ترجمہ و تفسیر — سورۃ الحجر (15) — آیت 87

وَ لَقَدۡ اٰتَیۡنٰکَ سَبۡعًا مِّنَ الۡمَثَانِیۡ وَ الۡقُرۡاٰنَ الۡعَظِیۡمَ ﴿۸۷﴾
اور بلاشبہ یقینا ہم نے تجھے بار بار دہرائی جانے والی سات آیتیں اور بہت عظمت والا قرآن عطا کیا ہے۔ En
اور ہم نے تم کو سات (آیتیں) جو (نماز میں) دہرا کر پڑھی جاتی ہیں (یعنی سورہٴ الحمد) اور عظمت والا قرآن عطا فرمایا ہے
En
یقیناً ہم نے آپ کو سات آیتیں دے رکھی ہیں کہ دہرائی جاتی ہیں اور عظیم قرآن بھی دے رکھا ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت87) ➊ {وَ لَقَدْ اٰتَيْنٰكَ سَبْعًا مِّنَ الْمَثَانِيْ: الْمَثَانِيْ ثَنٰي يَثْنِيْ } (ض) کے اسم مفعول{ مَثْنِيَّةٌ} (بروزن {مَضْرُوْبَةٌ، مَرْمِيَّةٌ}) کی جمع ہے، معنی دوہرا کرنا، دوہرانا ہے، یعنی بار بار دہرائی جانے والی۔
➋ کافروں کی زیادتی سے درگزر کی تلقین کے ساتھ اپنی ایک عظیم نعمت سبع مثانی اور قرآن عظیم یاد دلائی، تاکہ اتنی بڑی دولت کا مالک ہونے کے احساس سے کفار سے درگزر میں آسانی رہے۔
➌ {سَبْعًا مِّنَ الْمَثَانِيْ:} لام اور {قَدْ } کی تاکید کے ساتھ فرمایا کہ ہم نے آپ کو سات بار بار دہرائی جانے والی عطا فرمائیں۔ یہ آیت اس بات کی بھی بڑی واضح دلیل ہے کہ قرآن کے ساتھ حدیث پر بھی ایمان اور عمل واجب ہے، اس کے بغیر قرآن نہ صحیح سمجھا جا سکتا ہے نہ اس پر عمل ہو سکتا ہے۔ دیکھیے اللہ تعالیٰ نے قرآن میں کہیں نہیں بتایا کہ وہ سبع مثانی سات سورتیں ہیں یا سات آیتیں، نہ یہ بتایا کہ وہ سورتیں ہیں تو کون سی اور آیتیں ہیں تو کون سی؟ بلکہ ایک جگہ سارے قرآن ہی کو مثانی فرما دیا، فرمایا: «{ اَللّٰهُ نَزَّلَ اَحْسَنَ الْحَدِيْثِ كِتٰبًا مُّتَشَابِهًا مَّثَانِيَ [الزمر: ۲۳] اللہ نے سب سے اچھی بات نازل فرمائی، وہ کتاب جو ایک دوسرے سے ملتی جلتی اور بار بار دہرائی جانے والی ہے۔ اب لازم ہے کہ پورے قرآن میں سے جو سارا ہی مثانی ہے، یہ متعین کیا جائے کہ ان سبع مثانی سے مراد کیا ہے۔ اپنے پاس سے متعین کریں تو کبھی اتفاق نہیں ہو سکتا، اس لیے کسی مفسر نے سات سورتیں بتائیں، کسی نے سات آیتیں، تو کسی نے کچھ اور بتایا۔ یہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وضاحت کے بغیر قرآن کی اس آیت کا مفہوم متعین کرنا ممکن ہی نہیں، چنانچہ ابوسعید بن معلی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: [كُنْتُ أُصَلِّيْ فَمَرَّبِيْ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَعَانِيْ، فَلَمْ آتِهِ حَتّٰی صَلَّيْتُ، ثُمَّ أَتَيْتُهُ، فَقَالَ مَا مَنَعَكَ أَنْ تَأْتِيَ؟ أَلَمْ يَقُلِ اللّٰهُ: «{ اسْتَجِيْبُوْا لِلّٰهِ وَ لِلرَّسُوْلِ اِذَا دَعَاكُمْ [الأنفال: ۲۴]؟ ثُمَّ قَالَ لِيْ لَأُعَلِّمَنَّكَ سُوْرَةً هِيَ أَعْظَمُ السُّوَرِ فِي الْقُرْآنِ قَبْلَ أَنْ تَخْرُجَ مِنَ الْمَسْجِدِ ثُمَّ أَخَذَ بِيَدِيْ فَلَمَّا أَرَادَ أَنْ يَّخْرُجَ قُلْتُ لَهٗ أَلَمْ تَقُلْ لَأُعَلِّمَنَّكَ سُوْرَةً هِيَ أَعْظَمُ سُوْرَةٍ فِي الْقُرْآنِ؟ قَالَ: «{ اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ هِيَ السّبْعُ الْمَثانِيْ وَالقُرْآنُ الْعَظِيْمُ الَّذِيْ أُوْتِيْتُهُ] [بخاری، التفسیر، باب ما جاء في فاتحۃ الکتاب: ۴۴۷۴، ۴۶۴۷] نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس سے گزرے اور میں نماز پڑھ رہا تھا، تو آپ نے مجھے بلایا، میں آپ کے پاس نہیں آیا، یہاں تک کہ میں نے نماز پڑھ لی، پھر میں آیا تو آپ نے فرمایا: تمھیں میرے پاس آنے سے کس چیز نے روکے رکھا؟ کیا اللہ تعالیٰ نے نہیں فرمایا: «{ اسْتَجِيْبُوْا لِلّٰهِ وَ لِلرَّسُوْلِ اِذَا دَعَاكُمْ [الأنفال: ۲۴] اللہ کی اور رسول کی دعوت قبول کرو جب وہ تمھیں بلائیں۔ پھر مجھے فرمایا: میں تمھارے مسجد سے نکلنے سے پہلے ضرور تمھیں ایک سورت سکھاؤں گا جو قرآن کی تمام سورتوں سے بڑی (اعظم) ہے۔ پھر آپ نے میرا ہاتھ پکڑ لیا، جب آپ نے نکلنے کا ارادہ کیا تو میں نے آپ سے کہا: کیا آپ نے فرمایا نہیں تھا کہ میں تمھیں ایک سورت سکھاؤں گا جو قرآن کی تمام سورتوں سے بڑی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «{ اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ یہی سبع مثانی اور قرآن عظیم ہے جو مجھے عطا کیا گیا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ سبع مثانی سے سورۂ فاتحہ کی سات آیتیں مراد ہیں، کیونکہ وہ ہر نماز کی ہر رکعت میں بار بار پڑھی جاتی ہیں۔ دوسری تفسیریں مثلاً یہ کہ سات لمبی سورتیں مراد ہیں وغیرہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صراحت کے بعد کچھ حیثیت نہیں رکھتیں۔ اس لیے بھی کہ لمبی سات سورتوں کی اکثریت تو اتری ہی مدینہ میں ہے، جب کہ یہ آیت مکی ہے۔
➍ {وَ الْقُرْاٰنَ الْعَظِيْمَ: } بہت سے مفسرین نے سبع مثانی سے مراد فاتحہ اور قرآن عظیم سے مراد باقی قرآن لیا ہے، حالانکہ یہ بات درست نہیں، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت میں مذکور سبع مثانی بھی اور القرآن العظیم بھی سورۂ فاتحہ ہی کو کہا ہے۔ بخاری میں اس آیت کی تفسیر میں آپ کے الفاظ ہیں: [اُمُّ الْقُرْآنِ هِيَ السَّبْعُ الْمَثَانِيْ وَالْقُرْآنُ الْعَظِيْمُ] [بخاري، التفسیر، باب قولہ: «‏‏‏‏و لقد اٰتینک سبعا من المثانی…» : ۴۷۰۴] ام القرآن ہی سبع مثانی اور قرآن عظیم ہے۔ کیونکہ قرآن ہونے کے لیے پورا قرآن ہونا ضروری نہیں، ایک آیت ہو تو وہ بھی قرآن ہے۔ آپ کا مطلب یہ ہے کہ سورۂ فاتحہ جب قرآن کی سب سے بڑی سورت ہے تو قرآن عظیم (بہت بڑا قرآن) یہی ہے۔ رہی واؤ تو وہ ایک ہی چیز کی دو مختلف صفات کے درمیان آ جاتی ہے، جیسا کہ فرمایا: «{ سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْاَعْلَى (1) الَّذِيْ خَلَقَ فَسَوّٰى (2) وَ الَّذِيْ قَدَّرَ فَهَدٰى (3) وَ الَّذِيْۤ اَخْرَجَ الْمَرْعٰى [الأعلٰی: ۱ تا ۴] اپنے رب کے نام کی تسبیح کر جو سب سے بلند ہے، وہ جس نے پیدا کیا، پس درست بنایا اور وہ جس نے اندازہ ٹھہرایا، پھر ہدایت کی اور وہ جس نے چارا اگایا۔ اور اس لحاظ سے بھی فاتحہ کو { وَ الْقُرْاٰنَ الْعَظِيْمَ } فرمایا کہ قرآن مجید کے تمام مضامین اس میں اجمالی طور پر موجود ہیں۔
ایک دفعہ گوجرانوالہ میں ایک منکر حدیث نے بہت اودھم مچایا اور بہت سے لوگوں کے عقیدے خراب کیے، مولانا محمد عبد اللہ رحمہ اللہ (دال بازار والے) کی اس سے گفتگو ہوئی تو مولانا نے سورۂ توبہ کی آیت پڑھی: «{ اِنَّ عِدَّةَ الشُّهُوْرِ عِنْدَ اللّٰهِ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا فِيْ كِتٰبِ اللّٰهِ يَوْمَ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ مِنْهَاۤ اَرْبَعَةٌ حُرُمٌ [التوبۃ: ۳۶] بے شک مہینوں کی گنتی، اللہ کے نزدیک، اللہ کی کتاب میں بارہ مہینے ہے، جس دن اس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا، ان میں سے چار حرمت والے ہیں اور فرمایا کہ جب حدیث کی ضرورت نہیں تو آپ قرآن سے بتائیں کہ حرمت والے وہ چار ماہ کون سے ہیں؟ اسے بالکل کوئی جواب نہ آیا اور حق بات بہت سے لوگوں کی سمجھ میں آ گئی۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

87۔ 1 سبع مثانی سے مراد کیا ہے اس میں مفسرین کا اختلاف ہے صحیح بات یہ ہے کہ اس سے مراد سورة فاتحہ ہے۔ یہ سات آیتیں ہیں اور جو ہر نماز میں بار بار پڑھی جاتی ہیں (مثانی کے معنی بار بار دہرانے کے کیئے گئے ہیں (حدیث میں بھی اس کی تائید ہوتی ہے۔ چناچہ ایک حدیث میں رسول اللہ نے فرمایا (اَ لْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ) یہ سبع مثانی اور قرآن عظیم ہے جو میں دیا گیا ہوں (صحیح بخاری) ایک اور حدیث میں فرمایا (ام القرآنھی السبع المثانی والقرآن العظیم) سورة فاتحہ قرآن کا ایک جزء ہے اس لیے قرآن عظیم کا ذکر بھی ساتھ ہی کیا گیا ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

87۔ نیز ہم نے آپ کو سات ایسی آیات [47] دی ہیں جو بار بار دھرائی جاتی ہیں اور قرآن عظیم بھی دیا ہے
[47] سبع المثانی یا قرآن العظیم، فضائل سورۃ فاتحہ:۔
سات بار بار دہرائی جانے والی آیات سے مراد سورۃ فاتحہ ہے۔ چنانچہ سیدنا سعید بن معلیٰ فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا: ”میں تجھے قرآن کی ایک ایسی سورت بتاؤں گا جو قرآن کی سب سورتوں سے بڑھ کر ہے اور وہ ہے ﴿اَلْحَمْدُلِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ وہی سبعا من المثانی اور قرآن العظیم ہے جو مجھے دیا گیا۔“
[بخاری، تفسیر سورۃ فاتحہ، نیز کتاب التفسیر، سورۃ انفال زیر آیت نمبر 24 ﴿يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اسْتَجِيْبُوْا]
نیز سیدنا ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”سورہ الحمد ہی ام القرآن، ام الکتاب اور سات دہرائی جانے والے آیتیں ہیں۔“ [ترمذي، ابواب التفسير سورة محمد]
اور یہ سورت قرآن عظیم اس لحاظ سے ہے کہ اس میں پورے قرآن کی تعلیم کا خلاصہ آ گیا ہے۔ گویا سمندر کو کوزے میں بند کر دیا گیا ہے۔ سب سے پہلے اللہ کی معرفت اور اس کی حمد و ثنا، پھر روز آخرت میں جزا و سزا کا جامع ذکر، پھر شرک کی تمام اقسام سے کلی اجتناب کا اقرار، پھر صراط مستقیم کی ہدایت کی طلب۔ یہ ہی مضامین قرآن میں مختلف انداز سے اجمالاً اور تفصیلاً بیان کیے گئے ہیں اور بعض علماء کہتے ہیں کہ اس سورۃ کا مزید اختصار ﴿اِيَّاَكَ نَعْبُدُ وَاِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ ہے تفصیل کے لیے دیکھئے سورۃ فاتحہ کے حواشی۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

قرآن عظیم سبع مثانی اور ایک لازوال دولت ٭٭
’ اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہم نے جب قرآن عظیم جیسی لازوال دولت تجھے عنایت فرما رکھی ہے تو تجھے نہ چاہیئے کہ کافروں کے دنیوی مال و متاع اور ٹھاٹھ باٹھ للچائی ہوئی نظروں سے دیکھے۔ یہ تو سب فانی ہے اور صرف ان کی آزمائش کے لیے چند روزہ انہیں عطا ہوا ہے۔ ساتھ ہی تجھے ان کے ایمان نہ لانے پر صدمے اور افسوس کی بھی چنداں ضرورت نہیں ‘۔ «وَاخْفِضْ جَنَاحَكَ لِمَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ» ۱؎ [26-الشعراء:215]‏‏‏‏ ’ ہاں تجھے چاہیئے کہ نرمی، خوش خلقی، تواضع اور ملنساری کے ساتھ مومنوں سے پیش آتا رہے ‘۔
جیسے ارشاد ہے آیت «لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِّنْ أَنفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُم بِالْمُؤْمِنِينَ رَءُوفٌ رَّحِيمٌ» ۱؎ [9-التوبة:128]‏‏‏‏، ’ لوگو تمہارے پاس تم میں سے ہی ایک رسول آ گئے ہیں جن پر تمہاری تکلیف شاق گزرتی ہے جو تمہاری بہبودی کے دل سے خواہاں ہیں جو مسلمانوں پر پرلے درجے کا شفیق و مہربان ہے ‘۔
سبع مثانی کی نسبت ایک قول تو یہ ہے کہ اس سے مراد قرآن کریم کی ابتداء کی سات لمبی سورتیں ہیں سورۃ البقرہ، آل عمران، نساء، مائدہ، انعام، اعراف اور یونس۔ اس لیے کہ ان سورتوں میں فرائض کا، حدود کا، قصوں کا اور احکام کا خاص طریق پر بیان ہے اسی طرح مثالیں، خبریں اور عبرتیں بھی زیادہ ہیں۔
بعض نے سورۃ الاعراف تک کی چھ سورتیں گنوا کر ساتویں سورت انفال اور براۃ کو بتلایا ہے ان کے نزدیک یہ دونوں سورتیں مل کر ایک ہی سورت ہے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ صرف موسیٰ علیہ السلام کو چھ ملی تھیں لیکن جب آپ علیہ السلام نے تختیاں گرا دیں تو دو اٹھ گئیں اور چار رہ گئیں۔
ایک قول ہے قرآن عظیم سے مراد بھی یہی ہیں۔ زیادہ کہتے ہیں میں نے تجھے سات جز دیئے ہیں۔ حکم، منع، بشارت، ڈر اور مثالیں، نعمتوں کا شمار اور قرآنی خبریں۔
دوسرا قول یہ ہے کہ مراد سبع مثانی سے سورۃ فاتحہ ہے جس کی سات آیتیں ہیں۔ یہ سات آیتیں «بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» سمیت ہیں۔ ان کے ساتھ اللہ نے تمہیں مخصوص کیا ہے یہ کتاب کا شروع ہیں۔ اور ہر رکعت میں دہرائی جاتی ہیں۔ خواہ فرض نماز ہو خواہ نفل نماز ہو۔
امام ابن جریر رحمہ اللہ اسی قول کو پسند فرماتے ہیں اور اس بارے میں جو حدیثیں مروی ہیں ان سے اس پر استدلال کرتے ہیں ہم نے وہ تمام احادیث فضائل سورۃ فاتحہ کے بیان میں اپنی اس تفسیر کے اول میں لکھ دی ہیں «فالْحَمْدُ لِلَّـه» ۔
امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ نے اس جگہ دو حدیثیں وارد فرمائی ہیں۔ ایک میں ہے { ابوسعید بن معلی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نماز پڑھ رہا تھا جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آئے مجھے بلایا لیکن میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس نہ آیا نماز ختم کرکے پہنچا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ { اسی وقت کیوں نہ آئے؟ } میں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں نماز میں تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { کیا اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان نہیں آیت «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَجِيبُوا لِلَّـهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمْ» ۱؎ [8-الانفال:24]‏‏‏‏ یعنی ’ ایمان والو اللہ اور اس کے رسول کی بات مان لو جب بھی وہ تمہیں پکاریں ‘۔ سن اب میں تجھے مسجد میں سے نکلنے سے پہلے ہی قرآن کریم کی بہت بڑی سورت بتلاؤں گا۔ تھوڑی دیر میں جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے جانے لگے تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وعدہ یاد دلایا آپ نے فرمایا وہ سورۃ «الْحَمْدُ لِلَّـهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ» کی ہے یہی سبع مثانی ہے اور یہی بڑا قرآن ہے جو میں دیا گیا ہوں } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4803]‏‏‏‏
دوسری حدیث میں { آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ { ام القرآن یعنی سورۃ فاتحہ سبع مثانی اور قرآن عظیم ہے } }۔ [صحیح بخاری:4804]‏‏‏‏
پس صاف ثابت ہے کہ سبع مثانی اور قرآن عظیم سے مراد سورۃ فاتحہ لیکن یہ بھی خیال رہے کہ اس کے سوا اور بھی یہی ہے اس کے خلاف یہ حدیثیں نہیں۔ جب کہ ان میں بھی یہ حقیقت پائی جائے جیسے کہ پورے قرآن کریم کا وصف بھی اس کے مخالف نہیں۔
جیسے فرمان الٰہی ہے آیت «اللَّـهُ نَزَّلَ أَحْسَنَ الْحَدِيثِ كِتَابًا مُّتَشَابِهًا مَّثَانِيَ» ۱؎ [39-الزمر:23]‏‏‏‏ پس اس آیت میں سارے قرآن کو مثانی کہا گیا ہے، اور متشابہ بھی۔
پس وہ ایک طرح سے مثانی ہے اور دوسری وجہ سے متشابہ۔ اور قرآن عظیم بھی یہی ہے جیسے کہ اس روایت سے ثابت ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوا کہ تقویٰ پر جس مسجد کی بنا ہے وہ کون ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی مسجد کی طرف اشارہ کیا }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1398]‏‏‏‏ حالانکہ یہ بھی ثابت ہے کہ آیت مسجد قباء کے بارے میں اتری ہے۔
پس قاعدہ یہی ہے کہ کسی چیز کا ذکر دوسری چیز سے انکار نہیں ہوتا۔ جب کہ وہ بھی وہی صفت رکھتی ہو۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
پس تجھے ان کی ظاہری ٹیپ ٹاپ سے بے نیاز رہنا چاہیئے اسی فرمان کی بنا پر امام ابن عیینہ رحمتہ اللہ علیہ نے ایک صحیح حدیث جس میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { ہم میں سے وہ نہیں جو قرآن کے ساتھ تغنی نہ کرے } } ۱؎ [صحیح بخاری:7527]‏‏‏‏ کی تفسیر یہ لکھی ہے کہ قرآن کو لے کر اس کے ماسوا سے دست بردار اور بے پرواہ نہ ہو جائے وہ مسلمان نہیں۔
گو یہ تفسیر بالکل صحیح ہے لیکن اس حدیث سے یہ مقصود نہیں حدیث کا صحیح مقصد اس ہماری تفسیر کے شروع میں ہم نے بیان کر دیا ہے۔ ابن ابی حاتم میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں ایک مرتبہ مہمان آئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں کچھ نہ تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک یہودی سے رجب کے وعدے پر آٹا ادھار منگوایا لیکن اس نے کہا بغیر کسی چیز کو رھن رکھے میں نہیں دوں گا اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { واللہ میں امین ہوں اور زمین والوں میں بھی اگر یہ مجھے ادھار دیتا یا میرے ہاتھ فروخت کر دیتا تو میں اسے ضرور ادا کرتا } پس آیت «لَا تَمُدَّنَّ عَيْنَيْكَ» الخ نازل ہوئی اور گویا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دلجوئی کی گئی }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:235/16:ضعیف]‏‏‏‏
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں انسان کا ممنوع ہے کہ کسی کے مال و متاع کو للچائی ہوئی نگاہوں سے تاکے۔ یہ جو فرمایا کہ ان کی جماعتوں کو جو فائدہ ہم نے دے رکھا ہے اس سے مراد کفار کے مالدار لوگ ہیں۔‏‏‏‏