(آیت78) ➊ {وَاِنْكَانَاَصْحٰبُالْاَيْكَةِ …:} یہ {”اِنْ“} اصل میں {”إِنَّ“} تھا، اس کا اسم ضمیر شان {”هٗ“} محذوف ہے، اس کی دلیل اور سبب وہ لام ہے جو{ ”ظَالِمِيْنَ“} پر آیا ہے، جو {”كَانَ“} کی خبر ہے۔ {”اَلْأَيْكُ“} اسم جنس ہے، درختوں کے جھنڈ، زیادہ ہوں یا ایک، جیسے {”تَمْرٌ“} اسم جنس ہے۔ تاء وحدۃ کے اظہار کے لیے ہے، اس لیے {”الْاَيْكَةِ“} کا معنی ہے ایک جھنڈ، جیسے {”تَمَرْةٌ“} ایک کھجور۔ ➋ بہت سے علماء کا کہنا ہے کہ اصحاب مدین اور اصحاب الایکہ ایک ہی قبیلہ تھا اور کئی مفسرین انھیں الگ الگ قوم شمار فرماتے ہیں۔ ان کا ظلم یہ تھا کہ وہ شرک میں گرفتار تھے، ناپ تول میں کمی بیشی کرتے تھے، راہ چلتے مسافروں کو لوٹ لیتے تھے۔ ان دونوں کی طرف شعیب علیہ السلام کو بھیجا گیا، تا کہ وہ ظلم کی ان تمام صورتوں سے باز آ جائیں۔ مدین والوں کی تفصیل سورۂ ہود (۸۴ تا ۹۵) میں ہے اور اصحاب الایکہ کی تفصیل سورۂ شعراء (۱۷۶ تا ۱۹۱) میں ہے۔ بعض کے مطابق اصحاب مدین اسی قوم کے شہری لوگ تھے اور اصحاب الایکہ انھی کے باہر جنگل میں رہنے والے لوگ تھے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
78۔ 1 أیکَہ گھنے درخت کو کہتے ہیں۔ اس بستی میں گھنے درخت ہونگے۔ اس لئے انھیں (اَصْحٰبُالْاَيْكَةِ) 15۔ الحجر:78) (بن یا جنگل والے) کہا گیا۔ مراد اس سے قوم شعیب ہے اور ان کا زمانہ حضرت لوط علیہ السلام کے بعد ہے اور ان کا علاقہ حجاز اور شام کے درمیان قوم لوط کی بستیوں کے قریب ہی تھا۔ اسے مدین کہا جاتا ہے جو حضرت ابراہیم ؑ کے بیٹے یا پوتے کا نام تھا اور اسی کے نام پر بستی کا نام پڑگیا تھا۔ ان کا ظلم یہ تھا کہ اللہ کے ساتھ شرک کرتے تھے، رہزنی ان کا شیوہ اور کم تولنا اور کم ناپنا ان کا وطیرہ تھا، ان پر جب عذاب آیا ایک بادل ان پر سایہ فگن ہوگیا پھر چنگھاڑ اور بھو نچال نے مل کر ان کو ہلاک کردیا۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
78۔ اور ایکہ والے [40] بھی یقیناً ظالم تھے
[40] اصحاب الایکہ کون تھے؟
یعنی بن کے رہن والے۔ یعنی ایسی قوم جو درختوں کے ذخیرہ کے پاس رہتی تھی اور یہ مدین کے پاس ہی تھے اور ان کی طرف بھی شعیبؑ ہی مبعوث ہوئے تھے۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ اصحاب مدین اور اصحاب الایکہ الگ الگ قومیں تھیں اور بعض کے نزدیک ایک ہی قوم تھی۔ ان کا جرم شرک کے علاوہ تجارتی بد دیانتیاں نیز ناپ تول میں کمی بیشی کرنا تھا۔ ان کا حال پہلے سورۃ اعراف کی آیت 85 میں تفصیل سے گزر چکا ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اصحاب ایکہ کا المناک انجام ٭٭
اصحاب ایکہ سے مراد قوم شعیب ہے۔ ایکہ کہتے ہیں درختوں کے جھنڈ کو۔ ان کا ظلم علاوہ شرک و کفر کے غارت گری اور ناپ تول کی کمی بھی تھی۔ ان کی بستی لوطیوں کے قریب تھی اور ان کا زمانہ بھی ان سے بہت قریب تھا۔ ان پر بھی ان کی پہیم شراتوں کی وجہ سے عذاب الٰہی آیا۔ یہ دونوں بستیاں بر سر شارع عام تھیں۔ شعیب علیہ السلام نے اپنی قوم کو ڈراتے ہوئے فرمایا تھا کہ «وَمَاقَوْمُلُوطٍمِّنكُمبِبَعِيدٍ»۱؎[11-هود:89] ’ لوط کی قوم تم سے کچھ دور نہیں ‘۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔