اور اس کی وجہ سے جو تمھاری زبانیں جھوٹ کہتی ہیں، مت کہو کہ یہ حلال ہے اور یہ حرام ہے، تاکہ اللہ پر جھوٹ باندھو۔ بے شک جو لوگ اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں وہ فلاح نہیں پاتے۔
En
اور یوں ہی جھوٹ جو تمہاری زبان پر آجائے مت کہہ دیا کرو کہ یہ حلال ہے اور یہ حرام ہے کہ خدا پر جھوٹ بہتان باندھنے لگو۔ جو لوگ خدا پر جھوٹ بہتان باندھتے ہیں ان کا بھلا نہیں ہوگا
کسی چیز کو اپنی زبان سے جھوٹ موٹ نہ کہہ دیا کرو کہ یہ حلال ہے اور یہ حرام ہے کہ اللہ پر جھوٹ بہتان باندھ لو، سمجھ لو کہ اللہ تعالیٰ پر بہتان بازی کرنے والے کامیابی سے محروم ہی رہتے ہیں
En
(آیت117،116){وَلَاتَقُوْلُوْالِمَاتَصِفُ …: ”اَلْسِنَةٌ“”لِسَانٌ“} کی جمع ہے، یعنی جب اللہ تعالیٰ نے تمھارے لیے حلال و حرام کو خود واضح فرما دیا ہے تو اب اسی کے پابند رہو اور یہ جرأت مت کرو کہ تمھاری زبانیں جسے جھوٹ سے حلال کہہ دیں اسے حلال اور جسے حرام کہہ دیں اسے حرام قرار دے لو، اگر ایسا کرو گے تو یہ اللہ پر جھوٹ باندھنا ہو گا اور یہ بات یقینی ہے کہ اللہ تعالیٰ پر جھوٹ گھڑنے والے کبھی کامیاب نہیں ہوتے، اگر اس کے بدلے انھیں دنیا میں کچھ فائدہ حاصل بھی ہو جائے، خواہ پوری دنیا مل جائے، وہ بہت ہی تھوڑا سامان ہے، کیونکہ یہ سامان ہر حال میں ختم ہو جانے والا ہے، پھر ان کا ہمیشہ کا ٹھکانا جہنم ہے۔ مشرکین کے اپنے پاس سے حلال و حرام بنانے کی مثالوں کے لیے دیکھیے سورۂ مائدہ (۱۰۳، ۱۰۴)، انعام (۱۳۸ تا ۱۴۰) اور سورۂ یونس (۵۹، ۶۰)۔ حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ نے فرمایا، اس آیت میں ہر وہ شخص داخل ہے جو دین میں کوئی نئی بات (بدعت) ایجاد کرے، جس کی کوئی شرعی دلیل نہ ہو، یا محض اپنی عقل اور رائے سے اللہ کی حلال کردہ چیز کے حرام یا حرام کردہ چیز کے حلال ہونے کا فتویٰ دے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کے صحیح ہونے پر تو ساری امت کا اتفاق ہے: [مَنْكَذَبَعَلَيَّمُتَعَمِّدًافَلْيَتَبَوَّأْمَقْعَدَهُمِنَالنَّارِ]“[بخاری، العلم، باب إثم من کذب علی النبي صلی اللہ علیہ وسلم : ۱۰۷۔ مسلم، المقدمۃ: ۳]”جس نے مجھ پر جان بوجھ کر جھوٹ بولا وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے (کیونکہ یہ درحقیقت اللہ پر جھوٹ ہے)۔ “
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
116۔ 1 یہ اشارہ ہے ان جانوروں کی طرف جو وہ بتوں کے نام وقف کر کے ان کو اپنے لئے حرام کرلیتے تھے، جیسے بحیرہ، سائبہ، وصیلہ اور حام وغیرہ۔ (دیکھئے (مَاجَعَلَاللّٰهُمِنْۢبَحِيْرَةٍوَّلَاسَاۗىِٕبَةٍوَّلَاوَصِيْلَةٍوَّلَاحَامٍ ۙ وَّلٰكِنَّالَّذِيْنَكَفَرُوْايَفْتَرُوْنَعَلَياللّٰهِالْكَذِبَ ۭ وَاَكْثَرُهُمْلَايَعْقِلُوْنَ) 5۔ المائدہ:13) اور الا نعام (وَقَالُوْامَافِيْبُطُوْنِهٰذِهِالْاَنْعَامِخَالِصَةٌلِّذُكُوْرِنَاوَمُحَرَّمٌعَلٰٓياَزْوَاجِنَا ۚ وَاِنْيَّكُنْمَّيْتَةًفَهُمْفِيْهِشُرَكَاۗءُ ۭ سَيَجْزِيْهِمْوَصْفَهُمْۭاِنَّهٗحَكِيْمٌعَلِيْمٌ 139 قَدْخَسِرَالَّذِيْنَقَتَلُوْٓااَوْلَادَهُمْسَفَهًۢابِغَيْرِعِلْمٍوَّحَرَّمُوْامَارَزَقَهُمُاللّٰهُافْتِرَاۗءًعَلَياللّٰهِ ۭ قَدْضَلُّوْاوَمَاكَانُوْامُهْتَدِيْنَ 140ۧ وَهُوَالَّذِيْٓاَنْشَاَجَنّٰتٍمَّعْرُوْشٰتٍوَّغَيْرَمَعْرُوْشٰتٍوَّالنَّخْلَوَالزَّرْعَمُخْتَلِفًااُكُلُهٗوَالزَّيْتُوْنَوَالرُّمَّانَمُتَشَابِهًاوَّغَيْرَمُتَشَابِهٍ ۭ كُلُوْامِنْثَمَرِهٖٓاِذَآاَثْمَرَوَاٰتُوْاحَقَّهٗيَوْمَحَصَادِهٖ ڮ وَلَاتُسْرِفُوْا ۭ اِنَّهٗلَايُحِبُّالْمُسْرِفِيْنَ 141ۙ) 6۔ الانعام:139 تا 141) کے حواشی)
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
116۔ جو جھوٹ تمہاری زبانوں پر آجائے اس کی بنا پر یوں نہ کہا کرو کہ ”یہ چیز حلال ہے اور یہ حرام ہے“ کہ تم اللہ پر جھوٹ [119] افترا کرنے لگو۔ جو لوگ اللہ پر جھوٹ افترا کرتے ہیں وہ کبھی فلاح نہیں پاتے
[119] حلت و حرمت کا اختیار سنبھالنا بھی شرک ہے:۔
ان آیات میں بتایا یہ گیا ہے کہ اشیاء کو حرام یا حلال قرار دینے کا اختیار کلیتاً اللہ تعالیٰ کے لیے ہے۔ کسی دوسرے کو یہ اختیار نہیں کہ وہ اللہ کی حرام کردہ چیز کو حلال یا جائز قرار دے لے یا اس کی حلال کردہ چیزوں کو حرام بنا دے۔ اور جو لوگ یہ کام کرتے ہیں وہ جھوٹ بکتے ہیں۔ پہلے وہ اس قسم کے جھوٹ اختراع کرتے ہیں پھر انھیں اللہ کے ذمہ لگا کر یا اس کی طرف منسوب کر کے اپنے ایسے عقیدوں کو مذہبی تقدس کا جامہ پہنا دیتے ہیں۔ وہ حقیقتاً خدائی اختیارات اپنے ہاتھ میں لے کر شرک کا ارتکاب کرتے ہیں اور ایسے لوگوں کی اخروی نجات کی کوئی صورت نہیں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔