ترجمہ و تفسیر — سورۃ النحل (16) — آیت 47

اَوۡ یَاۡخُذَہُمۡ عَلٰی تَخَوُّفٍ ؕ فَاِنَّ رَبَّکُمۡ لَرَءُوۡفٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۴۷﴾
یا وہ انھیں خوف زدہ ہونے پر پکڑلے۔ پس بے شک تمھارا رب یقینا بہت نرمی کرنے والا، نہایت رحم والا ہے۔ En
یا جب ان کو عذاب کا ڈر پیدا ہوگیا ہو تو ان کو پکڑلے۔ بےشک تمہارا پروردگار بہت شفقت کرنے والا اور مہربان ہے
En
یا انہیں ڈرا دھمکا کر پکڑ لے، پس یقیناً تمہارا پروردگار اعلیٰ شفقت اور انتہائی رحم واﻻ ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت47) ➊ { اَوْ يَاْخُذَهُمْ عَلٰى تَخَوُّفٍ: تَخَوُّفٍ } کا ایک معنی خوف زدہ ہونا ہے اور ایک معنی {تَنَقُّص} یعنی آہستہ آہستہ کم ہونا ہے۔ یعنی عذاب کی ایک صورت یہ ہے کہ انھیں پہلے ہی سے نظر آ رہا ہو کہ عذاب آ رہا ہے، جس کے آنے سے وہ ہر وقت خوف زدہ رہیں اور اس کے نتیجے میں دن بدن ان کی جانیں، مال اور پیدا وار کم ہوتی چلی جائیں، حتیٰ کہ دیکھتے دیکھتے وہ اللہ تعالیٰ کے عذاب کی گرفت میں آ جائیں۔ یہ بھی عذاب کی نہایت تکلیف دہ صورت ہے، کیونکہ انسان خوف کی وجہ سے نہ جیتا ہے نہ مرتا ہے، بلکہ گھلتا چلا جاتا ہے۔ اس تفسیر میں { تَخَوُّفٍ } اور {تَنَقُّص} (خوف زدہ ہونا اور آہستہ آہستہ کم ہونا) دونوں معنی آ گئے ہیں۔
➋ {فَاِنَّ رَبَّكُمْ لَرَءُوْفٌ رَّحِيْمٌ:} یعنی اللہ تعالیٰ کے پاس اگرچہ عذاب کی بے شمار صورتیں ہیں، مگر وہ تمھیں مہلت دیتا ہے اور درگزر فرماتا ہے، تاکہ تم نافرمانی چھوڑ کر واپس پلٹ آؤ۔ یہ اس کی بے حد شفقت اور نہایت مہربانی ہے کہ تم گناہ کرتے رہتے ہو، اس کے باوجود وہ تمھیں رزق دیتا ہے اور تندرستی بخشتا ہے اور اس کی طرف سے تمھاری فوری گرفت نہیں ہوتی۔ ورنہ اگر وہ تمھیں تمھاری نافرمانیوں کی وجہ سے پکڑے تو زمین پر کوئی چلنے والی چیز باقی نہ رہے۔ دیکھیے سورۂ فاطر کی آخری آیت۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

47۔ 1 نخوف کا یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ پہلے سے ہی دل میں عذاب اور مواخذے کا ڈر ہو۔ جس طرح بعض دفعہ انسان کسی بڑے گناہ کا ارتکاب کر بیٹھتا ہے، تو خوف محسوس کرتا ہے کہ کہیں اللہ میری گرفت نہ کرلے چناچہ بعض دفعہ اس طرح مؤاخذہ ہوتا ہے۔ 47۔ 2 کہ وہ گناہوں پر فوراً مواخذہ نہیں کرتا بلکہ مہلت دیتا ہے اور اس مہلت سے بہت سے لوگوں کو توبہ و استغفار کی توفیق بھی نصیب ہوجاتی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

47۔ یا انھیں اس طرح پکڑے کہ وہ کمزور [46] ? و ہو کر تباہ ہو جائیں بلا شبہ آپ کا پروردگار ترس کھانے والا، رحم کرنے والا ہے (جو انھیں مہلت دیئے جاتا ہے)
[46] ﴿تخوّف﴾ کے معنی کی تحقیق، عذاب کی قسم:۔
ایک دفعہ سیدنا عمرؓ نے بر سر منبر تخوف کے معنی پوچھے تو قبیلہ بنو ہذیل کے ایک آدمی نے جواب میں کہا کہ ہماری لغت میں تخوف کا لفظ تنقص (آہستہ آہستہ گھٹاتے جانا) کے معنی میں آتا ہے پھر ثبوت کے طور پر ایک شعر بھی پڑھا تو سیدنا عمرؓ نے فرمایا: جاہلیت کے اشعار یاد رکھو کیونکہ اس میں تمہاری کتاب کی تفسیر ہے۔ [الموافقات للشاطبيج 1 مترجم اردوص 78]
نیز سیدنا ابن عباسؓ نے بھی علی تخوف کے معنی تنقص ہی بیان فرمائے ہیں۔ [بخاري، كتاب التفسير۔ تفسير سورة نهل]
ان تین آیات میں عذاب الٰہی کی مختلف صورتیں بیان کی گئی ہیں۔ ایک عذاب ایسا ہے جو دفعتاً آن پڑتا ہے خواہ وہ ارضی ہو یا سماوی ہو۔ اس کی آگے بے شمار قسمیں ہیں جیسے بارش کی صورت میں پتھروں کی طرح آدھ آدھ سیر کے اولے گرنے لگیں اور وہ فصلیں اور جانداروں کو تباہ و برباد کر کے رکھ دیں یا زمین میں زلزلہ آئے تو شہر کے شہر زلزلہ سے پھٹی ہوئی زمین کے اندر دھنس جائیں یا سمندر میں طغیانی آئے تو وہ کناروں پر آباد شہروں کو پانی میں غرق کر دے۔ یا آتش فشاں پہاڑ پھٹے جس سے ہر چیز جل کر راکھ ہو جائے اور عذاب کی یہ سب قسمیں ایسی ہیں جن کی پہلے سے کسی کو خبر نہیں ہوتی۔ دوسری قسم کے عذاب وہ ہیں جو دوران سفر پیش آتے ہیں۔ جیسے کوئی دیو ہیکل وہیل مچھلی کسی جہاز کو ٹکر مار کر اسے غرق کر دے یا کسی بحری، بری جہاز یا کسی طرح کی دوسری گاڑی کا انجن خراب ہو جائے یا چلنا بند ہو جائے۔ یا ریلوں یا بسوں کا تصادم ہو جائے۔ یا کوئی بس کسی کھڈ میں نیچے جاگرے اور مسافر غرق ہو جائیں یا ہلاک ہو جائیں۔ غرض اس قسم کی بھی آگے بے شمار صورتیں ہیں۔ اور تیسری قسم وہ ہے جس کے متعلق علیٰ تخوّف کے الفاظ آئے ہیں۔ ایسے لوگوں کو یہ معلوم ہی نہیں ہو پاتا کہ وہ عذاب الٰہی میں مبتلا ہو چکے ہیں۔ ایسا عذاب اندر ہی اندر بتدریج اپنا کام کرتا جاتا ہے اور ایسا معاشرہ زوال پذیر ہونا شروع ہو جاتا ہے حتیٰ کہ وہ ہلاکت تک پہنچ جاتا ہے اور ایسے عذاب کی کسی کو کانوں کان خبر نہیں ہوتی۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔