(آیت49){وَلِلّٰهِيَسْجُدُمَافِيالسَّمٰوٰتِوَمَافِيالْاَرْضِ …:} پہلے ان چیزوں کا سجدہ بیان فرمایا جو زمین میں پائی جاتی ہیں، اب یہاں زمین و آسمان میں پائے جانے والے تمام جان دار، خصوصاً فرشتوں کا سجدہ بیان کرکے متنبہ فرمایا کہ ایسی مقرب ہستیاں بھی اللہ تعالیٰ کے سامنے سربسجود ہیں اور ان میں کوئی تکبر یا غرور نہیں پایا جاتا، لہٰذا ان کے متعلق یہ سمجھنا قطعی غلط ہے کہ وہ اللہ کی بیٹیاں ہیں اور ان کا اللہ تعالیٰ کے اختیارات میں کوئی حصہ ہے۔ (شوکانی)
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
49۔ آسمانوں اور زمین میں جتنی جاندار مخلوق ہے اور فرشتے بھی [48] سب اللہ ہی کو سجدہ کرتے ہیں اور کبھی تکبر نہیں کرتے
[48] فرشتوں کی الوہیت کا رد:۔
تمام مخلوقات میں سے فرشتوں کا بالخصوص الگ ذکر فرمایا۔ جس کی وجہ یہ ہے کہ اکثر ممالک میں اور اسی طرح عرب ممالک میں بھی فرشتوں کو معبود سمجھا جاتا رہا ہے۔ ان فرشتوں کو اللہ تعالیٰ کی اولاد قرار دیا جاتا اور انھیں اللہ تعالیٰ یا بڑے خدا کا نائب اور کائنات میں بعض خاص امور کے تصرف کرنے والے اور اس کام میں اللہ کے مددگار سمجھا جاتا تھا۔ مصری اور یونانی اور ہندی تہذیب میں انہی فرشتوں کو یا ان کی ارواح کو دیوی دیوتاؤں کے نام سے پکارا جاتا ہے مثلاً بارش کا مالک فلاں دیوتا ہے۔ دولت کی مالک فلاں دیوی ہے اور محبت کی فلاں وغیرہ وغیرہ۔ اللہ تعالیٰ نے مشرکوں کے اس باطل عقیدہ کی تردید کرتے ہوئے فرمایا کہ فرشتے موجود ضرور ہیں اور مدبرات امر بھی ہیں لیکن اللہ کے حکم کے سامنے مجبور محض ہیں۔ اپنی مرضی سے کچھ بھی تصرف نہ کرتے ہیں نہ کر سکتے ہیں۔ پھر یہی نہیں بلکہ وہ اللہ کے بندے ہیں اور بندے اور غلام بن کر رہتے ہیں۔ اسی کی عبادت اور تسبیح و تقدیس کرتے رہتے ہیں اور اس بات میں قطعاً عار محسوس نہیں کرتے۔ پھر اس سے ڈرتے بھی رہتے ہیں اور اپنے خالق و مالک کی نافرمانی کر ہی نہیں سکتے۔ پھر اگر اللہ کو منظور نہ ہو تو وہ تمہاری احتیاج کیسے پوری کر سکتے ہیں لہٰذا اصل حکمرانی اللہ ہی کے لیے ثابت ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
عرش سے فرش تک ٭٭
اللہ تعالیٰ ذو الجلال و الاکرام کی عظمت و جلالت کبریائی اور بیہیمتائی کا خیال کیجئے کہ ساری مخلوق عرش سے فرش تک اس کے سامنے مطیع اور غلام۔ جمادات و حیوانات، انسان اور جنات، فرشتے اور کل کائنات، اس کی فرماں بردار، ہر چیز صبح شام اس کے سامنے ہر طرح سے اپنی عاجزی اور بے کسی کا ثبوت پیش کرنے والی، جھک جھک کر اس کے سامنے سجدے کرنے والی۔ مجاہد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں سورج ڈھلتے ہی تمام چیزیں اللہ کے سامنے سجدے میں گر پڑتی ہیں ہر ایک رب العالمین کے سامنے ذلیل و پست ہے، عاجز و بے بس ہے۔ پہاڑ وغیرہ کا سجدہ ان کا سایہ ہے، سمندر کی موجیں اس کی نماز ہے۔ انہیں گویا ذوی العقول سمجھ کر سجدے کی نسبت ان کی طرف کی۔ اور فرمایا زمین و آسمان کے کل جاندار اس کے سامنے سجدے میں ہیں۔ جیسے فرمان ہے آیت «وَلِلّٰهِيَسْجُدُمَنْفِيالسَّمٰوٰتِوَالْاَرْضِطَوْعًاوَّكَرْهًاوَّظِلٰلُهُمْبالْغُدُوِّوَالْاٰصَالِ» {السجدہ} ۱؎[13-الرعد:15]، ’ خوشی ناخوشی ہر چیز رب العالمین کے سامنے سر بسجود ہے، ان کے سائے صبح و شام سجدہ کرتے ہیں ‘۔ فرشتے بھی باوجود اپنی قدر و منزلت کے اللہ کے سامنے پست ہیں، اس کی عبادت سے تنگ نہیں آ سکتے اللہ تعالیٰ جل و علا سے کانپتے اور لرزتے رہتے ہیں اور جو حکم ہے اس کی بجا آوری میں مشغول ہیں نہ نافرمانی کرتے ہیں نہ سستی کرتے ہیں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔