(آیت100) {وَالَّذِيْنَهُمْبِهٖمُشْرِكُوْنَ:”بِهٖ“} میں{”هُ“} ضمیر شیطان کی طرف جائے تو باء سببیہ ہو گی اور معنی ہو گا کہ وہ لوگ جو اس(شیطان)کی وجہ سے شریک بنانے والے ہیں۔ متن میں ترجمہ اس کے مطابق کیا گیا ہے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ ضمیر اللہ تعالیٰ کی طرف جائے، پھر معنی یہ ہو گا کہ وہ لوگ جو اس (اللہ) کے ساتھ شریک بنانے والے ہیں، یہ معنی بھی درست ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
100۔ اس کا بس تو صرف ان لوگوں پر چلتا [103] ہے جو اسے اپنا سرپرست بناتے ہیں اور ایسے ہی لوگ اللہ کے شریک بناتے ہیں
[103] شیطان کا داؤ کیسے لوگوں پر چلتا ہے؟
شیطان کے پاس کوئی ایسی طاقت نہیں کہ وہ اپنی بات بزور کسی سے منوا سکے۔ نہ ہی اس کے پاس کوئی عقلی یا نقلی دلیل ہے جس کی بنا پر وہ کسی کو اپنی بات کا قائل کر سکے۔ وہ صرف وسوسے ڈال سکتا ہے۔ دل میں گمراہ کن خیالات پیدا کر سکتا ہے۔ اب جو لوگ پہلے ہی ضعیف الاعتقاد ہوتے ہیں وہ فوراً اس کے دام میں پھنس جاتے ہیں اور شیطان کی سب سے بڑی کامیابی یہ ہوتی ہے کہ وہ انسان کو شرک کی راہوں پر ڈال دے اور اس طرح ابن آدم سے انتقام لے سکے۔ رہے وہ لوگ جو صرف اللہ پر توکل کرنے والے اور اپنے عقیدہ میں مضبوط ہوتے ہیں تو ایسے لوگوں پر شیطان کا کوئی داؤ کارگر نہیں ہوتا اور ایسے لوگ قرآن سے یقیناً ہدایت ہی حاصل کرتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔