یُنۡۢبِتُ لَکُمۡ بِہِ الزَّرۡعَ وَ الزَّیۡتُوۡنَ وَ النَّخِیۡلَ وَ الۡاَعۡنَابَ وَ مِنۡ کُلِّ الثَّمَرٰتِ ؕ اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیَۃً لِّقَوۡمٍ یَّتَفَکَّرُوۡنَ ﴿۱۱﴾
وہ تمھارے لیے اس کے ساتھ کھیتی اور زیتون اور کھجور اور انگور اور ہر قسم کے پھل اگاتا ہے۔ بے شک اس میں ان لوگوں کے لیے یقینا بڑی نشانی ہے جو غور و فکر کرتے ہیں۔
En
اسی پانی سے وہ تمہارے لیے کھیتی اور زیتون اور کھجور اور انگور (اور بےشمار درخت) اُگاتا ہے۔ اور ہر طرح کے پھل (پیدا کرتا ہے) غور کرنے والوں کے لیے اس میں (قدرتِ خدا کی بڑی) نشانی ہے
En
اسی سے وه تمہارے لیے کھیتی اور زیتون اور کھجور اور انگور اور ہر قسم کے پھل اگاتا ہے بےشک ان لوگوں کے لیے تو اس میں بڑی نشانی ہے جو غوروفکر کرتے ہیں
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت11) {يُنْۢبِتُ لَكُمْ بِهِ الزَّرْعَ وَ الزَّيْتُوْنَ …:} ایک ہی پانی، ایک ہی زمین، ایک ہی ہوا اور ایک ہی سورج کی تپش سے گندم اور جو وغیرہ کے زمین میں سیدھے یا الٹے دفن شدہ دانے سے کھیتی، گٹھلی سے زیتون، قلم سے انگور اور بے شمار کھیتیاں اور پھل پیدا فرمائے۔ لحمیات، نشاستہ،شکر، وٹامنز، دوائیں، لکڑی، الغرض! زندگی کی ہر ضرورت کو پیدا کرنے والا کون ہے؟ تم تو زمین میں دانے یا گٹھلیاں پھینک کر آ گئے تھے اور کئی بیج تم نے ڈالے بھی نہیں تھے،یہ سب اگانے والا کون ہے؟ اپنے اس بابے اور مشکل کشا کا نام تو بتاؤ۔ لطف یہ کہ اللہ تعالیٰ کے سوا ان چیزوں اور آئندہ ذکر ہونے والی چیزوں کا خالق ہونے کا کوئی دعوے دار بھی نہیں۔ ان تمام چیزوں میں اللہ کے بے شمار انعامات اور اس کی توحید اور قدرت کی بہت بڑی نشانی موجود ہے ({لَاٰيَةً} کی تنوین تعظیم کے لیے ہے) مگر ان کے لیے جو غور و فکر کریں، ان کے لیے نہیں جو سوچنے کی زحمت ہی نہ کریں۔ دیکھیے سورۂ رعد (۳،۴) اورسورۂ واقعہ (۶۳ تا ۶۷)۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
11۔ 1 اس میں بارش کے وہ فوائد بیان کئے گئے ہیں، جو ہر مشاہدے اور تجربے کا حصہ ہیں وہ محتاج وضاحت نہیں۔ نیز ان کا ذکر پہلے آچکا ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
11۔ وہ اس پانی سے تمہارے لئے کھیتی، زیتون، کھجور، انگور اور ہر طرح کے پھل پیدا کرتا ہے۔ غور و فکر کرنے والوں کے لئے [11] اس میں ایک بڑی نشانی ہے۔
[11] سابقہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے ان جانوروں کا ذکر کیا جن سے انسان لحمی غذائیں، روغن اور دوسرے فوائد حاصل کرتا ہے۔ ان دو آیات میں ایسی چیزوں کا ذکر کیا ہے جو ہمارے جسم کے لئے نباتاتی غذاؤں کا کام دیتی ہیں۔ اور ان آیات میں جس بات کی طرف غور و فکر کرنے کی توجہ دلائی گئی ہے وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ آسمان سے بارش برساتا ہے اسی پانی سے تم خود بھی سیراب ہوتے ہو اور تمہارے ہی لیے زمین بھی سیراب ہوتی اور تمہارے لیے پانی کا ذخیرہ بھی محفوظ رکھتی ہے۔ پھر یہی ایک ہی قسم کا پانی، ایک ہی زمین، ایک ہی ہوا اور ایک ہی سورج ہے لیکن زمین سے ایک نہیں بلکہ لاکھوں قسموں کی نباتات اگ آتی ہیں۔ جھاڑیاں، جڑی بوٹیاں، غلے اور بے پھل اور پھل دار درخت پھر ان پودوں، غلوں اور پھلدار درختوں کی بھی بے شمار اقسام ہیں۔ جن میں سے کچھ تمہارے مویشیوں کی خوراک بنتی ہیں اور کچھ تمہاری خوراک کا کام دیتی ہیں۔ کیا یہ سمندروں سے بخارات کا اٹھنا، پھر بادلوں کی صورت میں رواں ہونا، پھر بارش کی شکل میں ان کا برسنا پھر اسی پانی کا زمین کو سیراب کرنا۔ زمین کا سب جانداروں کے لیے خوراک مہیا کرنا۔ پھر فالتو پانی کا ندی نالوں کی صورت میں بہہ کر دوسرے علاقوں کی زمین کو سیراب کرنا اور زائد پانی کا پھر سمندر میں جا گرنا۔ اور پھر سمندر سے بخارات بننا۔ اس پورے چکر میں تمہارے لیے بھی اور تمہارے مویشیوں کے لیے خوراک کا انتظام تو ہو گیا لیکن کیا یہ نظام از خود ہی چل رہا ہے؟ یا اسے کوئی حکیم و خبیر ہستی چلا رہی ہے؟ یا کیا اس پورے نظام میں اللہ کے سوا کسی دوسرے شریک کی کوئی مداخلت کہیں نظر آتی ہے؟ اگرچہ اس پورے نظام کے لیے اللہ نے طبعی قوانین بنا دیئے ہیں پھر بھی اس سارے نظام کی باگ ڈور اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے جس کا ثبوت یہ ہے کہ ایک ہی مقام پر ایک مقر رہ موسم میں کسی سال بارش بہت زیادہ ہو جاتی ہے اور کبھی بہت کم۔ اگر یہ محض طبعی قوانین کا کھیل ہوتا تو ایسا ہونا نا ممکن تھا۔ تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
تمہارے فائدوں کے سامان ٭٭
چوپائے اور دوسرے جانوروں کی پیدائش کا احسان بیان فرما کر مزید احسانوں کا ذکر فرماتا ہے کہ ’ اوپر سے پانی وہی برساتا ہے جس سے تم فائدہ اٹھاتے ہو اور تمہارے فائدے کے جانور بھی اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں میٹھا صاف شفاف خوش گوار اچھے ذائقے کا پانی تمہارے پینے کے کام آتا ہے اس کا احسان نہ ہو تو وہ کھاری اور کڑوا بنادے اسی آب باراں سے درخت اگتے ہیں اور وہ درخت تمہارے جانوروں کا چارہ بنتے ہیں ‘۔ «سَّوْمُ» کے معنی چرنے کے ہیں۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:566/7:]۔ اسی وجہ سے اہل سائمہ چرنے والے اونٹوں کو کہتے ہیں۔
ابن ماجہ کی حدیث میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سورج نکلنے سے پہلے چرانے کو منع فرمایا }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجه:2606،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
پھر اس کی قدرت دیکھو کہ ایک ہی پانی سے مختلف مزے کے، مختلف شکل و صورت کے، مختلف خوشبو کے طرح طرح کے پھل پھول وہ تمہارے لیے پیدا کرتا ہے۔ پس یہ سب نشانیاں ایک شخص کو اللہ کی وحدانیت جاننے کے لیے کافی ہیں اسی کا بیان اور آیتوں میں اس طرح ہوا ہے کہ «أَمْ مَنْ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَأَنْزَلَ لَكُمْ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَأَنْبَتْنَا بِهِ حَدَائِقَ ذَاتَ بَهْجَةٍ مَا كَانَ لَكُمْ أَنْ تُنْبِتُوا شَجَرَهَا أَإِلَهٌ مَعَ اللَّهِ بَلْ هُمْ قَوْمٌ يَعْدِلُونَ» [27-النمل:60] ’ آسمان و زمین کا خالق، بادلوں سے پانی برسانے والا، ان سے ہرے بھرے باغات پیدا کرنے والا، جن کے پیدا کرنے سے تم عاجز تھے اللہ ہی ہے اس کے ساتھ اور کوئی معبود نہیں پھر بھی لوگ حق سے ادھر ادھر ہورہے ہیں ‘۔
ابن ماجہ کی حدیث میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سورج نکلنے سے پہلے چرانے کو منع فرمایا }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجه:2606،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
پھر اس کی قدرت دیکھو کہ ایک ہی پانی سے مختلف مزے کے، مختلف شکل و صورت کے، مختلف خوشبو کے طرح طرح کے پھل پھول وہ تمہارے لیے پیدا کرتا ہے۔ پس یہ سب نشانیاں ایک شخص کو اللہ کی وحدانیت جاننے کے لیے کافی ہیں اسی کا بیان اور آیتوں میں اس طرح ہوا ہے کہ «أَمْ مَنْ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَأَنْزَلَ لَكُمْ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَأَنْبَتْنَا بِهِ حَدَائِقَ ذَاتَ بَهْجَةٍ مَا كَانَ لَكُمْ أَنْ تُنْبِتُوا شَجَرَهَا أَإِلَهٌ مَعَ اللَّهِ بَلْ هُمْ قَوْمٌ يَعْدِلُونَ» [27-النمل:60] ’ آسمان و زمین کا خالق، بادلوں سے پانی برسانے والا، ان سے ہرے بھرے باغات پیدا کرنے والا، جن کے پیدا کرنے سے تم عاجز تھے اللہ ہی ہے اس کے ساتھ اور کوئی معبود نہیں پھر بھی لوگ حق سے ادھر ادھر ہورہے ہیں ‘۔