وَ اَوۡحٰی رَبُّکَ اِلَی النَّحۡلِ اَنِ اتَّخِذِیۡ مِنَ الۡجِبَالِ بُیُوۡتًا وَّ مِنَ الشَّجَرِ وَ مِمَّا یَعۡرِشُوۡنَ ﴿ۙ۶۸﴾
اور تیرے رب نے شہد کی مکھی کی طرف وحی کی کہ کچھ پہاڑوں میں سے گھر بنا اور کچھ درختوں میں سے اور کچھ اس میں سے جو لوگ چھپر بناتے ہیں۔
En
اور تمہارے پروردگار نے شہد کی مکھیوں کو ارشاد فرمایا کہ پہاڑوں میں اور درختوں میں اور اونچی اونچی چھتریوں میں جو لوگ بناتے ہیں گھر بنا
En
آپ کے رب نے شہد کی مکھی کے دل میں یہ بات ڈال دی کہ پہاڑوں میں درختوں اور لوگوں کی بنائی ہوئی اونچی اونچی ٹٹیوں میں اپنے گھر (چھتے) بنا
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت69،68) ➊ {وَ اَوْحٰى رَبُّكَ اِلَى النَّحْلِ:} وحی کا اصل معنی تو اشارۂ سریعہ ہے، یعنی خفیہ طریقے سے بات سمجھا دینا، جو دوسرا نہ سمجھے۔ یہاں مراد الہام ہے، یعنی دل میں ڈال دینا۔ شہد کی مکھی اللہ تعالیٰ کا خاص عطیہ ہے، اس لیے عرب زبان میں اس کا نام ہی {” النَّحْلِ “ } رکھا گیا، جو {”نَحَلَ يَنْحَلُ“} (ف) کا مصدر بمعنی اسم مفعول ہے، اس کا معنی عطیہ ہے، جیسا کہ فرمایا: «{ وَ اٰتُوا النِّسَآءَ صَدُقٰتِهِنَّ نِحْلَةً }» [النساء: ۴] ”اور عورتوں کو ان کے مہر بطور عطیہ (خوش دلی سے) دو۔“ اللہ تعالیٰ نے انسان بلکہ ہر مخلوق کی طبیعت اور فطرت میں اس کے فائدے اور نقصان کی پہچان رکھ دی ہے۔
یہی وہ فطری رہنمائی ہے جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے سورۂ شمس میں فرمایا: «{ وَ نَفْسٍ وَّ مَا سَوّٰىهَا (7) فَاَلْهَمَهَا فُجُوْرَهَا وَ تَقْوٰىهَا }» [الشمس: ۷، ۸] ”اور نفس کی اور اس ذات کی قسم جس نے اسے ٹھیک بنایا! پھر اس کی نافرمانی اور اس کی پرہیز گاری (کی پہچان) اس کے دل میں ڈال دی۔“ البتہ انسان اور دوسری مخلوق کا فرق یہ ہے کہ دوسرے سب فطری ہدایت کے پابند رہتے ہیں، مثلاً جانوروں کو دیکھ لیں، جب ان کا پیٹ بھر جائے تو مجال نہیں کہ ایک لقمہ بھی کھائیں۔ گدھا جسے سب سے کند ذہن سمجھا جاتا ہے، اللہ کی فطری ہدایت کے تحت بچے کو بھی سوار کر لیتا ہے اور پانی کا نالہ آنے پر ٹھہر کر اندازہ کرتا ہے، اگر پار کر سکتا ہو تو چھلانگ لگائے گا ورنہ نہیں۔ یہ انسان ہی ہے جو فطرت کی ہدایت کو جب چاہتا ہے عمل میں لاتا ہے، نہیں چاہتا تو عمل میں نہیں لاتا، کئی دفعہ اتنا کھا جاتا ہے کہ بدہضمی یا ہیضے کا شکار ہو جاتا ہے۔
➋ {اَنِ اتَّخِذِيْ مِنَ الْجِبَالِ بُيُوْتًا …: ” يَعْرِشُوْنَ “} چھپر بنانے سے مراد گھروں کے باہر یا کھیتوں میں بیٹھنے کے لیے سائے والے چھپر بھی ہیں اور بانسوں اور سرکنڈوں وغیرہ کے وہ کھلے چھپر بھی جو انگوروں کی بیلیں چڑھانے کے لیے بنائے جاتے ہیں۔ {” مِنْ “} تینوں جگہ تبعیض کے لیے ہے، یعنی ہر پہاڑ، درخت اور چھپر گھر بنانے کے قابل نہیں، ان میں سے مناسب جگہوں کا انتخاب کرو۔ اس کے بعد کھانے پر کوئی پابندی نہیں، ہر پھل میں سے کھاؤ، یعنی {” ثُمَّ كُلِيْ مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ “} یہ امر اباحت کے لیے ہے، وجوب کے لیے نہیں کہ ضرور ہی ہر پھل میں سے کھاؤ۔ مطلب یہ ہے کہ جو چاہو کھاؤ، جیسے کہتے ہیں حرام چھوڑ کر ہر چیز کھاؤ، یعنی تمھیں اجازت ہے۔ اس حکم کی تعمیل مشاہدے میں بھی آئی ہے کہ مکھیاں پہلے اپنا چھتا بناتی ہیں، پھر خوراک کے لیے نکلتی ہیں۔
➌ اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کی فطرت میں اس کے نفع نقصان کی سمجھ رکھ دی ہے، جیسا کہ موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا: «{ رَبُّنَا الَّذِيْۤ اَعْطٰى كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهٗ ثُمَّ هَدٰى }» [طٰہٰ: ۵۰] ”ہمارا رب وہ ہے جس نے ہر چیز کو اس کی شکل و صورت بخشی، پھر راستہ دکھایا۔“ مگر شہد کی مکھی کا خاص طور پر الگ ذکر بھی فرمایا: «{ وَ اَوْحٰى رَبُّكَ اِلَى النَّحْلِ }» ”اور تیرے رب نے شہد کی مکھی کی طرف وحی فرمائی۔“ اس لیے اہل علم نے اس کے گھر بنانے، اس کے نظام زندگی اور شہد بنانے کے عمل پر بہت تحقیق کرکے مستقل کتابیں لکھی ہیں۔ یہ چھوٹا سا جانور باقاعدہ ایک منظم حکومت کے تحت رہتا ہے۔ پورے چھتے کی ایک ہی ملکہ ہوتی ہے، جس کے حکم اور تقسیم کار کے مطابق تمام مکھیاں عمل کرتی ہیں۔ یہ ملکہ دوسری مکھیوں سے قدو قامت اور وضع قطع میں ممتاز ہوتی ہے۔ مکھیاں اس کے لیے خاص غذا مہیا کرتی ہیں، جسے ”غذاء الملکہ“ کہتے ہیں، جو نہایت مقوی ہوتی ہے۔ یہ ملکہ تین ہفتوں میں چھ ہزار سے بارہ ہزار تک انڈے دیتی ہے۔ اس کے حکم اور فرائض کی تقسیم کے مطابق تمام مکھیاں الگ الگ کام سرانجام دیتی ہیں۔ کچھ دربان ہوتی ہیں جو کسی اجنبی کو اندر نہیں آنے دیتیں، کچھ انڈوں کی حفاظت کرتی ہیں، کچھ نئے نکلنے والے بچوں کی تربیت کرتی ہیں، کچھ موم کے ساتھ چھتا بنانے کے لیے معماری کا کام کرتی ہیں، کچھ وہ ہیں جو انھیں موم پہنچاتی ہیں۔ بعض سپاہی ہوتی ہیں، جن کا کام چھتے کی حفاظت اور دشمن کا مقابلہ کرنا ہوتا ہے، کچھ پھولوں اور پھلوں سے رس چوستی ہیں جو ان کے پیٹوں کے کارخانے میں شہد بنتا ہے، وہ مکھیوں اور ان کے بچوں کے لیے خوراک اور انسان کے لیے غذا و دوا بنتا ہے، جب کہ موم انسان کی متعدد ضروریات، مثلاً روشنی، علاج وغیرہ کے کام آتا ہے۔ ان کا چھتا بھی قدرت کی کاریگری کا عجیب نمونہ ہے، ہر خانہ مسدس (چھ ضلعوں والا) ہوتا ہے جو مکھی کے جسم کے عین مطابق (گول اور لمبا) ہوتا ہے اور ہر ضلع ایسا برابر کہ پرکار اور مسطر سے بھی کوئی فرق نہیں نکلے گا۔ مسدس بنانے میں یہ حکمت ہے کہ گول یا مربع یا کسی بھی اور شکل کا ہوتا تو یا گھر کے اندر مکھی کے جسم سے زائد جگہ بچ جاتی یا گھروں کے باہر درمیان میں جگہ بچ جاتی۔ یہ مکھیاں صفائی کا نہایت اہتمام رکھتی ہیں، اپنے فضلے کے لیے الگ جگہ مقرر رکھتی ہیں۔ چھتے سے فضلہ ساتھ ہی ساتھ باہر نکالتی رہتی ہیں۔ ہمیشہ صاف پانی پیتی ہیں۔ کوئی گندگی سے آلودہ مکھی آ جائے تو دربان اندر نہیں جانے دیتے، بلکہ انھیں مار دیا جاتا ہے۔ بے کار مکھیوں کو بھی قتل کر دیا جاتا ہے، اگر کوئی مکھی مر جائے تو فوراً اسے باہر پھینک دیا جاتا ہے۔ گرمی کی شدت سے شہد گرنے کاخطرہ ہو تو پروں سے ہوا دے کر اسے ٹھنڈا رکھتی ہیں۔ ملکہ مکھی کے علاوہ کوئی اور ملکہ ظاہر ہو تو اسے قتل کر دیا جاتا ہے، تاکہ نظام میں خرابی پیدا نہ ہو۔ جیسا کہ ایک خلیفہ کی موجودگی میں دوسرے دعوے دار کو قتل کرنے کا حکم ہے۔ [دیکھیے مسلم، الأمارۃ، باب حکم من فرق أمر المسلمین…: ۶۰ /۱۸۵۲] غرض ایک عجیب منظم سلطنت ہے جو انسان کے فائدے کی خاطر مصروف عمل ہے۔
➍ { فَاسْلُكِيْ سُبُلَ رَبِّكِ ذُلُلًا: ” ذُلُلًا “ ”ذَلُوْلٌ“} کی جمع ہے، جس کا معنی مطیع اور مسخر ہے اور یہ {” سُبُلَ “} سے حال ہے، یعنی گھر بنانے کے بعد شہد بنانے والی مکھیاں دن کو نکلتی ہیں اور بعض اوقات پھولوں اور پھلوں کی تلاش میں بہت دور نکل جاتی ہیں، پھر پیٹ میں پھلوں کا رس اور پاؤں میں موم کا مادہ لے کر دن بھر میں کئی چکر اپنے گھر کی طرف لگاتی ہیں۔ رات کو دوبارہ اپنے چھتے میں واپس آ جاتی ہیں۔ اتنی دور سے ٹھیک اسی جگہ واپس آنا ممکن نہ تھا، مگر یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کا کرشمہ ہے کہ اس نے کھیتوں، شہروں، صحراؤں اور پہاڑوں کے دور دراز اور بے نشان راستے اس کے لیے ایسے آسان اور مسخر کر دیے ہیں کہ وہ انھی پر واپس پلٹ کر عین اپنے چھتے میں پہنچ جاتی ہے، کبھی دوسرے چھتے میں نہیں جاتی۔ {” فَاسْلُكِيْ سُبُلَ رَبِّكِ ذُلُلًا “} کی ایک تفسیر یہ بھی ہے کہ تیرے رب نے شہد بنانے کے لیے جو جو مرحلے اور طریقے رکھے ہیں، وہ سب تیری دسترس میں کر دیے ہیں، سو تو ان پر چلتے ہوئے شہد تیار کر۔
➎ {يَخْرُجُ مِنْۢ بُطُوْنِهَا شَرَابٌ مُّخْتَلِفٌ اَلْوَانُهٗ: ” شَرَابٌ “} یعنی مشروب، اس سے معلوم ہوا کہ شہد اصل میں پینے کی چیزہے، خالص پی لو یا دودھ یا پانی وغیرہ ملا کر۔ پھلوں، پھولوں، موسم اور علاقے کے لحاظ سے شہد مختلف رنگوں، ذائقوں اور خاصیتوں کا حامل ہوتا ہے، جبکہ دودھ سفید ہی ہوتا ہے، یہ بھی پروردگار کی کاریگری ہے۔
➏ { فِيْهِ شِفَآءٌ لِّلنَّاسِ:} اس میں بھی اللہ تعالیٰ کی عظیم قدرت ہے کہ ایک زہریلے کیڑے کے پیٹ میں تیار ہونے والے مشروب میں لوگوں کے لیے شفا رکھ دی ہے۔ یہاں {” شِفَآءٌ “} نکرہ ہے جو اثبات کے تحت آیا ہے، اس لیے اس کا ہر مرض کے لیے شفا ہونا تو واضح نہیں ہوتا۔ اسی طرح {” لِلنَّاسِ “} کا الف لام بھی جنس یا استغراق کے لیے مانیں تو سب لوگوں کے لیے شفا مراد ہو گی، عہد کے لیے مانیں تو پھر انھی کے لیے شفا ہو گی جن کا علاج شہد سے ہو سکتا ہے۔{ ” شِفَآءٌ “} میں تنوین کا ترجمہ بڑی شفا بھی ہو سکتا ہے۔ بہرحال شہد چونکہ بے شمار پھولوں اور پھلوں کا خلاصہ ہے، جن میں سے ہر ایک کسی نہ کسی بیماری کا علاج ہے، اس لیے شہد میں ہر بیماری کا علاج ہونا کچھ بعید نہیں۔ جس طرح اب کئی ہو میو اور دوسرے ڈاکٹر ایک ہی وقت میں بہت سی دواؤں کا مجموعہ دے دیتے ہیں کہ کوئی دوا تو بیماری کے مطابق ہو گی۔ غرض شہد اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت ہے، اس میں لذت بھی ہے اور شفا بھی۔ شہد میں ایک خوبی یہ ہے کہ وہ نمی کو جذب کرتا ہے اور اس میں جراثیم زندہ نہیں رہ سکتے، اس لیے زخم اور پھوڑے پر لگانے سے وہ درست ہو جاتا ہے۔ آنکھوں اور پیٹ کی بیماریوں کا علاج ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسہال (دستوں) کے مریض کو بار بار شہد پلانے اور آخر کار اس کے تندرست ہونے کی حدیث صحیح بخاری (۵۷۱۶) میں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس آیت اوراحادیث سے معلوم یہی ہوتا ہے کہ شہد ہر بیماری کا علاج ہے، مگر ہر بیماری کے لیے اس کی مقدارِ خوراک اور طریقِ استعمال تجربے اور تحقیق ہی سے طے ہو سکتے ہیں جو اطباء کا کام اور ان کی ذمہ داری ہے، مگر افسوس کہ اس پر مسلمان اطباء نے اتنی محنت نہیں کی کہ اس خزانے سے کما حقہ فائدہ اٹھا سکتے، البتہ اس کی ایک خاصیت سے تمام مسلم اطباء شروع سے فائدہ اٹھاتے آئے ہیں، وہ یہ کہ اس میں رکھی ہوئی چیز محفوظ ہو جاتی ہے، خراب نہیں ہوتی، اس لیے وہ تمام معجونیں، خمیرے اور جوارشیں محفوظ رکھنے کے لیے سیکڑوں برس سے شہد میں بناتے آ رہے ہیں، جس سے وہ دواؤں کو محفوظ رکھنے کے لیے الکحل جیسی حرام چیز کے محتاج نہیں ہوئے۔ (والحمد للہ)
➐ { اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيَةً لِّقَوْمٍ يَّتَفَكَّرُوْنَ۠ …:} شہد کی مکھی کے احوال سے اللہ تعالیٰ کی قدرت اور وحدانیت کا علم غورو فکر کرنے والوں ہی کو نصیب ہوتا ہے۔ شاہ عبد القادر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ”تین پتے بتائے برے میں سے بھلا نکلنے کے: (1) جانور کے پیٹ سے دودھ۔ (2) نشے کے انگور اور کھجور سے روزی پاک۔ (3) اور مکھی کے پیٹ سے شہد۔ یعنی اس قرآن سے جاہلوں کی اولاد عالم نکلے گی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں یوں ہی ہوا، کافروں کی اولاد کامل ہوئی۔“ (موضح)
یہی وہ فطری رہنمائی ہے جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے سورۂ شمس میں فرمایا: «{ وَ نَفْسٍ وَّ مَا سَوّٰىهَا (7) فَاَلْهَمَهَا فُجُوْرَهَا وَ تَقْوٰىهَا }» [الشمس: ۷، ۸] ”اور نفس کی اور اس ذات کی قسم جس نے اسے ٹھیک بنایا! پھر اس کی نافرمانی اور اس کی پرہیز گاری (کی پہچان) اس کے دل میں ڈال دی۔“ البتہ انسان اور دوسری مخلوق کا فرق یہ ہے کہ دوسرے سب فطری ہدایت کے پابند رہتے ہیں، مثلاً جانوروں کو دیکھ لیں، جب ان کا پیٹ بھر جائے تو مجال نہیں کہ ایک لقمہ بھی کھائیں۔ گدھا جسے سب سے کند ذہن سمجھا جاتا ہے، اللہ کی فطری ہدایت کے تحت بچے کو بھی سوار کر لیتا ہے اور پانی کا نالہ آنے پر ٹھہر کر اندازہ کرتا ہے، اگر پار کر سکتا ہو تو چھلانگ لگائے گا ورنہ نہیں۔ یہ انسان ہی ہے جو فطرت کی ہدایت کو جب چاہتا ہے عمل میں لاتا ہے، نہیں چاہتا تو عمل میں نہیں لاتا، کئی دفعہ اتنا کھا جاتا ہے کہ بدہضمی یا ہیضے کا شکار ہو جاتا ہے۔
➋ {اَنِ اتَّخِذِيْ مِنَ الْجِبَالِ بُيُوْتًا …: ” يَعْرِشُوْنَ “} چھپر بنانے سے مراد گھروں کے باہر یا کھیتوں میں بیٹھنے کے لیے سائے والے چھپر بھی ہیں اور بانسوں اور سرکنڈوں وغیرہ کے وہ کھلے چھپر بھی جو انگوروں کی بیلیں چڑھانے کے لیے بنائے جاتے ہیں۔ {” مِنْ “} تینوں جگہ تبعیض کے لیے ہے، یعنی ہر پہاڑ، درخت اور چھپر گھر بنانے کے قابل نہیں، ان میں سے مناسب جگہوں کا انتخاب کرو۔ اس کے بعد کھانے پر کوئی پابندی نہیں، ہر پھل میں سے کھاؤ، یعنی {” ثُمَّ كُلِيْ مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ “} یہ امر اباحت کے لیے ہے، وجوب کے لیے نہیں کہ ضرور ہی ہر پھل میں سے کھاؤ۔ مطلب یہ ہے کہ جو چاہو کھاؤ، جیسے کہتے ہیں حرام چھوڑ کر ہر چیز کھاؤ، یعنی تمھیں اجازت ہے۔ اس حکم کی تعمیل مشاہدے میں بھی آئی ہے کہ مکھیاں پہلے اپنا چھتا بناتی ہیں، پھر خوراک کے لیے نکلتی ہیں۔
➌ اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کی فطرت میں اس کے نفع نقصان کی سمجھ رکھ دی ہے، جیسا کہ موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا: «{ رَبُّنَا الَّذِيْۤ اَعْطٰى كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهٗ ثُمَّ هَدٰى }» [طٰہٰ: ۵۰] ”ہمارا رب وہ ہے جس نے ہر چیز کو اس کی شکل و صورت بخشی، پھر راستہ دکھایا۔“ مگر شہد کی مکھی کا خاص طور پر الگ ذکر بھی فرمایا: «{ وَ اَوْحٰى رَبُّكَ اِلَى النَّحْلِ }» ”اور تیرے رب نے شہد کی مکھی کی طرف وحی فرمائی۔“ اس لیے اہل علم نے اس کے گھر بنانے، اس کے نظام زندگی اور شہد بنانے کے عمل پر بہت تحقیق کرکے مستقل کتابیں لکھی ہیں۔ یہ چھوٹا سا جانور باقاعدہ ایک منظم حکومت کے تحت رہتا ہے۔ پورے چھتے کی ایک ہی ملکہ ہوتی ہے، جس کے حکم اور تقسیم کار کے مطابق تمام مکھیاں عمل کرتی ہیں۔ یہ ملکہ دوسری مکھیوں سے قدو قامت اور وضع قطع میں ممتاز ہوتی ہے۔ مکھیاں اس کے لیے خاص غذا مہیا کرتی ہیں، جسے ”غذاء الملکہ“ کہتے ہیں، جو نہایت مقوی ہوتی ہے۔ یہ ملکہ تین ہفتوں میں چھ ہزار سے بارہ ہزار تک انڈے دیتی ہے۔ اس کے حکم اور فرائض کی تقسیم کے مطابق تمام مکھیاں الگ الگ کام سرانجام دیتی ہیں۔ کچھ دربان ہوتی ہیں جو کسی اجنبی کو اندر نہیں آنے دیتیں، کچھ انڈوں کی حفاظت کرتی ہیں، کچھ نئے نکلنے والے بچوں کی تربیت کرتی ہیں، کچھ موم کے ساتھ چھتا بنانے کے لیے معماری کا کام کرتی ہیں، کچھ وہ ہیں جو انھیں موم پہنچاتی ہیں۔ بعض سپاہی ہوتی ہیں، جن کا کام چھتے کی حفاظت اور دشمن کا مقابلہ کرنا ہوتا ہے، کچھ پھولوں اور پھلوں سے رس چوستی ہیں جو ان کے پیٹوں کے کارخانے میں شہد بنتا ہے، وہ مکھیوں اور ان کے بچوں کے لیے خوراک اور انسان کے لیے غذا و دوا بنتا ہے، جب کہ موم انسان کی متعدد ضروریات، مثلاً روشنی، علاج وغیرہ کے کام آتا ہے۔ ان کا چھتا بھی قدرت کی کاریگری کا عجیب نمونہ ہے، ہر خانہ مسدس (چھ ضلعوں والا) ہوتا ہے جو مکھی کے جسم کے عین مطابق (گول اور لمبا) ہوتا ہے اور ہر ضلع ایسا برابر کہ پرکار اور مسطر سے بھی کوئی فرق نہیں نکلے گا۔ مسدس بنانے میں یہ حکمت ہے کہ گول یا مربع یا کسی بھی اور شکل کا ہوتا تو یا گھر کے اندر مکھی کے جسم سے زائد جگہ بچ جاتی یا گھروں کے باہر درمیان میں جگہ بچ جاتی۔ یہ مکھیاں صفائی کا نہایت اہتمام رکھتی ہیں، اپنے فضلے کے لیے الگ جگہ مقرر رکھتی ہیں۔ چھتے سے فضلہ ساتھ ہی ساتھ باہر نکالتی رہتی ہیں۔ ہمیشہ صاف پانی پیتی ہیں۔ کوئی گندگی سے آلودہ مکھی آ جائے تو دربان اندر نہیں جانے دیتے، بلکہ انھیں مار دیا جاتا ہے۔ بے کار مکھیوں کو بھی قتل کر دیا جاتا ہے، اگر کوئی مکھی مر جائے تو فوراً اسے باہر پھینک دیا جاتا ہے۔ گرمی کی شدت سے شہد گرنے کاخطرہ ہو تو پروں سے ہوا دے کر اسے ٹھنڈا رکھتی ہیں۔ ملکہ مکھی کے علاوہ کوئی اور ملکہ ظاہر ہو تو اسے قتل کر دیا جاتا ہے، تاکہ نظام میں خرابی پیدا نہ ہو۔ جیسا کہ ایک خلیفہ کی موجودگی میں دوسرے دعوے دار کو قتل کرنے کا حکم ہے۔ [دیکھیے مسلم، الأمارۃ، باب حکم من فرق أمر المسلمین…: ۶۰ /۱۸۵۲] غرض ایک عجیب منظم سلطنت ہے جو انسان کے فائدے کی خاطر مصروف عمل ہے۔
➍ { فَاسْلُكِيْ سُبُلَ رَبِّكِ ذُلُلًا: ” ذُلُلًا “ ”ذَلُوْلٌ“} کی جمع ہے، جس کا معنی مطیع اور مسخر ہے اور یہ {” سُبُلَ “} سے حال ہے، یعنی گھر بنانے کے بعد شہد بنانے والی مکھیاں دن کو نکلتی ہیں اور بعض اوقات پھولوں اور پھلوں کی تلاش میں بہت دور نکل جاتی ہیں، پھر پیٹ میں پھلوں کا رس اور پاؤں میں موم کا مادہ لے کر دن بھر میں کئی چکر اپنے گھر کی طرف لگاتی ہیں۔ رات کو دوبارہ اپنے چھتے میں واپس آ جاتی ہیں۔ اتنی دور سے ٹھیک اسی جگہ واپس آنا ممکن نہ تھا، مگر یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کا کرشمہ ہے کہ اس نے کھیتوں، شہروں، صحراؤں اور پہاڑوں کے دور دراز اور بے نشان راستے اس کے لیے ایسے آسان اور مسخر کر دیے ہیں کہ وہ انھی پر واپس پلٹ کر عین اپنے چھتے میں پہنچ جاتی ہے، کبھی دوسرے چھتے میں نہیں جاتی۔ {” فَاسْلُكِيْ سُبُلَ رَبِّكِ ذُلُلًا “} کی ایک تفسیر یہ بھی ہے کہ تیرے رب نے شہد بنانے کے لیے جو جو مرحلے اور طریقے رکھے ہیں، وہ سب تیری دسترس میں کر دیے ہیں، سو تو ان پر چلتے ہوئے شہد تیار کر۔
➎ {يَخْرُجُ مِنْۢ بُطُوْنِهَا شَرَابٌ مُّخْتَلِفٌ اَلْوَانُهٗ: ” شَرَابٌ “} یعنی مشروب، اس سے معلوم ہوا کہ شہد اصل میں پینے کی چیزہے، خالص پی لو یا دودھ یا پانی وغیرہ ملا کر۔ پھلوں، پھولوں، موسم اور علاقے کے لحاظ سے شہد مختلف رنگوں، ذائقوں اور خاصیتوں کا حامل ہوتا ہے، جبکہ دودھ سفید ہی ہوتا ہے، یہ بھی پروردگار کی کاریگری ہے۔
➏ { فِيْهِ شِفَآءٌ لِّلنَّاسِ:} اس میں بھی اللہ تعالیٰ کی عظیم قدرت ہے کہ ایک زہریلے کیڑے کے پیٹ میں تیار ہونے والے مشروب میں لوگوں کے لیے شفا رکھ دی ہے۔ یہاں {” شِفَآءٌ “} نکرہ ہے جو اثبات کے تحت آیا ہے، اس لیے اس کا ہر مرض کے لیے شفا ہونا تو واضح نہیں ہوتا۔ اسی طرح {” لِلنَّاسِ “} کا الف لام بھی جنس یا استغراق کے لیے مانیں تو سب لوگوں کے لیے شفا مراد ہو گی، عہد کے لیے مانیں تو پھر انھی کے لیے شفا ہو گی جن کا علاج شہد سے ہو سکتا ہے۔{ ” شِفَآءٌ “} میں تنوین کا ترجمہ بڑی شفا بھی ہو سکتا ہے۔ بہرحال شہد چونکہ بے شمار پھولوں اور پھلوں کا خلاصہ ہے، جن میں سے ہر ایک کسی نہ کسی بیماری کا علاج ہے، اس لیے شہد میں ہر بیماری کا علاج ہونا کچھ بعید نہیں۔ جس طرح اب کئی ہو میو اور دوسرے ڈاکٹر ایک ہی وقت میں بہت سی دواؤں کا مجموعہ دے دیتے ہیں کہ کوئی دوا تو بیماری کے مطابق ہو گی۔ غرض شہد اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت ہے، اس میں لذت بھی ہے اور شفا بھی۔ شہد میں ایک خوبی یہ ہے کہ وہ نمی کو جذب کرتا ہے اور اس میں جراثیم زندہ نہیں رہ سکتے، اس لیے زخم اور پھوڑے پر لگانے سے وہ درست ہو جاتا ہے۔ آنکھوں اور پیٹ کی بیماریوں کا علاج ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسہال (دستوں) کے مریض کو بار بار شہد پلانے اور آخر کار اس کے تندرست ہونے کی حدیث صحیح بخاری (۵۷۱۶) میں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس آیت اوراحادیث سے معلوم یہی ہوتا ہے کہ شہد ہر بیماری کا علاج ہے، مگر ہر بیماری کے لیے اس کی مقدارِ خوراک اور طریقِ استعمال تجربے اور تحقیق ہی سے طے ہو سکتے ہیں جو اطباء کا کام اور ان کی ذمہ داری ہے، مگر افسوس کہ اس پر مسلمان اطباء نے اتنی محنت نہیں کی کہ اس خزانے سے کما حقہ فائدہ اٹھا سکتے، البتہ اس کی ایک خاصیت سے تمام مسلم اطباء شروع سے فائدہ اٹھاتے آئے ہیں، وہ یہ کہ اس میں رکھی ہوئی چیز محفوظ ہو جاتی ہے، خراب نہیں ہوتی، اس لیے وہ تمام معجونیں، خمیرے اور جوارشیں محفوظ رکھنے کے لیے سیکڑوں برس سے شہد میں بناتے آ رہے ہیں، جس سے وہ دواؤں کو محفوظ رکھنے کے لیے الکحل جیسی حرام چیز کے محتاج نہیں ہوئے۔ (والحمد للہ)
➐ { اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيَةً لِّقَوْمٍ يَّتَفَكَّرُوْنَ۠ …:} شہد کی مکھی کے احوال سے اللہ تعالیٰ کی قدرت اور وحدانیت کا علم غورو فکر کرنے والوں ہی کو نصیب ہوتا ہے۔ شاہ عبد القادر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ”تین پتے بتائے برے میں سے بھلا نکلنے کے: (1) جانور کے پیٹ سے دودھ۔ (2) نشے کے انگور اور کھجور سے روزی پاک۔ (3) اور مکھی کے پیٹ سے شہد۔ یعنی اس قرآن سے جاہلوں کی اولاد عالم نکلے گی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں یوں ہی ہوا، کافروں کی اولاد کامل ہوئی۔“ (موضح)
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
68۔ 1 وَحَیً سے مراد الہام اور وہ سمجھ بوجھ ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنی طبعی ضروریات کی تکمیل کے لئے حیوانات کو بھی عطا کی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
68۔ نیز آپ کے پروردگار نے شہد کی مکھی کی طرف [65] وحی کی کہ پہاڑوں میں، درختوں میں اور (انگور وغیرہ کی) بیلوں میں اپنا [66] گھر (چھتا) بنا
[65] نحل شہد کی مکھی کو کہتے ہیں جو عام مکھی یعنی ذباب سے بڑی ہوتی ہے اور اس سورۃ کا نام ﴿النحل﴾ اسی نسبت سے ہے کہ صرف اسی سورت میں نحل کا ذکر آیا ہے اور اس مکھی کی طرف وحی کرنے سے مراد فطری اشارہ یا تعلیم ہے جو اللہ تعالیٰ نے ہر جاندار کی جبلت میں ودیعت کر رکھی ہے جیسے کہ بچہ پیدا ہوتے ہی ماں کی چھاتیوں کی طرف لپکتا ہے تاکہ وہاں سے اپنے لیے غذا حاصل کر سکے حالانکہ اس وقت اسے کسی بات کی سمجھ نہیں ہوتی۔ [66] یہ اسی فطری وحی کا اثر ہے کہ وہ اپنے لیے ایسا چھتا یا اپنا گھر بناتی ہے جسے انسان دیکھ کر حیران رہ جاتا ہے اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کسی ماہر انجینئر نے اس کی ڈیزائننگ کی ہے۔ اس چھتے کا ہر خانہ چھ پہلو والا یعنی مسدس ہوتا ہے جس کے تمام ضلعے مساوی لمبائی کے ہوتے ہیں اور اس طرح ایک دوسرے سے متصل یا جڑے ہوئے ہوتے ہیں کہ ان میں کہیں خالی جگہ کی گنجائش نہیں رہتی۔ انھیں خانوں میں مکھیاں شہد کا ذخیرہ کرتی ہیں اور بیرونی خانوں پر پہرہ دار مکھیاں ہوتی ہیں۔ جو اجنبی مکھیوں یا کیڑوں کو ان خانوں میں گھسنے نہیں دیتیں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
وحی سے کیا مراد ہے؟ ٭٭
وحی سے مراد یہاں پر الہام، ہدایت اور ارشاد ہے۔ شہد کی مکھیوں کو اللہ کی جانب سے یہ بات سمجھائی گئی کہ وہ پہاڑوں میں، درختوں میں اور چھتوں میں شہد کے چھتے بنائے۔ اس ضعیف مخلوق کے اس گھر کو دیکھئیے کتنا مضبوط کیسا خوبصورت اور کیسی کاری گری کا ہوتا ہے۔ پھر اسے ہدایت کی اور اس کے لیے مقدر کر دیا کہ یہ پھلوں، پھولوں اور گھاس پات کے رس چوستی پھرے اور جہاں چاہے جائے، آئے لیکن واپس لوٹتے وقت سیدھی اپنے چھتے کو پہنچ جائے۔ چاہے بلند پہاڑ کی چوٹی ہو، چاہے بیابان کے درخت ہوں، چاہے آبادی کے بلند مکانات اور ویرانے کے سنسان کھنڈر ہوں، یہ نہ راستہ بھولے، نہ بھٹکتی پھرے، خواہ کتنی ہی دور نکل جائے۔ لوٹ کر اپنے چھتے میں اپنے بچوں، انڈوں اور شہد میں پہنچ جائے۔ اپنے پروں سے موم بنائے۔ اپنے منہ سے شہد جمع کرے اور دوسری جگہ سے بچے۔
«ذُلُلًا» کی تفسیر اطاعت گزر اور مسخر سے بھی کی گئی ہے پس یہ حال ہو گا «سالكة» کا، جیسے قرآن میں آیت «وَذَلَّــلْنٰهَا لَهُمْ فَمِنْهَا رَكُوْبُهُمْ وَمِنْهَا يَاْكُلُوْنَ» ۱؎ [36-يس:72] میں بھی یہی معنی مراد ہے۔ اس کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ لوگ شہد کے چھتے کو ایک شہر سے دوسرے شہر تک لے جاتے ہیں۔ لیکن پہلا قول بہت زیادہ ظاہر ہے یعنی یہ اس کے طریق کا حال ہے۔ ابن اجریر رحمہ اللہ دونوں قول صحیح بتلاتے ہیں۔
ابو یعلیٰ موصلی میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { مکھی کی عمر چالیس دن کی ہوتی ہے سوائے شہد کی مکھی کے۔ کئی مکھیاں آگ میں بھی ہوتی ہیں } }۔ ۱؎ [مسند ابو یعلی:4231:]
شہد کے رنگ مختلف ہوتے ہیں سفید زرد سرخ وغیرہ جیسے پھل پھول اور جیسی زمین۔ اس ظاہری خوبی اور رنگ کی چمک کے ساتھ اس میں شفاء بھی ہے، بہت سی بیماریوں کو اللہ تعالیٰ اس سے دور کر دیتا ہے یہاں «فِيهِ شِفَاءٌ لِلنَّاسِ» نہیں فرمایا ورنہ ہر بیماری کی دوا یہی ٹھہرتی بلکہ فرمایا ’ اس میں شفاء ہے لوگوں کے لیے ‘۔ پس یہ سرد بیماریوں کی دوا ہے۔ علاج ہمیشہ بیماریوں کے خلاف ہوتا ہے پس شہد گرم ہے سردی کی بیماری میں مفید ہے۔
«ذُلُلًا» کی تفسیر اطاعت گزر اور مسخر سے بھی کی گئی ہے پس یہ حال ہو گا «سالكة» کا، جیسے قرآن میں آیت «وَذَلَّــلْنٰهَا لَهُمْ فَمِنْهَا رَكُوْبُهُمْ وَمِنْهَا يَاْكُلُوْنَ» ۱؎ [36-يس:72] میں بھی یہی معنی مراد ہے۔ اس کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ لوگ شہد کے چھتے کو ایک شہر سے دوسرے شہر تک لے جاتے ہیں۔ لیکن پہلا قول بہت زیادہ ظاہر ہے یعنی یہ اس کے طریق کا حال ہے۔ ابن اجریر رحمہ اللہ دونوں قول صحیح بتلاتے ہیں۔
ابو یعلیٰ موصلی میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { مکھی کی عمر چالیس دن کی ہوتی ہے سوائے شہد کی مکھی کے۔ کئی مکھیاں آگ میں بھی ہوتی ہیں } }۔ ۱؎ [مسند ابو یعلی:4231:]
شہد کے رنگ مختلف ہوتے ہیں سفید زرد سرخ وغیرہ جیسے پھل پھول اور جیسی زمین۔ اس ظاہری خوبی اور رنگ کی چمک کے ساتھ اس میں شفاء بھی ہے، بہت سی بیماریوں کو اللہ تعالیٰ اس سے دور کر دیتا ہے یہاں «فِيهِ شِفَاءٌ لِلنَّاسِ» نہیں فرمایا ورنہ ہر بیماری کی دوا یہی ٹھہرتی بلکہ فرمایا ’ اس میں شفاء ہے لوگوں کے لیے ‘۔ پس یہ سرد بیماریوں کی دوا ہے۔ علاج ہمیشہ بیماریوں کے خلاف ہوتا ہے پس شہد گرم ہے سردی کی بیماری میں مفید ہے۔
مجاہد اور ابن جریر رحمہ اللہ علیہم سے منقول ہے کہ ”اس سے مراد قرآن ہے یعنی قرآن میں شفاء ہے۔“ یہ قول گو اپنے طور پر صحیح ہے اور واقعی قرآن شفاء ہے لیکن اس آیت میں یہ مراد لینا سیاق کے مطابق نہیں۔ اس میں تو شہد کا ذکر ہے، اسی لیے مجاہد رحمہ اللہ کے اس قول کی اقتداء نہیں کی گئی۔
ہاں قرآن کے شفاء ہونے کا ذکر آیت «وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْاٰنِ مَا هُوَ شِفَا» ۱؎ [17-الإسراء:82]، میں ہے اور آیت «وَشِفَاءٌ لِّمَا فِي الصُّدُوْرِ ڏ وَهُدًى وَّرَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِيْنَ» ۱؎ [10-یونس:57] میں ہے اس آیت میں تو مراد شہد ہے۔
چنانچہ بخاری مسلم کی حدیث میں ہے کہ { کسی نے آ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا کہ میرے بھائی کو دست آ رہے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اسے شہد پلاؤ }، وہ گیا، شہد دیا، پھر آیا اور کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسے تو بیماری اور بڑھ گئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { جاؤ اور شہد پلاؤ }۔ اس نے جا کر پھر پلایا، پھر حاضر ہو کر یہی عرض کیا کہ دست اور بڑھ گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اللہ سچا ہے اور تیرے بھائی کا پیٹ جھوٹا ہے، جا پھر شہد دے }۔ تیسری مرتبہ شہد سے بفضل الٰہی شفاء حاصل ہوگئی }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:5684]
بعض اطباء نے کہا ہے ممکن ہے اس کے پیٹ میں فضلے کی زیادتی ہو، شہد نے اپنی گرمی کی وجہ سے اس کی تحلیل کر دی۔ فضلہ خارج ہونا شروع ہوا۔ دست بڑھ گئے۔ اعرابی نے اسے مرض کا بڑھ جانا سمجھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اور شہد دینے کو فرمایا اس سے زور سے فضلہ خارج ہونا شروع ہوا پھر شہد دیا، پیٹ صاف ہوگیا، بلا نکل گئی اور کامل شفاء بفضل الٰہی حاصل ہو گئی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بات جو بہ اشارہ الٰہی پوری ہوگئی۔
ہاں قرآن کے شفاء ہونے کا ذکر آیت «وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْاٰنِ مَا هُوَ شِفَا» ۱؎ [17-الإسراء:82]، میں ہے اور آیت «وَشِفَاءٌ لِّمَا فِي الصُّدُوْرِ ڏ وَهُدًى وَّرَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِيْنَ» ۱؎ [10-یونس:57] میں ہے اس آیت میں تو مراد شہد ہے۔
چنانچہ بخاری مسلم کی حدیث میں ہے کہ { کسی نے آ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا کہ میرے بھائی کو دست آ رہے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اسے شہد پلاؤ }، وہ گیا، شہد دیا، پھر آیا اور کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسے تو بیماری اور بڑھ گئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { جاؤ اور شہد پلاؤ }۔ اس نے جا کر پھر پلایا، پھر حاضر ہو کر یہی عرض کیا کہ دست اور بڑھ گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اللہ سچا ہے اور تیرے بھائی کا پیٹ جھوٹا ہے، جا پھر شہد دے }۔ تیسری مرتبہ شہد سے بفضل الٰہی شفاء حاصل ہوگئی }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:5684]
بعض اطباء نے کہا ہے ممکن ہے اس کے پیٹ میں فضلے کی زیادتی ہو، شہد نے اپنی گرمی کی وجہ سے اس کی تحلیل کر دی۔ فضلہ خارج ہونا شروع ہوا۔ دست بڑھ گئے۔ اعرابی نے اسے مرض کا بڑھ جانا سمجھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اور شہد دینے کو فرمایا اس سے زور سے فضلہ خارج ہونا شروع ہوا پھر شہد دیا، پیٹ صاف ہوگیا، بلا نکل گئی اور کامل شفاء بفضل الٰہی حاصل ہو گئی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بات جو بہ اشارہ الٰہی پوری ہوگئی۔
بخاری اور مسلم کی ایک اور حدیث میں ہے کہ { سرور رسل صلی اللہ علیہ وسلم کو مٹھاس اور شہد سے بہت الفت تھی }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:5431]
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ { تین چیزوں میں شفاء ہے، پچھنے لگانے میں، شہد کے پینے میں اور داغ لگوانے میں لیکن میں اپنی امت کو داغ لگوانے سے روکتا ہوں }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:5681]
بخاری شریف کی حدیث میں ہے کہ { تمہاری دواؤں میں سے کسی میں اگر شفاء ہے تو پچھنے لگانے میں، شہد کے پینے میں اور آگ سے دغوا نے میں جو بیماری کے مناسب ہو لیکن میں اسے پسند نہیں کرتا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:5683]
مسلم کی حدیث میں ہے { میں اسے پسند نہیں کرتا بلکہ ناپسند رکھتا ہوں }۔ ۱؎ [مسند احمد:146/4:صحیح]
ابن ماجہ میں ہے { تم ان دونوں شفاؤں کی قدر کرتے رہو شہد اور قرآن }۔ [سنن ابن ماجه:3452،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
ابن جریر میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے کہ ”جب تم میں سے کوئی شفاء چاہے تو قرآن کریم کی کسی آیت کو کسی صحیفے پر لکھ لے اور اسے بارش کے پانی سے دھو لے اور اپنی بیوی کے مال سے اس کی اپنی رضا مندی سے پیسے لے کر شہد خرید لے اور اسے پی لے پس اس میں کئی وجہ سے شفاء آ جائے گی۔“
اللہ تعالیٰ عز و جل کا فرمان ہے آیت «وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْآنِ مَا هُوَ شِفَاءٌ وَرَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِينَ» ۱؎ [17-الإسراء:82] یعنی ’ ہم نے قرآن میں وہ نازل فرمایا ہے جو مومنین کے لیے شفاء ہے اور رحمت ہے ‘۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ { تین چیزوں میں شفاء ہے، پچھنے لگانے میں، شہد کے پینے میں اور داغ لگوانے میں لیکن میں اپنی امت کو داغ لگوانے سے روکتا ہوں }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:5681]
بخاری شریف کی حدیث میں ہے کہ { تمہاری دواؤں میں سے کسی میں اگر شفاء ہے تو پچھنے لگانے میں، شہد کے پینے میں اور آگ سے دغوا نے میں جو بیماری کے مناسب ہو لیکن میں اسے پسند نہیں کرتا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:5683]
مسلم کی حدیث میں ہے { میں اسے پسند نہیں کرتا بلکہ ناپسند رکھتا ہوں }۔ ۱؎ [مسند احمد:146/4:صحیح]
ابن ماجہ میں ہے { تم ان دونوں شفاؤں کی قدر کرتے رہو شہد اور قرآن }۔ [سنن ابن ماجه:3452،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
ابن جریر میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے کہ ”جب تم میں سے کوئی شفاء چاہے تو قرآن کریم کی کسی آیت کو کسی صحیفے پر لکھ لے اور اسے بارش کے پانی سے دھو لے اور اپنی بیوی کے مال سے اس کی اپنی رضا مندی سے پیسے لے کر شہد خرید لے اور اسے پی لے پس اس میں کئی وجہ سے شفاء آ جائے گی۔“
اللہ تعالیٰ عز و جل کا فرمان ہے آیت «وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْآنِ مَا هُوَ شِفَاءٌ وَرَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِينَ» ۱؎ [17-الإسراء:82] یعنی ’ ہم نے قرآن میں وہ نازل فرمایا ہے جو مومنین کے لیے شفاء ہے اور رحمت ہے ‘۔
اور آیت میں ہے «وَنَزَّلْنَا مِنَ السَّمَاءِ مَاءً مُّبٰرَكًا فَاَنْبَتْنَا بِهٖ جَنّٰتٍ وَّحَبَّ الْحَصِيْدِ» ۱؎ [50-ق:9] ’ ہم آسمان سے با برکت پانی برساتے ہیں ‘۔
اور فرمان ہے «وَاٰتُوا النِّسَاءَ صَدُقٰتِهِنَّ نِحْلَةٍ فَاِنْ طِبْنَ لَكُمْ عَنْ شَيْءٍ مِّنْهُ نَفْسًا فَكُلُوْهُ هَنِيْــــــًٔـا مَّرِيْـــــــًٔـا» ۱؎ [4-النساء:4] یعنی ’ اگر عورتیں اپنے مال مہر میں سے اپنی خوشی سے تمہیں کچھ دے دیں تو بیشک تم اسے کھاؤ پیو مزے سے ‘۔ شہد کے بارے میں فرمان الٰہی ہے «فِيهِ شِفَاءٌ لِّلنَّاسِ» ’ شہد میں لوگوں کے لیے شفاء ہے ‘۔
ابن ماجہ میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { جو شخص ہر مہینے میں تین دن صبح کو شہد چاٹ لے اسے کوئی بڑی بلا نہیں پہنچے گی } }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجه:3450،قال الشيخ الألباني:ضعیف] اس کا ایک راوی زبیر بن سعید متروک ہے۔
ابن ماجہ کی اور حدیث میں { آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ { «عَلَيْكُمْ بِالسَّنَا وَالسَّنُوتِ فَإِنَّ فِيهِمَا شِفَاءٌ مِنْ كُلِّ دَاءٍ إِلا السَّامَ» تم سنا اور سنوت کا استعمال کیا کرو ان میں ہر بیماری کی شفاء ہے سوائے سام کے }۔ لوگوں نے پوچھا سام کیا؟ فرمایا: { موت } }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجه:3457،قال الشيخ الألباني:صحیح]
«سَّنُوتِ» کے معنی ثبت کے ہیں اور لوگوں نے کہا ہے سنوت شہد ہے جو گھی کی مشک میں رکھا ہوا ہو۔ شاعر کے شعر میں «هُمُ السَّمْنُ بِالسَّنُّوتِ لَا أَلْسَ فِيهِمْ وَهُمْ يَمْنَعُونَ الْجَارَ أَنْ يُقَرَّدَا» یہ لفظ اس معنی میں آیا ہے۔
پھر فرماتا ہے کہ ’ مکھی جیسی بے طاقت چیز کا تمہارے لیے شہد اور موم بنانا اس کا اس طرح آ زادی سے پھرنا اپنے گھر کو نہ بھولنا وغیرہ یہ سب چیزیں غور و فکر کرنے والوں کے لیے میری عظمت، خالقیت اور مالکیت کی بڑی نشانیاں ہیں ‘۔ اسی سے لوگ اپنے اللہ کے قادر حکیم علیم کریم رحیم ہونے پر دلیل حاصل کر سکتے ہیں۔
اور فرمان ہے «وَاٰتُوا النِّسَاءَ صَدُقٰتِهِنَّ نِحْلَةٍ فَاِنْ طِبْنَ لَكُمْ عَنْ شَيْءٍ مِّنْهُ نَفْسًا فَكُلُوْهُ هَنِيْــــــًٔـا مَّرِيْـــــــًٔـا» ۱؎ [4-النساء:4] یعنی ’ اگر عورتیں اپنے مال مہر میں سے اپنی خوشی سے تمہیں کچھ دے دیں تو بیشک تم اسے کھاؤ پیو مزے سے ‘۔ شہد کے بارے میں فرمان الٰہی ہے «فِيهِ شِفَاءٌ لِّلنَّاسِ» ’ شہد میں لوگوں کے لیے شفاء ہے ‘۔
ابن ماجہ میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { جو شخص ہر مہینے میں تین دن صبح کو شہد چاٹ لے اسے کوئی بڑی بلا نہیں پہنچے گی } }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجه:3450،قال الشيخ الألباني:ضعیف] اس کا ایک راوی زبیر بن سعید متروک ہے۔
ابن ماجہ کی اور حدیث میں { آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ { «عَلَيْكُمْ بِالسَّنَا وَالسَّنُوتِ فَإِنَّ فِيهِمَا شِفَاءٌ مِنْ كُلِّ دَاءٍ إِلا السَّامَ» تم سنا اور سنوت کا استعمال کیا کرو ان میں ہر بیماری کی شفاء ہے سوائے سام کے }۔ لوگوں نے پوچھا سام کیا؟ فرمایا: { موت } }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجه:3457،قال الشيخ الألباني:صحیح]
«سَّنُوتِ» کے معنی ثبت کے ہیں اور لوگوں نے کہا ہے سنوت شہد ہے جو گھی کی مشک میں رکھا ہوا ہو۔ شاعر کے شعر میں «هُمُ السَّمْنُ بِالسَّنُّوتِ لَا أَلْسَ فِيهِمْ وَهُمْ يَمْنَعُونَ الْجَارَ أَنْ يُقَرَّدَا» یہ لفظ اس معنی میں آیا ہے۔
پھر فرماتا ہے کہ ’ مکھی جیسی بے طاقت چیز کا تمہارے لیے شہد اور موم بنانا اس کا اس طرح آ زادی سے پھرنا اپنے گھر کو نہ بھولنا وغیرہ یہ سب چیزیں غور و فکر کرنے والوں کے لیے میری عظمت، خالقیت اور مالکیت کی بڑی نشانیاں ہیں ‘۔ اسی سے لوگ اپنے اللہ کے قادر حکیم علیم کریم رحیم ہونے پر دلیل حاصل کر سکتے ہیں۔