(آیت114){فَكُلُوْامِمَّارَزَقَكُمُاللّٰهُحَلٰلًاطَيِّبًا …:} مشرکین نے اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کی اور اس کے ساتھ شریک بنائے تو اے ایمان والو! اگر تم واقعی صرف اللہ کی بندگی کرتے ہو، جیسا کہ تمھارا دعویٰ ہے تو لازم ہے کہ اپنی عقل اور مصلحت کے بل بوتے پر کسی چیز کو حلال یا حرام قرار نہ دو، جیسا کہ مشرکوں نے اپنے پاس سے بحیرہ اور سائبہ وغیرہ کو حرام قرار دے رکھا ہے، حالانکہ یہ کہیں اللہ کا حکم نہیں اور مردار اور خون وغیرہ کو حلال کر رکھا ہے جنھیں اللہ نے حرام قرار دیا ہے۔ سو تم صرف انھی چیزوں کو کھاؤ جنھیں اللہ نے حلال اور طیب قرار دیا ہے اور اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کرو۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
114۔ 1 اس کا مطلب یہ ہوا کہ حلال وطیب چیزوں سے تجاوز کر کے حرام اور خبیث چیزوں کا استعمال اور اللہ کو چھوڑ کر کسی اور کی عبادت کرنا، یہ اللہ کی نعمتوں کی ناشکری ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
114۔ پس اللہ نے جو تمہیں حلال اور پاکیزہ رزق دیا ہے وہی کھاؤ اگر واقعی تم اس کی بندگی کرنے والے ہو [117] تو اللہ کی نعمت کا شکر ادا کرو
[117] اس آیت میں خطاب مسلمانوں سے ہے اور انھیں سمجھایا یہ جا رہا ہے کہ کفران نعمت اتنا بڑا جرم ہے کہ جس کے بدلے اللہ اپنی نعمتیں بھی چھین لیتا ہے اور ایسے مجرموں پر عذاب بھی مسلط کر دیتا ہے۔ لہٰذا اگر تم ایمان کا دعویٰ رکھتے ہو تو اس کی نعمتوں کا شکر ادا کرتے رہا کرو۔ اسی کی بندگی کرو۔ اس کی نافرمانی سے اجتناب کرو اور رزق حلال کی تلاش کرو۔ حرام اور گندی چیزوں سے پرہیز کرو۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
حلال و حرام صرف اللہ کی طرف سے ہیں ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو اپنی دی ہوئی پاک روزی حلال کرتا ہے اور شکر کرنے کی ہدایت کرتا ہے۔ اس لیے کہ نعمتوں کا داتا وہی ہے، اسی لیے عبادت کے لائق بھی صرف وہی ایک ہے، اس کا کوئی شریک اور ساجھی نہیں۔ پھر ان چیزوں کا بیان فرما رہا ہے جو اس نے مسلمانوں پر حرام کر دی ہیں جس میں ان کے دین کا نقصان بھی ہے اور ان کی دنیا کا نقصان بھی ہے جیسے از خود مرا ہوا جانور اور بوقت ذبح کیا جائے۔ لیکن جو شخص ان کے کھانے کی طرف بے بس، لاچار، عاجز، محتاج، بے قرار ہو جائے اور انہیں کھالے تو اللہ بخشش و رحمت سے کام لینے والا ہے۔ سورۃ البقرہ میں اسی جیسی آیت گزر چکی ہے اور وہیں اس کی کامل تفسیر بھی بیان کردی اب دوبارہ دہرانے کی حاجت نہیں۔ «فالْحَمْدُلِلَّـه» پھر کافروں کے رویہ سے مسلمانوں کو روک رہا ہے کہ جس طرح انہوں نے از خود اپنی سمجھ سے حلت حرمت قائم کرلی ہے تم نہ کرو آپس میں طے کر لیا کہ فلاں کے نام سے منسوب جانور حرمت و عزت والا ہے۔ بحیرہ، سائبہ، وصیلہ، حام وغیرہ تو فرمان ہے کہ ’ اپنی زبانوں سے جھوٹ موٹ اللہ کے ذمے الزام رکھ کر آپ حلال حرام نہ ٹھہرا لو ‘۔ اس میں یہ بھی داخل ہے کہ کوئی اپنی طرف سے کسی بدعت کو نکالے جس کی کوئی شرعی دلیل نہ ہو۔ یا اللہ کے حرام کو حلال کرے یا مباح کو حرام قرار دے اور اپنی رائے اور تشبیہ سے احکام ایجاد کرے۔ «لِمَاتَصِفُ» میں «ما» مصدریہ ہے یعنی تم اپنی زبان سے حلال حرام کا جھوٹ وصف نہ گھڑلو۔ ایسے لوگ دنیا کی فلاح سے آخرت کی نجات سے محروم ہو جاتے ہیں دنیا میں گو تھوڑا سا فائدہ اٹھا لیں لیکن مرتے ہی المناک عذابوں کا لقمہ بنیں گے۔ «نُمَتِّعُهُمْقَلِيلًاثُمَّنَضْطَرُّهُمْإِلَىعَذَابٍغَلِيظٍ»۱؎[31-لقمان:24] ’ یہاں کچھ عیش و عشرت کرلیں وہاں بے بسی کے ساتھ سخت عذاب برداشت کرنے پڑیں گے ‘۔ جیسے فرمان الٰہی ہے «إِنَّالَّذِينَيَفْتَرُونَعَلَىاللَّهِالْكَذِبَلَايُفْلِحُونَمَتَاعٌفِيالدُّنْيَاثُمَّإِلَيْنَامَرْجِعُهُمْثُمَّنُذِيقُهُمُالْعَذَابَالشَّدِيدَبِمَاكَانُوايَكْفُرُونَ»۱؎[10-يونس:79-80] ’ اللہ پر جھوٹ افترا کرنے والے نجات سے محروم ہیں۔ دنیا میں چاہے تھوڑا سا فائدہ اٹھا لیں پھر ہم ان کے کفر کی وجہ سے انہیں سخت عذاب چکھائیں گے ‘۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔