(آیت23){لَاجَرَمَاَنَّاللّٰهَيَعْلَمُمَايُسِرُّوْنَ …:} جس طرح کہا جاتا ہے کہ تم جو کچھ کر رہے ہو میں دیکھ رہا ہوں اور مطلب یہ ہوتا ہے کہ تم اس کی سزا پا کر رہو گے، اسی طرح یہاں اللہ تعالیٰ کے علم کا ذکر ان کے ظاہر اور پوشیدہ اعمال کی سزا کی وعید کے لیے ہے اور یہ سزا کیا کم ہے کہ اللہ تعالیٰ ان سے محبت نہیں، بلکہ بغض رکھتا ہے، {”اِنَّهٗلَايُحِبُّالْمُسْتَكْبِرِيْنَ“} کہ وہ تکبر کرنے والوں سے محبت نہیں کرتا۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
23۔ 1 اَسْتِکْبَار کا مطلب ہوتا ہے اپنے آپ کو بڑا سمجھتے ہوئے صحیح اور حق بات کا انکار کردینا اور دوسروں کو حقیر و کمتر سمجھنا۔ کبر کی یہی تعریف حدیث میں بیان کی گئی ـ' یہ کبر و غرور اللہ کو سخت ناپسند ہے۔ حدیث میں ہے کہ، وہ شخص جنت میں نہیں جائے گا جس کے دل میں ایک ذرہ کے برابر بھی کبر ہوگا۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
23۔ جو کچھ یہ لوگ چھپاتے ہیں یا جو ظاہر کرتے ہیں اللہ تعالیٰیقیناً سب کچھ جانتا ہے اور وہ تکبر کرنے والوں کو قطعاً پسند نہیں کرتا
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
باب
اللہ ہی معبود برحق ہے، اس کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں، وہ واحد ہے، احد ہے، فرد ہے، صمد ہے -کافروں کے دل بھلی بات سے انکار کرتے ہیں وہ اس حق کلمے کو سن کر سخت حیرت زدہ ہو جاتے ہیں۔ «وَإِذَاذُكِرَاللَّـهُوَحْدَهُاشْمَأَزَّتْقُلُوبُالَّذِينَلَايُؤْمِنُونَبِالْآخِرَةِوَإِذَاذُكِرَالَّذِينَمِندُونِهِإِذَاهُمْيَسْتَبْشِرُونَ»۱؎[39-الزمر:45] ’ اللہ واحد کا ذکر سن کر ان کے دل مرجھا جاتے ہیں۔ ہاں اوروں کا ذکر ہو تو کھل جاتے ہیں ‘۔ «إِنَّالَّذِينَيَسْتَكْبِرُونَعَنْعِبَادَتِيسَيَدْخُلُونَجَهَنَّمَدَاخِرِينَ»۱؎[40-غافر:60] ’ یہ اللہ کی عبادت سے مغرور ہیں۔ نہ ان کے دل میں ایمان نہ عبادت کے عادی۔ ایسے لوگ ذلت کے ساتھ جہنم میں داخل ہوں گے ‘۔ یقیناً اللہ تعالیٰ ہر چھپے کھلے کا عالم ہے ہر عمل پر جزا اور سزا دے گا وہ مغرور لوگوں سے بیزار ہے۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔