ترجمہ و تفسیر — سورۃ النحل (16) — آیت 86

وَ اِذَا رَاَ الَّذِیۡنَ اَشۡرَکُوۡا شُرَکَآءَہُمۡ قَالُوۡا رَبَّنَا ہٰۤؤُلَآءِ شُرَکَآؤُنَا الَّذِیۡنَ کُنَّا نَدۡعُوۡا مِنۡ دُوۡنِکَ ۚ فَاَلۡقَوۡا اِلَیۡہِمُ الۡقَوۡلَ اِنَّکُمۡ لَکٰذِبُوۡنَ ﴿ۚ۸۶﴾
اور جب وہ لوگ جنھوں نے شریک بنائے اپنے شریکوں کو دیکھیں گے تو کہیں گے اے ہمارے رب! یہی ہیں ہمارے وہ شریک جنھیں ہم تیرے سوا پکارا کرتے تھے۔ تو وہ ان کی طرف یہ بات پھینک ماریں گے کہ بلاشبہ یقینا تم جھوٹے ہو۔ En
اور جب مشرک (اپنے بنائے ہوئے) شریکوں کو دیکھیں گے تو کہیں گے کہ پروردگار یہ وہی ہمارے شریک ہیں جن کو ہم تیرے سوا پُکارا کرتے تھے۔ تو وہ (اُن کے کلام کو مسترد کردیں گے اور) اُن سے کہیں گے کہ تم تو جھوٹے ہو
En
اور جب مشرکین اپنے شریکوں کو دیکھ لیں گے تو کہیں گے اے ہمارے پروردگار! یہی ہمارے وه شریک ہیں جنہیں ہم تجھے چھوڑ کر پکارا کرتے تھے، پس وه انہیں جواب دیں گے کہ تم بالکل ہی جھوٹے ہو En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت86){وَ اِذَا رَاَ الَّذِيْنَ اَشْرَكُوْا …:} کفار جب اپنے ان شریکوں کو دیکھیں گے جنھیں وہ مدد کے لیے پکارتے رہے اور اللہ کا شریک بناتے رہے، یا جن کے بتوں یا قبروں کو پوجتے اور سجدہ و طواف کرتے رہے، جیسا کہ صحیح بخاری (۴۲۸۸) میں ذکر ہے کہ مشرکین مکہ نے کعبہ کے اندر ابراہیم اور اسماعیل علیھما السلام کے بت بنا کر رکھے ہوئے تھے۔ قیامت کے دن مشرکین ان بزرگوں کو دیکھیں گے تو اپنے جرم کو ہلکا کرنے اور اپنے بنائے ہوئے داتاؤں و دستگیروں کو اس جرم میں ساتھی بنانے کے لیے کہیں گے، پروردگارا! یہ لوگ ہیں جنھیں ہم تیرے سوا پکارا کرتے تھے۔ وہ سب کے سب فوراً سختی سے کہیں گے، بلاشک و شبہ یقینا تم جھوٹے ہو۔ فوراً کا مفہوم { فَاَلْقَوْا } کی فاء سے ظاہر ہو رہا ہے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ مشرک انھیں پکارتے تو رہے ہیں، پھر وہ انھیں جھوٹا کیوں کہیں گے؟ جواب اس کا ایک تو یہ ہے کہ جو بھی اللہ کے سوا کسی کو پکارتا ہے اسے یعنی اس کے بنائے ہوئے داتا و دستگیر کو معلوم ہی نہیں کہ کوئی اسے پکار رہا ہے، نہ انھیں ان کا پکارنا سنائی دیتا ہے، تو وہ انھیں جھوٹا نہ کہیں تو کیا کہیں؟ دیکھیے سورۂ فاطر (۱۳، ۱۴) اور سورۂ احقاف (۵، ۶) دوسرا یہ کہ اللہ تعالیٰ کا شریک کہیں موجود ہی نہیں، ہر مشرک خواہ بت پرست ہو یا قبر پرست، ولی پرست ہو یا نبی پرست، وہ محض اپنے خیالی بنائے ہوئے حاجت رواؤں، مشکل کشاؤں کو پکارتا ہے، حقیقت میں ان کا کہیں کوئی وجود نہیں، اس لیے وہ انبیاء و اولیاء اور ان کے بنائے ہوئے داتا و دستگیر انھیں صاف جھوٹا کہیں گے کہ تم ہمیں نہیں بلکہ اپنے وہم و گمان اور خیال کو پکارتے اور پوجتے رہے ہو۔ دیکھیے سورۂ یونس (۶۶) اور سورۂ نجم(۲۳) رہا شیطان تو اس نے واقعی انھیں شرک کی دعوت دی تھی، مگر وہ نہایت بے حیائی کے ساتھ ان سے صاف بے تعلق ہو جائے گا۔ دیکھیے سورۂ ابراہیم (۲۲)۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

86۔ 1 معبودان باطلہ کی پوجا کرنے والے اپنے اس دعوے میں جھوٹے تو نہیں ہوں گیں۔ لیکن شرکا جن کو یہ اللہ کا شریک گردانتے تھے، کہیں گے یہ جھوٹے ہیں۔ یہ یا تو شرکت کی نفی ہے ہمیں اللہ کا شریک ٹھہرانے میں یہ جھوٹے ہیں، بھلا اللہ کا شریک کوئی ہوسکتا ہے؟ یا اسلئے جھوٹا قرار دیں گے کہ وہ ان کی عبادت سے بالکل بیخبر تھے، جس طرح قرآن کریم نے متعدد جگہ اس بات کو بیان فرمایا ہے۔ ' ہمارے اور تمہارے درمیان اللہ بطور گواہ کافی ہے کہ ہم اس بات سے بیخبر تھے کہ تم ہماری عبادت کرتے تھے۔ مزید دیکھیے سورة احقاف (وَمَنْ اَضَلُّ مِمَّنْ يَّدْعُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَنْ لَّا يَسْتَجِيْبُ لَهٗٓ اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَةِ وَهُمْ عَنْ دُعَاۗىِٕهِمْ غٰفِلُوْنَ ۝ وَاِذَا حُشِرَ النَّاسُ كَانُوْا لَهُمْ اَعْدَاۗءً وَّكَانُوْا بِعِبَادَتِهِمْ كٰفِرِيْنَ ۝) 46۔ الاحقاف:6-5)۔ (وَاتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اٰلِهَةً لِّيَكُوْنُوْا لَهُمْ عِزًّا 81؀ۙ كَلَّا ۭ سَيَكْفُرُوْنَ بِعِبَادَتِهِمْ وَيَكُوْنُوْنَ عَلَيْهِمْ ضِدًّا 82؀) 19۔ مریم:82-81)۔ (وَقَالَ اِنَّمَا اتَّخَذْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَوْثَانًا ۙ مَّوَدَّةَ بَيْنِكُمْ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا ۚ ثُمَّ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ يَكْفُرُ بَعْضُكُمْ بِبَعْضٍ وَّيَلْعَنُ بَعْضُكُمْ بَعْضًا ۡ وَّمَاْوٰىكُمُ النَّارُ وَمَا لَكُمْ مِّنْ نّٰصِرِيْنَ) 29۔ العنکبوت:25)۔ (وَيَوْمَ يَقُوْلُ نَادُوْا شُرَكَاۗءِيَ الَّذِيْنَ زَعَمْتُمْ فَدَعَوْهُمْ فَلَمْ يَسْتَجِيْبُوْا لَهُمْ وَجَعَلْنَا بَيْنَهُمْ مَّوْبِقًا) 18۔ الکہف:52)۔ وغیرھا من الایات ایک یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ ہم نے تمہیں اپنی عبادت کرنے کے لیے کبھی نہیں کہا تھا اس لیے تم ہی جھوٹے ہو۔ یہ شرکا اگر حجر وشجر ہوں گے تو اللہ تعالیٰ انھیں قوت گویائی عطا فرمائے گا۔ جنات و شیاطین ہوں گے تو کوئی اشکال ہی نہیں ہے اور اگر اللہ کے نیک بندے ہوں گے جس طرح کہ متعدد صلحا واتقیا اور اولیاء اللہ کو لوگ مدد کے لیے پکارتے ہیں ان کے نام کی نذر نیاز دیتے ہیں اور ان کی قبروں پر جا کر ان کی اسی طرح تعظیم کرتے ہیں جس طرح کسی معبود کی خوف ورجا کے جذبات کے ساتھ کی جاتی ہے۔ تو اللہ تعالیٰ ان کو میدان محشر میں ہی بری فرما دے گا اور ان کی عبادت کرنے والوں کو جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ جیسا کہ حضرت عیسیٰ ؑ سے اللہ تعالیٰ کا سوال اور ان کا جواب سورة مائدہ کے آخر میں مذکور ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

86۔ اور جب مشرکین اپنے شریکوں کو دیکھیں گے تو کہیں گے: ”اے ہمارے پروردگار! یہ ہیں ہمارے (خود ساختہ) شریک جنہیں ہم تجھے چھوڑ کر پکارا کرتے تھے“ اس پر وہ شریک انھیں صاف جواب دیں گے کہ ”تم یقیناً جھوٹے [87] ہو
[87] یعنی جنہیں حاجت روا اور مشکل کشا یا فریاد رس یا دستگیر وغیرہ سمجھ کر پکارا جاتا رہا۔ وہ مشرکوں یا اپنے پکارنے والوں کو اس لحاظ سے جھوٹا نہیں کہیں گے کہ وہ انھیں پکارا نہیں کرتے تھے بلکہ اس لحاظ سے کہیں گے کہ ہم تو خود اللہ کے فرمانبردار بندے بن کر زندگی گزارتے رہے۔ ہم نے کبھی ایسا دعویٰ بھی نہیں کیا تھا کہ ہم لوگوں کی حاجت روائیاں کر سکتے ہیں۔ اور اگر تم لوگ ایسا کرتے بھی رہے ہو تو ہمیں اس کی خبر تک نہ تھی۔ پھر آخر تم نے ایسی غلط اور جھوٹی من گھڑت باتیں ہماری طرف کیوں منسوب کر رکھی تھیں۔ تمہارے ایسے عقیدے سراسر جھوٹ اور باطل پر مبنی ہیں۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔