ترجمہ و تفسیر — سورۃ الإسراء/بني اسرائيل (17) — آیت 101

وَ لَقَدۡ اٰتَیۡنَا مُوۡسٰی تِسۡعَ اٰیٰتٍۭ بَیِّنٰتٍ فَسۡـَٔلۡ بَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ اِذۡ جَآءَہُمۡ فَقَالَ لَہٗ فِرۡعَوۡنُ اِنِّیۡ لَاَظُنُّکَ یٰمُوۡسٰی مَسۡحُوۡرًا ﴿۱۰۱﴾
اور بلاشبہ یقینا ہم نے موسیٰ کو نو واضح نشانیاں دیں، سو بنی اسرائیل سے پوچھ، جب وہ ان کے پاس آیا تو فرعون نے اس سے کہا یقینا میں تو تجھے اے موسیٰ! جادو زدہ سمجھتا ہوں۔ En
اور ہم نے موسیٰ کو نو کھلی نشانیاں دیں تو بنی اسرائیل سے دریافت کرلو کہ جب وہ ان کے پاس آئے تو فرعون نے ان سے کہا کہ موسیٰ میں خیال کرتا ہوں کہ تم پر جادو کیا گیا ہے
En
ہم نے موسیٰ کو نو معجزے بالکل صاف صاف عطا فرمائے، تو خود ہی بنی اسرائیل سے پوچھ لے کہ جب وه ان کے پاس پہنچے تو فرعون بوﻻ کہ اے موسیٰ میرے خیال میں تو تجھ پر جادو کردیا گیا ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 101) ➊ {وَ لَقَدْ اٰتَيْنَا مُوْسٰى تِسْعَ اٰيٰتٍۭ …:} یعنی ہم موسیٰ علیہ السلام کو ایسے نو (۹) معجزے دے چکے ہیں جو ان کی نبوت پر کھلی نشانی تھے۔ اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تسلی ہے اور قریش کو اس مطالبے کا جواب دیا ہے جو انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تھا کہ ہم آپ پر ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ آپ یہ کام کرکے نہ دکھا دیں۔ مطلب یہ ہے کہ آپ سے تو چھ معجزوں کا مطالبہ کیا گیا ہے، ہم نے موسیٰ علیہ السلام کو نو معجزے دیے، مگر نہ ماننے والوں نے پھر بھی نہ مانا۔ ان نو (۹) معجزوں کا ذکر سورۂ اعراف کی آیات (۱۰۷،۱۰۸،۱۳۰،۱۳۳) میں ہے۔ بعض نے ان سے شریعت کے نو (۹) احکام مراد لیے ہیں، جو تمام شریعتوں میں ثابت تھے، مگر صحیح یہی ہے کہ یہاں نو (۹) معجزات ہی مراد ہیں وہ نو احکام دراصل تورات میں مذکور نو وصیتیں ہیں جو بنی اسرائیل کو دی گئیں، ان کا فرعون کے سامنے پیش کیے گئے معجزوں سے کوئی تعلق نہیں۔ اس کی دلیل سورۂ نمل کی آیات (۱۰ تا ۱۲) ہیں، جن میں اللہ تعالیٰ نے عصائے موسیٰ اور ید بیضا کا ذکر کرکے فرمایا: «فِيْ تِسْعِ اٰيٰتٍ اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ قَوْمِهٖ» ‏‏‏‏ [النمل: ۱۲] یعنی یہ دونوں معجزے ان نو (۹) معجزوں میں شامل تھے جو موسیٰ علیہ السلام کو دے کر فرعون اور اس کی قوم کی طرف بھیجا گیا۔ موسیٰ علیہ السلام کو اور معجزات بھی دیے گئے، مثلاً پتھر سے بارہ چشمے جاری ہونا، گائے کا حصہ مارنے سے مردہ زندہ ہونا، من و سلویٰ، بادلوں کا سایہ، پہاڑ کا اکھڑ کر ان پر آکھڑا ہونا وغیرہ، مگر یہ بنی اسرائیل کے لیے تھے۔
➋ { اِنِّيْ لَاَظُنُّكَ يٰمُوْسٰى مَسْحُوْرًا:} یہ بالکل اسی قسم کا الزام ہے جو کفار مکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیتے تھے، جیسا کہ قرآن میں ہے: «اِنْ تَتَّبِعُوْنَ اِلَّا رَجُلًا مَّسْحُوْرًا» ‏‏‏‏ [بني إسرائیل: ۴۷]تم پیروی نہیں کرتے مگر ایسے آدمی کی جس پر جادو کیا گیا ہے۔ ہر زمانے میں باطل پرست ناقابل تردید دلائل سن کر حق پرستوں کے بارے میں ایسی ہی باتیں کیا کرتے ہیں۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

11۔ 1 وہ نو معجزے ہیں۔ ہاتھ، لاٹھی، قحط سالی، نقص ثمرات، طوفان، جراد (ٹڈی دل) قمل (کھٹمل، جوئیں) ضفاد (مینڈک) اور خون، امام حسن بصری کہتے ہیں، کہ قحط سالی اور نقص ثمرات ایک ہی چیز ہے اور نواں معجزہ لاٹھی کا جادو گروں کی شعبدہ بازی کو نگل جانا ہے۔ حضرت موسیٰ ؑ کو ان کے علاوہ بھی معجزات دیئے گئے تھے مثلًا لاٹھی کا پتھر پر مارنا، جس سے بارہ چشمے ظاہر ہوگئے تھے، بادلوں کا سایہ کرنا، من وسلوی وغیرہ۔ لیکن یہاں آیات تسعہ سے صرف وہی نو معجزات مراد ہیں، جن کا مشاہدہ فرعون اور اس کی قوم نے کیا۔ اسی لیے حضرت ابن عباس ؓ نے انفلاق بحر (سمندر کا پھٹ کر راستہ بن جانے) کو بھی ان نو معجزات میں شمار کیا ہے اور قحط سالی اور نقص ثمرات کو ایک معجزہ شمار کیا ہے ترمذی کی ایک روایت میں آیات تسعہ کی تفصیل اس سے مختلف بیان کی گئی ہے لیکن سنداً وہ روایت ضعیف ہے اس لیے آیات تسعہ سے مراد یہی مذکورہ معجزات ہیں۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

101۔ ہم نے موسیٰ [119] کو تو واضح آیات دی تھیں تو بنی اسرائیل سے پوچھ لیجئے کہ جب موسیٰ ان کے پاس آئے تو فرعون نے ان سے کہا: ”موسیٰ! میں تو یہ سمجھتا ہوں کہ تجھ پر جادو [120] کر دیا گیا ہے۔“
[119] سیدنا موسیٰؑ کے نو معجزات:۔
یہ نو واضح آیات یا معجزے قرآن کریم میں سورۃ اعراف میں مذکور ہیں اور یہ ہیں عصائے موسیٰ، ید بیضا، بھری مجلس میں بر سر عام جادوگروں کی شکست، سارے ملک میں قحط واقع ہونا، یکے بعد دیگر طوفان، ٹڈی دل، جوؤں، مینڈکوں، اور خون کی بلاؤں کا نازل ہونا۔ یہ ایسے واضح معجزات تھے جو سیدنا موسیٰؑ کی نبوت پر بھی واضح دلائل تھے اور ان کے قلبی اطمینان کے لیے بھی کافی تھے لیکن وہ پھر بھی ایمان نہ لائے اس کی وجہ بھی وہی ہے جو اوپر کے حاشیہ میں مذکور ہوئی ہے۔ قریش کا بھی یہی حال تھا۔ کچھ معجزات تو وہ دیکھ چکے تھے مگر ایمان نہ لائے تھے۔ یہاں یہ بتانا مقصود ہے کہ اگر ان کے مطلوبہ معجزات دکھلا بھی دیئے جائیں تو یہ بھی فرعونیوں کی طرح ایمان لانے کی طرف کبھی نہ آئیں گے۔ علاوہ ازیں ان نو واضح آیات سے متعلق ترمذی میں ایک حدیث ہے جو درج ذیل ہے: صفوان بن عسال مرادی سے روایت ہے کہ ایک یہودی نے دوسرے سے کہا ”آؤ اس نبی کے پاس چلیں اور اس سے کچھ پوچھیں“ وہ کہنے لگا ”اسے نبی نہ کہو، اگر اس نے یہ بات سن لی تو اس کی آنکھیں چمک اٹھیں گی“ چنانچہ وہ دونوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور پوچھا کہ ”موسیٰؑ کو کون سی نو واضح آیات دی گئی تھیں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناؤ، زنا نہ کرو، جس جان کو اللہ نے مارنا حرام قرار دیا ہے اسے ناحق نہ مارو، چوری نہ کرو، جادو نہ کرو، کسی بے قصور کو سلطان کے ہاں نہ لے جاؤ کہ وہ اسے مار ڈالے، کسی پاکدامنہ پر تہمت نہ لگاؤ، جنگ سے فرار نہ کرو۔ راوی شعبہ کو شک ہے کہ نویں بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کہی کہ اے یہود! نویں بات خالصتاً تمہارے لیے ہے کہ ہفتہ کے دن میں زیادتی نہ کرو“ وہ کہنے لگے ”ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے نبی ہیں“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا ”پھر کون سی چیز تمہارے اسلام لانے میں مانع ہے؟“ کہنے لگے ”داؤدؑ نے دعا کی تھی کہ نبی انہی کی اولاد سے ہو۔ نیز ہم ڈرتے ہیں کہ اگر ہم مسلمان ہو گئے تو یہود ہمیں مار ڈالیں گے“ [ترمذي ابواب التفسير]
اس روایت کو حافظ ابن کثیر نے راوی عبد اللہ بن مسلمہ کی وجہ سے مجروح قرار دیا ہے اور تطبیق کی یہ صورت پیش کی ہے کہ شاید یہود نے ان احکام عشرہ کے متعلق پوچھا ہو جو تورات کے شروع میں بطور وصایا لکھے جاتے تھے۔
[120] فرعون کی نظروں میں سیدنا موسیٰؑ کی سحر زدگی یا دیوانگی یہ تھی کہ آپ نے اس سے برملا بنی اسرائیل کی آزادی اور انھیں اپنے ہمراہ بھیجنے کا مطالبہ کر دیا۔ کیونکہ وہ خود کو ایسا شہنشاہ سمجھتا تھا جو اپنی تمام رعایا کے سیاہ و سپید کا مالک بنا بیٹھا تھا اور از راہ تکبر سیدنا موسیٰؑ کے دعوئے نبوت اور اس مطالبہ کو دیوانگی پر محمول کرتا تھا اور بعض لوگوں نے یہاں مسحور سے مراد ساحر لیا ہے جیسا کہ فرعون اپنی رعایا کو یہی یقین دلانا چاہتا تھا۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

نو معجزے ٭٭
موسیٰ علیہ السلام کو نو ایسے معجزے ملے جو آپ کی نبوت کی صداقت اور نبوت پر کھلی دلیل تھی۔ لکڑی، ہاتھ، قحط، دریا، طوفان، ٹڈیاں، جوئیں، مینڈک اور خون۔ یہ تھیں تفصیل وار آیتیں۔ محمد بن کعب کا قول ہے کہ یہ معجزے یہ ہیں: ہاتھ کا چمکیلا بن جانا، لکڑی کا سانپ ہو جانا اور پانچ وہ جن کا بیان سورۃ الاعراف میں ہے اور مالوں کا مٹ جانا اور پتھر۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ سے مروی ہے کہ یہ معجزے آپ کا ہاتھ، آپ کی لکڑی، قحط سالیاں، پھلوں کی کمی، طوفان، ٹڈیاں، جوئیں، مینڈک اور خون ہیں۔ یہ قول زیادہ ظاہر، بہت صاف، بہتر اور قوی ہے۔
حسن بصری رحمہ اللہ نے ان میں سے قحط سالی اور پھلوں کی کمی کو ایک گن کر نواں معجزہ آپ کی لکڑی کا جادو گروں کے سانپوں کو کھا جانا بیان کیا ہے۔ لیکن ان تمام معجزوں کے باوجود فرعونیوں نے تکبر کیا اور اپنی گنہگاری پر اڑے رہے باوجودیکہ دل یقین لا چکا تھا مگر ظلم و زیادتی کر کے کفر انکار پر جم گئے۔
اگلی آیتوں سے ان آیتوں کا ربط یہ ہے کہ جیسے آپ کی قوم آپ سے معجزے طلب کرتی ہے، ایسے ہی فرعونیوں نے بھی موسیٰ علیہ السلام سے معجزے طلب کئے جو ظاہر ہوئے لیکن انہیں ایمان نصیب نہ ہوا آخر ہلاک کر دئے گئے۔ اسی طرح اگر آپ کی قوم بھی معجزوں کے آجانے کے بعد کافر رہی تو پھر مہلت نہ ملے گی اور معا تباہ و برباد کر دی جائے گی۔
خود فرعون نے معجزے دیکھنے کے بعد موسیٰ علیہ السلام کو جادوگر کہہ کر اپنا پیچھا چھڑا لیا۔ پس یہاں جن نو نشانیوں کا بیان ہے یہ وہی ہیں اور ان کا بیان «وَأَلْقِ عَصَاكَ ۚ فَلَمَّا رَآهَا تَهْتَزُّ كَأَنَّهَا جَانٌّ وَلَّىٰ مُدْبِرًا وَلَمْ يُعَقِّبْ ۚ يَا مُوسَىٰ لَا تَخَفْ إِنِّي لَا يَخَافُ لَدَيَّ الْمُرْسَلُونَ * إِلَّا مَن ظَلَمَ ثُمَّ بَدَّلَ حُسْنًا بَعْدَ سُوءٍ فَإِنِّي غَفُورٌ رَّحِيمٌ * وَأَدْخِلْ يَدَكَ فِي جَيْبِكَ تَخْرُجْ بَيْضَاءَ مِنْ غَيْرِ سُوءٍ ۖ فِي تِسْعِ آيَاتٍ إِلَىٰ فِرْعَوْنَ وَقَوْمِهِ ۚ إِنَّهُمْ كَانُوا قَوْمًا فَاسِقِينَ» ‏‏‏‏ [27-النمل:10-12]‏‏‏‏ تک میں ہے۔
ان آیتوں میں لکڑی کا اور ہاتھ کا ذکر موجود ہے اور باقی آیتوں کا بیان سورۃ الاعراف میں ہے۔ ان کے علاوہ بھی اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کو بہت سے معجزے دئیے تھے مثلا آپ کی لکڑی کے لگنے سے ایک پتھر میں سے بارہ چشموں کا جاری ہو جانا، بادل کا سایہ کرنا، من وسلوی کا اترنا وغیرہ وغیرہ۔
یہ سب نعمتیں بنی اسرائیل کو مصر کے شہر چھوڑنے کے بعد ملیں، پس ان معجزوں کو یہاں اس لیے بیان نہیں فرمایا کہ وہ فرعونیوں نے نہیں دیکھے تھے، یہاں صرف ان نومعجزوں کا ذکر کیا جو فرعونیوں نے دیکھے تھے اور انہیں جھٹلایا تھا۔
مسند احمد میں ہے کہ { ایک یہودی نے اپنے ساتھی سے کہا، چل تو ذرا، اس نبی (‏‏‏‏صلی اللہ علیہ وسلم ) سے ان کے قران کی اس آیت کے بارے میں پوچھ لیں کہ موسیٰ علیہ السلام کو وہ نو آیات کیا ملی تھیں؟ دوسرے نے کہا، نبی نہ کہہ، سن لیا تو اس کی چار آنکھیں ہو جائیں گی۔
اب دونوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، یہ کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو، چوری نہ کرو، زنا نہ کرو، کسی جان کو ناحق قتل نہ کرو، جادو نہ کرو، سود نہ کھاؤ، بےگناہ لوگوں کو پکڑ کر بادشاہ کے دربار میں نہ لے جاؤ کہ اسے قتل کرا دو اور پاک دامن عورتوں پر بہتان نہ باندھو یا فرمایا جہاد سے نہ بھاگو۔
اور اے یہودیو! تم پر خاص کر یہ حکم بھی تھا کہ ہفتے کے دن زیادتی نہ کرو۔ اب تو وہ بےساختہ آپ کے ہاتھ پاؤں چومنے لگے اور کہنے لگے، ہماری گواہی ہے کہ آپ اللہ کی نبی ہیں۔ آپ نے فرمایا، پھر تم میری تابعداری کیوں نہیں کرتے؟ کہنے لگے داؤد علیہ السلام نے دعا کی تھی کہ میری نسل میں نبی ضرور رہیں اور ہمیں خوف ہے کہ آپ کی تابعداری کے بعد یہود ہمیں زندہ نہ چھوڑیں گے۔ } ۱؎ [مسند احمد:239/4:ضعیف]‏‏‏‏ ترمذی، نسائی اور ابن ماجہ میں بھی یہ حدیث ہے۔
امام ترمذی رحمہ اللہ اسے حسن صحیح بتلاتے ہیں لیکن ہے ذرا مشکل کام اس لیے کہ اس کے راوی عبداللہ بن سلمہ کے حافظ میں قدرے قصور ہے اور ان پر جرح بھی ہے، ممکن ہے نو کلمات کا شبہ نو آیات سے انہیں ہو گیا ہو، اس لیے کہ یہ توراۃ کے احکام ہیں فرعون پر حجت قائم کرنے والی یہ چیزیں نہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
اسی لیے فرعون سے موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ اے فرعون یہ تو تجھے بھی معلوم ہے کہ یہ سب معجزے سچے ہیں اور ان میں سے ایک ایک میری سچائی کی جیتی جاگتی دلیل ہے، میرا خیال ہے کہ تو ہلاک ہونا چاہتا ہے، اللہ کی لعنت تجھ پر اترا ہی چاہتی ہے، تو مغلوب ہو گا اور تباہی کو پہنچے گا۔ «مثبور» کے معنی ہلاک ہونے کے اس شعر میں بھی ہیں:
«‏‏‏‏اذا جار الشیطان فی سنن الغی» «‏‏‏‏ومن مال میلہ مثبور» ‏‏‏‏ یعنی شیطان کے دوست ہلاک شدہ ہیں۔ «عَلِمْتَ» کی دوسری قرأت «عَلِمْتُ» تا کے زبر کے بدلے تا کے پیش سے بھی ہے لیکن جمہور کی قرأت تا کے زبر سے ہی ہے۔
اور اسی معنی کو وضاحت سے اس آیت میں بیان فرماتا ہے «فَلَمَّا جَاءَتْهُمْ آيَاتُنَا مُبْصِرَةً قَالُوا هَـٰذَا سِحْرٌ مُّبِينٌ * وَجَحَدُوا بِهَا وَاسْتَيْقَنَتْهَا أَنفُسُهُمْ ظُلْمًا وَعُلُوًّا ۚ فَانظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِينَ» ۱؎ [27-النمل:13-14]‏‏‏‏ ’ یعنی جب ان کے پاس ہماری ظاہر اور بصیرت افروز نشانیاں پہنچ چکیں تو وہ بولے کہ یہ تو کھلا ہوا جادو ہے۔ یہ کہہ کر منکرین انکار کر بیٹھے حالانکہ ان کے دلوں میں یقین آ چکا تھا لیکن صرف ظلم و زیادتی کی راہ سے نہ مانے الخ۔ ‘
الغرض یہ صاف بات ہے کہ جن نو نشانیوں کا ذکر ہوا ہے یہ عصا، ہاتھ، قحط سالی، پھلوں کی کم پیداواری، ٹڈیاں، جوئیں، مینڈک اور دم (‏‏‏‏خون) تھیں، جو فرعون اور اس کی قوم کے لیے اللہ کی طرف سے دلیل برہان تھیں اور آپ کے معجزے تھے جو آپ کی سچائی اور اللہ کے وجود پر دلائل تھے۔
ان نو نشانیوں سے مراد احکام نہیں جو اوپر کی حدیث میں بیان ہوئے کیونکہ وہ فرعون اور فرعونیوں پر حجت نہ تھے بلکہ ان پر حجت ہونے اور ان احکام کے بیان ہونے کے درمیان کوئی مناسبت ہی نہیں۔ یہ وہم صرف عبداللہ بن سلمہ راوی حدیث کی وجہ سے لوگوں کو پیدا ہوا، اس کی بعض باتیں واقعی قابل انکار ہیں، «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
بہت ممکن ہے کہ ان دونوں یہودیوں نے دس کلمات کا سوال کیا ہو اور راوی کو نو آیتوں کا وہم رہ گیا ہو۔ فرعون نے ارادہ کیا کہ انہیں جلا وطن کر دیا جائے۔ پس ہم نے خود اسے مچھلیوں کا لقمہ بنایا اور اس کے تمام ساتھیوں کو بھی۔
اس کے بعد ہم نے بنی اسرائیل سے فرما دیا کہ اب زمین تمہاری ہے رہو سہو، کھاؤ پیو۔ اس آیت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی زبردست بشارت ہے کہ مکہ آپ کے ہاتھوں فتح ہو گا۔ حالانکہ سورت مکی ہے، ہجرت سے پہلے نازل ہوئی۔
واقع میں ہوا بھی اسی طرح کہ اہل مکہ نے آپ کو مکہ شریف سے نکال دینا چاہا جیسے قرآن نے آیت «وَإِن كَادُوا لَيَسْتَفِزُّونَكَ مِنَ الْأَرْضِ لِيُخْرِجُوكَ مِنْهَا ۖ وَإِذًا لَّا يَلْبَثُونَ خِلَافَكَ إِلَّا قَلِيلًا * سُنَّةَ مَن قَدْ أَرْسَلْنَا قَبْلَكَ مِن رُّسُلِنَا ۖ وَلَا تَجِدُ لِسُنَّتِنَا تَحْوِيلًا» ‏‏‏‏ ۱؎ [17-الإسراء:76-77]‏‏‏‏ میں بیان فرمایا ہے۔
پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو غالب کیا اور مکے کا مالک بنا دیا اور فاتحانہ حیثیت سے آپ بعد از جنگ مکہ میں آئے اور یہاں اپنا قبضہ کیا اور پھر اپنے حلم و کرم سے کام لے کر مکہ کے مجرموں کو اور اپنے جانی دشمنوں کو عام طور پر معافی عطا فرما دی، صلی اللہ علیہ وسلم ۔
اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے بنی اسرائیل جیسی ضعیف قوم کو مشرق و مغرب کا وارث بنا دیا تھا اور فرعون جیسے سخت اور متکبر بادشاہ کے مال، زمین، پھل، کھیتی اور خزانوں کا مالک کر دیا جیسے آیت «‏‏‏‏كَذَٰلِكَ وَأَوْرَثْنَاهَا بَنِي إِسْرَائِيلَ» ‏‏‏‏ ۱؎ [26-الشعراء:59]‏‏‏‏ میں بیان ہوا ہے۔
یہاں بھی فرماتا ہے کہ فرعون کی ہلاکت کے بعد ہم نے بنی اسرائیل سے فرمایا کہ اب تم یہاں رہو سہو، قیامت کے وعدے کے دن تم اور تمہارے دشمن سب ہمارے سامنے اکٹھے لائے جاؤ گے، ہم تم سب کو جمع کر لائیں گے۔