ثُمَّ کُلِیۡ مِنۡ کُلِّ الثَّمَرٰتِ فَاسۡلُکِیۡ سُبُلَ رَبِّکِ ذُلُلًا ؕ یَخۡرُجُ مِنۡۢ بُطُوۡنِہَا شَرَابٌ مُّخۡتَلِفٌ اَلۡوَانُہٗ فِیۡہِ شِفَآءٌ لِّلنَّاسِ ؕ اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیَۃً لِّقَوۡمٍ یَّتَفَکَّرُوۡنَ ﴿۶۹﴾
پھر ہر قسم کے پھلوں سے کھا، پھر اپنے رب کے راستوں پر چل جو مسخر کیے ہوئے ہیں۔ ان کے پیٹوں سے پینے کی ایک چیز نکلتی ہے جس کے رنگ مختلف ہیں، اس میں لوگوں کے لیے ایک قسم کی شفا ہے۔ بلاشبہ اس میں ان لوگوں کے لیے یقینا ایک نشانی ہے جو غوروفکر کرتے ہیں۔
En
اور ہر قسم کے میوے کھا۔ اور اپنے پروردگار کے صاف رستوں پر چلی جا۔ اس کے پیٹ سے پینے کی چیز نکلتی ہے جس کے مختلف رنگ ہوتے ہیں اس میں لوگوں (کے کئی امراض) کی شفا ہے۔ بےشک سوچنے والوں کے لیے اس میں بھی نشانی ہے
En
اور ہر طرح کے میوے کھا اور اپنے رب کی آسان راہوں میں چلتی پھرتی ره، ان کے پیٹ سے رنگ برنگ کا مشروب نکلتا ہے، جس کے رنگ مختلف ہیں اور جس میں لوگوں کے لیے شفا ہے غوروفکر کرنے والوں کے لیے اس میں بھی بہت بڑی نشانی ہے
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
اس آیت کی تفسیر آیت 68 میں تا آیت 70 میں گزر چکی ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
69۔ 1 شہد کی مکھی پہلے پہاڑوں میں، درختوں میں انسانی عمارتوں کی بلندیوں پر اپنا مسدس خانہ اور چھتہ اس طرح بناتی ہے کہ درمیان میں کوئی شگاف نہیں رہتا۔ پھر وہ باغوں، جنگلوں، وادیوں اور پہاڑوں میں گھومتی پھرتی ہے اور ہر قسم کے پھلوں کا جوس اپنے پیٹ میں جمع کرتی ہے اور پھر انھیں راہوں سے، جہاں جہاں سے وہ گزرتی ہے، واپس لوٹتی ہے اور اپنے چھتے میں آ کر بیٹھ جاتی ہے، جہاں اس کے منہ یا دبر سے وہ شہد نکلتا ہے جسے قرآن نے ' شراب ' سے تعبیر کیا ہے۔ یعنی مشروب روح افزا۔ 69۔ 2 کوئی سرخ، کوئی سفید، کوئی نیلا اور کوئی زرد رنگ کا، جس قسم کے پھلوں اور کھیتوں سے وہ خوراک حاصل کرتی ہے، اسی حساب سے اس کا رنگ اور ذائقہ بھی مختلف ہوتا ہے۔ 69۔ 3 شِفَاء میں تنکیر تعظیم کے لئے ہے۔ یعنی بہت سے امراض کے لئے شہد میں شفا ہے۔ یہ نہیں کہ مطلقًا ہر بیماری کا علاج ہے۔ علمائے طب نے تشریح کی ہے کہ شہد یقیناً ایک شفا بخش قدرتی مشروب ہے۔ لیکن مخصوص بیماریوں کے لئے نہ کہ ہر بیماری کے لئے۔ حدیث میں آتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حلوا میٹھی چیز اور شہد پسند تھا (صحیح البخاری، کتاب الاشربہ۔ باب شراب الحلواء والعسل) ایک دوسری روایت میں ہے کہ آپ نے فرمایا تین چیزوں میں شفا ہے۔ فصد کھلوانے (پچھنے لگانے) میں شہد کے پینے میں اور آگ سے داغنے میں۔ لیکن میں اپنی امت کو داغ لگونے سے منع کرتا ہوں۔ حدیث میں ایک واقعہ بھی آتا ہے اسہال (دست) کے مرض میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شہد پلانے کا مشورہ دیا جس سے مزید فضلات خارج ہوئے اور گھر والے سمجھے کہ شاید مرض میں اضافہ ہوگیا ہے پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسری مرتبہ فرمایا اللہ سچا ہے اور تیرے بھائی کا پیٹ جھوٹا ہے۔ جا اور اسے شہد پلا چناچہ تیسری مرتبہ میں اسے شفائے کاملہ حاصل ہوگئی۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
69۔ پھر ہر قسم کے پھل سے اس کا رس چوس اور اپنے پروردگار کی ہموار کردہ راہوں [67] پر چلتی رہ۔ ان مکھیوں کے پیٹ سے مختلف رنگوں کا مشروب [68] (شہد) نکلتا ہے جس میں لوگوں کے لئے شفا ہے۔ یقیناً اس میں بھی ایک نشانی ہے ان لوگوں کے لیے جو غور و فکر کرتے ہیں
[67] شہد کے چھتے اور مکھیوں میں نظم و ضبط:۔
ایک مکھی ان مکھیوں کی سردار یا ان کی ملکہ ہوتی ہے جسے عربی میں یعسوب کہتے ہیں۔ باقی سب مکھیاں اس کی تابع فرمان ہوتی ہیں مکھیاں اسی کے حکم سے رزق کی تلاش میں نکلتی ہیں اور اگر وہ ان کے ہمراہ چلے تو سب اس کی پوری حفاظت کرتی ہیں اور ان میں ایسا نظم و ضبط پایا جاتا ہے جسے دیکھ کر انسان حیران رہ جاتا ہے کہ اتنے چھوٹے سے جاندار میں اتنی عقل اور سمجھ کہاں سے آگئی۔ مکھیاں تلاش معاش میں اڑتی اڑتی دور دراز جگہوں پر جا پہنچتی ہیں اور مختلف رنگ کے پھلوں، پھولوں اور میٹھی چیزوں پر بیٹھ کر ان کا رس چوستی ہیں۔ پھر یہی رس اپنے چھتہ کے خانوں میں لا کر ذخیرہ کرتی رہتی ہیں اور اتنی سمجھدار ہوتی ہیں کہ واپسی پر اپنے گھر کا راستہ نہیں بھولتیں۔ راستے میں خواہ ایسے کئی چھتے موجود ہوں وہ اپنے ہی چھتہ یا گھر پہنچیں گی۔ گویا ان مکھیوں کا نظم و ضبط، پیہم آمدورفت، ایک خاص قسم کا گھر تیار کرنا، پھر باقاعدگی کے ساتھ اس میں شہد کو ذخیرہ کرتے جانا، یہ سب راہیں اللہ نے مکھی کے لیے اس طرح ہموار کر دی ہیں کہ اسے کبھی سوچنے اور غور و فکر کرنے کی ضرورت ہی پیش نہیں آتی۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿فَاسْلُكِيْ سُبُلَ رَبِّكِ ذُلُلًا﴾ اور ذلول کا معنی کسی چیز کا اپنی سرکشی کی خو کو چھوڑ کر خوشی سے اطاعت پر آمادہ ہو جانا، مطیع و منقاد ہو جانا یا رام اور مسخر ہو جانا ہے اور ذُلُلاً کو اگر راہوں کی صفت تسلیم کیا جائے تو مطلب یہ ہو گا کہ مکھی کے لیے یہ راہیں خواہ کس قدر دور دراز ہوں یا پر پیچ ہوں وہ سب راہیں اللہ نے اس کے لیے نرم اور آسان بنا دی ہیں۔ اور اگر اس لفظ کو مکھی کی صفت قرار دیا جائے تو مطلب یہ ہوتا کہ جو طور طریقے تیرے لیے اللہ نے مقرر کر رکھے ہیں برضاء و رغبت ان پر عمل پیرا رہ۔ اور بعض اس کا یہ مطلب بتاتے ہیں کہ چھتہ کے خانوں تک پہنچنے کے لیے چھتہ پر پہنچ کر اپنے پروں کو سمیٹ لے۔ پھر شہد رکھنے کے بعد اسی طرح پر سمیٹے ہوئے چھتہ سے باہر نکل آ۔
[68] شہد میں شفا اور دوسری خصوصیات:۔
شہد کے کئی رنگ ہوتے ہیں۔ زرد، سفیدی مائل یا سرخی مائل یا سیاہی مائل۔ اور ان رنگوں کے بھی مختلف اسباب ہوتے ہیں۔ تاہم ہر قسم کے شہد میں چند مشترکہ خواص ہیں۔ سب سے اہم خاصیت یہ ہے کہ بہت سی بیماریوں کے لیے شفا کا حکم رکھتا ہے الا یہ کہ مریض خود سوء مزاج کا شکار نہ ہو جیسا کہ درج ذیل احادیث سے واضح ہوتا ہے۔
1۔ ابو سعید خدریؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر کہنے لگا ”میرے بھائی کا پیٹ خراب ہے“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اس کو شہد پلاؤ“ وہ دوبارہ آ کر کہنے لگا ”یارسول اللہ! شہد پلانے سے تو اس کا پیٹ اور خراب ہو گیا“آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ کا قول سچا اور تیرے بھائی کا پیٹ جھوٹا ہے۔ جاؤ اسے پھر شہد پلاؤ“ اور تیسری بار آیا اور کہنے لگا ”میں نے شہد پلایا لیکن اسے اور زیادہ پاخانے لگ گئے ہیں“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا ”اللہ نے سچ کہا اور تیرے بھائی کے پیٹ نے جھوٹ کہا“ اس نے پھر شہد پلایا تو وہ تندرست ہو گیا۔ [بخاري، كتاب الطب۔ باب الدواء بالعسل]
2۔ نیز عبد اللہ بن عباسؓ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تین چیزوں میں شفاء ہے۔ شہد پینے میں، پچھنے لگانے میں اور آگ سے داغ دینے میں، مگر میں اپنی امت کو داغنے سے منع کرتا ہوں۔“ [بخاری، کتاب الطب، باب الشفاء فی ثلاثۃ]
1۔ ابو سعید خدریؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر کہنے لگا ”میرے بھائی کا پیٹ خراب ہے“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اس کو شہد پلاؤ“ وہ دوبارہ آ کر کہنے لگا ”یارسول اللہ! شہد پلانے سے تو اس کا پیٹ اور خراب ہو گیا“آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ کا قول سچا اور تیرے بھائی کا پیٹ جھوٹا ہے۔ جاؤ اسے پھر شہد پلاؤ“ اور تیسری بار آیا اور کہنے لگا ”میں نے شہد پلایا لیکن اسے اور زیادہ پاخانے لگ گئے ہیں“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا ”اللہ نے سچ کہا اور تیرے بھائی کے پیٹ نے جھوٹ کہا“ اس نے پھر شہد پلایا تو وہ تندرست ہو گیا۔ [بخاري، كتاب الطب۔ باب الدواء بالعسل]
2۔ نیز عبد اللہ بن عباسؓ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تین چیزوں میں شفاء ہے۔ شہد پینے میں، پچھنے لگانے میں اور آگ سے داغ دینے میں، مگر میں اپنی امت کو داغنے سے منع کرتا ہوں۔“ [بخاری، کتاب الطب، باب الشفاء فی ثلاثۃ]
اللہ تعالیٰ کے محیر العقول کارنامے:۔
شہد کی دوسری اہم خاصیت یہ ہے کہ جو اشیاء شہد میں رکھی جائیں وہ بڑی مدت تک اس میں برقرار و بحال رہتی ہیں اور اگر ادویہ ڈالی جائیں تو ان کا اثر حتیٰ کہ ان کی خوشبو بھی طویل عرصہ تک برقرار رہتی ہے یہی وجہ ہے کہ اطباء ادویہ کو کوٹ چھان کر ان میں چینی کے بجائے شہد ملا کر معجونیں وغیرہ تیار کرتے ہیں جس سے سہہ گنا فوائد حاصل ہوتے ہیں۔ ایک یہ کہ مٹھاس کی جگہ کام دیتی ہے۔ دوسرے ادویہ کے اثر کو تادیر محفوظ رکھتی ہے اور تیسرے شہد بذات خود بھی اکثر امراض کا علاج ہے اور اس لحاظ سے دواؤں کی تاثیر کو کئی گنا بڑھا دیتی ہے۔ حیرانی کی بات یہ ہے کہ شہد کی مکھی بذات خود ایک زہریلا جانور ہے انسان کو ڈس جائے تو اس کی جلد متورم اور اس میں سخت سوزش پیدا ہو جاتی ہے اسی ذریعہ سے وہ اپنے چھتہ کی حفاظت کرنا خوب جانتی ہے جو لوگ چھتہ اتارنے کے فن میں ماہر ہوتے ہیں وہ جسم کو کپڑوں سے خوب لپیٹ کر اور جسم پر کئی طرح کی دوائیں مل کر چھتہ کو ہاتھ لگاتے ہیں اور جب چھتہ کو چھیڑنے کا (کاٹنے کا) وقت ہوتا ہے تو پہلے نیچے سے دھونی دیتے ہیں تاکہ مکھیاں اڑ کر دور چلی جائیں۔ بایں ہمہ مکھیاں مل کر اس شخص پر حملہ آور ہوتی ہیں لیکن اللہ نے چونکہ انسان کو اتنی عقل دی ہے کہ سب جانوروں کو رام کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔ لہٰذا وہ چھتہ اتار کر شہد حاصل کر لیتا ہے گویا ایسے زہریلے جانور کے اندر سے نکلا ہوا شہد انسان کی اکثر بیماریوں کے لیے شفا کا حکم رکھتا ہے نیز اس کے لیے ایک شیریں اور لذیذ غذا کا کام بھی دیتا ہے۔ مندرجہ بالا مشروبات کا ذکر محض اس لیے نہیں کیا کہ انسان کو بتایا جائے کہ اللہ نے اس کے لیے کس قدر لذیذ اور مفید اشیاء پیدا کی ہیں۔ بلکہ ان کے بیان کرنے کا اصل مقصد یہ ہے کہ انسان یہ سوچے کہ اللہ تعالیٰ نے جو پھل یا مویشی یا جاندار پیدا کیے ہیں۔ ان سب کے ماحصل سے انسان ہی فائدہ اٹھاتا ہے۔ پھر اللہ کی ان معجز نما قدرتوں میں بھی غور و فکر کرے کہ یہ مویشی یا مکھیاں وغیرہ جن محیر العقول طریقوں سے انسان کو یہ چیزیں فراہم کرتی ہیں ان میں انسان کے غور و فکر کے لیے بڑا وسیع میدان موجود ہے۔ پھر وہ یہ بھی سوچے کہ اللہ کے سوا ان چیزوں کو کوئی اور بنا سکتا ہے یا ان کی جبلت میں فطری تعلیم ودیعت کر سکتا ہے۔ اور اگر ان باتوں کا جواب نفی میں ہو تو پھر اس کا شریک بنانے یا انھیں شریک تسلیم کرنے کی ضرورت ہی کہاں پیش آتی ہے؟
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
وحی سے کیا مراد ہے؟ ٭٭
وحی سے مراد یہاں پر الہام، ہدایت اور ارشاد ہے۔ شہد کی مکھیوں کو اللہ کی جانب سے یہ بات سمجھائی گئی کہ وہ پہاڑوں میں، درختوں میں اور چھتوں میں شہد کے چھتے بنائے۔ اس ضعیف مخلوق کے اس گھر کو دیکھئیے کتنا مضبوط کیسا خوبصورت اور کیسی کاری گری کا ہوتا ہے۔ پھر اسے ہدایت کی اور اس کے لیے مقدر کر دیا کہ یہ پھلوں، پھولوں اور گھاس پات کے رس چوستی پھرے اور جہاں چاہے جائے، آئے لیکن واپس لوٹتے وقت سیدھی اپنے چھتے کو پہنچ جائے۔ چاہے بلند پہاڑ کی چوٹی ہو، چاہے بیابان کے درخت ہوں، چاہے آبادی کے بلند مکانات اور ویرانے کے سنسان کھنڈر ہوں، یہ نہ راستہ بھولے، نہ بھٹکتی پھرے، خواہ کتنی ہی دور نکل جائے۔ لوٹ کر اپنے چھتے میں اپنے بچوں، انڈوں اور شہد میں پہنچ جائے۔ اپنے پروں سے موم بنائے۔ اپنے منہ سے شہد جمع کرے اور دوسری جگہ سے بچے۔
«ذُلُلًا» کی تفسیر اطاعت گزر اور مسخر سے بھی کی گئی ہے پس یہ حال ہو گا «سالكة» کا، جیسے قرآن میں آیت «وَذَلَّــلْنٰهَا لَهُمْ فَمِنْهَا رَكُوْبُهُمْ وَمِنْهَا يَاْكُلُوْنَ» ۱؎ [36-يس:72] میں بھی یہی معنی مراد ہے۔ اس کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ لوگ شہد کے چھتے کو ایک شہر سے دوسرے شہر تک لے جاتے ہیں۔ لیکن پہلا قول بہت زیادہ ظاہر ہے یعنی یہ اس کے طریق کا حال ہے۔ ابن اجریر رحمہ اللہ دونوں قول صحیح بتلاتے ہیں۔
ابو یعلیٰ موصلی میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { مکھی کی عمر چالیس دن کی ہوتی ہے سوائے شہد کی مکھی کے۔ کئی مکھیاں آگ میں بھی ہوتی ہیں } }۔ ۱؎ [مسند ابو یعلی:4231:]
شہد کے رنگ مختلف ہوتے ہیں سفید زرد سرخ وغیرہ جیسے پھل پھول اور جیسی زمین۔ اس ظاہری خوبی اور رنگ کی چمک کے ساتھ اس میں شفاء بھی ہے، بہت سی بیماریوں کو اللہ تعالیٰ اس سے دور کر دیتا ہے یہاں «فِيهِ شِفَاءٌ لِلنَّاسِ» نہیں فرمایا ورنہ ہر بیماری کی دوا یہی ٹھہرتی بلکہ فرمایا ’ اس میں شفاء ہے لوگوں کے لیے ‘۔ پس یہ سرد بیماریوں کی دوا ہے۔ علاج ہمیشہ بیماریوں کے خلاف ہوتا ہے پس شہد گرم ہے سردی کی بیماری میں مفید ہے۔
«ذُلُلًا» کی تفسیر اطاعت گزر اور مسخر سے بھی کی گئی ہے پس یہ حال ہو گا «سالكة» کا، جیسے قرآن میں آیت «وَذَلَّــلْنٰهَا لَهُمْ فَمِنْهَا رَكُوْبُهُمْ وَمِنْهَا يَاْكُلُوْنَ» ۱؎ [36-يس:72] میں بھی یہی معنی مراد ہے۔ اس کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ لوگ شہد کے چھتے کو ایک شہر سے دوسرے شہر تک لے جاتے ہیں۔ لیکن پہلا قول بہت زیادہ ظاہر ہے یعنی یہ اس کے طریق کا حال ہے۔ ابن اجریر رحمہ اللہ دونوں قول صحیح بتلاتے ہیں۔
ابو یعلیٰ موصلی میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { مکھی کی عمر چالیس دن کی ہوتی ہے سوائے شہد کی مکھی کے۔ کئی مکھیاں آگ میں بھی ہوتی ہیں } }۔ ۱؎ [مسند ابو یعلی:4231:]
شہد کے رنگ مختلف ہوتے ہیں سفید زرد سرخ وغیرہ جیسے پھل پھول اور جیسی زمین۔ اس ظاہری خوبی اور رنگ کی چمک کے ساتھ اس میں شفاء بھی ہے، بہت سی بیماریوں کو اللہ تعالیٰ اس سے دور کر دیتا ہے یہاں «فِيهِ شِفَاءٌ لِلنَّاسِ» نہیں فرمایا ورنہ ہر بیماری کی دوا یہی ٹھہرتی بلکہ فرمایا ’ اس میں شفاء ہے لوگوں کے لیے ‘۔ پس یہ سرد بیماریوں کی دوا ہے۔ علاج ہمیشہ بیماریوں کے خلاف ہوتا ہے پس شہد گرم ہے سردی کی بیماری میں مفید ہے۔
مجاہد اور ابن جریر رحمہ اللہ علیہم سے منقول ہے کہ ”اس سے مراد قرآن ہے یعنی قرآن میں شفاء ہے۔“ یہ قول گو اپنے طور پر صحیح ہے اور واقعی قرآن شفاء ہے لیکن اس آیت میں یہ مراد لینا سیاق کے مطابق نہیں۔ اس میں تو شہد کا ذکر ہے، اسی لیے مجاہد رحمہ اللہ کے اس قول کی اقتداء نہیں کی گئی۔
ہاں قرآن کے شفاء ہونے کا ذکر آیت «وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْاٰنِ مَا هُوَ شِفَا» ۱؎ [17-الإسراء:82]، میں ہے اور آیت «وَشِفَاءٌ لِّمَا فِي الصُّدُوْرِ ڏ وَهُدًى وَّرَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِيْنَ» ۱؎ [10-یونس:57] میں ہے اس آیت میں تو مراد شہد ہے۔
چنانچہ بخاری مسلم کی حدیث میں ہے کہ { کسی نے آ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا کہ میرے بھائی کو دست آ رہے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اسے شہد پلاؤ }، وہ گیا، شہد دیا، پھر آیا اور کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسے تو بیماری اور بڑھ گئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { جاؤ اور شہد پلاؤ }۔ اس نے جا کر پھر پلایا، پھر حاضر ہو کر یہی عرض کیا کہ دست اور بڑھ گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اللہ سچا ہے اور تیرے بھائی کا پیٹ جھوٹا ہے، جا پھر شہد دے }۔ تیسری مرتبہ شہد سے بفضل الٰہی شفاء حاصل ہوگئی }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:5684]
بعض اطباء نے کہا ہے ممکن ہے اس کے پیٹ میں فضلے کی زیادتی ہو، شہد نے اپنی گرمی کی وجہ سے اس کی تحلیل کر دی۔ فضلہ خارج ہونا شروع ہوا۔ دست بڑھ گئے۔ اعرابی نے اسے مرض کا بڑھ جانا سمجھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اور شہد دینے کو فرمایا اس سے زور سے فضلہ خارج ہونا شروع ہوا پھر شہد دیا، پیٹ صاف ہوگیا، بلا نکل گئی اور کامل شفاء بفضل الٰہی حاصل ہو گئی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بات جو بہ اشارہ الٰہی پوری ہوگئی۔
ہاں قرآن کے شفاء ہونے کا ذکر آیت «وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْاٰنِ مَا هُوَ شِفَا» ۱؎ [17-الإسراء:82]، میں ہے اور آیت «وَشِفَاءٌ لِّمَا فِي الصُّدُوْرِ ڏ وَهُدًى وَّرَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِيْنَ» ۱؎ [10-یونس:57] میں ہے اس آیت میں تو مراد شہد ہے۔
چنانچہ بخاری مسلم کی حدیث میں ہے کہ { کسی نے آ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا کہ میرے بھائی کو دست آ رہے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اسے شہد پلاؤ }، وہ گیا، شہد دیا، پھر آیا اور کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسے تو بیماری اور بڑھ گئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { جاؤ اور شہد پلاؤ }۔ اس نے جا کر پھر پلایا، پھر حاضر ہو کر یہی عرض کیا کہ دست اور بڑھ گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اللہ سچا ہے اور تیرے بھائی کا پیٹ جھوٹا ہے، جا پھر شہد دے }۔ تیسری مرتبہ شہد سے بفضل الٰہی شفاء حاصل ہوگئی }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:5684]
بعض اطباء نے کہا ہے ممکن ہے اس کے پیٹ میں فضلے کی زیادتی ہو، شہد نے اپنی گرمی کی وجہ سے اس کی تحلیل کر دی۔ فضلہ خارج ہونا شروع ہوا۔ دست بڑھ گئے۔ اعرابی نے اسے مرض کا بڑھ جانا سمجھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اور شہد دینے کو فرمایا اس سے زور سے فضلہ خارج ہونا شروع ہوا پھر شہد دیا، پیٹ صاف ہوگیا، بلا نکل گئی اور کامل شفاء بفضل الٰہی حاصل ہو گئی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بات جو بہ اشارہ الٰہی پوری ہوگئی۔
بخاری اور مسلم کی ایک اور حدیث میں ہے کہ { سرور رسل صلی اللہ علیہ وسلم کو مٹھاس اور شہد سے بہت الفت تھی }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:5431]
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ { تین چیزوں میں شفاء ہے، پچھنے لگانے میں، شہد کے پینے میں اور داغ لگوانے میں لیکن میں اپنی امت کو داغ لگوانے سے روکتا ہوں }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:5681]
بخاری شریف کی حدیث میں ہے کہ { تمہاری دواؤں میں سے کسی میں اگر شفاء ہے تو پچھنے لگانے میں، شہد کے پینے میں اور آگ سے دغوا نے میں جو بیماری کے مناسب ہو لیکن میں اسے پسند نہیں کرتا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:5683]
مسلم کی حدیث میں ہے { میں اسے پسند نہیں کرتا بلکہ ناپسند رکھتا ہوں }۔ ۱؎ [مسند احمد:146/4:صحیح]
ابن ماجہ میں ہے { تم ان دونوں شفاؤں کی قدر کرتے رہو شہد اور قرآن }۔ [سنن ابن ماجه:3452،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
ابن جریر میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے کہ ”جب تم میں سے کوئی شفاء چاہے تو قرآن کریم کی کسی آیت کو کسی صحیفے پر لکھ لے اور اسے بارش کے پانی سے دھو لے اور اپنی بیوی کے مال سے اس کی اپنی رضا مندی سے پیسے لے کر شہد خرید لے اور اسے پی لے پس اس میں کئی وجہ سے شفاء آ جائے گی۔“
اللہ تعالیٰ عز و جل کا فرمان ہے آیت «وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْآنِ مَا هُوَ شِفَاءٌ وَرَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِينَ» ۱؎ [17-الإسراء:82] یعنی ’ ہم نے قرآن میں وہ نازل فرمایا ہے جو مومنین کے لیے شفاء ہے اور رحمت ہے ‘۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ { تین چیزوں میں شفاء ہے، پچھنے لگانے میں، شہد کے پینے میں اور داغ لگوانے میں لیکن میں اپنی امت کو داغ لگوانے سے روکتا ہوں }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:5681]
بخاری شریف کی حدیث میں ہے کہ { تمہاری دواؤں میں سے کسی میں اگر شفاء ہے تو پچھنے لگانے میں، شہد کے پینے میں اور آگ سے دغوا نے میں جو بیماری کے مناسب ہو لیکن میں اسے پسند نہیں کرتا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:5683]
مسلم کی حدیث میں ہے { میں اسے پسند نہیں کرتا بلکہ ناپسند رکھتا ہوں }۔ ۱؎ [مسند احمد:146/4:صحیح]
ابن ماجہ میں ہے { تم ان دونوں شفاؤں کی قدر کرتے رہو شہد اور قرآن }۔ [سنن ابن ماجه:3452،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
ابن جریر میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے کہ ”جب تم میں سے کوئی شفاء چاہے تو قرآن کریم کی کسی آیت کو کسی صحیفے پر لکھ لے اور اسے بارش کے پانی سے دھو لے اور اپنی بیوی کے مال سے اس کی اپنی رضا مندی سے پیسے لے کر شہد خرید لے اور اسے پی لے پس اس میں کئی وجہ سے شفاء آ جائے گی۔“
اللہ تعالیٰ عز و جل کا فرمان ہے آیت «وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْآنِ مَا هُوَ شِفَاءٌ وَرَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِينَ» ۱؎ [17-الإسراء:82] یعنی ’ ہم نے قرآن میں وہ نازل فرمایا ہے جو مومنین کے لیے شفاء ہے اور رحمت ہے ‘۔
اور آیت میں ہے «وَنَزَّلْنَا مِنَ السَّمَاءِ مَاءً مُّبٰرَكًا فَاَنْبَتْنَا بِهٖ جَنّٰتٍ وَّحَبَّ الْحَصِيْدِ» ۱؎ [50-ق:9] ’ ہم آسمان سے با برکت پانی برساتے ہیں ‘۔
اور فرمان ہے «وَاٰتُوا النِّسَاءَ صَدُقٰتِهِنَّ نِحْلَةٍ فَاِنْ طِبْنَ لَكُمْ عَنْ شَيْءٍ مِّنْهُ نَفْسًا فَكُلُوْهُ هَنِيْــــــًٔـا مَّرِيْـــــــًٔـا» ۱؎ [4-النساء:4] یعنی ’ اگر عورتیں اپنے مال مہر میں سے اپنی خوشی سے تمہیں کچھ دے دیں تو بیشک تم اسے کھاؤ پیو مزے سے ‘۔ شہد کے بارے میں فرمان الٰہی ہے «فِيهِ شِفَاءٌ لِّلنَّاسِ» ’ شہد میں لوگوں کے لیے شفاء ہے ‘۔
ابن ماجہ میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { جو شخص ہر مہینے میں تین دن صبح کو شہد چاٹ لے اسے کوئی بڑی بلا نہیں پہنچے گی } }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجه:3450،قال الشيخ الألباني:ضعیف] اس کا ایک راوی زبیر بن سعید متروک ہے۔
ابن ماجہ کی اور حدیث میں { آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ { «عَلَيْكُمْ بِالسَّنَا وَالسَّنُوتِ فَإِنَّ فِيهِمَا شِفَاءٌ مِنْ كُلِّ دَاءٍ إِلا السَّامَ» تم سنا اور سنوت کا استعمال کیا کرو ان میں ہر بیماری کی شفاء ہے سوائے سام کے }۔ لوگوں نے پوچھا سام کیا؟ فرمایا: { موت } }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجه:3457،قال الشيخ الألباني:صحیح]
«سَّنُوتِ» کے معنی ثبت کے ہیں اور لوگوں نے کہا ہے سنوت شہد ہے جو گھی کی مشک میں رکھا ہوا ہو۔ شاعر کے شعر میں «هُمُ السَّمْنُ بِالسَّنُّوتِ لَا أَلْسَ فِيهِمْ وَهُمْ يَمْنَعُونَ الْجَارَ أَنْ يُقَرَّدَا» یہ لفظ اس معنی میں آیا ہے۔
پھر فرماتا ہے کہ ’ مکھی جیسی بے طاقت چیز کا تمہارے لیے شہد اور موم بنانا اس کا اس طرح آ زادی سے پھرنا اپنے گھر کو نہ بھولنا وغیرہ یہ سب چیزیں غور و فکر کرنے والوں کے لیے میری عظمت، خالقیت اور مالکیت کی بڑی نشانیاں ہیں ‘۔ اسی سے لوگ اپنے اللہ کے قادر حکیم علیم کریم رحیم ہونے پر دلیل حاصل کر سکتے ہیں۔
اور فرمان ہے «وَاٰتُوا النِّسَاءَ صَدُقٰتِهِنَّ نِحْلَةٍ فَاِنْ طِبْنَ لَكُمْ عَنْ شَيْءٍ مِّنْهُ نَفْسًا فَكُلُوْهُ هَنِيْــــــًٔـا مَّرِيْـــــــًٔـا» ۱؎ [4-النساء:4] یعنی ’ اگر عورتیں اپنے مال مہر میں سے اپنی خوشی سے تمہیں کچھ دے دیں تو بیشک تم اسے کھاؤ پیو مزے سے ‘۔ شہد کے بارے میں فرمان الٰہی ہے «فِيهِ شِفَاءٌ لِّلنَّاسِ» ’ شہد میں لوگوں کے لیے شفاء ہے ‘۔
ابن ماجہ میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { جو شخص ہر مہینے میں تین دن صبح کو شہد چاٹ لے اسے کوئی بڑی بلا نہیں پہنچے گی } }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجه:3450،قال الشيخ الألباني:ضعیف] اس کا ایک راوی زبیر بن سعید متروک ہے۔
ابن ماجہ کی اور حدیث میں { آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ { «عَلَيْكُمْ بِالسَّنَا وَالسَّنُوتِ فَإِنَّ فِيهِمَا شِفَاءٌ مِنْ كُلِّ دَاءٍ إِلا السَّامَ» تم سنا اور سنوت کا استعمال کیا کرو ان میں ہر بیماری کی شفاء ہے سوائے سام کے }۔ لوگوں نے پوچھا سام کیا؟ فرمایا: { موت } }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجه:3457،قال الشيخ الألباني:صحیح]
«سَّنُوتِ» کے معنی ثبت کے ہیں اور لوگوں نے کہا ہے سنوت شہد ہے جو گھی کی مشک میں رکھا ہوا ہو۔ شاعر کے شعر میں «هُمُ السَّمْنُ بِالسَّنُّوتِ لَا أَلْسَ فِيهِمْ وَهُمْ يَمْنَعُونَ الْجَارَ أَنْ يُقَرَّدَا» یہ لفظ اس معنی میں آیا ہے۔
پھر فرماتا ہے کہ ’ مکھی جیسی بے طاقت چیز کا تمہارے لیے شہد اور موم بنانا اس کا اس طرح آ زادی سے پھرنا اپنے گھر کو نہ بھولنا وغیرہ یہ سب چیزیں غور و فکر کرنے والوں کے لیے میری عظمت، خالقیت اور مالکیت کی بڑی نشانیاں ہیں ‘۔ اسی سے لوگ اپنے اللہ کے قادر حکیم علیم کریم رحیم ہونے پر دلیل حاصل کر سکتے ہیں۔