ترجمہ و تفسیر — سورۃ الإسراء/بني اسرائيل (17) — آیت 105

وَ بِالۡحَقِّ اَنۡزَلۡنٰہُ وَ بِالۡحَقِّ نَزَلَ ؕ وَ مَاۤ اَرۡسَلۡنٰکَ اِلَّا مُبَشِّرًا وَّ نَذِیۡرًا ﴿۱۰۵﴾ۘ
اور ہم نے اسے حق ہی کے ساتھ نازل کیا اور یہ حق ہی کے ساتھ نازل ہوا اور ہم نے تجھے نہیں بھیجا مگر خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا۔ En
اور ہم نے اس قرآن کو سچائی کے ساتھ نازل کیا ہے اور وہ سچائی کے ساتھ نازل ہوا اور (اے محمدﷺ) ہم نے تم کو صرف خوشخبری دینے والا اور ڈر سنانے والا بنا کر بھیجا ہے
En
اور ہم نے اس قرآن کو حق کے ساتھ اتارا اور یہ بھی حق کے ساتھ اترا۔ ہم نے آپ کو صرف خوشخبری سنانے واﻻ اور ڈرانے واﻻ بنا کر بھیجا ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 105) ➊ {وَ بِالْحَقِّ اَنْزَلْنٰهُ:} یعنی اس میں جو بات بھی ہے سراسر حق ہے۔ { وَ بِالْحَقِّ نَزَلَ } اور جیسے ہم نے اتارا ویسے ہی وہ اترا ہے، درمیان میں کسی کا دخل نہیں ہوا کہ وہ کوئی کمی بیشی یا تبدیلی کر سکے۔ وحیٔ الٰہی کی حفاظت کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ جن کی آیات (۲۶ تا ۲۸) اور اس مفہوم کے قریب سورۂ انعام کی آیت (۱۱۵) موسیٰ علیہ السلام کے معجزات کا ذکر کرکے جو قرآن کا ذکر فرمایا تو اس سے مقصود کفار قریش کو متنبہ کرنا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے الٹی سیدھی فرمائشیں کرنے کے بجائے اسی قرآن پر غور کیوں نہیں کرتے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی سب سے بڑی دلیل ہے۔
➋ { وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا مُبَشِّرًا وَّ نَذِيْرًا:} یعنی ہم نے آپ کو یہ قدرت دے کر نہیں بھیجا کہ لوگوں کے دلوں میں ایمان پیدا کر دیں، بلکہ آپ کا کام صرف دعوت دینا، قبول کرنے والے کو خوش خبری دینا اور انکار کرنے والے کو جہنم سے ڈرانا ہے۔ دیکھیے سورۂ غاشیہ (۲۱، ۲۲)۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

15۔ 1 یعنی با حفاظت آپ تک پہنچ گیا، اس میں راستے میں کوئی کمی بیشی اور کوئی تبدیلی اور آمیزش نہیں کی گئی اس لئے کہ اس کو لانے والا فرشتہ۔ شدید القوی، الامین، المکین اور المطاع فی الملاء الاعلی ہے۔ یہ وہ صفات ہیں جو حضرت جبرائیل ؑ کے متعلق قرآن میں بیان کی گئی ہیں۔ 15۔ 2 بَشِیْر اطاعت گزار مومن کے لئے اور نَذِیْر نافرمان کے لئے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

105۔ ہم نے اس قرآن کو حق کے ساتھ اتارا ہے اور حق کے ساتھ [124] ہی یہ نازل ہوا ہے اور ہم نے آپ کو محض بشارت دینے والا اور ڈرانے والا (بنا کر) بھیجا ہے۔
[124] یعنی جن مقاصد کی خاطر ہم نے یہ قرآن جس حق و صداقت کے ساتھ نازل کیا تھا بعینہ اسی حق و صداقت کے ساتھ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دل تک پہنچ گیا۔ اس میں کسی طرح کی کمی بیشی نہیں ہوئی نہ اس راہ میں کہیں باطل کی آمیزش ہوئی، نہ ہی اس میں سے کچھ کلام نازل ہونے سے رہ گیا جو کچھ رسول پر نازل ہوا وہ بعینہ وہی کچھ تھا جو ہم نے نازل کیا تھا۔ اب رسول کا کام یہ ہے کہ جو کچھ نازل ہوا ہے اسے لوگوں تک پہنچا دے۔ اللہ کے فرمانبرداروں کے لیے اس کلام میں جو بشارتیں ہیں ان سے انھیں مطلع کر دے اور سرکشوں کے لیے جو جو عذاب مذکور ہیں ان کے ذریعہ نافرمانوں کو ڈرائے اور انھیں متنبہ کر دے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

قرآن کریم کی صفات عالیہ ٭٭
ارشاد ہے کہ «لَّـٰكِنِ اللَّـهُ يَشْهَدُ بِمَا أَنزَلَ إِلَيْكَ ۖ أَنزَلَهُ بِعِلْمِهِ وَالْمَلَائِكَةُ يَشْهَدُونَ ۚ وَكَفَىٰ بِاللَّـهِ شَهِيدًا» ‏‏‏‏ ۱؎ [4-النساء:166]‏‏‏‏ ’ قرآن حق کے ساتھ نازل ہوا، یہ سراسر حق ہی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے علم کے ساتھ اسے نازل فرمایا ہے۔ اس کی حقانیت پر وہ خود شاہد ہے اور فرشتے بھی گواہ ہیں۔ ‘
اس میں وہی ہے جو اس نے خود اپنی دانست کے ساتھ اتارا ہے، اس کے تمام حکم احکام اور نہی و ممانعت اسی کی طرف سے ہے۔ حق والے نے حق کے ساتھ اسے اتارا اور یہ حق کے ساتھ ہی تجھ تک پہنچا، نہ راستے میں کوئی باطل اس میں ملا نہ باطل کی یہ شان کہ اس سے مخلوط ہو سکے۔
یہ بالکل محفوظ ہے، کمی زیادتی سے یکسر پاک ہے۔ پوری طاقت والے امانتدار فرشتے کی معرفت نازل ہوا ہے جو آسمانوں میں ذی عزت اور وہاں کا سردار ہے۔ تیرا کام مومنوں کو خوشی سنانا اور کافروں کو ڈرانا ہے۔ اس قرآن کو ہم نے لوح محفوظ سے بیت العزۃ پر نازل فرمایا جو آسمان اول میں ہے۔
وہاں سے متفرق تھوڑا تھوڑا کر کے واقعات کے مطابق تیئس برس میں دنیا پر نازل ہوا۔ «فَرَقْنَاهُ» کی دوسری قرأت «فَرَّقْنَاہُ» ہے یعنی ایک ایک آیت کر کے تفسیر اور تفصیل اور تبیین کے ساتھ اتارا ہے کہ تو اسے لوگوں کو بہ سہولت پہنچا دے اور آہستہ آہستہ انہیں سنا دے، ہم نے اسے تھوڑا تھوڑا کر کے نازل فرمایا ہے۔