(آیت 104) ➊ {وَقُلْنَامِنْۢبَعْدِهٖلِبَنِيْۤاِسْرَآءِيْلَاسْكُنُواالْاَرْضَ: ”الْاَرْضَ“} سے مراد ارض شام بیان کی جاتی ہے، مگر سورۂ شعراء کی آیت (۵۹) سے معلوم ہوتا ہے کہ آخر کار بنی اسرائیل کی حکومت فلسطین و شام کے بعد مصر پر بھی قائم ہو گئی تھی، فرمایا: «كَذٰلِكَوَاَوْرَثْنٰهَابَنِيْۤاِسْرَآءِيْلَ» [الشعراء: ۵۹]”ایسا ہی ہوا اور ہم نے اس (مصر) کا وارث بنی اسرائیل کو بنا دیا۔“ اگرچہ یہ سب فتوحات موسیٰ علیہ السلام کی زندگی میں نہ ہو سکیں۔ دیکھیے سورۂ مائدہ (۲۰ تا ۲۶)۔ ➋ { فَاِذَاجَآءَوَعْدُالْاٰخِرَةِجِئْنَابِكُمْلَفِيْفًا:”لَفِيْفًا“”لَفُّالشَّيْءِبِالشَّيْءِأَيْضَمُّهُاِلَيْهِوَوَصْلُهُبِهِ۔“”جِئْنَابِكُمْلَفِيْفًا“”أَيْمُجْتَمِعِيْنَ،مُخْتَلِطِيْنَمِنْكُلِّقَبِيْلَةٍ“} (قاموس) یعنی ہم اچھے و برے، مومن و کافر سب کو حشر کے میدان میں جمع کریں گے، تاکہ ان کا ہمیشہ کے لیے فیصلہ کر دیا جائے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
14۔ 1 بظاہر اس سرزمین جس سے فرعون نے موسیٰ ؑ اور ان کی قوم کو نکالنے کا ارادہ کیا تھا۔ مگر تاریخ بنی اسرائیل کی شہادت یہ ہے کہ مصر سے نکلنے کے بعد دوبارہ مصر نہیں گئے، بلکہ چالیس سال میدان تیہ میں گزار کر فلسطین میں داخل ہوئے۔ اس کی شہادت سورة اعراف وغیرہ میں قرآن کے بیان سے ملتی ہے۔ اس لئے صحیح یہی ہے کہ اس سے مراد فلسطین کی سرزمین ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
104۔ اس کے بعد ہم نے بنی اسرائیل سے کہا کہ اس سرزمین [123] میں آباد ہو جاؤ۔ پھر جب آخرت کے وعدے کا وقت آئے گا تو ہم تمہیں اکٹھا کر کے لے آئیں گے۔
[123] کفار مکہ اور فرعون کی کرتوتوں اور انجام میں مماثلت:۔
اگرچہ موسیٰؑ کو یہ حکم ہوا تھا کہ وہ بنی اسرائیل کو لے جا کر شام کا علاقہ فتح کریں اور اس میں آباد ہوں اور کچھ عرصہ بعد ایسا ہوا بھی تھا۔ تاہم اس آیت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ فرعون اور فرعونیوں کی تباہی کے بعد بنی اسرائیل ہی کے کچھ لوگ مصر کے علاقے پر بھی قابض ہو گئے تھے اور اس مقام پر اس واقعہ کو مختصراً بیان کرنے کا مقصود یہ ہے کہ کفار مکہ بھی مسلمانوں پر ایسے ہی سختیاں کر رہے تھے جیسے آل فرعون بنی اسرائیل پر کرتے تھے لیکن انجام کار ہوا یہ کہ آل فرعون تو تباہ ہو گئے اور بنی اسرائیل ملک پر قابض ہو گئے تھے۔ اور اب چونکہ ان لوگوں نے بھی اپنے عز و جاہ کی خاطر اسلام کا نام و نشان مٹا دینے کا تہیہ کر رکھا ہے تو ان کا وہی حشر ہونے والا ہے جو آل فرعون کا ہوا تھا۔ یہ تو سزا دنیا میں ملے گی اور آخرت میں بھی ایسے لوگ ہمارے عذاب سے بچ کر نہیں جا سکتے۔ ہم ان سب کو اکٹھے کر کے اپنے حضور حاضر کر لیں گے پھر ان کے کرتوتوں کی انھیں پوری پوری سزا دیں گے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔