ترجمہ و تفسیر — سورۃ النحل (16) — آیت 48

اَوَ لَمۡ یَرَوۡا اِلٰی مَا خَلَقَ اللّٰہُ مِنۡ شَیۡءٍ یَّتَفَیَّؤُا ظِلٰلُہٗ عَنِ الۡیَمِیۡنِ وَ الشَّمَآئِلِ سُجَّدًا لِّلّٰہِ وَ ہُمۡ دٰخِرُوۡنَ ﴿۴۸﴾
اور کیا انھوں نے اس کو نہیں دیکھا جسے اللہ نے پیدا کیا ہے، جو بھی چیز ہو کہ اس کے سائے دائیں طرف سے اور بائیں طرفوں سے اللہ کو سجدہ کرتے ہوئے ڈھلتے ہیں، اس حال میں کہ وہ عاجز ہیں۔ En
کیا ان لوگوں نے خدا کی مخلوقات میں سے ایسی چیزیں نہیں دیکھیں جن کے سائے دائیں سے (بائیں کو) اور بائیں سے (دائیں کو) لوٹتے رہتے ہیں (یعنی) خدا کے آگے عاجز ہو کر سجدے میں پڑے رہتے ہیں
En
کیا انہوں نے اللہ کی مخلوق میں سے کسی کو بھی نہیں دیکھا؟ کہ اس کے سائے دائیں بائیں جھک جھک کر اللہ تعالیٰ کے سامنے سر بسجود ہوتے اور عاجزی کا اﻇہار کرتے ہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت48) ➊ {اَوَ لَمْ يَرَوْا اِلٰى مَا خَلَقَ اللّٰهُ …: يَّتَفَيَّؤُا فَاءَ يَفِيْءُ فَيْئًا} (لوٹنا) سے باب تفعل ہے۔ سایوں کے لوٹنے سے مراد سورج نکلنے کے بعد ایک جگہ سے دوسری جگہ حتیٰ کہ زوال کے بعد بالکل ہی دوسری طرف منتقل ہونا ہے۔ {دٰخِرُوْنَ} {دَخِرَ يَدْخَرُ دُخُوْرًا } (ع) سے ہے، {دَخِرَ فُلَانٌ لِفُلَانٍ } فلاں شخص دوسرے کا بالکل مطیع اور اس کے سامنے عاجز اور ذلیل ہو گیا۔{ اَوَ لَمْ يَرَوْا } میں استفہام پوچھنے کے لیے نہیں بلکہ ڈانٹنے کے لیے ہے کہ کیا ان مشرکوں کو نظر نہیں آتا، یقینا یہ سب کچھ دیکھ رہے ہیں کہ کائنات کی ہر چیز اللہ کے سامنے سجدہ ریز اور عاجز و مطیع ہے، مگر یہ اللہ کے دیے ہوئے اختیار کو اس کی ساری مخلوق کی طرح عاجزی، اطاعت اور عبادت کے بجائے سرکشی اور کفر و شرک میں استعمال کر رہے ہیں۔
➋ { اِلٰى مَا خَلَقَ اللّٰهُ مِنْ شَيْءٍ …:} یعنی دنیا کی کوئی بھی چیز جو اللہ نے پیدا فرمائی ہے، مثلاً پہاڑ، درخت اور انسان وغیرہ، جس کا سایہ بڑھتا، گھٹتا اور ڈھلتا ہے، ہر ایک تکوینی طور پر (اپنے اختیار کے بغیر) اللہ تعالیٰ ہی کی فرماں برداری میں مصروف ہے اور وہ قانون قدرت سے بال برابر ادھر ادھر نہیں ہو سکتی۔ یہاں تمام چیزوں پر ذوی العقول کو غلبہ دے کر { دٰخِرُوْنَ } فرمایا ہے۔ (روح المعانی) شاہ عبد القادر رحمہ اللہ اس سجدہ کی کیفیت بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ہر چیز ٹھیک دوپہر میں کھڑی ہے، اس کا سایہ بھی کھڑا ہے، جب دن ڈھلا، سایہ بھی جھکا، پھر جھکتے جھکتے شام تک زمین پر پڑ گیا، جیسے نماز میں قیام سے رکوع اور رکوع سے سجدہ، اسی طرح ہر چیز اپنے سائے سے نماز ادا کرتی ہے۔ (موضح) { الْيَمِيْنِ } کو اختصار کے لیے واحد اور { الشَّمَآىِٕلِ } کو تفصیل کے لیے جمع لائے۔ پہلے سے مراد جنس ہے، اس میں بھی تمام افراد شامل ہیں، دوسرے سے مراد بائیں جانب کے تمام اطراف ہیں۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

48۔ 1 اللہ تعالیٰ کی عظمت وکبریائی اور اس کی جلالت شان کا بیان ہے کہ ہر چیز اس کے سامنے جھکی ہوئی اور مطیع ہے۔ جمادات ہوں یا حیوانات یا جن و انسان اور ملائکہ۔ ہر وہ چیز جس کا سایہ ہے اور اس کا سایہ دائیں بائیں جھکتا ہے تو وہ صبح و شام اپنے سائے کے ساتھ اللہ کو سجدہ کرتی ہے۔ امام مجاہد فرماتے ہیں جب سورج ڈھلتا ہے تو ہر چیز اللہ کے سامنے سجدہ ریز ہوجاتی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

48۔ کیا ان لوگوں نے اللہ کی پیدا کردہ اشیاء میں سے کسی چیز کو بھی نہیں دیکھا کہ اس کا سایہ کیسے دائیں سے (بائیں) اور بائیں سے [46۔1] (دائیں) اللہ کے سامنے سجدہ کرتے ہوئے ڈھلتا [47] رہتا ہے اور یہ سب چیزیں انتہائی عجز کا اظہار کر رہی ہیں
[46۔1] مثلاً پہلے پہر اگر آپ جنوب کی طرف منہ کر کے کھڑے ہوں تو سایہ آپ کی دائیں جانب ہو گا اور شمال کی طرف منہ کریں تو بائیں جانب پھر جب سورج سر پر آ جائے گا تو آپ کا سایہ آپ کے قدموں میں آجائے گا اور سردیوں میں شمال کی جانب سیدھ میں آجائے گا۔ اور پچھلے پہر سمت بالکل برعکس ہو جائے گی۔ اس آیت میں دائیں جانب کے لیے تو اللہ نے واحد کا صیغہ (یمین) استعمال فرمایا اور بائیں جانب کے لیے جمع کا (شمائل واحد شمال) یہ بھی عرب کا محاورہ اور ان کی فصاحت کی ایک قسم ہے۔ اہل عرب جب دو صیغے جمع کے لانا چاہتے ہیں تو ایک کو مفرد کر کے لاتے ہیں۔ قرآن میں اس کی دوسری مثال یہ ہے: ﴿خَتَمَ اللّٰهُ عَليٰ قُلُوْبِهِمْ وَعَليٰ سَمْعهِمْ
[47] کائنات کی ہر چیز کا سجدہ کیسے؟
اللہ نے جو چیز بھی پیدا کی ہے اسے چند طبعی قوانین کا پابند بنا دیا ہے۔ ان قوانین کا پابند رہنا ہی اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ وہ مخلوق اپنے خالق کے سامنے سجدہ ریز، مجبور محض اور انتہائی عجز کا اظہار کر رہی ہے مثلاً روشنی کے لیے ایک قانون بنا دیا کہ وہ اگر ایک ہی قسم کے مادہ سے گزرے تو وہ ہمیشہ خط مستقیم میں چلتی ہے۔ اسی قانون کے مطابق ہر چیز کا سایہ بنتا ہے۔ گھٹتا اور بڑھتا ہے اور اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ سایہ صرف مادی چیز اور ٹھوس قسم کی چیز کا ہوتا ہے اور یہ چیزیں سب اللہ کی مخلوق ہیں۔ جو اللہ کے ایک ہمہ گیر قانون کی گرفت میں جکڑی ہوئی ہیں اور چونکہ مخلوق ہیں لہٰذا کسی نہ کسی وقت تباہ بھی ہو جائیں گی لہٰذا ان میں الوہیت کا شائبہ تک نہیں ہے بلکہ سب اللہ کے حکم میں جکڑی ہوئی اور اس کی عاجز مخلوق ہیں۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

عرش سے فرش تک ٭٭
اللہ تعالیٰ ذو الجلال و الاکرام کی عظمت و جلالت کبریائی اور بیہیمتائی کا خیال کیجئے کہ ساری مخلوق عرش سے فرش تک اس کے سامنے مطیع اور غلام۔ جمادات و حیوانات، انسان اور جنات، فرشتے اور کل کائنات، اس کی فرماں بردار، ہر چیز صبح شام اس کے سامنے ہر طرح سے اپنی عاجزی اور بے کسی کا ثبوت پیش کرنے والی، جھک جھک کر اس کے سامنے سجدے کرنے والی۔
مجاہد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں سورج ڈھلتے ہی تمام چیزیں اللہ کے سامنے سجدے میں گر پڑتی ہیں ہر ایک رب العالمین کے سامنے ذلیل و پست ہے، عاجز و بے بس ہے۔ پہاڑ وغیرہ کا سجدہ ان کا سایہ ہے، سمندر کی موجیں اس کی نماز ہے۔ انہیں گویا ذوی العقول سمجھ کر سجدے کی نسبت ان کی طرف کی۔
اور فرمایا زمین و آسمان کے کل جاندار اس کے سامنے سجدے میں ہیں۔ جیسے فرمان ہے آیت «وَلِلّٰهِ يَسْجُدُ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ طَوْعًا وَّكَرْهًا وَّظِلٰلُهُمْ بالْغُدُوِّ وَالْاٰصَالِ» {السجدہ} ۱؎ [13-الرعد:15]‏‏‏‏، ’ خوشی ناخوشی ہر چیز رب العالمین کے سامنے سر بسجود ہے، ان کے سائے صبح و شام سجدہ کرتے ہیں ‘۔
فرشتے بھی باوجود اپنی قدر و منزلت کے اللہ کے سامنے پست ہیں، اس کی عبادت سے تنگ نہیں آ سکتے اللہ تعالیٰ جل و علا سے کانپتے اور لرزتے رہتے ہیں اور جو حکم ہے اس کی بجا آوری میں مشغول ہیں نہ نافرمانی کرتے ہیں نہ سستی کرتے ہیں۔