(آیت108){ اُولٰٓىِٕكَالَّذِيْنَطَبَعَاللّٰهُعَلٰىقُلُوْبِهِمْ …:} دیکھنے اور سننے سے حق دکھائی اور سنائی دیتا ہے اور سوچنے سے سمجھ میں آتا ہے، مگر ان کے عناد اور ضد کی وجہ سے ان تینوں چیزوں پر اللہ تعالیٰ نے مہر لگا دی، سو وہ حق کی طلب میں انھیں استعمال ہی نہیں کرتے، بلکہ آخرت سے بالکل بے خبر اور بے فکر ہیں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
18۔ 1 پس یہ وعظ و نصیحت کی باتیں سنتے ہیں نہ انھیں سمجھتے ہیں اور نہ وہ نشانیاں ہی دیکھتے ہیں جو انھیں حق کی طرف لے جانے والی ہیں۔ بلکہ یہ ایسی غفلت میں مبتلا ہیں جس نے ہدایت کے راستے ان کے لئے مسدود کردیئے ہیں۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
108۔ یہی لوگ ہیں جن کے دلوں، کانوں اور آنکھوں پر اللہ نے مہر لگا دی ہے اور یہی لوگ غفلت میں پڑے ہوئے ہیں
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔