ترجمہ و تفسیر — سورۃ النحل (16) — آیت 28

الَّذِیۡنَ تَتَوَفّٰىہُمُ الۡمَلٰٓئِکَۃُ ظَالِمِیۡۤ اَنۡفُسِہِمۡ ۪ فَاَلۡقَوُا السَّلَمَ مَا کُنَّا نَعۡمَلُ مِنۡ سُوۡٓءٍ ؕ بَلٰۤی اِنَّ اللّٰہَ عَلِیۡمٌۢ بِمَا کُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ﴿۲۸﴾
جنھیں فرشتے اس حال میں قبض کرتے ہیں کہ وہ اپنی جانوں پر ظلم کرنے والے ہوتے ہیں، تو وہ فرماں برداری پیش کرتے ہیں کہ ہم کوئی برا کام نہیں کیا کرتے تھے۔ کیوں نہیں! یقینا اللہ خوب جاننے والا ہے جو تم کیا کرتے تھے۔ En
(ان کا حال یہ ہے کہ) جب فرشتے ان کی روحیں قبض کرنے لگتے ہیں (اور یہ) اپنے ہی حق میں ظلم کرنے والے (ہوتے ہیں) تو مطیع ومنقاد ہوجاتے ہیں (اور کہتے ہیں) کہ ہم کوئی برا کام نہیں کرتے تھے۔ ہاں جو کچھ تم کیا کرتے تھے خدا اسے خوب جانتا ہے
En
وه جو اپنی جانوں پر ﻇلم کرتے ہیں، فرشتے جب ان کی جان قبض کرنے لگتے ہیں اس وقت وه جھک جاتے ہیں کہ ہم برائی نہیں کرتے تھے۔ کیوں نہیں؟ اللہ تعالیٰ خوب جاننے واﻻ ہے جو کچھ تم کرتے تھے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت28) ➊ { الَّذِيْنَ تَتَوَفّٰىهُمُ الْمَلٰٓىِٕكَةُ …: فَاَلْقَوُا أَلْقٰي يُلْقِيْ} (افعال) سے ماضی معلوم کا جمع مذکر غائب ہے۔ مراد مستقبل ہے، کیونکہ وہ ماضی کی طرح یقینی ہے۔ { اِلْقَاءٌ} کا لفظ اجسام کے لیے استعمال ہوتا ہے، جیسے کہا جاتا ہے: {فُلاَنٌ أَلْقَي السِّلَاحَ} کہ فلاں نے ہتھیار پھینک دیے، یعنی اپنے آپ کو حوالے کر دیا۔ { السَّلَمَ } کا معنی {اِسْتِسْلَامٌ} ہے، یعنی مکمل طور پر تابع اور مطیع ہونا۔
➋ { ظَالِمِيْۤ اَنْفُسِهِمْ:} اس سے مراد کفار ہیں، کیونکہ { الَّذِيْنَ تَتَوَفّٰىهُمْ } پچھلی آیت میں مذکور { الْكٰفِرِيْنَ } کی صفت ہے اور اپنی جان پر سب سے بڑا ظلم کفر و شرک ہی ہے۔ (دیکھیے انعام: 21) ظالم ہونے کی حالت میں انھیں فرشتوں کے فوت کرنے میں اس سختی کی طرف بھی اشارہ ہے جو اس وقت ان ظالموں پر گزرتی ہے۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ انعام (۹۳) اور سورۂ انفال (۵۰) براء بن عازب رضی اللہ عنھما کی طویل حدیث میں مومن اور کافر کی موت کے وقت فرشتوں کا ان سے سلوک تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ [مسند أحمد: ۴ /۲۸۷، ۲۸۸، ح: ۱۸۵۶۱۔ أبوداوٗد: ۴۷۵۳]
➌ { مَا كُنَّا نَعْمَلُ مِنْ سُوْٓءٍ:} یعنی ساری عمر تو اہل ایمان سے مخالفت اور لڑنے میں گزار دی، اب حقیقت واضح ہونے پر اپنی فرماں برداری کا اظہار کریں گے کہ ہم تو کوئی برا کام کیا ہی نہ کرتے تھے۔ وہاں صاف جھوٹ بول کر سمجھیں گے کہ دنیا کی طرح یہاں بھی ہمارا جھوٹ چل جائے گا، بلکہ اس پر قسمیں بھی اٹھائیں گے۔ دیکھیے سورۂ انعام (۲۲، ۲۳) اور سورۂ مجادلہ (۱۸)۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

28۔ 1 یہ مشرک ظالموں کی موت کے وقت کی کیفیت بیان کی جا رہی ہے جب فرشتے ان کی روحیں قبض کرتے ہیں تو وہ صلح کی بات ڈالتے ہیں یعنی سمع وطاعت اور عاجزی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہم تو برائی نہیں کرتے تھے۔ جس طرح میدان محشر میں اللہ کے روبرو بھی جھوٹی قسمیں کھائیں گے اور کہیں گے ' اللہ کی قسم، ہم مشرک نہیں تھے ' دوسرے مقام پر فرمایا ' جس دن اللہ تعالیٰ ان سب کو اٹھا کر اپنے پاس جمع کرے گا تو اللہ کے سامنے بھی یہ اسی طرح (جھوٹی) قسمیں کھائیں گے جس طرح تمہارے سامنے قسمیں کھاتے ہیں۔ 28۔ 2 فرشتے جواب دیں گے کیوں نہیں؟ یعنی تم جھوٹ بولتے ہو، تمہاری تو ساری عمر ہی برائیوں میں گزری ہے اور اللہ کے پاس تمہارے اعمال کا ریکارڈ محفوظ ہے تمہارے اس انکار سے اب کیا بنے گا۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

28۔ وہ کافر جو اپنے آپ پر ظلم کر رہے ہوتے ہیں جب فرشتے ان کی روح قبض کرنے آتے ہیں تو ہتھیار ڈال [29] دیتے ہیں (اور کہتے ہیں) ہم کوئی برے کام تو نہیں کرتے تھے ”فرشتے کہیں گے: کیوں نہیں (کر رہے تھے) جو کچھ تم کر رہے تھے۔ اللہ یقیناً اسے خوب جانتا ہے
[29] عذاب قبر اور اس کی کیفیت:۔
جن فرشتوں کے آنے کا اپنے نبی سے تقاضا کرتے رہے جب وہ آجاتے ہیں تو ان کی سب شیخیاں کر کری ہو جاتی ہیں اور جھاگ کی طرح بیٹھ جاتے ہیں پھر اسی پر بس نہیں کرتے بلکہ اپنی نافرمانیوں اور حق کے خلاف سرگرمیوں سے یکسر انکار کر دیں گے اور اپنے ہتھیار ڈال دیں گے تاکہ انھیں فرشتوں کی طرف سے امن نصیب ہو۔ جس کا جواب انھیں یہ دیا جائے گا کہ کیا اب تم جھوٹ بول کر اللہ کو فریب دینا چاہتے ہو۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ تمہاری ایک ایک حرکت سے با خبر ہے کہ کس طرح تم نبیوں کے دشمن بنے رہے اور حق کو ٹھکراتے رہے اور اپنے کفر و شرک پر ڈٹے رہے۔ تمہاری اس سرکشی کی سزا یہ ہے کہ اب تم ہمیشہ کے لیے جہنم میں داخل کر دیئے جاؤ۔ فرشتوں کی یہ دھمکی مجرموں کو اسی دنیا میں مل جاتی ہے یعنی موت کی آخری ہچکی کے ساتھ ہی ہر شخص کو اپنا انجام نظر آنے لگتا ہے بلکہ فرشتے اسے واضح طور پر بتادیتے ہیں۔ موت کی آخری ہچکی سے لے کر دوبارہ روز آخرت کو جی اٹھنے تک کے عرصہ کا نام برزخ ہے اور اسی عرصہ کو حدیث میں ”قبر اور جدث“ کے الفاظ سے تعبیر کیا گیا ہے خواہ میت فی الواقع مکمل ہو یا نہ ہو یا کسی دوسرے طریقے سے ٹھکانے لگا دی گئی ہو۔ کسی درندے نے پھاڑ کھایا ہو یا پانی میں غرق ہو گئی ہو۔ منکرین حدیث جو عذاب قبر کے منکر ہیں ان آیات میں ان کی تردید موجود ہے۔ جب روح بدن سے نکل جاتی ہے جسے موت کہا جاتا ہے تو اس وقت بھی روح نہ مرتی ہے نہ فنا ہوتی ہے بلکہ اپنی شخصیت کے ساتھ قائم رہتی ہے اور یہی روح دوبارہ حشر و نشر کے دن اپنے جسم میں داخل کی جائے گی جو اسے اس دن مہیا کیا جائے گا۔ اسی کا نام دوسری زندگی ہے اور عالم برزخ میں جو عذاب یا ثواب ہوتا ہے جس کا مذکورہ آیات میں ذکر ہے وہ صرف روح کو ہوتا ہے جیسے کہ انسان کو خواب میں بسا اوقات دکھ پہنچتا ہے اسے یوں معلوم ہوتا ہے کہ اس کی پٹائی ہو رہی ہے اور اس پٹائی کی اسے تکلیف بھی ہوتی ہے حالانکہ یہ سب واردات روح سے پیش آتی ہے اور جسم اپنے بستر پر پڑا ہوتا ہے۔ پھر جب وہ جاگتا ہے تو خواب میں پٹائی کے اثرات صرف اس کے ذہن میں ہی نہیں بلکہ بعض دفعہ جسم پر بھی پائے جاتے ہیں اور وہ خوفزدہ معلوم ہوتا ہے۔ بالکل ایسی ہی کیفیت عذاب قبر کی بھی ہوتی ہے۔ اسی طرح خواب میں انسان کو راحت و مسرت کے واقعات بھی پیش آتے ہیں اور جب وہ اٹھتا ہے۔ تو وہ خود ہشاش بشاش ہوتا ہے اور سب کو اس کا چہرہ خوشی سے کھلا ہوا نظر آتا ہے۔ ثواب قبر کی بھی یہی کیفیت ہوتی ہے۔ گویا عالم برزخ ایسی نیم زندگی کی کیفیت ہوتی ہے جس میں موت کے اثرات چونکہ زیادہ نمایاں ہوتے ہیں۔ اس لیے برزخ کی اس نیم زندگی کی حالت کو موت ہی سے تعبیر کیا گیا ہے۔ مزید تفصیل کے لیے میری تصنیف ”روح، عذاب قبر اور سماع موتی“ ملاحظہ فرمائیے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

مشرکین کی جان کنی کا عالم ٭٭
مشرکین کی جان کنی کے وقت کا حال بیان ہو رہا ہے کہ ’ جب فرشتے ان کی جان لینے کے لیے آتے ہیں، تو یہ اس وقت سننے عمل کرنے اور مان لینے کا اقرار کرتے ہیں۔ ساتھ ہی اپنے کرتوت چھپاتے ہوئے اپنی بے گناہی بیان کرتے ہیں ‘۔
«وَاللَّـهِ رَبِّنَا مَا كُنَّا مُشْرِكِينَ» ۱؎ [6-الأنعام:23]‏‏‏‏ ’ قیامت کے دن اللہ کے سامنے بھی قسمیں کھا کر اپنا مشرک نہ ہونا بیان کریں گے ‘۔ «يَوْمَ يَبْعَثُهُمُ اللَّـهُ جَمِيعًا فَيَحْلِفُونَ لَهُ كَمَا يَحْلِفُونَ لَكُمْ» ۱؎ [58-المجادلہ:18]‏‏‏‏ ’ جس طرح دنیا میں اپنی بے گناہی پر لوگوں کے سامنے جھوٹی قسمیں کھاتے تھے۔ انہیں جواب ملے گا کہ جھوٹے ہو، بد اعمالیاں جی کھول کر کہ چکے ہو، اللہ غافل نہیں جو باتوں میں آ جائے ہر ایک عمل اس پر روشن ہے۔ اب اپنے کرتوتوں کا خمیا زہ بھگتو اور جہنم کے دروازوں سے جا کر ہمیشہ اسی بری جگہ میں پڑے رہو ‘۔
مقام برا، مکان برا، ذلت اور رسوائی والا، اللہ کی آیتوں سے تکبر کرنے کا اور اس کے رسولوں کی اتباع سے جی چرانے کا یہی بدلہ ہے۔ مرتے ہی ان کی روحیں جہنم رسید ہو جائیں اور جسموں پر قبروں میں جہنم کی گرمی اور اس کی لپک آنے لگی۔
«لَا يُقْضَىٰ عَلَيْهِمْ فَيَمُوتُوا وَلَا يُخَفَّفُ عَنْهُم مِّنْ عَذَابِهَا» [35-فاطر:36]‏‏‏‏ ’ قیامت کے دن روحیں جسموں سے مل کر نار جہنم میں گئیں اب نہ موت نہ تخفیف ‘۔ جیسے فرمان باری ہے آیت «النَّارُ يُعْرَضُونَ عَلَيْهَا غُدُوًّا وَعَشِيًّا» ۱؎ [40-غافر:46]‏‏‏‏ ’ یہ دوزخ کی آگ کے سامنے ہر صبح شام لائے جاتے ہیں۔ قیامت کے قائم ہوتے ہی اے آل فرعون تم سخت تر عذاب میں چلے جاؤ ‘۔