ترجمہ و تفسیر — سورۃ النحل (16) — آیت 29

فَادۡخُلُوۡۤا اَبۡوَابَ جَہَنَّمَ خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَا ؕ فَلَبِئۡسَ مَثۡوَی الۡمُتَکَبِّرِیۡنَ ﴿۲۹﴾
پس جہنم کے دروازوں میں داخل ہوجائو، ہمیشہ اس میں رہنے والے ہو، سو بلاشبہ وہ تکبر کرنے والوں کا برا ٹھکانا ہے۔ En
سو دوزخ کے دروازوں میں داخل ہوجاؤ۔ ہمیشہ اس میں رہو گے۔ اب تکبر کرنے والوں کا برا ٹھکانا ہے
En
پس اب تو ہمیشگی کے طور پر تم جہنم کے دروازوں میں داخل ہو جاؤ، پس کیا ہی برا ٹھکانا ہے غرور کرنے والوں کا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت29){فَادْخُلُوْۤا اَبْوَابَ جَهَنَّمَ:} جہنم کے دروازوں کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ حجر (۴۴)۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

29۔ 1 امام ابن کثیر فرماتے ہیں، ان کی موت کے فوراً بعد سب کی روحیں جہنم میں چلی جاتی ہیں اور ان کے جسم قبر میں رہتے ہیں (جہاں اللہ تعالیٰ اپنی قدرت کاملہ سے جسم و روح میں بعد کے باوجود، ان میں ایک گونہ تعلق پیدا کر کے ان کو عذاب دیتا ہے، (اور صبح شام ان پر آگ پیش کی جاتی ہے) پھر جب قیامت برپا ہوگی تو ان کی روحیں ان کے جسموں میں لوٹ آئیں گی اور ہمیشہ کے لئے یہ جہنم میں داخل کردیئے جائیں گے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

29۔ اب جہنم کے دروازوں سے اس میں [29۔ الف] داخل ہو جاؤ تم ہمیشہ اس میں رہو گے۔ غرض تکبر کرنے والوں کا ٹھکانا بہت برا ہے
[29۔ الف] یہ مضمون پہلے سورۃ الحجر آیت 44 میں آ چکا ہے وہاں سے حاشیہ دیکھ لیا جائے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

مشرکین کی جان کنی کا عالم ٭٭
مشرکین کی جان کنی کے وقت کا حال بیان ہو رہا ہے کہ ’ جب فرشتے ان کی جان لینے کے لیے آتے ہیں، تو یہ اس وقت سننے عمل کرنے اور مان لینے کا اقرار کرتے ہیں۔ ساتھ ہی اپنے کرتوت چھپاتے ہوئے اپنی بے گناہی بیان کرتے ہیں ‘۔
«وَاللَّـهِ رَبِّنَا مَا كُنَّا مُشْرِكِينَ» ۱؎ [6-الأنعام:23]‏‏‏‏ ’ قیامت کے دن اللہ کے سامنے بھی قسمیں کھا کر اپنا مشرک نہ ہونا بیان کریں گے ‘۔ «يَوْمَ يَبْعَثُهُمُ اللَّـهُ جَمِيعًا فَيَحْلِفُونَ لَهُ كَمَا يَحْلِفُونَ لَكُمْ» ۱؎ [58-المجادلہ:18]‏‏‏‏ ’ جس طرح دنیا میں اپنی بے گناہی پر لوگوں کے سامنے جھوٹی قسمیں کھاتے تھے۔ انہیں جواب ملے گا کہ جھوٹے ہو، بد اعمالیاں جی کھول کر کہ چکے ہو، اللہ غافل نہیں جو باتوں میں آ جائے ہر ایک عمل اس پر روشن ہے۔ اب اپنے کرتوتوں کا خمیا زہ بھگتو اور جہنم کے دروازوں سے جا کر ہمیشہ اسی بری جگہ میں پڑے رہو ‘۔
مقام برا، مکان برا، ذلت اور رسوائی والا، اللہ کی آیتوں سے تکبر کرنے کا اور اس کے رسولوں کی اتباع سے جی چرانے کا یہی بدلہ ہے۔ مرتے ہی ان کی روحیں جہنم رسید ہو جائیں اور جسموں پر قبروں میں جہنم کی گرمی اور اس کی لپک آنے لگی۔
«لَا يُقْضَىٰ عَلَيْهِمْ فَيَمُوتُوا وَلَا يُخَفَّفُ عَنْهُم مِّنْ عَذَابِهَا» [35-فاطر:36]‏‏‏‏ ’ قیامت کے دن روحیں جسموں سے مل کر نار جہنم میں گئیں اب نہ موت نہ تخفیف ‘۔ جیسے فرمان باری ہے آیت «النَّارُ يُعْرَضُونَ عَلَيْهَا غُدُوًّا وَعَشِيًّا» ۱؎ [40-غافر:46]‏‏‏‏ ’ یہ دوزخ کی آگ کے سامنے ہر صبح شام لائے جاتے ہیں۔ قیامت کے قائم ہوتے ہی اے آل فرعون تم سخت تر عذاب میں چلے جاؤ ‘۔