(آیت19){وَاللّٰهُيَعْلَمُمَاتُسِرُّوْنَوَمَاتُعْلِنُوْنَ:} اللہ کے سوا کوئی بھی سب لوگوں کے اعمال نہیں جان سکتا، چھپے ہوئے عمل تو بہت دور کی بات ہے، علانیہ بھی نہیں جان سکتا۔ چند لوگوں کے چند اعمال اس کے دیکھنے سننے میں آ بھی جائیں تو بے شمار انسانوں کے اعمال کیسے جان سکتا ہے۔ جب کہ اللہ تعالیٰ تمام جنوں اور انسانوں کے علانیہ کاموں کے علاوہ ان کے چھپ کر کیے ہوئے کام بھی جانتا ہے، بلکہ سینے کے راز تک جانتا ہے۔ دیکھیے سورۂ طٰہٰ (۷) اور سورۂ اعلیٰ (۷) کی تفسیر۔ لہٰذا یہ نہ سمجھو کہ تمھارے شرک و کفر کے باوجود تم پر جو رحم فرما رہا ہے اور نعمتوں پر نعمتیں دے رہا ہے یہ سب کچھ اس وجہ سے ہے کہ وہ تمھارے اعمال سے ناواقف ہے، بلکہ اس تمام ناشکری اور نافرمانی کے باوجود اس کی مہربانی اس لیے ہے کہ شاید تمھاری آنکھیں کھلیں اور تم اپنے کرتوتوں سے باز آ جاؤ۔ اس میں کافروں کے لیے یہ تنبیہ ہے کہ معبود تو وہی ہونا چاہیے اور ہو سکتا ہے جو ظاہر اور پوشیدہ ہر چیز کا جاننے والا ہو۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
19۔ 1 اور اس کے مطابق وہ قیامت والے دن جزا اور سزا دے گا۔ نیک کو نیکی کی جزا اور بد کو بدی کی سزا۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
19۔ اور جو کچھ تم چھپاتے [20] ہو یا ظاہر کرتے ہو اللہ سب کچھ جانتا ہے
[20] الٰہ ہونے کی خصوصیات:۔
ناشکرے، نافرمان اور مشرک لوگ یہ نہ سمجھیں کہ اللہ کو ان کی تقصیرات اور کرتوتوں کا علم نہیں بلکہ وہ ان کی تمام ظاہر اور پوشیدہ حرکات و سکنات جانتے ہوئے بھی از راہ کرم و فضل انھیں مسلسل ان نعمتوں سے فائدہ اٹھانے کا موقع دیئے جا رہا ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اللہ خالق کل ٭٭
چھپا کھلا سب کچھ اللہ جانتا ہے، دونوں اس پر یکساں ہر عامل کو اس کے عمل کا بدلہ قیامت کے دن دے گا نیکوں کو جزا بدوں کو سزا۔ جن معبودان باطل سے لوگ اپنی حاجتیں طلب کرتے ہیں وہ کسی چیز کے خالق نہیں بلکہ وہ خود مخلوق ہیں۔ جیسے کہ خلیل الرحمن ابراہیم علیہ السلام نے اپنی قوم سے فرمایا تھا کہ «قَالَأَتَعْبُدُونَمَاتَنْحِتُونَوَاللَّـهُخَلَقَكُمْوَمَاتَعْمَلُونَ»۱؎[37-الصافات:96-95] ’ تم انہیں پوجتے ہو جنہیں خود بناتے ہو۔ درحقیقت تمہارا اور تمہارے کاموں کا خالق صرف اللہ سبحانہ و تعالیٰ ہے ‘۔ بلکہ تمہارے معبود جو اللہ کے سوا جمادات، بے روح چیزیں، سنتے سیکھتے اور شعور نہیں رکھتے انہیں تو یہ بھی نہیں معلوم کہ قیامت کب ہوگی؟ تو ان سے نفع کی امید اور ثواب کی توقع کیسے رکھتے ہو؟ یہ امید تو اس اللہ سے ہونی چاہیئے جو ہر چیز کا عالم اور تمام کائنات کا خالق ہے۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔