اس آیت کی تفسیر آیت 54 میں تا آیت 56 میں گزر چکی ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
55۔ 1 لیکن انسان بھی کتنا ناشکرا ہے کہ تکلیف (بیماری، تنگ دستی اور نقصان وغیرہ) کے دور ہوتے ہی وہ پھر رب کے ساتھ شرک کرنے لگتا ہے۔ 55۔ 2 یہ اس طرح ہی ہے جیسے اس سے قبل فرمایا تھا، (قُلْتَمَتَّعُوْافَاِنَّمَصِيْرَكُمْاِلَىالنَّارِ) 14۔ ابراہیم:30) چند روزہ زندگی میں فائدہ اٹھالو! بالآخر تمہارا ٹھکانا جہنم ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
55۔ تاکہ اللہ نے جو کچھ انھیں دے رکھا ہے (اس کا شکریہ ادا کرنے کی بجائے) اس کی ناشکری ہی کریں۔ اچھا (کچھ دیر) [52] مزے اڑا لو۔ عنقریب تمہیں (حقیقت) معلوم ہو جائے گی
[52] یعنی مصیبت کے وقت مدد تو اللہ نے کی، تکلیف اسی نے دور کی۔ اب چاہیے تو یہ تھا کہ وہ اللہ کا شکر ادا کرتے۔ اسی کی عبادت کرتے۔ اسی کے سامنے اپنی فریادیں پیش کرتے۔ مگر ہوتا یہ ہے کہ مصیبت کا وقت دور ہو جانے کے بعد پھر انھیں اپنے دوسرے معبود یاد آنے لگتے ہیں اور اللہ کو یکسر بھول جاتے ہیں۔ اس سے بڑھ کر نمک حرامی کیا ہو سکتی ہے۔ تاہم انھیں دنیا میں فوری سزا نہیں دی جاتی مگر مرتے ہی انھیں سب آٹے دال کا بھاؤ معلوم ہو جائے گا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔