(آیت75){اِنَّفِيْذٰلِكَلَاٰيٰتٍ …: ”لِلْمُتَوَسِّمِيْنَ“ } یہ {”وَسْمٌ،سِمَةٌ“} سے باب تفعل کا اسم فاعل ہے۔ {”وَسْمٌ“} کامعنی نشان ہے، خصوصاً جوگرم لوہے کے ساتھ اونٹ یا گھوڑے پر لگایا جاتا ہے۔ {”مِيْسَمٌ“} گرم کرکے نشان لگانے کا آلہ۔ نشانات کو دیکھ کر بات کی تہ تک پہنچنا {”تَوَسُّمٌ“} کہلاتاہے، یعنی غور و فکر کرنے والوں اورگہری نظر والوں کے لیے ان بستیوں میں عبرت کے بہت سے نشان موجودہیں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
75۔ 1 گہری نظر سے جائزہ لینے اور غور وفکر کرنے والوں کو مُتَوَسِّمِیْنَ کہا جاتا ہے۔ مُتَوَسِّمِیْنَ کے لئے اس واقعے میں عبرت کے پہلو اور نشانیاں ہیں۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
75۔ بلا شبہ اس واقعہ میں بھی صاحب فراست [39] لوگوں کے لئے کئی نشانیاں ہیں
[39]متوسّم سے مراد وہ لوگ ہیں جو قرائن و علامات اور آثار سے کسی نتیجہ پر پہنچنے کی اہلیت رکھتے ہوں یعنی غور و فکر اور دھیان کرنے والے اہل دانش کے لیے اس واقعہ لوط میں عبرت کے بہت سے نشان موجود ہیں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔