(آیت73) ➊ {وَيَعْبُدُوْنَمِنْدُوْنِاللّٰهِ …: ”مِنْدُوْنِاللّٰهِ“} میں ہر بت، تھان، آستانہ، زندہ و مردہ بزرگ، غرض ہر چیز آ گئی جسے وہ پوجتے اور پکارتے ہیں اور ان سب کے لیے {”مَا“} کا لفظ استعمال فرمایا جو عام طور پر ان چیزوں کے لیے استعمال ہوتا ہے جن میں عقل نہیں۔ {”رِزْقًا“ } میں تنوین تنکیر کے لیے ہے کہ جو کسی معمولی سے معمولی رزق کے مالک بھی نہیںـ۔ اسی طرح {”شَيْـًٔا“} نکرہ ہے کہ کسی بھی رزق کی ملکیت میں ان کا کچھ بھی حصہ نہیں، یعنی ان مشرکوں کی جہالت دیکھو کہ ان معبودوں کو پوجتے اور پکارتے ہیں جو نہ تو آسمان و زمین میں سے کسی بھی طرح کے رزق کی کچھ بھی ملکیت رکھتے ہیں، نہ آسمان سے بارش برسانے کے مالک، نہ زمین سے کچھ اگانے کے قابل، نہ کوئی چیز پیدا کرنے کے قابل، نہ جو چیز اگے اسے باقی رکھنے کے قابل، پھر وہ معبود کیسے بن گئے؟ ➋ { وَلَايَسْتَطِيْعُوْنَ:} یہ اس غلط گمان کی تردید ہے کہ مالک تو واقعی اللہ تعالیٰ ہے، مگر ہمارے یہ دستگیر اس سے دلوانے کی طاقت رکھتے ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ سے جو چاہیں منوا سکتے ہیں، جیسا کہ ایک صاحب نے کہا: اولیاء راہست قدرت از اِلہ تیر جستہ باز آرندش زراہ ”اولیاء کو اللہ کی طرف سے یہ طاقت ملی ہوئی ہے کہ وہ کمان سے نکلے ہوئے تیر کو راستے سے واپس لے آتے ہیں۔“ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ان کے پاس کسی طرح بھی کوئی طاقت نہیں، نہ خود کچھ دینے کی، نہ اللہ تعالیٰ کو اپنی محبت یا طاقت اور دھونس کے ساتھ مجبور کرکے دلوانے کی، بلکہ انھیں معلوم ہی نہیں کہ کوئی ہمیں پکار بھی رہا ہے۔ (دیکھیے احقاف: ۵، ۶) ان کے اس عقیدے کی تردید سورۂ یونس (۱۸) اور سورۂ زمر (۳) میں بھی واضح الفاظ میں کی گئی ہے۔ {”وَلَايَسْتَطِيْعُوْنَ“} میں یہ بھی داخل ہے کہ وہ ایسا اختیار حاصل کرنے کی طاقت بھی نہیں رکھتے، بلکہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے سامنے مجبور محض ہیں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
73۔ 1 یعنی اللہ کو چھوڑ کر عبادت بھی ایسے لوگوں کی کرتے ہیں جن کے پاس کسی چیز کا اختیار نہیں۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
73۔ اللہ کے سوا وہ جن چیزوں کو پوجتے ہیں وہ آسمانوں اور زمین سے انھیں رزق مہیا کرنے کا کچھ اختیار نہیں رکھتیں اور نہ ہی وہ یہ کام [72] کر سکتی ہیں
[72] ان کے معبود نہ تو بارش برسانے پر قادر ہیں نہ زمین سے غلے اور پھلدار درخت پیدا کرنے پر، نہ ہی وہ یہ بتا سکتے ہیں کہ زمین میں کون کون سے خزانے موجود ہیں اور وہ کون کون سے مقامات پر موجود ہیں، نہ وہ ان باتوں پر آج قدرت رکھتے ہیں اور نہ آئندہ کبھی قادر ہو سکیں گے یعنی تمہاری زندگی اور تمہاری نوع کی بقا کے اسباب تو صرف اللہ مہیا کرے اور اس کی بندگی میں تم اوروں کو بھی شریک بنا لو۔ یہ کس قدر نا انصافی کی بات ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
توحید کی تاکید ٭٭
نعمتیں دینے والا، پیدا کرنے والا، روزی پہنچانے والا، صرف اللہ تعالیٰ اکیلا «وَحدَهُلَاشَرِیْکَلَهُ» ہے۔ اور یہ مشرکین اس کے ساتھ اوروں کو پوجتے ہیں جو نہ آسمان سے بارش برسا سکیں، نہ زمین سے کھیت اور درخت اگا سکیں۔ وہ اگر سب مل کر بھی چاہیں تو بھی نہ ایک بوند بارش برسانے پر قادر، نہ ایک پتے کے پیدا کرنے ان میں سکت پس تم اللہ کے لیے مثالیں نہ بیان کرو۔ اس کے شریک و سہیم اور اس جیسا دوسروں کو نہ سمجھو۔ اللہ عالم ہے اور وہ اپنے علم کی بنا پر اپنی توحید پر گواہی دیتا ہے۔ تم جاہل ہو، اپنی جہالت سے دوسروں کو اللہ کے شریک ٹھہرا رہے ہو۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔