وَ لَا تَکُوۡنُوۡا کَالَّتِیۡ نَقَضَتۡ غَزۡلَہَا مِنۡۢ بَعۡدِ قُوَّۃٍ اَنۡکَاثًا ؕ تَتَّخِذُوۡنَ اَیۡمَانَکُمۡ دَخَلًۢا بَیۡنَکُمۡ اَنۡ تَکُوۡنَ اُمَّۃٌ ہِیَ اَرۡبٰی مِنۡ اُمَّۃٍ ؕ اِنَّمَا یَبۡلُوۡکُمُ اللّٰہُ بِہٖ ؕ وَ لَیُبَیِّنَنَّ لَکُمۡ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ مَا کُنۡتُمۡ فِیۡہِ تَخۡتَلِفُوۡنَ ﴿۹۲﴾
اور اس عورت کی طرح نہ ہو جائو جس نے اپنا سوت مضبوط کرنے کے بعد ٹکڑے ٹکڑے کرکے توڑ ڈالا، تم اپنی قسموں کو اپنے درمیان فریب کا ذریعہ بناتے ہو، اس لیے کہ ایک جماعت دوسری جماعت سے بڑھی ہوئی ہو، اللہ تو تمھیں اس کے ساتھ صرف آزماتا ہے اور یقینا قیامت کے دن وہ تمھارے لیے ضرور واضح کرے گا جس میں تم اختلاف کیا کرتے تھے۔
En
اور اُس عورت کی طرح نہ ہونا جس نے محنت سے تو سوت کاتا۔ پھر اس کو توڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا۔ کہ تم اپنی قسموں کو آپس میں اس بات کا ذریعہ بنانے لگو کہ ایک گروہ دوسرے گروہ سے زیادہ غالب رہے۔ بات یہ ہے کہ خدا تمہیں اس سے آزماتا ہے۔ اور جن باتوں میں تم اختلاف کرتے ہو قیامت کو اس کی حقیقت تم پر ظاہر کر دے گا
En
اور اس عورت کی طرح نہ ہو جاؤ جس نے اپنا سوت مضبوط کاتنے کے بعد ٹکڑے ٹکڑے کرکے توڑ ڈاﻻ، کہ تم اپنی قسموں کو آپس کے مکر کا باعﺚ ٹھراؤ، اس لیے کہ ایک گروه دوسرے گروه سے بڑھا چڑھا ہوجائے۔ بات صرف یہی ہے کہ اس عہد سے اللہ تمہیں آزما رہا ہے۔ یقیناً اللہ تعالیٰ تمہارے لیے قیامت کے دن ہر اس چیز کو کھول کر بیان کر دے گا جس میں تم اختلاف کر رہے تھے
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت92) ➊ {وَ لَا تَكُوْنُوْا كَالَّتِيْ نَقَضَتْ غَزْلَهَا …: ”غَزْلٌ“} مصدر بمعنی مفعول ہے، فعل {”غَزَلَ يَغْزِلُ“} (ض) آتا ہے، روئی یا اون کا سوت (دھاگا) بنانا۔ {” اَنْكَاثًا “ ”نِكْثٌ“} (نون کے کسرہ کے ساتھ) کی جمع ہے، ٹکڑے۔
➋ یہ ایک تشبیہ ہے جو قسموں کو پختہ کرنے کے بعد ان کو توڑنے والوں کے لیے بیان کی گئی ہے، ضروری نہیں کہ ایسی عورت کہیں پائی بھی گئی ہو، جو عورت بھی ایسا کرے گی اسے یہی کہا جائے گا کہ یہ کتنی احمق ہے۔ اسی طرح قسمیں توڑنے والوں کا حال بھی اس عورت کا سا ہے، اگرچہ ابن جریر اور ابن ابی حاتم کی بعض روایات میں ہے کہ مکہ میں ایک پاگل عورت تھی جو سوت کاتتی تھی اور پھر اسے بٹ کر ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالتی تھی۔
➌ {تَتَّخِذُوْنَ اَيْمَانَكُمْ دَخَلًۢا …: ” دَخَلًۢا “} سے مراد دھوکا، فریب اور کھوٹ ہے۔ اصل میں {” دَخَلًۢا “} اس چیز کو کہتے ہیں جو دوسری چیز میں داخل کر دی جائے، جب کہ وہ اس میں سے نہ ہو، مثلاً چائے کی پتی میں چنے کے چھلکے ملا دیے جائیں۔ {”اَرْبٰى“ } {”رَبَا يَرْبُوْ“} (ن) سے اسم تفضیل ہے، کسی چیز کا زیادہ ہونا، بڑھنا۔
➍ یعنی کسی گروہ سے اس لیے بدعہدی نہ کرو کہ جب تم نے عہد باندھا اس وقت تم کمزور تھے اور وہ گروہ طاقتور تھا اور اب تم طاقتور اور وہ کمزور ہو گیا ہے، یا اب تمھیں اس سے زیادہ طاقتور کوئی دوسرا حلیف مل گیا ہے، جیسا کہ اہل جاہلیت کرتے تھے۔ (شوکانی، قرطبی) اور جیسا کہ اس زمانے میں اہل مغرب بلکہ تمام کفار کا عام دستور ہے۔
➎ { اِنَّمَا يَبْلُوْكُمُ اللّٰهُ بِهٖ:} کہ تم اپنے عہد پر قائم رہتے ہو یا دوسرے گروہ کو طاقتور یا کمزور پاکر اپنے عہد کا خیال چھوڑ دیتے ہو۔ (قرطبی)
➋ یہ ایک تشبیہ ہے جو قسموں کو پختہ کرنے کے بعد ان کو توڑنے والوں کے لیے بیان کی گئی ہے، ضروری نہیں کہ ایسی عورت کہیں پائی بھی گئی ہو، جو عورت بھی ایسا کرے گی اسے یہی کہا جائے گا کہ یہ کتنی احمق ہے۔ اسی طرح قسمیں توڑنے والوں کا حال بھی اس عورت کا سا ہے، اگرچہ ابن جریر اور ابن ابی حاتم کی بعض روایات میں ہے کہ مکہ میں ایک پاگل عورت تھی جو سوت کاتتی تھی اور پھر اسے بٹ کر ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالتی تھی۔
➌ {تَتَّخِذُوْنَ اَيْمَانَكُمْ دَخَلًۢا …: ” دَخَلًۢا “} سے مراد دھوکا، فریب اور کھوٹ ہے۔ اصل میں {” دَخَلًۢا “} اس چیز کو کہتے ہیں جو دوسری چیز میں داخل کر دی جائے، جب کہ وہ اس میں سے نہ ہو، مثلاً چائے کی پتی میں چنے کے چھلکے ملا دیے جائیں۔ {”اَرْبٰى“ } {”رَبَا يَرْبُوْ“} (ن) سے اسم تفضیل ہے، کسی چیز کا زیادہ ہونا، بڑھنا۔
➍ یعنی کسی گروہ سے اس لیے بدعہدی نہ کرو کہ جب تم نے عہد باندھا اس وقت تم کمزور تھے اور وہ گروہ طاقتور تھا اور اب تم طاقتور اور وہ کمزور ہو گیا ہے، یا اب تمھیں اس سے زیادہ طاقتور کوئی دوسرا حلیف مل گیا ہے، جیسا کہ اہل جاہلیت کرتے تھے۔ (شوکانی، قرطبی) اور جیسا کہ اس زمانے میں اہل مغرب بلکہ تمام کفار کا عام دستور ہے۔
➎ { اِنَّمَا يَبْلُوْكُمُ اللّٰهُ بِهٖ:} کہ تم اپنے عہد پر قائم رہتے ہو یا دوسرے گروہ کو طاقتور یا کمزور پاکر اپنے عہد کا خیال چھوڑ دیتے ہو۔ (قرطبی)
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
92۔ 1 یعنی مؤکد بہ حلف عہد کو توڑ دینا ایسا ہی ہے جیسے کوئی عورت سوت کاتنے کے بعد اسے خود ہی ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالے۔ یہ تمثیل ہے۔ 92۔ 2 یعنی دھوکہ اور فریب دینے کا ذریعہ بناؤ۔ 92۔ 3 جب تم دیکھو کہ اب تم زیادہ ہوگئے ہو تو اپنے گمان سے حلف توڑ دو، جب کہ قسم اور معاہدے کے وقت وہ گروہ کمزور تھا، لیکن کمزوری کے باوجود وہ مطمئن تھا کہ معاہدے کی وجہ سے ہمیں نقصان نہیں پہنچایا جائے گا۔ لیکن تم عذر اور نقص عہد کر کے نقصان پہنچاؤ۔ زمانہء جایلیت میں اخلاقی پستی کی وجہ سے اس قسم کی عہد شکنی عام تھی، مسلمانوں کو اس اخلاقی پستی سے روکا گیا ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
92۔ اور اس عورت کی طرح نہ ہونا جس نے بڑی محنت [95] سے سوت کاتا پھر خود ہی اسے ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا۔ تم اپنی قسموں کو باہمی معاملات میں مکرو فریب کا ذریعہ بناتے ہو کہ ایک جماعت دوسری سے ناجائز فائدہ حاصل کرے۔ اللہ تو ان (قسموں اور معاہدوں) کے ذریعہ [96] تمہاری آزمائش کرتا ہے۔ اور قیامت کے دن تم پر یقیناً اس بات کی وضاحت کر دے گا جس سے تم اختلاف کیا کرتے تھے
[95] معاہدوں کو توڑنے کی ممانعت:۔
مکہ میں ایک دیوانی عورت رہتی تھی جس کا نام خرقاء (توڑ پھوڑ دینے والی) پڑ گیا تھا۔ دن بھر سوت کا تتی رہتی پھر اسے توڑ پھوڑ کر پھینک دیتی۔ [بخاري۔ كتاب التفسير۔ تفسير سورة نحل]
اللہ تعالیٰ نے اس عورت کی مثال دیتے ہوئے فرمایا کہ تم اپنے باہمی معاہدات کو کچے دھاگے کی طرح نہ سمجھو کہ جب چاہا اپنا معاہدہ توڑ دیا اور اس عورت کی طرح دیوانے نہ بنو۔ عرب کے کافر قبیلوں کا یہ حال تھا کہ ایک قبیلے سے دوستی کا عہد کرتے اور قسمیں کھاتے۔ پھر دوسرے قبیلے کو اس سے زبردست پا کر پہلا عہد توڑ ڈالتے اور اس قبیلے سے عہد کر لیتے اور بعض قبیلوں نے مسلمانوں سے بھی ایسا ہی معاملہ کیا۔ پہلے ان سے دوستی کا عہد باندھا پھر کسی وقت قریش مکہ کا پلہ بھاری دیکھا تو مسلمانوں سے عہد شکنی کر کے ان سے دوستی کر لی۔ مسلمانوں کو اس قسم کی مفاد پرستیوں سے سختی سے روک دیا گیا۔ اور آج کل صورت حال یہ ہے کہ موجودہ سیاست کا دارومدار ہی مفاد پرستی پر ہے جو کام اس دور کے کافر قبیلے کرتے تھے وہی کام آج کل کی مہذب حکومتیں کر رہی ہیں اور اس لحاظ سے ان کافر قبیلوں سے بھی آگے بڑھ گئی ہیں کہ ان کے علانیہ معاہدے تو اور قسم کے ہوتے ہیں اور خفیہ معاہدے بالکل جداگانہ اور علانیہ معاہدوں کے متضاد ہوتے ہیں۔ گویا موجودہ دور کی کامیاب سیاست میں عہد شکنی کے علاوہ منافقت کا عنصر بھی شامل ہے اور ایسی چالبازیوں کو آج کی زبان میں ”ڈپلومیسی“ کہا جاتا ہے اور ان کی ایسی عہد شکنی اور منافقت کو معیوب سمجھنے کے بجائے کامیاب سیاست سمجھا جاتا ہے اور قومیں اپنے ایسے بد دیانت لیڈروں کی حوصلہ افزائی کرتی اور انھیں کامیاب لیڈرسمجھتی ہیں اور مسلمان ممالک سے تو بالخصوص آجکل یہی کچھ ہو رہا ہے۔ ظاہراً ان سے دوستی کی پیں گیں بڑھائی جاتی ہیں جبکہ اندرون خانہ ان کے استیصال میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کیا جاتا۔ اور مسلمان ممالک اللہ پر عدم توکل اور اپنی نا اہلی کی وجہ سے ان مہذب قوموں سے مدتوں سے دھوکے پر دھوکہ کھاتے چلے جا رہے ہیں۔ مگر انھیں یہ توفیق نصیب نہیں ہوتی کہ اپنے اختلاف چھوڑ کر اور متحد ہو کر ان کافر حکومتوں کے سامنے ڈٹ جائیں۔
اللہ تعالیٰ نے اس عورت کی مثال دیتے ہوئے فرمایا کہ تم اپنے باہمی معاہدات کو کچے دھاگے کی طرح نہ سمجھو کہ جب چاہا اپنا معاہدہ توڑ دیا اور اس عورت کی طرح دیوانے نہ بنو۔ عرب کے کافر قبیلوں کا یہ حال تھا کہ ایک قبیلے سے دوستی کا عہد کرتے اور قسمیں کھاتے۔ پھر دوسرے قبیلے کو اس سے زبردست پا کر پہلا عہد توڑ ڈالتے اور اس قبیلے سے عہد کر لیتے اور بعض قبیلوں نے مسلمانوں سے بھی ایسا ہی معاملہ کیا۔ پہلے ان سے دوستی کا عہد باندھا پھر کسی وقت قریش مکہ کا پلہ بھاری دیکھا تو مسلمانوں سے عہد شکنی کر کے ان سے دوستی کر لی۔ مسلمانوں کو اس قسم کی مفاد پرستیوں سے سختی سے روک دیا گیا۔ اور آج کل صورت حال یہ ہے کہ موجودہ سیاست کا دارومدار ہی مفاد پرستی پر ہے جو کام اس دور کے کافر قبیلے کرتے تھے وہی کام آج کل کی مہذب حکومتیں کر رہی ہیں اور اس لحاظ سے ان کافر قبیلوں سے بھی آگے بڑھ گئی ہیں کہ ان کے علانیہ معاہدے تو اور قسم کے ہوتے ہیں اور خفیہ معاہدے بالکل جداگانہ اور علانیہ معاہدوں کے متضاد ہوتے ہیں۔ گویا موجودہ دور کی کامیاب سیاست میں عہد شکنی کے علاوہ منافقت کا عنصر بھی شامل ہے اور ایسی چالبازیوں کو آج کی زبان میں ”ڈپلومیسی“ کہا جاتا ہے اور ان کی ایسی عہد شکنی اور منافقت کو معیوب سمجھنے کے بجائے کامیاب سیاست سمجھا جاتا ہے اور قومیں اپنے ایسے بد دیانت لیڈروں کی حوصلہ افزائی کرتی اور انھیں کامیاب لیڈرسمجھتی ہیں اور مسلمان ممالک سے تو بالخصوص آجکل یہی کچھ ہو رہا ہے۔ ظاہراً ان سے دوستی کی پیں گیں بڑھائی جاتی ہیں جبکہ اندرون خانہ ان کے استیصال میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کیا جاتا۔ اور مسلمان ممالک اللہ پر عدم توکل اور اپنی نا اہلی کی وجہ سے ان مہذب قوموں سے مدتوں سے دھوکے پر دھوکہ کھاتے چلے جا رہے ہیں۔ مگر انھیں یہ توفیق نصیب نہیں ہوتی کہ اپنے اختلاف چھوڑ کر اور متحد ہو کر ان کافر حکومتوں کے سامنے ڈٹ جائیں۔
جمہوریت اور لوٹا ازم:۔
یہ تو موجودہ حکومتوں کا حال ہے۔ افراد کا حال بھی اس سے کچھ مختلف نہیں۔ آج کل جمہوریت اور اسمبلیوں کا دور دورہ ہے۔ اسمبلیوں کے منتخب شدہ ممبر اپنے مفادات کی خاطر فوراً سابقہ سیاسی جماعت سے اپنی وفاداریاں توڑ کر حزب اقتدار میں چلے جاتے ہیں۔ آج کی سیاسی اصطلاح میں انھیں ''لوٹے '' کہا جاتا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اس قسم کے بے اصول لوگ اور بے دین لوگ بے پیندے لوٹوں کی طرح ہوتے ہیں کہ جدھر اپنا مفاد دیکھا یا کچھ نقد رقم وصول کی فوراً ادھر لڑھک گئے۔ اپنے معاہدے کا انھیں کچھ پاس نہیں ہوتا۔
[96] دنیوی اور دینی مفادات سے بے نیاز ہو کر عہد کو نبھانا چاہئے:۔
یہ آزمائش اس بات میں ہے کہ آیا تم اپنے مفادات سے بے نیاز ہو کر اپنے معاہدہ کے پابند رہتے ہو یا نہیں۔ یہ مفادات خواہ دنیوی ہوں یا دینی۔ کسی صورت میں بھی ایک مسلمان کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ عہد شکنی کرے۔ اسلام اور مسلمانوں کے مفادات عہد کی پاسداری میں آڑے نہیں آسکتے۔ عہد کی پاسداری کی بہترین مثال وہ واقعہ ہے جو غزوہ بدر کے میدان میں پیش آیا۔ دو مسلمان حذیفہ بن یمان اور ابو حسیل آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جنگ میں شمولیت کے لیے آئے اور ساتھ ہی یہ بھی بتایا کہ ہم کافروں کے ہتھے چڑھ گئے اور ہمیں ان سے رہائی اس شرط پر ملی تھی کہ ہم جنگ میں حصہ نہ لیں۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کو یہ کہہ کر واپس کر دیا کہ جب تم ان سے عہد کر چکے ہو تو اپنا عہد پورا کرو۔ [مسلم۔ کتاب الجہادو السیر۔ باب الوفا بالعہد]
حالانکہ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو افرادی قوت کی شدید ضرورت بھی تھی۔ اور مذہبی مفادات کے نام پر عہد شکنی کرنے اور دوسرے کا ہر جائز و ناجائز طریقے سے مال ہضم کرنے والے یہود تھے جنہوں نے اپنا اصول ہی یہ بنا لیا کہ: ﴿لَيْسَ عَلَيْنَا فِي الْاُمِّيّٖنَ سَبِيْلٌ﴾ (یعنی غیر یہودی سے ہم جو کچھ بھی کر لیں ہمیں اس پر کچھ مؤاخذہ نہ ہو گا۔
حالانکہ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو افرادی قوت کی شدید ضرورت بھی تھی۔ اور مذہبی مفادات کے نام پر عہد شکنی کرنے اور دوسرے کا ہر جائز و ناجائز طریقے سے مال ہضم کرنے والے یہود تھے جنہوں نے اپنا اصول ہی یہ بنا لیا کہ: ﴿لَيْسَ عَلَيْنَا فِي الْاُمِّيّٖنَ سَبِيْلٌ﴾ (یعنی غیر یہودی سے ہم جو کچھ بھی کر لیں ہمیں اس پر کچھ مؤاخذہ نہ ہو گا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
عہد و پیمان کی حفاظت ٭٭
اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو حکم دیتا ہے کہ وہ عہد و پیمان کی حفاظت کریں قسموں کو پورا کریں۔ توڑیں نہیں۔ قسموں کو نہ توڑنے کی تاکید کی اور آیت میں فرمایا کہ «وَلَا تَجْعَلُوا اللَّـهَ عُرْضَةً لِّأَيْمَانِكُمْ أَن تَبَرُّوا وَتَتَّقُوا» ۱؎ [2-البقرۃ:224] ’ اپنی قسموں کا نشانہ اللہ کو نہ بناؤ ‘۔ اس سے بھی قسموں کی حفاظت کرنے کی تاکید مقصود ہے اور آیت میں ہے کہ «ذَٰلِكَ كَفَّارَةُ أَيْمَانِكُمْ إِذَا حَلَفْتُمْ وَاحْفَظُوا أَيْمَانَكُمْ» ۱؎ [5-المائدہ:89] ’ قسم توڑنے کا کفارہ ہے قسموں کی پوری حفاظت کرو ‘۔ پس ان آیتوں میں یہ حکم ہے، اور بخاری و مسلم کی حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { واللہ میں جس چیز پر قسم کھالوں اور پھر اس کے خلاف میں بہتری دیکھوں تو ان شاءاللہ تعالیٰ ضرور اس نیک کام کو کروں گا اور اپنی قسم کا کفارہ دے دوں گا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6623]
تو مندرجہ بالا آیتوں اور احادیث میں کچھ فرق نہ سمجھا جائے وہ قسمیں اور عہد و پیمان جو آپس کے معاہدے اور وعدے کے طور پر ہوں ان کا پورا کرنا تو بیشک بے حد ضروری ہے اور جو قسمیں رغبت دلانے یا روکنے کے لیے زبان سے نکل جائیں، وہ بیشک کفارہ دے کر ٹوٹ سکتی ہیں۔ پس اس آیت میں مراد جاہلیت کے زمانے جیسی قسمیں ہیں۔
چنانچہ مسند احمد میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { اسلام میں دو جماعتوں کی آپس میں ایک رہنے کی قسم کوئی چیز نہیں ہاں جاہلیت میں ایسی امداد و اعانت کی جو قسمیں آپس میں ہوچکی ہیں اسلام ان کو اور مضبوط کرتا ہے } }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2530]
اس حدیث کے پہلے جملے کے یہ معنی ہیں کہ اسلام قبول کرنے کے بعد اب اس کی ضرورت نہیں کہ ایک برادری والے دوسری برادری والوں سے عہد و پیمان کریں کہ ہم تم ایک ہیں، راحت و رنج میں شریک ہیں وغیرہ۔ کیونکہ رشتہ اسلام تمام مسلمانوں کو ایک برادری کا حکم دیتا دیتا ہے۔ مشرق مغرب کے مسلمان ایک دوسرے کے ہمدرد و غم خوار ہیں۔
بخاری مسلم کی ایک حدیث میں ہے کہ { سیدنا انس رضی اللہ عنہا کے گھر میں رسول اللہ علیہ افضل التسلیم نے انصار و مہاجرین میں باہم قسمیں اٹھوائیں }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6083]
اس سے یہ ممنوع بھائی بندی مراد نہیں یہ تو بھائی چارہ تھا جس کی بنا پر آپس میں ایک دوسرے کے وارث ہوتے تھے۔ آخر میں یہ حکم منسوخ ہوگیا اور ورثہ قریبی رشتے داروں سے مخصوص ہو گیا۔
تو مندرجہ بالا آیتوں اور احادیث میں کچھ فرق نہ سمجھا جائے وہ قسمیں اور عہد و پیمان جو آپس کے معاہدے اور وعدے کے طور پر ہوں ان کا پورا کرنا تو بیشک بے حد ضروری ہے اور جو قسمیں رغبت دلانے یا روکنے کے لیے زبان سے نکل جائیں، وہ بیشک کفارہ دے کر ٹوٹ سکتی ہیں۔ پس اس آیت میں مراد جاہلیت کے زمانے جیسی قسمیں ہیں۔
چنانچہ مسند احمد میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { اسلام میں دو جماعتوں کی آپس میں ایک رہنے کی قسم کوئی چیز نہیں ہاں جاہلیت میں ایسی امداد و اعانت کی جو قسمیں آپس میں ہوچکی ہیں اسلام ان کو اور مضبوط کرتا ہے } }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2530]
اس حدیث کے پہلے جملے کے یہ معنی ہیں کہ اسلام قبول کرنے کے بعد اب اس کی ضرورت نہیں کہ ایک برادری والے دوسری برادری والوں سے عہد و پیمان کریں کہ ہم تم ایک ہیں، راحت و رنج میں شریک ہیں وغیرہ۔ کیونکہ رشتہ اسلام تمام مسلمانوں کو ایک برادری کا حکم دیتا دیتا ہے۔ مشرق مغرب کے مسلمان ایک دوسرے کے ہمدرد و غم خوار ہیں۔
بخاری مسلم کی ایک حدیث میں ہے کہ { سیدنا انس رضی اللہ عنہا کے گھر میں رسول اللہ علیہ افضل التسلیم نے انصار و مہاجرین میں باہم قسمیں اٹھوائیں }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6083]
اس سے یہ ممنوع بھائی بندی مراد نہیں یہ تو بھائی چارہ تھا جس کی بنا پر آپس میں ایک دوسرے کے وارث ہوتے تھے۔ آخر میں یہ حکم منسوخ ہوگیا اور ورثہ قریبی رشتے داروں سے مخصوص ہو گیا۔
کہتے ہیں اس فرمان الٰہی سے مطلب ان مسلمانوں کو اسلام پر جمع رہنے کا حکم دینا ہے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر بیعت کر کے اسلام کی پابندی کا اقرار کرتے تھے۔ تو انہیں فرماتا ہے کہ ایسی تاکیدی قسم اور پورے عہد کے بعد کہیں ایسا نہ ہو کہ مسلمانوں کی جماعت کی کمی اور مشرکوں کی جماعت کی کثرت دیکھ کر تم اسے توڑ دو۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:21871:]
مسند احمد میں ہے کہ ”جب یزید بن معاویہ کی بیعت لوگ توڑنے لگے تو عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنے تمام گھرانے کے لوگوں کو جمع کیا اور اللہ کی تعریف کر کے امابعد کہہ کر فرمایا ”ہم نے یزید کی بیعت اللہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت پر کی ہے اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ { ہر غدار کے لیے قیامت کے دن ایک جھنڈا گاڑا جائے گا اور اعلان کیا جائے گا کہ یہ غدار ہے فلاں بن فلاں کا }۔ اللہ کے ساتھ شریک کرنے کے بعد سب سے بڑا اور سب سے برا غدر یہ ہے کہ اللہ اور رسول کی بیعت کسی کے ہاتھ پر کر کے پھر توڑ دینا یاد رکھو تم میں سے کوئی یہ برا کام نہ کرے اور اس بارے میں حد سے نہ بڑھے ورنہ مجھ میں اور اس میں جدائی ہے۔“ ۱؎ [مسند احمد:48/2:صحیح]
مسند احمد میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { جو شخص کسی مسلمان بھائی سے کوئی شرط کرے اور اسے پورا کرنے کا ارادہ نہ رکھتا ہو تو وہ مثل اس شخص کے ہے جو اپنے پڑوسی کو امن دینے کے بعد بے پناہ چھوڑ دے }۔ ۱؎ [مسند احمد:404/5:ضعیف]
پھر انہیں دھمکاتا ہے جو عہد و پیمان کی حفاظت نہ کریں کہ ان کے اس فعل سے اللہ تعالیٰ علیم و خبیر ہے۔
مکہ میں ایک عورت تھی جس کی عقل میں فتور تھا سوت کاتنے کے بعد، ٹھیک ٹھاک اور مضبوط ہو جانے کے بعد بیوجہ توڑ تاڑ کر پھر ٹکڑے کر دیتی۔ یہ تو اس کی مثال ہے جو عہد کو مضبوط کر کے پھر توڑ دے۔ یہی بات ٹھیک ہے اب اسے جانے دیجئیے کہ واقعہ میں کوئی ایسی عورت تھی بھی یا نہیں جو یہ کرتی ہو نہ کرتی ہو یہاں تو صرف مثال مقصود ہے۔ «أَنكَاثًا» کے معنی ٹکڑے ٹکڑے ہے۔ ممکن ہے کہ یہ «نَقَضَتْ غَزْلَهَا» کا اسم مصدر ہو۔ اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ بدل ہو «كَانَ» کی خبر کا یعنی «أَنْكَاثً» نہ ہو جمع «نَكْثٍ» کی «نَاكِثٍ» سے۔
مسند احمد میں ہے کہ ”جب یزید بن معاویہ کی بیعت لوگ توڑنے لگے تو عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنے تمام گھرانے کے لوگوں کو جمع کیا اور اللہ کی تعریف کر کے امابعد کہہ کر فرمایا ”ہم نے یزید کی بیعت اللہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت پر کی ہے اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ { ہر غدار کے لیے قیامت کے دن ایک جھنڈا گاڑا جائے گا اور اعلان کیا جائے گا کہ یہ غدار ہے فلاں بن فلاں کا }۔ اللہ کے ساتھ شریک کرنے کے بعد سب سے بڑا اور سب سے برا غدر یہ ہے کہ اللہ اور رسول کی بیعت کسی کے ہاتھ پر کر کے پھر توڑ دینا یاد رکھو تم میں سے کوئی یہ برا کام نہ کرے اور اس بارے میں حد سے نہ بڑھے ورنہ مجھ میں اور اس میں جدائی ہے۔“ ۱؎ [مسند احمد:48/2:صحیح]
مسند احمد میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { جو شخص کسی مسلمان بھائی سے کوئی شرط کرے اور اسے پورا کرنے کا ارادہ نہ رکھتا ہو تو وہ مثل اس شخص کے ہے جو اپنے پڑوسی کو امن دینے کے بعد بے پناہ چھوڑ دے }۔ ۱؎ [مسند احمد:404/5:ضعیف]
پھر انہیں دھمکاتا ہے جو عہد و پیمان کی حفاظت نہ کریں کہ ان کے اس فعل سے اللہ تعالیٰ علیم و خبیر ہے۔
مکہ میں ایک عورت تھی جس کی عقل میں فتور تھا سوت کاتنے کے بعد، ٹھیک ٹھاک اور مضبوط ہو جانے کے بعد بیوجہ توڑ تاڑ کر پھر ٹکڑے کر دیتی۔ یہ تو اس کی مثال ہے جو عہد کو مضبوط کر کے پھر توڑ دے۔ یہی بات ٹھیک ہے اب اسے جانے دیجئیے کہ واقعہ میں کوئی ایسی عورت تھی بھی یا نہیں جو یہ کرتی ہو نہ کرتی ہو یہاں تو صرف مثال مقصود ہے۔ «أَنكَاثًا» کے معنی ٹکڑے ٹکڑے ہے۔ ممکن ہے کہ یہ «نَقَضَتْ غَزْلَهَا» کا اسم مصدر ہو۔ اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ بدل ہو «كَانَ» کی خبر کا یعنی «أَنْكَاثً» نہ ہو جمع «نَكْثٍ» کی «نَاكِثٍ» سے۔
پھر فرماتا ہے کہ ’ قسموں کو مکر و فریب کا ذریعہ نہ بناؤ کہ اپنے سے بڑوں کو اپنی قسموں سے اطمینان دلاؤ اور اپنی ایمانداری اور نیک نیتی کا سکہ بٹھا کر پھر غداری اور بےایمانی کر جاؤ ان کی کثرت دیکھ کر جھوٹے وعدے کر کے صلح کر لو اور پھر موقع پا کر لڑائی شروع کر دو ایسا نہ کرو ‘۔
پس جب کہ اس حالت میں بھی عہد شکنی حرام کر دی تو اپنے جمعیت اور کثرت کے وقت تو بطور اولیٰ حرام ہوئی۔ بحمد اللہ ہم سورۃ الانفال میں معاویہ رضی اللہ عنہا کا قصہ لکھ آئے ہیں کہ ان میں اور شاہ روم میں ایک مدت تک کے لیے صلح نامہ ہو گیا تھا اس مدت کے خاتمے کے قریب آپ رضی اللہ عنہ نے مجاہدین کو سرحد روم کی طرف روانہ کیا کہ وہ سرحد پر پڑاؤ ڈالیں اور مدت کے ختم ہوتے ہی دھاوا بول دیں تاکہ رومیوں کو تیاری کا موقعہ نہ ملے۔ جب عمرو بن عتبہ رضی اللہ عنہ کو یہ خبر ہوئی تو آپ امیر المؤمنین معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہنے لگے اللہ اکبر! اے معاویہ عہد پورا کر غدر اور بدعہدی سے بچ۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ { جس قوم سے عہد معاہدہ ہو جائے تو جب تک کہ مدت صلح ختم نہ ہو جائے کوئی گرہ کھولنے کی بھی اجازت نہیں }۔ یہ سنتے ہی معاویہ رضی اللہ عنہ نے اپنے لشکروں کو واپس بلوا لیا۔ ۱؎ [سنن ترمذي:1850،قال الشيخ الألباني:صحیح]
«أَرْبَى» سے مراد اکثر ہے۔ اس جملے کا یہ بھی مطلب ہے کہ دیکھا کہ دشمن قوی اور زیادہ ہے صلح کر لی اور اس صلح کو ذریعہ فریب بنا کر انہیں غافل کر کے چڑھ دوڑے اور یہ بھی مطلب ہے کہ ایک قوم سے معاہدہ کر لیا پھر دیکھا کہ دوسری قوم ان سے زیادہ قوی ہے، اس سے معاملہ کرلیا اور اگلے معاہدے کو توڑ دیا یہ سب منع ہے۔ اس کثرت سے اللہ تمہیں آزماتا ہے، یا یہ کہ اپنے حکم سے یعنی پابندی وعدہ کے حکم سے اللہ تمہاری آزمائش کرتا ہے اور تم میں صحیح فیصلے قیامت کے دن وہ خود کر دے گا۔ ہر ایک کو اس کے اعمال کا بدلہ دے گا نیکوں کو نیک، بدوں کو بد۔
پس جب کہ اس حالت میں بھی عہد شکنی حرام کر دی تو اپنے جمعیت اور کثرت کے وقت تو بطور اولیٰ حرام ہوئی۔ بحمد اللہ ہم سورۃ الانفال میں معاویہ رضی اللہ عنہا کا قصہ لکھ آئے ہیں کہ ان میں اور شاہ روم میں ایک مدت تک کے لیے صلح نامہ ہو گیا تھا اس مدت کے خاتمے کے قریب آپ رضی اللہ عنہ نے مجاہدین کو سرحد روم کی طرف روانہ کیا کہ وہ سرحد پر پڑاؤ ڈالیں اور مدت کے ختم ہوتے ہی دھاوا بول دیں تاکہ رومیوں کو تیاری کا موقعہ نہ ملے۔ جب عمرو بن عتبہ رضی اللہ عنہ کو یہ خبر ہوئی تو آپ امیر المؤمنین معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہنے لگے اللہ اکبر! اے معاویہ عہد پورا کر غدر اور بدعہدی سے بچ۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ { جس قوم سے عہد معاہدہ ہو جائے تو جب تک کہ مدت صلح ختم نہ ہو جائے کوئی گرہ کھولنے کی بھی اجازت نہیں }۔ یہ سنتے ہی معاویہ رضی اللہ عنہ نے اپنے لشکروں کو واپس بلوا لیا۔ ۱؎ [سنن ترمذي:1850،قال الشيخ الألباني:صحیح]
«أَرْبَى» سے مراد اکثر ہے۔ اس جملے کا یہ بھی مطلب ہے کہ دیکھا کہ دشمن قوی اور زیادہ ہے صلح کر لی اور اس صلح کو ذریعہ فریب بنا کر انہیں غافل کر کے چڑھ دوڑے اور یہ بھی مطلب ہے کہ ایک قوم سے معاہدہ کر لیا پھر دیکھا کہ دوسری قوم ان سے زیادہ قوی ہے، اس سے معاملہ کرلیا اور اگلے معاہدے کو توڑ دیا یہ سب منع ہے۔ اس کثرت سے اللہ تمہیں آزماتا ہے، یا یہ کہ اپنے حکم سے یعنی پابندی وعدہ کے حکم سے اللہ تمہاری آزمائش کرتا ہے اور تم میں صحیح فیصلے قیامت کے دن وہ خود کر دے گا۔ ہر ایک کو اس کے اعمال کا بدلہ دے گا نیکوں کو نیک، بدوں کو بد۔