ترجمہ و تفسیر — سورۃ الحجر (15) — آیت 67

وَ جَآءَ اَہۡلُ الۡمَدِیۡنَۃِ یَسۡتَبۡشِرُوۡنَ ﴿۶۷﴾
اور اس شہر کے رہنے والے اس حال میں آئے کہ بہت خوش ہو رہے تھے۔ En
اور اہل شہر (لوط کے پاس) خوش خوش (دوڑے) آئے
En
اور شہر والے خوشیاں مناتے ہوئے آئے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت67) ➊ {وَ جَآءَ اَهْلُ الْمَدِيْنَةِ: الْمَدِيْنَةِ } کا ترجمہ اس شہر الف لام برائے عہد کی و جہ سے کیا ہے۔ مفسرین نے اس کا نام سدوم بتایا ہے۔ قوم لوط کا عمل کرنے والوں کو بہت سی زبانوں میں سدومی کہا جاتا ہے، اس لیے عربی یا اردو میں اس کے لیے لوطی کا جو لفظ استعمال کیا جاتا ہے وہ مناسب نہیں۔ اس میں لوط علیہ السلام کی ایک طرح سے توہین ہے۔ اہل علم فرماتے ہیں کہ بروں کے ساتھ رہنے میں بھی بدنامی ہے، خواہ کتنا نیک ہو، اب لوط علیہ السلام کے اس بدبخت قوم کے پیغمبر ہونے کے باعث کتنے برے فعل کی نسبت ان کے مبارک نام کی طرف کی جاتی ہے۔
➋ { يَسْتَبْشِرُوْنَ: بَشَرَ } (ض، س)، { أَبْشَرَ } اور { اِسْتَبْشَرَ } تینوں کا معنی خوش ہونا ہے، صرف حروف کے اضافے کی وجہ سے معنی میں اضافہ ہوتا جائے گا، اس لیے معنی کیا گیا ہے بہت خوش ہو رہے تھے یعنی لوط علیہ السلام کے گھر نہایت خوبصورت لڑکوں کے آنے کی خبر سن کر نہایت خوش خوش بے اختیار دوڑتے ہوئے آئے۔ (دیکھیے ہود: ۷۸) اس سے ظاہر ہے کہ وہ لوگ شرم و حیا سے خالی ہو کر کتنی پستی میں گر چکے تھے۔ واضح رہے کہ { وَ جَآءَ اَهْلُ الْمَدِيْنَةِ } میں واؤ ترتیب کے لیے نہیں، بلکہ صرف واقعہ کے مختلف حصوں کو ملانے کے لیے ہے، کیونکہ اگر پہلے وحی آ چکی ہوتی اور لوط علیہ السلام مہمانوں کو جان چکے ہوتے کہ یہ فرشتے ہیں تو انھیں پریشان ہونے کی، قوم کی منتیں کرنے کی اور اپنی یعنی قوم کی بیٹیاں پیش کرنے کی ضرورت نہ تھی۔ اس سے یہ بھی واضح ہو رہا ہے کہ انبیاء علیھم السلام غیب دان نہیں ہوتے، انھیں صرف وہی معلوم ہوتا ہے جو انھیں وحی کے ذریعے سے بتا دیا جائے۔ سورۂ ہود (۷۷ تا ۸۱) میں لوط علیہ السلام کی پریشانی کا نقشہ اور فرشتوں کا انھیں تسلی دینا ملاحظہ فرمائیں۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

67۔ 1 ادھر تو حضرت لوط ؑ کے گھر میں قوم کی ہلاکت کا یہ فیصلہ ہو رہا تھا۔ ادھر قوم لوط کو پتہ چلا کہ لوط ؑ کے گھر میں خوش شکل نوجوان مہمان آئے ہیں تو اپنی امرد پرستی کی وجہ سے بڑے خوش ہوئے اور خوشی خوشی حضرت لوط ؑ کے پاس آئے اور مطالبہ کیا کہ ان نوجوانوں کو ان کے سپرد کیا جائے تاکہ وہ ان سے بےحیائی کا ارتکاب کر کے اپنی تسکین کرسکیں۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

67۔ اتنے میں شہر والے خوشی خوشی لوط کے ہاں [34] آپہنچے
[34] غنڈوں کا سیدنا لوط کے گھر میں گھس آنا:۔
اہل سدوم لواطت کے معاملہ میں اس قدر بے حیا اور بیباک ہو چکے تھے کہ سیدنا لوطؑ کا بھی کچھ لحاظ نہ کرتے تھے بلکہ الٹا انھیں یہ کہتے تھے کہ اگر تم اتنے پاکباز بنتے ہو تو ہمارے شہر سے نکل جاؤ۔ چنانچہ یہ خوبصورت لڑکے لوطؑ کے گھر پہنچے ہی تھے کہ آپ کی بیوی نے مخبری کر دی اور وہ دیوار پھاند کر آپؑ کے گھر میں گھس آئے۔ سیدنا لوطؑ نے ان کی منت کرتے ہوئے کہ دیکھو! یہ میرے مہمان ہیں ان پر دست درازی کر کے مجھے رسوا نہ کرو۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

قوم لوط کی خرمستیاں ٭٭
قوم لوط کو جب معلوم ہوا کہ لوط علیہ السلام کے گھر نوجوان خوبصورت مہمان آئے ہیں تو وہ اپنے بد ارادے سے خوشیاں مناتے ہوئے چڑھ دوڑے۔ لوط علیہ السلام نے انہیں سمجھانا شروع کیا کہ اللہ سے ڈرو، میرے مہمانوں میں مجھے رسوا نہ کرو۔ اس وقت خود لوط علیہ السلام کو یہ معلوم نہ تھا کہ یہ فرشتے ہیں۔
جیسے کہ سورۃ ہود میں ہے۔ یہاں گو اس کا ذکر بعد میں ہے اور فرشتوں کا ظاہر ہوجانا پہلے ذکر ہوا ہے لیکن اس سے ترتیب مقصود نہیں۔ واؤ ترتیب کے لیے ہوتا بھی نہیں اور خصوصاً ایسی جگہ جہاں اس کے خلاف دلیل موجود ہو۔
آپ علیہ السلام ان سے کہتے ہیں کہ میری آبرو ریزی کے درپے ہو جاؤ۔ لیکن وہ جواب دیتے ہیں کہ جب آپ علیہ السلام کو یہ خیال تھا تو انہیں آپ علیہ السلام نے اپنا مہمان کیوں بنایا؟ ہم تو آپ علیہ السلام کو اس سے منع کر چکے ہیں۔
تب آپ علیہ السلام نے انہیں مزید سمجھاتے ہوئے فرمایا کہ تمہاری عورتیں جو میری لڑکیاں ہیں، وہ خواہش پوری کرنے کی چیزیں ہیں نہ کہ یہ۔‏‏‏‏ اس کا پورا بیان نہایت وضاحت کے ساتھ ہم پہلے بیان کر چکے ہیں اس لیے دہرانے کی ضرورت نہیں۔
چونکہ یہ بد لوگ اپنی خرمستی میں تھے اور جو قضاء اور عذاب ان کے سروں پر جھوم رہا تھا اس سے غافل تھے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قسم کھا کر ان کی یہ حالت بیان فرما رہا ہے اس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بہت تکریم اور تعظیم ہے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے اپنی جتنی مخلوق پیدا کی ہے ان میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ بزرگ کوئی نہیں۔ اللہ نے آپ کی حیات کے سوا کسی کی حیات کی قسم نہیں کھائی۔‏‏‏‏ «سَکْرَۃ» سے مراد ضلالت و گمراہی ہے، اسی میں وہ کھیل رہے تھے اور تردد میں تھے۔