(آیت18) ➊ { وَاِنْتَعُدُّوْانِعْمَةَاللّٰهِلَاتُحْصُوْهَا:} شمار ہی نہیں کر سکتے تو شکر کس طرح ادا کر سکتے ہو؟ دیکھیے سورۂ ابراہیم (۳۴)کی تفسیر۔ ➋ { اِنَّاللّٰهَلَغَفُوْرٌرَّحِيْمٌ:} یعنی یہ اس کی بخشش اور مہربانی ہے کہ تمھاری ناشکری کے باوجود تمھیں بے شمار نعمتیں عطا کرتا ہے اور توبہ کرنے اور پلٹ آنے پرتمھارے تمام گناہ معاف کر دیتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [فَإِنَّالْعَبْدَإِذَااعْتَرَفَ،ثُمَّتَابَتَابَاللّٰهُعَلَيْهِ]”بندہ جب اعتراف کر لے، پھر توبہ کر لے تو اللہ تعالیٰ اس پر مہربان ہو جاتا ہے۔“[بخاري، المغازي، باب حدیث الإفک: ۴۱۴۱۔ مسلم: ۲۷۷۰] پھر تھوڑے سے شکر پر بہترین جزا دیتا ہے، مقصد امید کا دروازہ کھلا رکھنا ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
18۔ اور اگر تم اللہ کی نعمتیں گننا [19] چاہو تو کبھی ان کا حساب نہ رکھ سکو گے بلا شبہ اللہ معاف کرنے والا، رحم کرنے والا ہے
[19] اللہ کی نعمتوں کا شمار نا ممکن ہے:۔
یہ چند موٹی موٹی چیزیں ذکر کی گئی ہیں لیکن اگر تم ان کی جزئیات میں یا دوسری چیزوں میں غور کرو تو اللہ کی اس قدر نعمتیں معلوم ہوں گی جو شمار میں بھی نہیں آسکتیں۔ انسان کو چاہئے تو یہ تھا کہ ان نعمتوں کی وجہ سے وہ اللہ کا شکر گزار بنتا۔ مگر اس نے الٹا اللہ کے شریک بنانا شروع کر دیئے پھر بھی اللہ ان کے ایسے جرائم کو درگزر کرتے ہوئے از راہ مہربانی انھیں ان تمام نعمتوں سے فیضیاب کر رہا ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔