وَ ہُوَ الَّذِیۡ سَخَّرَ الۡبَحۡرَ لِتَاۡکُلُوۡا مِنۡہُ لَحۡمًا طَرِیًّا وَّ تَسۡتَخۡرِجُوۡا مِنۡہُ حِلۡیَۃً تَلۡبَسُوۡنَہَا ۚ وَ تَرَی الۡفُلۡکَ مَوَاخِرَ فِیۡہِ وَ لِتَبۡتَغُوۡا مِنۡ فَضۡلِہٖ وَ لَعَلَّکُمۡ تَشۡکُرُوۡنَ ﴿۱۴﴾
اور وہی ہے جس نے سمندر کو مسخر کر دیا، تاکہ تم اس سے تازہ گوشت کھائو اور اس سے زینت کی چیزیں کثرت سے نکالو، جنھیں تم پہنتے ہو۔ اور توکشتیوں کو دیکھتا ہے، اس میں پانی کو چیرتی چلی جانے والی ہیں اور تاکہ تم اس کا کچھ فضل تلاش کرو اور تاکہ تم شکر کرو۔
En
اور وہی تو ہے جس نے دریا کو تمہارے اختیار میں کیا تاکہ اس میں سے تازہ گوشت کھاؤ اور اس سے زیور (موتی وغیرہ) نکالو جسے تم پہنتے ہو۔ اور تم دیکھتے ہو کہ کشتیاں دریا میں پانی کو پھاڑتی چلی جاتی ہیں۔ اور اس لیے بھی (دریا کو تمہارے اختیار میں کیا) کہ تم خدا کے فضل سے (معاش) تلاش کرو تاکہ اس کا شکر کرو
En
اور دریا بھی اسی نے تمہارے بس میں کر دیے ہیں کہ تم اس میں سے (نکلا ہوا) تازه گوشت کھاؤ اور اس میں سے اپنے پہننے کے زیورات نکال سکو اور تم دیکھتے ہو کہ کشتیاں اس میں پانی چیرتی ہوئی (چلتی) ہیں اور اس لیے بھی کہ تم اس کا فضل تلاش کرو اور ہوسکتا ہے کہ تم شکر گزاری بھی کرو
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت14) { وَ هُوَ الَّذِيْ سَخَّرَ الْبَحْرَ …:} اور وہ اللہ تعالیٰ ہی ہے جس نے سمندر جیسی عظیم مخلوق کہ اگر بپھر جائے تو خشکی پر چڑھ کر ہر قسم کی زندگی درہم برہم کر ڈالے، کو پابند فرما دیا کہ اپنی حدود میں رہے اور انسان کو اپنی نعمتوں سے فائدہ اٹھانے دے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے سمندر سے حاصل ہونے والی چار نعمتوں کا ذکر فرمایا۔ وہ نعمتیں جو سمندر میں بنی اسرائیل کو راستہ دینے یا موسیٰ علیہ السلام کے تابوت کو کنارے پر پہنچانے کی صورت میں ہوئیں، وہ ان کے علاوہ ہیں۔ یہ چار نعمتیں درج ذیل ہیں:
(1) {لِتَاْكُلُوْا مِنْهُ لَحْمًا طَرِيًّا: ” طَرِيًّا “} کا مصدر {”طَرَاوَةٌ“} ہے، اس کا فعل {”قَرُبَ“} اور {”شَرُفَ“} کے وزن پر آتا ہے، یہ {”يَابِسٌ“} کی ضد ہے، یعنی تروتازہ۔ مراد مچھلیاں اور پانی کا ہر وہ جانور ہے جو پانی کے بغیر زندہ نہ رہ سکے۔ سمندر کا مردار بھی حلال ہے اور محرم کو بھی سمندری شکار کی اجازت ہے۔ بعض لوگوں نے تمام سمندری جانوروں میں سے صرف مچھلی کو حلال قرار دیا ہے، جو پکڑتے وقت زندہ ہو، لیکن یہ بات درست نہیں۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ مائدہ (۹۶) اس میں اشارہ ہے کہ سمندری جانور تازہ حالت ہی میں لذیذ اور مفید ہوتا ہے، باسی ہو تو ضرر رساں ہوتا ہے۔ علامہ قاسمی نے فرمایا:{ ” لَحْمًا طَرِيًّا “} سے مچھلی کی بناوٹ کا حسن، لچک، ملائمت اور تری مراد ہے، ورنہ اس کا گوشت خشک کرکے محفوظ بھی کیا جاتا ہے۔“ میں کہتا ہوں غزوہ سیف البحر میں سمندر کے پانی کی چھوڑی ہوئی بہت بڑی مچھلی صحابہ کرام ایک ماہ تک کھاتے رہے اور بچا کر مدینہ بھی لے گئے۔یہ اسے نمک وغیرہ لگا کرخشک کرنے کے عمل کے بغیر کیسے ممکن ہے، اسی طرح اب برف یافریزر میں مچھلی ایک عرصہ تک محفوظ رہتی ہے۔ یہ بھی اللہ تعالیٰ کی قدرت کا کمال ہے کہ سخت نمکین کڑوے پانی میں لذیذ گوشت تیار فرمایا، بتاؤ اس میں کون سے گنج بخش یا دستگیر کا حصہ ہے اور کتنا حصہ ہے؟
(2) {وَ تَسْتَخْرِجُوْا مِنْهُ حِلْيَةً: ” تُخْرِجُوْا “} کے بجائے {” تَسْتَخْرِجُوْا “} سے کثرت کے ساتھ نکالنے کی طرف اشارہ ہے۔ {”حِلْيَةً “ } جس سے آرائش و زینت حاصل ہو، تاکہ تم اس سے زیور، موتی، مرجان، سونا اور اس میں چھپے ہوئے بے شمار خزانے اور دھاتیں کثرت سے نکالو۔ اس میں اللہ کی یہ نعمت بھی آ گئی کہ سمندر کو ایسا بنایا کہ انسان اس میں غوطہ لگا سکے۔ مسلمانوں کے لیے یہ ترغیب بھی ہے کہ وہ غوطہ خوری میں مہارت حاصل کریں، خود بھی اور مشینوں کے ساتھ بھی اور سمندر کے خزانوں سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھائیں۔ کفار کو کھلا نہ چھوڑیں کہ وہ اس کے خزانوں اور تیل، گیس اور دوسری معدنیات اور نعمتوں سے فائدہ اٹھاتے رہیں اور مسلمان ان کی محتاجی ہی پر قانع رہیں۔
(3) {وَ تَرَى الْفُلْكَ مَوَاخِرَ فِيْهِ: ” مَوَاخِرَ “ ” مَاخِرَةٌ “} کی جمع ہے، اپنے سینے سے پانی کو چیرنے والی۔ اس لیے تمام بحری جہازوں کا سامنے کا حصہ نوک دار رکھا جاتا ہے۔ یہ بھی اللہ تعالیٰ کی کمال قدرت ہے کہ پانی جس میں ہر چیز غرق ہو جاتی ہے، حتیٰ کہ سوئی بھی اس میں ڈوب جاتی ہے، اسے اس طرح بنایا کہ جب وزن اور حجم کی خاص نسبت رکھنے والی کوئی چیز اس میں ڈالی جائے تو وہ اسے اٹھا لیتا ہے، حتیٰ کہ لاکھوں ٹن وزن اٹھانے والے بحری جہاز پانی کو چیرتے ہوئے چلے جاتے ہیں، مگر پانی اللہ کے حکم سے انھیں اٹھاتا بھی ہے، راستہ بھی دیتا ہے اور خوراک بھی مہیا کرتا ہے۔
(4) { وَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ:} دور دراز کے کم خرچ اور آسان سفر، دنیا کی سیر، علم کا حصول، حج و عمرہ، تجارت، جہاد، مال غنیمت، الغرض کوئی ایک فائدہ اور فضل ہو تو گنا جائے، یہ سب کچھ اکیلے اللہ نے بنایا، کسی داتا یا دیوتا کا اس میں کچھ دخل نہیں اور اس نے یہ اس لیے بنایا کہ تم ان نعمتوں کی قدر کرو اور اس کے احکام پر عمل کرکے زبانی اور عملی طور پر شکر ادا کرو۔
(1) {لِتَاْكُلُوْا مِنْهُ لَحْمًا طَرِيًّا: ” طَرِيًّا “} کا مصدر {”طَرَاوَةٌ“} ہے، اس کا فعل {”قَرُبَ“} اور {”شَرُفَ“} کے وزن پر آتا ہے، یہ {”يَابِسٌ“} کی ضد ہے، یعنی تروتازہ۔ مراد مچھلیاں اور پانی کا ہر وہ جانور ہے جو پانی کے بغیر زندہ نہ رہ سکے۔ سمندر کا مردار بھی حلال ہے اور محرم کو بھی سمندری شکار کی اجازت ہے۔ بعض لوگوں نے تمام سمندری جانوروں میں سے صرف مچھلی کو حلال قرار دیا ہے، جو پکڑتے وقت زندہ ہو، لیکن یہ بات درست نہیں۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ مائدہ (۹۶) اس میں اشارہ ہے کہ سمندری جانور تازہ حالت ہی میں لذیذ اور مفید ہوتا ہے، باسی ہو تو ضرر رساں ہوتا ہے۔ علامہ قاسمی نے فرمایا:{ ” لَحْمًا طَرِيًّا “} سے مچھلی کی بناوٹ کا حسن، لچک، ملائمت اور تری مراد ہے، ورنہ اس کا گوشت خشک کرکے محفوظ بھی کیا جاتا ہے۔“ میں کہتا ہوں غزوہ سیف البحر میں سمندر کے پانی کی چھوڑی ہوئی بہت بڑی مچھلی صحابہ کرام ایک ماہ تک کھاتے رہے اور بچا کر مدینہ بھی لے گئے۔یہ اسے نمک وغیرہ لگا کرخشک کرنے کے عمل کے بغیر کیسے ممکن ہے، اسی طرح اب برف یافریزر میں مچھلی ایک عرصہ تک محفوظ رہتی ہے۔ یہ بھی اللہ تعالیٰ کی قدرت کا کمال ہے کہ سخت نمکین کڑوے پانی میں لذیذ گوشت تیار فرمایا، بتاؤ اس میں کون سے گنج بخش یا دستگیر کا حصہ ہے اور کتنا حصہ ہے؟
(2) {وَ تَسْتَخْرِجُوْا مِنْهُ حِلْيَةً: ” تُخْرِجُوْا “} کے بجائے {” تَسْتَخْرِجُوْا “} سے کثرت کے ساتھ نکالنے کی طرف اشارہ ہے۔ {”حِلْيَةً “ } جس سے آرائش و زینت حاصل ہو، تاکہ تم اس سے زیور، موتی، مرجان، سونا اور اس میں چھپے ہوئے بے شمار خزانے اور دھاتیں کثرت سے نکالو۔ اس میں اللہ کی یہ نعمت بھی آ گئی کہ سمندر کو ایسا بنایا کہ انسان اس میں غوطہ لگا سکے۔ مسلمانوں کے لیے یہ ترغیب بھی ہے کہ وہ غوطہ خوری میں مہارت حاصل کریں، خود بھی اور مشینوں کے ساتھ بھی اور سمندر کے خزانوں سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھائیں۔ کفار کو کھلا نہ چھوڑیں کہ وہ اس کے خزانوں اور تیل، گیس اور دوسری معدنیات اور نعمتوں سے فائدہ اٹھاتے رہیں اور مسلمان ان کی محتاجی ہی پر قانع رہیں۔
(3) {وَ تَرَى الْفُلْكَ مَوَاخِرَ فِيْهِ: ” مَوَاخِرَ “ ” مَاخِرَةٌ “} کی جمع ہے، اپنے سینے سے پانی کو چیرنے والی۔ اس لیے تمام بحری جہازوں کا سامنے کا حصہ نوک دار رکھا جاتا ہے۔ یہ بھی اللہ تعالیٰ کی کمال قدرت ہے کہ پانی جس میں ہر چیز غرق ہو جاتی ہے، حتیٰ کہ سوئی بھی اس میں ڈوب جاتی ہے، اسے اس طرح بنایا کہ جب وزن اور حجم کی خاص نسبت رکھنے والی کوئی چیز اس میں ڈالی جائے تو وہ اسے اٹھا لیتا ہے، حتیٰ کہ لاکھوں ٹن وزن اٹھانے والے بحری جہاز پانی کو چیرتے ہوئے چلے جاتے ہیں، مگر پانی اللہ کے حکم سے انھیں اٹھاتا بھی ہے، راستہ بھی دیتا ہے اور خوراک بھی مہیا کرتا ہے۔
(4) { وَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ:} دور دراز کے کم خرچ اور آسان سفر، دنیا کی سیر، علم کا حصول، حج و عمرہ، تجارت، جہاد، مال غنیمت، الغرض کوئی ایک فائدہ اور فضل ہو تو گنا جائے، یہ سب کچھ اکیلے اللہ نے بنایا، کسی داتا یا دیوتا کا اس میں کچھ دخل نہیں اور اس نے یہ اس لیے بنایا کہ تم ان نعمتوں کی قدر کرو اور اس کے احکام پر عمل کرکے زبانی اور عملی طور پر شکر ادا کرو۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
14۔ 1 اس میں سمندری تلاطم خیز موجوں کو انسان کے تابع کردینے کے بیان کے ساتھ، اس کے تین فوائد بھی ذکر کئے ہیں۔ ایک یہ کہ تم اس سے مچھلی کی شکل میں تازہ گوشت کھاتے ہو (مچھلی مردہ بھی ہو تب بھی حلال ہے)۔ علاوہ ازیں حالت احرام میں بھی اس کو شکار کرنا حلال ہے۔ دوسرے، اس سے تم موتی، سیپیاں اور جواہر نکالتے ہو، جن سے تم زیور بناتے ہو۔ تیسرے، اس میں تم کشتیاں اور جہاز چلاتے ہو، جن کے ذریعے سے تم ایک ملک سے دوسرے ملک میں جاتے ہو، تجارتی سامان بھی لاتے ہو، لے جاتے ہو، جس سے تمہیں اللہ کا فضل حاصل ہوتا ہے جس پر تمہیں اللہ کا شکر گزار ہونا چاہیئے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
14۔ وہی تو ہے جس نے سمندر [14] کو تمہارے اختیار میں کر دیا تاکہ اس میں سے تم تر و تازہ گوشت کھاؤ اور اس سے وہ زیور نکالو جو تم پہنتے ہو۔ اور تو دیکھتا ہے کہ کشتی سمندر کا پانی چیرتی ہوئی چلتی ہے اور اس لئے بھی کہ تم اللہ کا فضل تلاش کرو اور اس کا شکر ادا کرو
[14] سمندروں کے فوائد:۔
پھر ٹھاٹھیں مارنے والے سمندر کو اور تلاطم خیز موجوں کو اپنے مخصوص قوانین کا پابند بنا دیا حتیٰ کہ انسان سمندر کے پانی کے اندر اور اوپرتصرف کرنے کے قابل بن گیا۔ ورنہ ایسے وسیع اور مہیب سمندر کے مقابلہ میں بے چارے انسان کی حقیقت ہی کیا تھی۔ اب وہ سمندری جانوروں کا شکار کر کے اپنی غذائی ضروریات بھی فراہم کرتا ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ سمندر کا پانی تو سخت شور اور کڑوا ہوتا ہے جبکہ اس کے جانوروں اور بالخصوص مچھلی کا گوشت انتہائی لذیذ ہوتا ہے۔ اس میں شور کا اثر نام کو نہیں ہوتا پھر اس سے گھونگے، صدف اور مرجان اور کئی دوسری چیزیں نکال کر اپنے زیور اور آرائش کی چیزیں بھی بناتا ہے پھر کشتیوں اور جہازوں کے ذریعہ سمندر کی پشت پر سوار ہو کر ایک کنارے سے دوسرے کنارے اور ایک ملک سے دوسرے ملک جا پہنچتا ہے اور اس طرح ایک ملک کی چیزیں دوسرے ملک پہنچا کر تجارتی فوائد حاصل کرتا ہے۔ اگر پانی اپنے مخصوص فطری قوانین کا پابند نہ ہوتا یا نہ رہے تو انسان اس سے کبھی ایسے فوائد حاصل نہ کر سکتا تھا۔ یہ اللہ کی خاص مہربانی ہے کہ اس نے تمام اشیاء کے لیے مخصوص قوانین بنا دیئے ہیں جن کی وہ بہرحال پابند رہتی ہیں۔ اس طرح انسان ان سے فائدہ اٹھانے کے قابل ہو جاتا ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اللہ کے انعامات ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنی اور مہربانی جتاتا ہے کہ ’ سمندر پر دریا پر بھی اس نے تمہیں قابض کردیا باوجود اپنی گہرائی کے اور اپنی موجوں کے وہ تمہارا تابع ہے، تمہاری کشتیاں اس میں چلتی ہیں۔ اسی طرح اس میں سے مچھلیاں نکال کر ان کے تر و تازہ گوشت تم کھاتے ہو۔ مچھلی حلت کی حالت میں، احرام کی حالت میں، زندہ ہو یا مردہ اللہ کی طرف سے حلال ہے۔ لولو اور جواہر اس نے تمہارے لیے اس میں پیدا کئے ہیں جنہیں تم سہولت سے نکال لیتے ہو اور بطور زیور کے اپنے کام میں لیتے ہو پھر اس کشتیاں ہواؤں کو ہٹاتی پانی کو چیرتی اپنے سینوں کے بل تیرتی چلی جاتی ہیں ‘۔
سب سے پہلے نوح علیہ السلام کشی میں سوار ہوئے انہیں کو کشتی بنانا اللہ عالم نے سکھایا پھر لوگ برابر بناتے چلے آئے اور ان پر دریا کے لمبے لمبے سفر طے ہونے لگے اس پار کی چیزیں اس پار اور اس پار کی اس پار آنے جانے لگیں۔
اسی کا بیان اس میں ہے کہ تم اللہ کا فضل یعنی اپنی روزی تجارت کے ذریعہ ڈھونڈو اور اس کی نعمت و احسان کا شکر مانو اور قدر دانی کرو۔
مسند بزار میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ { اللہ تعالیٰ نے مغربی دریا سے کہا کہ ’ میں اپنے بندوں کو تجھ میں سوار کرنے والا ہوں تو ان کے ساتھ کیا کرے گا؟ ‘ اس نے کہا ڈبو دونگا فرمایا ’ تیری تیزی تیرے کناروں پر ہے اور انہیں میں اپنے ہاتھ پر انہیں اٹھاؤں گا اور جس طرح ماں اپنے بچے کی خبرگیری کرتی ہے میں ان کی کرتا رہوں گا ‘ پس اسے اللہ تعالیٰ نے زیور بھی دئیے اور شکار بھی }۔ ۱؎ [مجمع الزوائد ومنبع الفوائد:9451:ضعیف] اس حدیث کا راوی صرف عبدالرحمٰن بن عبداللہ ہے اور وہ منکر الحدیث ہے۔ سیدنا عبداللہ بن ابی عمرو رضی اللہ عنہ سے بھی یہ روایت موقوف مروی ہے۔
سب سے پہلے نوح علیہ السلام کشی میں سوار ہوئے انہیں کو کشتی بنانا اللہ عالم نے سکھایا پھر لوگ برابر بناتے چلے آئے اور ان پر دریا کے لمبے لمبے سفر طے ہونے لگے اس پار کی چیزیں اس پار اور اس پار کی اس پار آنے جانے لگیں۔
اسی کا بیان اس میں ہے کہ تم اللہ کا فضل یعنی اپنی روزی تجارت کے ذریعہ ڈھونڈو اور اس کی نعمت و احسان کا شکر مانو اور قدر دانی کرو۔
مسند بزار میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ { اللہ تعالیٰ نے مغربی دریا سے کہا کہ ’ میں اپنے بندوں کو تجھ میں سوار کرنے والا ہوں تو ان کے ساتھ کیا کرے گا؟ ‘ اس نے کہا ڈبو دونگا فرمایا ’ تیری تیزی تیرے کناروں پر ہے اور انہیں میں اپنے ہاتھ پر انہیں اٹھاؤں گا اور جس طرح ماں اپنے بچے کی خبرگیری کرتی ہے میں ان کی کرتا رہوں گا ‘ پس اسے اللہ تعالیٰ نے زیور بھی دئیے اور شکار بھی }۔ ۱؎ [مجمع الزوائد ومنبع الفوائد:9451:ضعیف] اس حدیث کا راوی صرف عبدالرحمٰن بن عبداللہ ہے اور وہ منکر الحدیث ہے۔ سیدنا عبداللہ بن ابی عمرو رضی اللہ عنہ سے بھی یہ روایت موقوف مروی ہے۔
اس کے بعد زمین کا ذکر ہو رہا ہے کہ ’ اس کے ٹھہرانے اور ہلنے جلنے سے بچانے کے لیے اس پر مضبوط اور وزنی پہاڑ جما دیئے کہ اس کے ہلنے کی وجہ سے اس پر رہنے والوں کی زندگی دشوار نہ ہو جائے ‘۔ جیسے فرمان ہے آیت «وَالْجِبَالَ اَرْسٰىهَا» ۱؎ [79-النازعات:32]۔
حسن رحمتہ اللہ علیہ کا قول ہے کہ ”جب اللہ تعالیٰ نے زمین بنائی تو وہ ہل رہی تھی یہاں تک کہ فرشتوں نے کہا اس پر تو کوئی ٹھہر ہی نہیں سکتا۔ صبح دیکھتے ہیں کہ پہاڑ اس پر گاڑ دئیے گئے ہیں اور اس کا ہلنا موقوف ہوگیا پس فرشتوں کو یہ بھی نہ معلوم ہوسکا کہ پہاڑ کس چیز سے پیدا کئے گئے۔“ قیس بن عبادہ سے بھی یہی مروی ہے۔
سیدنا علی رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ”زمین نے کہا تو مجھ پر بنی آدم کو بساتا ہے جو میری پیٹھ پر گناہ کریں گے اور خباثت پھیلائیں گے وہ کانپنے لگی پس اللہ تعالیٰ نے پہاڑ کو اس پر جما دیا جنہیں تم دیکھ رہے ہو اور بعض کو دیکھتے ہی نہیں ہو۔“
حسن رحمتہ اللہ علیہ کا قول ہے کہ ”جب اللہ تعالیٰ نے زمین بنائی تو وہ ہل رہی تھی یہاں تک کہ فرشتوں نے کہا اس پر تو کوئی ٹھہر ہی نہیں سکتا۔ صبح دیکھتے ہیں کہ پہاڑ اس پر گاڑ دئیے گئے ہیں اور اس کا ہلنا موقوف ہوگیا پس فرشتوں کو یہ بھی نہ معلوم ہوسکا کہ پہاڑ کس چیز سے پیدا کئے گئے۔“ قیس بن عبادہ سے بھی یہی مروی ہے۔
سیدنا علی رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ”زمین نے کہا تو مجھ پر بنی آدم کو بساتا ہے جو میری پیٹھ پر گناہ کریں گے اور خباثت پھیلائیں گے وہ کانپنے لگی پس اللہ تعالیٰ نے پہاڑ کو اس پر جما دیا جنہیں تم دیکھ رہے ہو اور بعض کو دیکھتے ہی نہیں ہو۔“
یہ بھی اس کا کرم ہے کہ اس نے نہریں چشمے اور دریا چاروں طرف بہا دئیے -کوئی تیز ہے کوئی سست، کوئی لمبا ہے کوئی مختصر، کبھی کم پانی ہے کبھی زیادہ، کبھی بالکل سوکھا پڑا ہے۔ پہاڑوں پر، جنگلوں میں، ریت میں، پتھروں میں برابر یہ چشمے بہتے رہتے ہیں اور ریل پیل کر دیتے ہیں یہ سب اس کا فضل و کرم، لطف و رحم ہے۔ نہ اس کے سوا کوئی پروردگار نہ اس کے سوا کوئی لائق عبادت، وہی رب ہے، وہی معبود ہے۔
«وَجَعَلْنَا فِي الْأَرْضِ رَوَاسِيَ أَن تَمِيدَ بِهِمْ وَجَعَلْنَا فِيهَا فِجَاجًا سُبُلًا» ۱؎ [21-الانبیأ:31] ’ اور ہم نے زمین میں پہاڑ جما دیے تاکہ وہ انہیں لے کر ڈھلک نہ جائے اور اس میں کشادہ راہیں بنا دیں تاکہ وه راستہ حاصل کریں ‘۔
اسی نے راستے بنا دیئے ہیں خشکی میں، تری میں، پہاڑ میں، بستی میں، اجاڑ میں ہر جگہ اس کے فضل و کرم سے راستے موجود ہیں کہ ادھر سے ادھر لوگ جا آسکیں کوئی تنگ راستہ ہے کوئی وسیع کوئی آسان کوئی سخت۔ اور بھی علامتیں اس نے مقرر کر دیں جیسے پہاڑ ہیں ٹیلے ہیں وغیرہ وغیرہ۔
جن سے تری خشکی کے رہرو و مسافر راہ معلوم کر لیتے ہیں۔ اور بھٹکے ہوئے سیدھے رستے لگ جاتے ہیں۔ ستارے بھی رہنمائی کے لیے ہیں رات کے اندھیرے میں انہی سے راستہ اور سمت معلوم ہوتی ہے۔ مالک سے مروی ہے کہ نجوم سے مراد پہاڑ ہیں۔
پھر اپنی عظمت و کبریائی کا بیان کرتا ہے اور فرماتا ہے کہ لائق عبادت اس کے سوا اور کوئی نہیں۔ اللہ کے سوا جن جن کی لوگ عبادت کرتے ہیں وہ محض بے بس ہیں، کسی چیز کے پیدا کرنے کی انہیں طاقت نہیں اور اللہ تعالیٰ سب کا خالق ہے، ظاہر ہے کہ خالق اور غیر خالق یکساں نہیں، پھر دونوں کی عبادت کرنا کس قدر ستم ہے؟ اتنا بھی بے ہوش ہو جانا شایان انسانیت نہیں۔
«وَجَعَلْنَا فِي الْأَرْضِ رَوَاسِيَ أَن تَمِيدَ بِهِمْ وَجَعَلْنَا فِيهَا فِجَاجًا سُبُلًا» ۱؎ [21-الانبیأ:31] ’ اور ہم نے زمین میں پہاڑ جما دیے تاکہ وہ انہیں لے کر ڈھلک نہ جائے اور اس میں کشادہ راہیں بنا دیں تاکہ وه راستہ حاصل کریں ‘۔
اسی نے راستے بنا دیئے ہیں خشکی میں، تری میں، پہاڑ میں، بستی میں، اجاڑ میں ہر جگہ اس کے فضل و کرم سے راستے موجود ہیں کہ ادھر سے ادھر لوگ جا آسکیں کوئی تنگ راستہ ہے کوئی وسیع کوئی آسان کوئی سخت۔ اور بھی علامتیں اس نے مقرر کر دیں جیسے پہاڑ ہیں ٹیلے ہیں وغیرہ وغیرہ۔
جن سے تری خشکی کے رہرو و مسافر راہ معلوم کر لیتے ہیں۔ اور بھٹکے ہوئے سیدھے رستے لگ جاتے ہیں۔ ستارے بھی رہنمائی کے لیے ہیں رات کے اندھیرے میں انہی سے راستہ اور سمت معلوم ہوتی ہے۔ مالک سے مروی ہے کہ نجوم سے مراد پہاڑ ہیں۔
پھر اپنی عظمت و کبریائی کا بیان کرتا ہے اور فرماتا ہے کہ لائق عبادت اس کے سوا اور کوئی نہیں۔ اللہ کے سوا جن جن کی لوگ عبادت کرتے ہیں وہ محض بے بس ہیں، کسی چیز کے پیدا کرنے کی انہیں طاقت نہیں اور اللہ تعالیٰ سب کا خالق ہے، ظاہر ہے کہ خالق اور غیر خالق یکساں نہیں، پھر دونوں کی عبادت کرنا کس قدر ستم ہے؟ اتنا بھی بے ہوش ہو جانا شایان انسانیت نہیں۔
پھر اپنی نعمتوں کی فراوانی اور کثرت بیان فرماتا ہے کہ ’ تمہاری گنتی میں بھی نہیں آسکتیں، اتنی نعمتیں میں نے تمہیں دے رکھی ہیں یہ بھی تمہاری طاقت سے باہر ہے کہ میری نعمتوں کی گنتی کر سکو، اللہ تعالیٰ تمہاری خطاؤں سے درگزر فرماتا رہتا ہے اگر اپنی تمام تر نعمتوں کا شکر بھی تم سب طلب کرے تو تمہارے بس کا نہیں۔ اگر ان نعمتوں کے بدلے تم سے چاہے تو تمہاری طاقت سے خارج ہے سنو اگر وہ تم سب کو عذاب کرے تو بھی وہ ظالم نہیں لیکن وہ غفور و رحیم اللہ تمہاری برائیوں کو معاف فرما دیتا ہے، تمہاری تقصیروں سے تجاوز کر لیتا ہے۔ توبہ، رجوع، اطاعت اور طلب رضا مندی کے ساتھ جو گناہ ہو جائیں ان سے چشم پوشی کر لیتا ہے۔ بڑا ہی رحیم ہے، توبہ کے بعد عذاب نہیں کرتا ‘۔