ترجمہ و تفسیر — سورۃ النحل (16) — آیت 72

وَ اللّٰہُ جَعَلَ لَکُمۡ مِّنۡ اَنۡفُسِکُمۡ اَزۡوَاجًا وَّ جَعَلَ لَکُمۡ مِّنۡ اَزۡوَاجِکُمۡ بَنِیۡنَ وَ حَفَدَۃً وَّ رَزَقَکُمۡ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ ؕ اَفَبِالۡبَاطِلِ یُؤۡمِنُوۡنَ وَ بِنِعۡمَتِ اللّٰہِ ہُمۡ یَکۡفُرُوۡنَ ﴿ۙ۷۲﴾
اور اللہ نے تمھارے لیے خود تمہی میں سے بیویاں بنائیں اور تمھارے لیے تمھاری بیویوں سے بیٹے اور پوتے بنائے اور تمھیں پاکیزہ چیزوں سے رزق دیا تو کیا وہ باطل کو مانتے ہیں اور اللہ کی نعمت کا وہ انکار کرتے ہیں۔ En
اور خدا ہی نے تم میں سے تمہارے لیے عورتیں پیدا کیں اور عورتوں سے تمہارے بیٹے اور پوتے پیدا کیے اور کھانے کو تمہیں پاکیزہ چیزیں دیں۔ تو کیا بےاصل چیزوں پر اعتقاد رکھتے اور خدا کی نعمتوں سے انکار کرتے ہیں
En
اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے تم میں سے ہی تمہاری بیویاں پیدا کیں اور تمہاری بیویوں سے تمہارے لیے تمہارے بیٹے اور پوتے پیدا کیے اور تمہیں اچھی اچھی چیزیں کھانے کو دیں۔ کیا پھر بھی لوگ باطل پر ایمان ﻻئیں گے؟ اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی ناشکری کریں گے؟ En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت72) ➊ {وَ اللّٰهُ جَعَلَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا …: حَفَدَةً حَفَدَ يَحْفِدُ } (ض) سے {حَافِدٌ} کی جمع ہے، خدمت اور اطاعت میں جلدی کرنے والا، جیساکہ قنوت کی ایک دعا میں ہے: [وَإِلَيْكَ نَسْعٰی وَ نَحْفِدُ] [ابن خزیمۃ: ۲ /۱۵۵، ح: ۱۱۰۰] {حَفِيْدٌ } کی جمع {حُفَدَاءُ } آتی ہے۔ {حَافِدٌ} اور {حَفِيْدٌ} بیٹوں کو اور اولاد کی اولاد کو کہتے ہیں، خادم کو بھی کہہ لیتے ہیں۔ (قاموس) اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے کئی احسان ذکر فرمائے ہیں، ایک تو تنہائی اور وحشت دور کرنے کے لیے ساتھی دیا، مرد کے لیے عورت، عورت کے لیے مرد۔ دوسرا یہ کہ وہ ساتھی اس کی جنس انسان سے دیا، کیونکہ دوسری جنس سے نہ انس حاصل ہو سکتا تھا، نہ سکون اور نہ موافقت۔ (دیکھیے روم: ۲۱) ہمارے والد ماجد آدم علیہ السلام کو جنت میں رہنے کے باوجود سکون تبھی حاصل ہوا جب انھیں اپنی جنس سے بیوی ملی۔ (دیکھیے نساء: ۱) اس سے اہل علم نے یہ بات بھی اخذ کی ہے کہ جن و انس کے درمیان نکاح کی اور ان سے اولاد ہونے کی تمام باتیں محض افسانہ ہیں۔ تیسرا یہ کہ میاں بیوی سے اولاد اور اولاد کی اولاد (بیٹے اور پوتے و نواسے) عطا فرمائے، جو بڑھاپے میں خوشی کا باعث اور سہارا بنتے ہیں اور خوش دلی سے بابا کی خدمت کرتے اور اس کے نام اور نسل کی بقا کا ذریعہ بنتے ہیں۔ چوتھا یہ کہ پھر ان سب کی زندگی کی ہر ضرورت کے لیے پاکیزہ رزق عطا فرمایا۔
➋ {اَفَبِالْبَاطِلِ يُؤْمِنُوْنَ:} یعنی کیا اپنے بنائے ہوئے خداؤں، حاجت رواؤں، مشکل کشاؤں اور داتاؤں کا احسان مانتے ہیں کہ انھوں نے ہی بیماری سے شفا دی، بیٹا دیا، یا روزی بخشی، حالانکہ وہ سب باطل ہیں اور وہم و خیال کے سوا ان کی کچھ حقیقت ہی نہیں۔ دیکھیے سورۂ یونس (۶۶)۔
➌ { وَ بِنِعْمَتِ اللّٰهِ هُمْ يَكْفُرُوْنَ:} یعنی اللہ تعالیٰ جو سچا معبود ہے اور تمام احسانات اسی کے ہیں، اس کی نعمتوں کی ناشکری اور انکار کرتے ہیں، اس کے بجائے بتوں اور بزرگوں کے احسان مانتے ہیں کہ تندرستی، بیٹے اور روزی یہ دیتے ہیں، حالانکہ یہ سب باطل (جھوٹ) ہے۔ سچی بات یہ ہے کہ یہ سب کچھ دینے والا اللہ تعالیٰ ہے جس کے مشرک شکر گزار نہیں ہوتے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

72۔ 1 یعنی اللہ تعالیٰ اپنے انعامات کا تذکرہ کر کے جو آیت میں مذکور ہیں، سوال کر رہا ہے کہ سب کچھ دینے والا تو اللہ ہے، لیکن یہ اسے چھوڑ کر دوسروں کی عبادت کرتے ہیں اور دوسروں کا ہی کہنا مانتے ہیں۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

72۔ اللہ نے تمہارے لئے تمہی میں سے بیویاں بنائیں اور تمہاری بیویوں سے تمہارے لیے بیٹے اور پوتے بنائے اور تمہیں پاکیزہ چیزوں [71] کا رزق عطا کیا۔ کیا پھر وہ باطل (معبودوں) پر یقین رکھتے اور اللہ کی نعمتوں کا انکار کرتے ہیں؟
[71] انسان اور اس کی نوع کی بقا کے اسباب:۔
تمہارے بقائے نوع کے اسباب بھی اللہ نے مہیا کیے اور تمہاری اپنی زندگی کی بقا کے اسباب بھی اسی نے پیدا کیے۔ پھر بھی مشرک اپنے معبودان باطل کے متعلق یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ فلاں کی کرم نوازی سے بیٹا پیدا ہوا اور فلاں آستانے پر جانے سے شفا نصیب ہوئی وغیر ذلک من الخرافات

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

بندوں پر اللہ تعالٰی کا احسان ٭٭
اپنے بندوں پر اپنا ایک اور احسان جتاتا ہے کہ ’ انہی کی جنس سے انہی کی ہم شکل، ہم وضع عورتیں ہم نے ان کے لیے پیدا کیں ‘۔ اگر جنس اور ہوتی تو دلی میل جول، محبت و موعدت قائم نہ رہتی لیکن اپنی رحمت سے اس نے مرد عورت ہم جنس بنائے۔ پھر اس جوڑے سے نسل بڑھائی، اولاد پھیلائی، لڑکے ہوئے، لڑکوں کے لڑکے ہوئے۔
«حَفَدَةً» کے ایک معنی تو یہی پوتوں کے ہیں، دوسرے معنی خادم اور مددگار کے ہیں پس لڑکے اور پوتے بھی ایک طرح خدمت گزار ہوتے ہیں اور عرب میں یہی دستور بھی تھا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں انسان کی بیوی کی سابقہ گھر کی اولاد اس کی نہیں ہوتی۔‏‏‏‏ «حَفَدَةً» اس شخص کو بھی کہتے ہیں جو کسی کے سامنے اس کے لیے کام کاج کرے۔ یہ معنی بھی کئے گئے ہیں کہ اس سے مراد دامادی رشتہ ہے اس کے معنی کے تحت میں یہ سب داخل ہیں۔
چنانچہ قنوت میں جملہ آتا ہے «وَإِلَيْك نَسْعَى وَنَحْفِدُ» ہماری سعی کوشش اور خدمت تیرے لیے ہی ہے اور یہ ظاہر ہے کہ اولاد سے، غلام سے، سسرال والوں سے، خدمت حاصل ہوتی ہے ان سب کے پاس سے نعمت الٰہی ہمیں ملتی ہے۔ ہاں جن کے نزدیک «حَفَدَةً» کا تعلق «أَزْوَاجًا» سے ہے ان کے نزدیک تو مراد اولاد اور اولاد کی اولاد اور داماد اور بیوی کی اولاد ہیں۔
پس یہ سب بسا اوقات اسی شخص کی حفاظت میں، اس کی گود میں اور اس کی خدمت میں ہوتے ہیں اور ممکن ہے کہ یہی مطلب سامنے رکھ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہو کہ { اولاد تیری غلام ہے }۔ جیسے کہ ابوداؤد میں ہے۔ ۱؎ [سنن ابوداود:2131، قال الشيخ الألباني:ضعیف]‏‏‏‏
اور جنہوں نے «حَفَدَةً» سے مراد خادم لیا ہے، ان کے نزدیک یہ معطوف ہے اللہ کے فرمان آیت «وَاللَّـهُ جَعَلَ لَكُم مِّنْ أَنفُسِكُمْ أَزْوَاجًا» ۱؎ [16-النحل:72]‏‏‏‏ پر یعنی ’ اللہ تعالیٰ نے تمہاری بیویوں اور اولاد کو خادم بنا دیا ہے اور تمہیں کھانے پینے کی بہترین ذائقے دار چیزیں عنایت فرمائی ہیں ‘۔
پس باطل پر یقین رکھ اللہ کی نعمتوں کی ناشکری نہ کرنی چاہیئے۔ رب کی نعمتوں پر پردہ ڈال دیا اور ان کی دوسروں کی طرف نسبت کر دی۔
صحیح حدیث میں ہے کہ { قیامت کے دن اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے بندوں کو اپنے احسان جتاتے ہوئے فرمائے گا ’ کیا میں نے تجھے بیوی نہیں دی تھی؟ میں نے تجھے ذی عزت نہیں بنایا تھا؟ میں نے گھوڑوں اور اونٹوں کو تیرے تابع نہیں کیا تھا اور میں نے تجھے سرداری میں اور آرام میں نہیں چھوڑا تھا؟ ‘ } ۱؎ [صحیح مسلم:2968]‏‏‏‏