(آیت74) اس آیت کی تفسیرسورۂ ہود(۸۲)میں دیکھیے۔قرآن مجید نے قوم لوط پر تین طرح کا عذاب ذکر فرمایاہے، پہلے ان پر {”صَيْحَةٌ“} (چیخ) کا عذاب آیا، پھر ان کی بستیوں کو الٹ دیاگیا اورآخرمیں ان پر پتھروں کی بارش برسائی گئی۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
74۔ 1 کہا جاتا ہے کہ ان کی بستیوں کو زمین سے اٹھا کر اوپر آسمان پر لے جایا گیا اور وہاں سے ان کو الٹا کر کے زمین پر پھینک دیا گیا۔ یوں اوپر حصہ نیچے اور نچلا حصہ اوپر کر کے تہ وبالا کردیا گیا، اور کہا جاتا ہے کہ اس سے مراد محض اس بستی کا چھتوں سمیت زمین بوس ہوجانا ہے۔ 74۔ 2 اس کے بعد کھنگر قسم کے مخصوص پتھر برسائے گئے۔ اس طرح گویا تین قسم کے عذابوں سے انھیں دوچار کر کے نشان عبرت بنادیا گیا۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
74۔ پھر ہم نے اس بستی کے اوپر کے حصہ کو نیچے کر دیا اور ان پر کھنگر کی قسم کے پتھر برسائے [38]
[38] قوم لوط کی تباہ کردہ بستیوں کا حال:۔
یہ کل چار بستیاں تھیں جن میں چار لاکھ لڑنے والے مرد موجود تھے اور یہ سب بد کار اور مجرم تھے۔ جبرئیلؑ نے اس پورے خطہ زمین کو اپنے پروں پر اٹھایا پھر فضا میں بلندی پر لے کر انھیں اٹھا کر زمین پر دے مارا۔ اور اس کے ساتھ ہی ایک زبردست دھماکے کی آواز پیدا ہوئی۔ اس پر بھی اللہ کا غضب فرو نہ ہوا تو پھر اسی خطہ ئزمین پر اوپر سے پتھروں کی بارش کی گئی۔ چنانچہ یہ خطہ زمین سطح سمندر سے 400 کلومیٹر نیچے چلا گیا اور اوپر پانی آ گیا۔ یہی پانی بحر میت یا غرقاب لوطی ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
آل ہود کا عبرتناک انجام ٭٭
سورج نکلنے کے وقت آسمان سے ایک دل دہلانے والی اور جگر پاش پاش کر دینے والی چنگھاڑ کی آواز آئی۔ اور ساتھ ہی ان کی بستیاں اوپر کو اٹھیں اور آسمان کے قریب پہنچ گئیں اور وہاں سے الٹ دی گئیں اوپر کا حصہ نیچے اور نیچے کا حصہ اوپر ہو گیا ساتھ ہی ان پر آسمان سے پتھر برسے ایسے جیسے پکی مٹی کے کنکر آلود پتھر ہوں۔ سورۃ ھود میں اس کا مفصل بیان ہوچکا ہے۔ جو بھی بصیرت و بصارت سے کام لے، دیکھے، سنے، سوچے، سمجھے اس کے لیے ان بستیوں کی بربادی میں بڑی بڑی نشانیاں موجود ہیں۔ ایسے پاکباز لوگ ذرا ذرا سی چیزوں سے بھی عبرت و نصیحت حاصل کرتے ہیں پند پکڑتے ہیں اور غور سے ان واقعات کو دیکھتے ہیں اور مقصد تک پہنچ جاتے ہیں۔ تامل اور غور و خوض کر کے اپنی حالت سنوار لیتے ہیں۔ ترمذی وغیرہ میں حدیث ہے { رسول اللہ صلی علیہ وسلم فرماتے ہیں { مومن کی عقلمندی اور دور بینی کا لحاظ رکھو وہ اللہ کے نور کے ساتھ دیکھتا ہے }۔ پھر آپ نے یہی آیات تلاوت فرمائی }۔ ۱؎[سنن ترمذي:3127،قال الشيخ الألباني:ضعیف] اور حدیث میں ہے کہ { وہ اللہ کے نور اور اللہ کی توفیق سے دیکھتا ہے }۔ ۱؎[تفسیر ابن جریر الطبری:21255:ضعیف] اور حدیث میں ہے کہ { اللہ کے بندے لوگوں کو ان نشانات سے پہچان لیتے ہیں }۔ ۱؎[تفسیر ابن جریر الطبری:21252:حسن] یہ بستی شارع عام پر موجود ہے جس پر ظاہری اور باطنی عذاب آیا، الٹ گئی، پتھر کھائے، عذاب کا نشانہ بنی۔ اب ایک گندے اور بد مزہ کھائی کی جھیل سے بنی ہوئی ہے۔ «وَإِنَّكُمْلَتَمُرُّونَعَلَيْهِممُّصْبِحِينَوَبِاللَّيْلِأَفَلَاتَعْقِلُونَ»۱؎[37-الصفات:137،138] ’ تم رات دن وہاں سے آتے جاتے ہو تعجب ہے کہ پھر بھی عقلمندی سے کام نہیں لیتے ‘۔ غرض صاف واضح اور آمد و رفت کے راستے پر یہ الٹی ہو بستی موجود ہے۔ یہ بھی معنی کئے ہیں کہ «وَكُلَّشَيْءٍأَحْصَيْنَاهُفِيإِمَامٍمُّبِينٍ»۱؎[36-یس:12] ’ کتاب مبین میں ہے ‘ لیکن یہ معنی کچھ زیادہ بند نہیں بیٹھتے «وَاللهُاَعْلَمُ» ۔ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانے والوں کے لیے یہ ایک کھلی دلیل اور جاری نشانی ہے کہ کس طرح اللہ اپنے والوں کو نجات دیتا ہے اور اپنے دشمنوں کو غارت کرتا ہے۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔