا گیا ہے ان کے پاس تو جب بھی اس کی تلاوت کی جاتی ہے تو وه ٹھوڑیوں کے بل سجده میں گر پڑتے ہیں
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 107تا109) ➊ { قُلْ اٰمِنُوْا بِهٖۤ اَوْ لَا تُؤْمِنُوْا:} یعنی تمھارے ماننے یا نہ ماننے سے اس کی عظمت نہ بڑھتی ہے اور نہ گھٹتی ہے۔ یہ تہدید و انکار کے طور پر ان لوگوں سے خطاب ہے جو قرآن کے واضح دلائل کی موجودگی میں معجزات کا مطالبہ کرتے تھے۔
➋ { اِنَّ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ مِنْ قَبْلِهٖۤ:} یعنی تم ایمان لاؤ یا نہ لاؤ، تم سے اچھے اور نیک اہل علم جو پچھلی آسمانی کتابوں کی تعلیمات سے واقف ہیں اور وحی و نبوت کی حقیقت کو سمجھتے ہیں، جیسے ورقہ بن نوفل، عبد اللہ بن سلام، سلمان فارسی اور نجاشی، وہ آپ کو رسول مانتے اور تسلیم کرتے ہیں کہ یہ وہی پیغمبر ہے جس کی بشارت تورات و انجیل میں دی گئی ہے۔
➌ { اِذَا يُتْلٰى عَلَيْهِمْ …: ”أَذْقَانٌ“ ”ذَقَنٌ“} کی جمع ہے، ٹھوڑیاں۔ {” اِنْ كَانَ وَعْدُ رَبِّنَا “} اصل میں {” إِنَّهُ كَانَ وَعْدُ رَبِّنَا “} تھا، یعنی حنفاء اور اہل کتاب علماء کے سامنے جب قرآن کریم کی تلاوت کی جاتی ہے تو وہ اللہ کا شکر ادا کرنے کے لیے ٹھوڑیوں کے بل سجدے میں گر جاتے ہیں کہ اس اللہ کا احسان ہے کہ ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ پا لیا اور قرآن پر ایمان لے آئے اور اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرتے ہیں کہ ہمارا رب وعدہ خلافی اور ہر عیب سے پاک ہے، یقینا ہمارے رب کا وعدہ ہمیشہ پورا ہو کر رہتا ہے، اس لیے اس نے اپنے وعدے کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرما دیا۔
➍ امام شافعی رحمہ اللہ نے اس آیت سے استدلال کیا کہ{” سُبْحٰنَ رَبِّنَاۤ اِنْ كَانَ وَعْدُ رَبِّنَا لَمَفْعُوْلًا “} کو سجدۂ تلاوت میں پڑھنا مستحب ہے۔ (اکلیل)
➎ {يَخِرُّوْنَ لِلْاَذْقَانِ سُجَّدًا …:} قرآن کریم میں مذکور نصیحت سن کر شدت تاثر سے ٹھوڑیوں کے بل سجدے میں روتے ہوئے گر جاتے ہیں اور قرآن سننا ان کے خشوع اور عجز و انکسار میں اور اضافہ کر دیتا ہے، ایسے اہلِ کتاب کی یہ کیفیت قرآن میں کئی جگہ بیان ہوئی ہے۔ دیکھیے مائدہ (۸۳، ۸۴) اور قصص (۵۲ تا ۵۴)۔
ٹھوڑیوں کے بل گرنے کے تکرار سے مقصود دو مختلف حالتوں کو ظاہر کرنا ہے، یعنی سجدہ ریز ہو کر اللہ کی تسبیح کرنا اور سجدے میں گر کر رونا۔ یا یہ سجدے کے تکرار کو ظاہر کرتا ہے کہ وہ بار بار سجدہ کرتے ہیں۔ شاہ عبد القادر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ”نماز میں سجدہ دو بار ہوتا ہے، اس واسطے دوبار فرمایا کہ پہلی بار قرآن کی اعجازی تاثیر کے نتیجے میں اور دوسری بار خشوع و خضوع کے لیے۔“ (موضح) واضح رہے کہ احادیث میں اللہ کے ذکر کے وقت (جس میں قرآن بھی شامل ہے) رونے کی بڑی فضیلت آئی ہے۔ چنانچہ حدیث میں عرش کا سایہ حاصل کرنے والے سات خوش بختوں میں ایک وہ بندہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ذَكَرَ اللّٰهَ خَالِيًا فَفَاضَتْ عَيْنَاهُ] [مسلم: ۱۰۳۱۔ بخاری، الزکاۃ، باب فضل إخفاء الصدقۃ: ۶۴۷۹]”جس نے خلوت میں اللہ کو یاد کیا تو اس کی آنکھیں بہ پڑیں۔“
➋ { اِنَّ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ مِنْ قَبْلِهٖۤ:} یعنی تم ایمان لاؤ یا نہ لاؤ، تم سے اچھے اور نیک اہل علم جو پچھلی آسمانی کتابوں کی تعلیمات سے واقف ہیں اور وحی و نبوت کی حقیقت کو سمجھتے ہیں، جیسے ورقہ بن نوفل، عبد اللہ بن سلام، سلمان فارسی اور نجاشی، وہ آپ کو رسول مانتے اور تسلیم کرتے ہیں کہ یہ وہی پیغمبر ہے جس کی بشارت تورات و انجیل میں دی گئی ہے۔
➌ { اِذَا يُتْلٰى عَلَيْهِمْ …: ”أَذْقَانٌ“ ”ذَقَنٌ“} کی جمع ہے، ٹھوڑیاں۔ {” اِنْ كَانَ وَعْدُ رَبِّنَا “} اصل میں {” إِنَّهُ كَانَ وَعْدُ رَبِّنَا “} تھا، یعنی حنفاء اور اہل کتاب علماء کے سامنے جب قرآن کریم کی تلاوت کی جاتی ہے تو وہ اللہ کا شکر ادا کرنے کے لیے ٹھوڑیوں کے بل سجدے میں گر جاتے ہیں کہ اس اللہ کا احسان ہے کہ ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ پا لیا اور قرآن پر ایمان لے آئے اور اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرتے ہیں کہ ہمارا رب وعدہ خلافی اور ہر عیب سے پاک ہے، یقینا ہمارے رب کا وعدہ ہمیشہ پورا ہو کر رہتا ہے، اس لیے اس نے اپنے وعدے کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرما دیا۔
➍ امام شافعی رحمہ اللہ نے اس آیت سے استدلال کیا کہ{” سُبْحٰنَ رَبِّنَاۤ اِنْ كَانَ وَعْدُ رَبِّنَا لَمَفْعُوْلًا “} کو سجدۂ تلاوت میں پڑھنا مستحب ہے۔ (اکلیل)
➎ {يَخِرُّوْنَ لِلْاَذْقَانِ سُجَّدًا …:} قرآن کریم میں مذکور نصیحت سن کر شدت تاثر سے ٹھوڑیوں کے بل سجدے میں روتے ہوئے گر جاتے ہیں اور قرآن سننا ان کے خشوع اور عجز و انکسار میں اور اضافہ کر دیتا ہے، ایسے اہلِ کتاب کی یہ کیفیت قرآن میں کئی جگہ بیان ہوئی ہے۔ دیکھیے مائدہ (۸۳، ۸۴) اور قصص (۵۲ تا ۵۴)۔
ٹھوڑیوں کے بل گرنے کے تکرار سے مقصود دو مختلف حالتوں کو ظاہر کرنا ہے، یعنی سجدہ ریز ہو کر اللہ کی تسبیح کرنا اور سجدے میں گر کر رونا۔ یا یہ سجدے کے تکرار کو ظاہر کرتا ہے کہ وہ بار بار سجدہ کرتے ہیں۔ شاہ عبد القادر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ”نماز میں سجدہ دو بار ہوتا ہے، اس واسطے دوبار فرمایا کہ پہلی بار قرآن کی اعجازی تاثیر کے نتیجے میں اور دوسری بار خشوع و خضوع کے لیے۔“ (موضح) واضح رہے کہ احادیث میں اللہ کے ذکر کے وقت (جس میں قرآن بھی شامل ہے) رونے کی بڑی فضیلت آئی ہے۔ چنانچہ حدیث میں عرش کا سایہ حاصل کرنے والے سات خوش بختوں میں ایک وہ بندہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ذَكَرَ اللّٰهَ خَالِيًا فَفَاضَتْ عَيْنَاهُ] [مسلم: ۱۰۳۱۔ بخاری، الزکاۃ، باب فضل إخفاء الصدقۃ: ۶۴۷۹]”جس نے خلوت میں اللہ کو یاد کیا تو اس کی آنکھیں بہ پڑیں۔“
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
17۔ 1 یعنی وہ علماء جنہوں نے نزول قرآن سے قبل کتب سابقہ پڑھی ہیں اور وہ وحی کی حقیقت اور رسالت کی علامات سے واقف ہیں، وہ سجدہ ریز ہوتے ہیں، اس بات پر اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے کہ انھیں آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی پہچان کی توفیق دی اور قرآن و رسالت پر ایمان لانے کی سعادت نصیب فرمائی۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
107۔ آپ ان سے کہئے: تم اس پر ایمان لاؤ یا نہ لاؤ، اس [126] سے پہلے جن لوگوں کو علم دیا گیا ہے جب انھیں یہ قرآن پڑھ کر سنایا جاتا ہے تو وہ تھوڑیوں کے بل سجدہ میں گر پڑتے ہیں۔
[126] منصف مزاج اہل کتاب کا قرآن اور نبی کی تصدیق کرنا:۔
اے قریش مکہ! تم قرآن کو منزل من اللہ تسلیم کرو یا نہ کرو اس سے کچھ فرق نہیں پڑتا۔ کیونکہ سابقہ امتوں میں سے بھی جو لوگ اہل علم اور منصف مزاج ہیں وہ قرآن کے انداز بیان سے ہی یہ سمجھ جاتے ہیں کہ یہ واقعی کلام الٰہی ہے کیونکہ اس میں سابقہ آسمانی کتابوں کے طرز بیان سے بہت حد تک مماثلت پائی جاتی ہے۔ لہٰذا اس کی آیات سنتے ہیں تو ان پر رقت طاری ہو جاتی ہے اور وہ سجدہ ریز ہو جاتے ہیں اور انھیں یہ یقین ہو جاتا ہے اور پکار اٹھتے ہیں کہ یہ تو وہی نبی ہے جس کے متعلق تورات و انجیل میں بشارتیں مذکور ہیں اور یہ نبی اللہ کا وہی وعدہ ہے جو اب پورا ہو کے رہا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
سماعت قرآن عظیم کے بعد ٭٭
فرمان ہے کہ تمہارے ایمان پر صداقت قرآن موقوف نہیں، تم مانو یا نہ مانو، قرآن فی نفسہ کلام اللہ اور بیشک بر حق ہے۔ اس کا ذکر تو ہمیشہ سے قدیم کتابوں میں چلا آرہا ہے۔ جو اہل کتاب صالح اور عامل کتاب اللہ ہیں، جنہوں نے اگلی کتابوں میں کوئی تحریف و تبدیلی نہیں کی، وہ تو اس قرآن کو سنتے ہی بے چین ہو کر شکریہ کا سجدہ کرتے ہیں کہ اللہ تیرا شکر ہے کہ تو نے ہماری موجودگی میں اس رسول کو بھیجا اور اس کلام کو نازل فرمایا۔ اپنے رب کی قدرت کاملہ پر اس کی تعظیم و توقیر کرتے ہیں۔ جانتے تھے کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے، غلط نہیں ہوتا۔
آج وہ وعدہ پورا دیکھ کر خوش ہوتے ہیں، اپنے رب کی تسبیح بیان کرتے ہیں اور اس کے وعدے کی سچائی کا اقرار کرتے ہیں۔ خشوع و خضوع، فروتنی اور عاجزی کے ساتھ روتے گڑ گڑاتے اللہ کے سامنے اپنی ٹھوڑیوں کے بل سجدے میں گر پڑتے ہیں۔ ایمان و تصدیق اور کلام الٰہی اور رسول اللہ کی وجہ سے وہ ایمان و اسلام میں، ہدایت و تقویٰ میں، ڈر اور خوف میں اور بڑھ جاتے ہیں۔ یہ عطف صفت کا صفت پر ہے، سجدے کا سجدے پر نہیں۔
آج وہ وعدہ پورا دیکھ کر خوش ہوتے ہیں، اپنے رب کی تسبیح بیان کرتے ہیں اور اس کے وعدے کی سچائی کا اقرار کرتے ہیں۔ خشوع و خضوع، فروتنی اور عاجزی کے ساتھ روتے گڑ گڑاتے اللہ کے سامنے اپنی ٹھوڑیوں کے بل سجدے میں گر پڑتے ہیں۔ ایمان و تصدیق اور کلام الٰہی اور رسول اللہ کی وجہ سے وہ ایمان و اسلام میں، ہدایت و تقویٰ میں، ڈر اور خوف میں اور بڑھ جاتے ہیں۔ یہ عطف صفت کا صفت پر ہے، سجدے کا سجدے پر نہیں۔