ترجمہ و تفسیر — سورۃ الإسراء/بني اسرائيل (17) — آیت 106

وَ قُرۡاٰنًا فَرَقۡنٰہُ لِتَقۡرَاَہٗ عَلَی النَّاسِ عَلٰی مُکۡثٍ وَّ نَزَّلۡنٰہُ تَنۡزِیۡلًا ﴿۱۰۶﴾
اور عظیم قرآن، ہم نے اس کو جدا جدا کرکے (نازل) کیا، تاکہ تو اسے لوگوں پر ٹھہر ٹھہر کر پڑھے اور ہم نے اسے نازل کیا، (تھوڑا تھوڑا) نازل کرنا۔ En
اور ہم نے قرآن کو جزو جزو کرکے نازل کیا ہے تاکہ تم لوگوں کو ٹھیر ٹھیر کر پڑھ کر سناؤ اور ہم نے اس کو آہستہ آہستہ اُتارا ہے
En
قرآن کو ہم نے تھوڑا تھوڑا کرکے اس لئے اتارا ہے کہ آپ اسے بہ مہلت لوگوں کو سنائیں اور ہم نے خود بھی اسے بتدریج نازل فرمایا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 106){وَ قُرْاٰنًا فَرَقْنٰهُ لِتَقْرَاَهٗ …: قُرْاٰنًا } پر تنوین تعظیم کی ہے اور یہ فعل محذوف { اٰتَيْنَا } کا مفعول ہے۔ یعنی ہم نے آپ کو یہ عظیم قرآن دیا، ہم نے اسے جدا جدا کرکے نازل کیا، یعنی اس کی سورتیں اور آیتیں جدا جدا رکھیں اور تقریباً تیئیس برس میں تھوڑا تھوڑا کرکے نازل کیا۔ اس میں کئی حکمتیں ہیں، مثلاً یہ کہ اس کے پڑھنے، یاد کرنے، سمجھنے اور عمل کرنے میں آسانی ہو، موقع محل کے اعتبار سے اس کے مطالب ذہن نشین ہو جائیں، تاکہ آئندہ کسی آیت کے بے موقع استعمال کی گنجائش نہ رہے۔ جب بھی کفار کے طرزِ عمل سے کوئی پریشانی یا گھبراہٹ ہو تو اس کی آیات کے ساتھ آپ کے دل کو قائم رکھا جائے اور مسلمانوں کو کوئی مسئلہ پیش آئے یا کفار کی طرف سے کوئی اعتراض ہو تو اس کا جواب موقع پر دیا جا سکے۔ مزید دیکھیے سورۂ فرقان کی آیت (۳۲، ۳۳)۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

16۔ 1 فَرَقْنَاہُ کے ایک دوسرے معنی بَیَّنَّاہ وَ اَوْضَحْنَاہ (ہم نے اسے کھول کر وضاحت سے بیان کردیا) بھی کئے گئے ہیں

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

106۔ اور ہم نے قرآن کو موقع بہ موقع الگ الگ کر کے نازل [125] کیا ہے تاکہ آپ اسے وقفہ وقفہ سے لوگوں کو پڑھ کر سنائیں اور اسے بتدریج تھوڑا تھوڑا کر کے نازل کیا ہے۔
[125] قرآن کو بتدریج نازل کرنے کے فوائد:۔
مشرکین مکہ کا ایک اعتراض یہ بھی تھا کہ اگر قرآن اللہ کا کلام ہوتا تو یکبارگی نازل ہو جاتا۔ ہو نہ ہو یہ نبی ساتھ ساتھ اسے تصنیف کرتا جاتا ہے اور جیسے حالات ہوں اس کے مطابق لوگوں کو سناتا رہتا ہے اللہ تعالیٰ نے اس کے جواب میں فرمایا کہ اس قرآن کو موقع بہ موقع اور بتدریج ہم ہی نے اتارا ہے اور اس طرح وقفہ وقفہ پر اتارنے میں کئی مصلحتیں اور فوائد ہیں۔ مثلاً یہ کہ لوگوں کو اس کے حفظ کرنے میں آسانی رہے نیز ہر ایک کو معلوم ہو جائے کہ فلاں آیت کس موقع پر نازل ہوئی تھی اور اس کا صحیح مفہوم کیا ہے نیز یہ کہ لوگوں کو اس کے اوامر پر عمل کرنے اور نواہی سے اجتناب کرنے میں آسانی رہے اور اگر یکدم ہی ان پر سب اوامر و نواہی نازل کر دیتے تو سب انکار کر دیتے اور کوئی ان کو اپنے آپ پر نافذ کرنے کی ہمت نہ پاتا۔ نیز یہ کہ اس طرح مختلف اوقات پر آیات نازل کرنے سے مومنوں کا ایمان زیادہ ہوتا رہتا ہے اور پختہ تر بنتا جاتا ہے ان میں مصائب کو برداشت کرنے کی قوت اور استقلال پیدا ہوتا ہے اور یہ سب فوائد اسی صورت میں حاصل ہو سکتے تھے کہ قرآن وقفہ وقفہ سے نازل ہوتا اور اوامر و نواہی میں تدریج کو ملحوظ رکھا جاتا۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

قرآن کریم کی صفات عالیہ ٭٭
ارشاد ہے کہ «لَّـٰكِنِ اللَّـهُ يَشْهَدُ بِمَا أَنزَلَ إِلَيْكَ ۖ أَنزَلَهُ بِعِلْمِهِ وَالْمَلَائِكَةُ يَشْهَدُونَ ۚ وَكَفَىٰ بِاللَّـهِ شَهِيدًا» ‏‏‏‏ ۱؎ [4-النساء:166]‏‏‏‏ ’ قرآن حق کے ساتھ نازل ہوا، یہ سراسر حق ہی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے علم کے ساتھ اسے نازل فرمایا ہے۔ اس کی حقانیت پر وہ خود شاہد ہے اور فرشتے بھی گواہ ہیں۔ ‘
اس میں وہی ہے جو اس نے خود اپنی دانست کے ساتھ اتارا ہے، اس کے تمام حکم احکام اور نہی و ممانعت اسی کی طرف سے ہے۔ حق والے نے حق کے ساتھ اسے اتارا اور یہ حق کے ساتھ ہی تجھ تک پہنچا، نہ راستے میں کوئی باطل اس میں ملا نہ باطل کی یہ شان کہ اس سے مخلوط ہو سکے۔
یہ بالکل محفوظ ہے، کمی زیادتی سے یکسر پاک ہے۔ پوری طاقت والے امانتدار فرشتے کی معرفت نازل ہوا ہے جو آسمانوں میں ذی عزت اور وہاں کا سردار ہے۔ تیرا کام مومنوں کو خوشی سنانا اور کافروں کو ڈرانا ہے۔ اس قرآن کو ہم نے لوح محفوظ سے بیت العزۃ پر نازل فرمایا جو آسمان اول میں ہے۔
وہاں سے متفرق تھوڑا تھوڑا کر کے واقعات کے مطابق تیئس برس میں دنیا پر نازل ہوا۔ «فَرَقْنَاهُ» کی دوسری قرأت «فَرَّقْنَاہُ» ہے یعنی ایک ایک آیت کر کے تفسیر اور تفصیل اور تبیین کے ساتھ اتارا ہے کہ تو اسے لوگوں کو بہ سہولت پہنچا دے اور آہستہ آہستہ انہیں سنا دے، ہم نے اسے تھوڑا تھوڑا کر کے نازل فرمایا ہے۔