ترجمہ و تفسیر — سورۃ النحل (16) — آیت 39

لِیُبَیِّنَ لَہُمُ الَّذِیۡ یَخۡتَلِفُوۡنَ فِیۡہِ وَ لِیَعۡلَمَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡۤا اَنَّہُمۡ کَانُوۡا کٰذِبِیۡنَ ﴿۳۹﴾
تاکہ وہ ان کے لیے وہ چیز واضح کر دے جس میں وہ اختلاف کرتے ہیں اور تاکہ جن لوگوں نے کفر کیا جان لیں کہ وہ جھوٹے تھے۔ En
تاکہ جن باتوں میں یہ اختلاف کرتے ہیں وہ ان پر ظاہر کردے اور اس لیے کہ کافر جان لیں کہ وہ جھوٹے تھے
En
اس لیے بھی کہ یہ لوگ جس چیز میں اختلاف کرتے تھے اسے اللہ تعالیٰ صاف بیان کر دے اور اس لیے بھی کہ خود کافر اپنا جھوٹا ہونا جان لیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت39){وَ لِيَعْلَمَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْۤا اَنَّهُمْ كَانُوْا كٰذِبِيْنَ:} یعنی وہ کافر اپنا جھوٹا ہونا جان لیں جو قسمیں کھا کھا کر کہا کرتے تھے کہ مرنے کے بعد کوئی زندگی نہیں ہے اور یہ کہ حساب کتاب، جنت و دوزخ سب بے حقیقت چیزیں ہیں۔ مطلب یہ کہ جب دنیا میں سب باتوں کا فیصلہ نہیں ہوتا تو سب اختلافات کو دور کرنے کے لیے دوسرے جہاں، یعنی آخرت کا ہونا لابد (جس کے بغیر کوئی چارہ نہیں) ہے، تاکہ حق و باطل میں امتیاز ہو جائے اور منکرین اپنا کیا پائیں۔ { كَانُوْا كٰذِبِيْنَ } لفظ{ كَانُوْا } میں، یعنی زمانہ ٔماضی میں دوام اور استمرار پایا جاتا ہے، اس کے بجائے {اِنَّهُمْ كَذَبُوْا} یا { إِنَّهُمْ كَاذِبُوْنَ } میں یہ مفہوم ادا نہیں ہوتا۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

39۔ 1 یہ وقوع قیامت کی حکمت و علت بیان کی جا رہی ہے کہ اس دن اللہ تعالیٰ ان چیزوں میں فیصلہ فرمائے گا جن میں لوگ دنیا میں اختلاف کرتے تھے اور اہل حق اور اہل تقویٰ کو اچھی جزا اور اہل کفر و فسق کو ان کے برے عملوں کی سزا دے گا۔ نیز اس دن اہل کفر پر بھی یہ بات واضح ہوجائے گی کہ قیامت کے عدم وقوع پر جو قسمیں کھاتے تھے ان میں وہ جھوٹے تھے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

39۔ یہ اٹھانا اس لئے (ضروری ہے) کہ اللہ ان پر وہ حقیقت واضح کر دے جس میں یہ اختلاف کر رہے ہیں۔ اور اس لیے (بھی ضروری ہے) کہ کافر جان لیں کہ وہی [40] جھوٹے تھے
[40] روز آخرت کا قیام ضروری ہونے کی دو وجوہ:۔
اللہ تعالیٰ نے مشرکین مکہ کے اس دعویٰ کا نقلی جواب یہ دیا کہ یہ اللہ کا وعدہ ہے جسے وہ پورا کر کے رہے گا۔ اور یہ وعدہ سابقہ انبیاء کی زبان سے لوگوں کو بتایا گیا اور تمام الہامی کتابوں میں موجود ہے اور مشرکین مکہ کو بھی اہل کتاب کا یہ عقیدہ اچھی طرح معلوم تھا۔ اور عقلی جواب یہ دیا کہ بھلا جو ہستی پہلی بار کائنات کا یہ وسیع سلسلہ وجود میں لا چکی ہے اس کے لیے تمہیں دوبارہ پیدا کرنا یا ایسا ہی کائنات کا دوبارہ نظام وجود میں لانا کیا مشکل ہے؟ لہٰذا وہ اس بات کی پوری قدرت رکھتا ہے۔ پھر بعث بعد الموت کی دو وجوہ اور بھی ہیں۔ ایک یہ کہ آزادی و اختلاف رائے کی بنا پر دنیا میں بے شمار اختلافات رو نما ہوئے اور نئے سے نئے نظریئے نئے نئے مذاہب اور نظام حیات رائج ہوتے رہے۔ کوئی قومیت کا پرستار ہے تو کوئی وطنیت کا، کوئی دہریت کا اور کوئی سوشلزم کا، کوئی کمیونزم کا اور کوئی سرمایہ داری کا اور کوئی خلافت کا ان میں ٹکراؤ ہوا۔ جنگیں ہوئیں۔ دونوں طرف سے لوگ ہزاروں اور لاکھوں کی تعداد میں قتل ہوئے۔ لیکن یہ فیصلہ نہ ہو سکا کہ ان میں سے کوئی سچا بھی تھا یا نہیں۔ یا اگر کوئی سچا تھا تو وہ کون سا گروہ تھا اور جھوٹا کون سا؟ اور یہ کائنات چونکہ حق پر مبنی ہے لہٰذا اس بات کا فیصلہ ضروری تھا کہ اللہ ایسے لوگوں پر صحیح صورت حال کی وضاحت کر دے اور کافروں کو بالخصوص اس بات کا پتہ چل جائے کہ وہی جھوٹے تھے۔
اختلافات کی وضاحت اور مکافات عمل:۔
اور دوسرا یہ کہ جن لوگوں نے اپنی پوری کی پوری زندگی ظلم و زیادتی کرنے میں گزاری تھی اور ان کے جرائم کی سزا کے لیے دنیا کی زندگی کی مدت بہت ناکافی تھی۔ اسی طرح جن لوگوں نے راہ حق میں قربانیاں دیں اور اعمال صالحہ بجا لاتے رہے اور یہ دنیا کی زندگی کی مدت ان کی جزاء کے لیے ناکافی تھی۔ لہٰذا روز آخرت کا قیام عین عقل، عدل اور حکمت کے مطابق ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

قیامت یقینا قائم ہو گی ٭٭
کیونکہ کافر قیامت کے قائل نہیں اس لیے دوسروں کو بھی اس عقیدے ہٹانے کے لیے وہ پوری کوشش کرتے ہیں ایمان فروشی کر کے اللہ کی تاکیدی قسمیں کھا کر کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ مردوں کو زندہ نہ کرے گا -
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ’ قیامت ضرور آئے گی اللہ کا یہ وعدہ بر حق ہے لیکن اکثر لوگ بوجہ اپنی جہالت اور لاعلمی کے رسولوں کے خلاف کرتے ہیں، اللہ کی باتوں کو نہیں مانتے اور کفر کے گڑھے میں گرتے ہیں ‘۔
پھر قیامت کے آنے اور جسموں کے دوبارہ زندہ ہونے کی بعض حکمتیں ظاہر فرماتا ہے جن میں سے ایک یہ ہے کہ دنیوی اختلافات میں حق کیا تھا وہ ظاہر ہو جائے، «لِيَجْزِيَ الَّذِينَ أَسَاءُوا بِمَا عَمِلُوا وَيَجْزِيَ الَّذِينَ أَحْسَنُوا بِالْحُسْنَى» ۱؎ [53-النجم:31]‏‏‏‏ ’ بروں کو سزا اور نیکوں کو جزا ملے۔ کافروں کا اپنے عقیدے، اپنے قول، اپنی قسم میں جھوٹا ہونا کھل جائے ‘۔
اس وقت سب دیکھ لیں گے کہ انہیں دھکے دے کر جہنم میں جھونکا جائے گا اور کہا جائے گا کہ «هَـٰذِهِ النَّارُ الَّتِي كُنتُم بِهَا تُكَذِّبُونَ أَفَسِحْرٌ هَـٰذَا أَمْ أَنتُمْ لَا تُبْصِرُونَ اصْلَوْهَا فَاصْبِرُوا أَوْ لَا تَصْبِرُوا سَوَاءٌ عَلَيْكُمْ إِنَّمَا تُجْزَوْنَ مَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ» ۱؎ [52-الطور:14-16]‏‏‏‏ ’ یہی ہے وہ جہنم جس کا تم انکار کرتے رہے اب بتاؤ یہ جادو ہے یا تم اندھے ہو؟ اس میں اب پڑے رہو۔ صبر سے رہو یا ہائے وائے کرو، سب برابر ہے، اعمال کا بدلہ بھگتنا ضروری ہے ‘۔